Main Icon

باب : مجاھدہ کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 96

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَرْوِیہِ عَنْ رَبِّہِ قَالَ:اِذَا تَقَرَّبَ الْعَبْدُ اِلَیَّ شِبْرًا تَقَرَّبْتُ اِلَیْہِ ذِرَاعًا، وَاِذَا تَقَرَّبَ مِنِّی ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْہُ بَاعًا، وَاِذَا اَتَانِیْ مَشْیًا اَتَیْتُہُ ہَرْوَلَۃً.

عن انس رضی اللہ عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم یرویہ عن ربہ قال:اذا تقرب العبد الی شبرا تقربت الیہ ذراعا، واذا تقرب منی ذراعا تقربت منہ باعا، واذا اتانی مشیا اتیتہ ہرولۃ.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنااَنَسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُحضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے روایت کرتے ہیں اور آپصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے ربّعَزَّوَجَلَّسے روایت کرتے ہیں کہ ربّعَزَّوَجَلَّنے ارشاد فرمایا : ’’ جب بندہ مجھ سے ایک بالشت قریب ہوتا ہے تو میں اس سے ایک گز قریب ہوتا ہوں اور جب وہ مجھ سے ایک گز قریب ہوتا ہے تو میں اس سے دو گز قریب ہوجاتا ہوں اورجب وہ میرے پاس چل کر آتا ہے تو میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں ۔ ‘‘

شرح حدیث

حدیث کے ظاہری معنی کی وضاحت:علامہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰ بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ اس حدیث کا ظاہری معنی لینا محال ہے (کیونکہاللہ عَزَّ وَجَلَّچلنے یا دوڑنے سے پاک ہے) ۔حدیث کامطلب یہ ہے کہ جوشخص عبادت کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا ہے تو میں اپنی توفیق، رحمت اور اعانت اس کے قریب کردیتا ہوں ۔بندہ جتنی زیادہ عبادت کرتا ہے میں اتنا ہی زیادہ اس کی طرف متوجہ ہوتا ہوں اوراس پراپنی رحمت نچھاورکرتا ہوں ۔ ‘‘قلیل عبادت پرکثیر ثواب:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں :ھَرْوَلَۃٌکا معنی ہے ’’ تیز تیز چلنا۔ ‘‘ اس طرح کے الفاظ کا حقیقی معنیاللہ عَزَّ وَجَلَّکے لیے استعمال کرنا ناجائز ہےکیونکہ یہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے لیے محال ہے اور اس پر بہت سے دلائل موجود ہیں ۔ حدیث مذکور کا مطلب یہ ہے جوقلیل عبادت کے ذریعے سے بھی میرا قرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو میں اسےقلیل عبادت کے بدلے کثیر ثواب عطا فرماتا ہوں اور جب وہ عبادت میں اضافہ کرتا ہے تو میں ثواب میں اُس سے زیادہ اِضافہ کر دیتا ہوں اور اگر وہ اپنی سہولیات کو پیش نظر رکھ کر اِطاعت بجا لائے تو میں اُس کو اُس عبادت کا ثواب جلد عطا کرتا ہوں ۔اس حدیث کامقصود یہ ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے جو ثواب ملتا ہے وہ تعداداورکیفیت کے اعتبار سے بندے کے عمل سے دو۲گنا زیادہ ہوتا ہے۔ ‘‘یہ کلام تمثیلی یعنی بطورِ مثال کےہے:حدیث پاک میں ہے: ’’ اور جب وہ مجھ سے ایک گز قریب ہوتا ہے تو میں اس سے دو گز قریب ہوجاتا ہوں ۔ ‘‘ مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کبیرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ یہ کلام تمثیلی (یعنی مثال کے) طور پر ہے، مطلب یہ ہے کہ اگر تم اخلاص کے ساتھ تھوڑے عمل کے ذریعے قُربِ الٰہی حاصل کروتو رَبّ تعالٰی اپنے کرم سے بہت زیادہ رحمت کے ساتھ تم سے قریب ہوگا لہٰذا عمل کیے جاؤ، تھوڑا بہت نہ دیکھو۔ ‘‘ ’’ میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں ‘‘ کے تحت فرماتے ہیں : ’’ یہ کلام بطور ِمثال سمجھانے کے لیےہے۔ مطلب یہ ہے کہ تمہاری طلب سے ہماری رحمت سبقت لے گئی ہے، اگر تم ایسے معمولی اَعمال کروجن سے بدیر ہم تک پہنچ سکو تو ہم تم کو اپنے کرم سے بہت جلد اپنے دامنِ رحمت میں لے لیں گے۔اگر رَبّ تَعَالٰی سے قرب ہماری کوشش سے ہوتا تو قیامت تک ہم اس تک نہ پہنچ سکتے اس تک رسائی اس کی رحمت سے ہے۔ ‘‘
جے میں ویکھا عملاں ولے کجھ نئیں میرے پلے
جے میں ویکھاں رحمت ربّ دی بلے بلے بلے
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ”مُحَمَّد“کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)
بندہ جتنی زیادہ ربّعَزَّ وَجَلَّکی عبادت کرتا ہے، اس کی توفیق، رحمت اور اعانتِ الٰہی اتنی ہی زیادہ اس بندے کے قریب ہوجاتی ہے۔
(2)
اللہ عَزَّ وَجَلَّاپنی رحمت سے قلیل عبادت پر کثیر ثواب عطا فرماتا ہے۔
(3) ہمیں اپنے اعمال میں اخلاص کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے چاہے وہ عمل کم ہو یا زیادہ۔
(4) ربّ تعالٰی کا قرب بندے کی کوشش سے نہیں بلکہ ربّ
عَزَّ وَجَلَّکی رحمتِ کاملہ سے ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اخلاص کے ساتھ اپنی عبادت کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں اپنا قرب عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 96