- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 2
- باب : مجاھدہ کا بیان
- حدیث نمبر 108
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِیْ صَفْوَانَ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُسْرٍ اَلْاَسْلَمِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : خَیْرُ النَّاسِ مَنْ طَالَ عُمُرُہُ وَحَسُنَ عَمَلُہُ. ( )
عن ابی صفوان عبد اللہ بن بسر الاسلمی رضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم : خیر الناس من طال عمرہ وحسن عملہ. ( )
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنَا ابو صَفْوَانعبداللہبن بُسْر اَسْلَمِیرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہےرسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ لوگوں میں بہترین شخص وہ ہے جس کی عمر لمبی اور عمل اچھا ہو۔ ‘‘
شرح حدیث
سَیِّدُنَاعبد اللہبن بُسْر کا مختصر تعارف:آپ کا نامعبد اللہبن بُسْر المَازِنی ہے، آپ کی کنیت ابو بِشْر اور ایک قول کے مطابق ابو صَفْوَان ہے۔ آپ نے دونوں قبلوں کی طرف نماز پڑھی۔ دو عالَم کے مالک ومختار، مکی مَدَنی سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپ کے سر پر اپنا دستِ مبارک رکھ کر آپ کو دعا دی۔ آپ کے والد، والدہ، بھائی عطیہ اور بہن صماء (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ) سب کے سب شرفِ صحابیت سے سرفراز ہوئے۔آپ سے شامیوں نے روایات بیان کی ہیں ۔ ۹۴ سال کی عمر میں سن 88ہجری میں آپ کا وصال ہوا ۔ ایک قول کے مطابق آپ کا وصال ۹۶ہجری میں سو 100سال کی عمر میں ہوا۔ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُآخری صحابی ہیں جو ملکِ شام میں فوت ہوئے۔ ( )
¥لوگوں میں سب سے بہترین شخص:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!عمر کا طویل ہونا بندے کے اختیار میں نہیں ، لیکن نیک اعمال کرنا بندے کے اختیار میں ہے تو انسان کو چاہیے کہ اپنی عمر اور اپنے وقت کو غنیمت جانے اور اِنہیں اُن کاموں میں صرف کرے جس سے اُخروی فائدہ ہو۔اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد طِیْبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیمذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’ لوگوں میں بہترین شخص وہ ہے جس کی عمر لمبی اور عمل اچھا ہو کیونکہ انسان کی مثال اِس دنیا میں نیک اَعمال کے ساتھ اُس تاجر کی سی ہے جو سامانِ تجارت کے ساتھ اپنے گھر سے نکلے تاکہ تجارت کر کے منافع کمائے اور اپنے وطن سلامتی کے ساتھ اور خوب نفع کماکر لوٹے تو وہ بھلائی کو پالیتا ہے۔ اسی طرح انسان کی عمر اس کا سرمایہ ہے، اس کی سانسیں اور اَعضاء و جَوارِح کا کام کرنا اس کا نقد ہے اور نیک اعمال اس کا منافع ہیں ، پس جتنا اس کا سرمایہ یعنی عمر زیادہ ہوگی، نفع یعنی نیک اَعمال بھی اتنے زیادہ ہوں گے اور آخرت اس کا وطن ہے۔ پس جب وہ اپنے وطن لوٹے گا تو اپنے منافع یعنی نیک اعمال کا پورا پورا ثواب پائے گا۔اللہ عَزَّ وَجَلَّاپنے پاک کلام قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے:اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً یَّرْجُوْنَ تِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَۙ (۲۹)(پ۲۲، فاطر:۲۹)ترجمۂ کنزالایمان:بیشک وہ جواللہکی کتاب پڑھتے ہیں اور نماز قائم رکھتے اور ہمارے دیئے سے کچھ ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں پوشیدہ اور ظاہر وہ ایسی تجارت کے امیدوار ہیں جس میں ہرگز ٹوٹا (نقصان) نہیں ۔
اورجس نے اس بات کو نہیں سمجھا اور اپنے سرمایہ یعنی عمرکو ضائع کردیا تو وہ نفع یعنی عمل کی توفیق نہیں پاتا۔قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے:اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰى۪-فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُهُمْ وَ مَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ (۱۶)(پ۱، البقرۃ:۱۶)ترجمۂ کنزالایمان:یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی تو ان کا سودا کچھ نفع نہ لایا اور وہ سودے کی راہ جانتے ہی نہ تھے۔ ( )مُفَسِّرشہِیر، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ جس کی عمر درازہو اور اس کی نیکیاں زیادہ ہوں ہر دن اس کی نیکیاں بڑھائے، ایسا شخص بہت ہی خوش نصیب ہےاور جس کی نیکیاں گناہوں کے برابر ہوں وہ نمبر دوم کا خوش نصیب ہے۔ایسا شخص مشکل سے ملے گا جو زندگی میں کبھی کوئی گناہ نہ کرے، یہ شان حضراتِ انبیاء کرام کی ہے یا خاصاولیاء اللہکی، یہاں وہ ہی معنی مراد ہیں جو ہم نے عرض کیے۔ ‘‘ ( )
¥عمل کے اچھا ہونے کے معنی:حدیث میں فرمایا گیا کہ ’’ بہترین شخص وہ ہے جس کی عمر لمبی اور عمل اچھا ہو ۔ ‘‘ کیونکہ جس کی عمر لمبی ہو اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکی اطاعت میں گزرے وہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے زیادہ قریب ہوگا اور آخرت میں اس کے درجے بھی بلند ہوں گےکیونکہ جب بندہ نیک اعمال کرتا چلا جائے گا وہاللہ عَزَّ وَجَلَّسے اتنا قریب ہوتا چلا جائے گا لیکن یہ اسی صورت میں ہوگا جبکہ وہ تمام اعمال کو اخلاص اور اچھے طریقے سے ادا کرے۔چنانچہعلّامہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ اپنی لمبی عمر میں انسان وہ کام کرے جو اُسے ربّتعالٰیکے قریب کر نے والے اور اس کی رِضا تک پہنچا نے والے ہوں اور عمل کے اچھا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اس عمل کو تمام شرائط و اَرکان کے ساتھ مکمل طور پر ادا کرے۔ ‘‘ ( )
¥لمبی عمر نیک اَعمال میں اِضافے کا باعث:حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ عمر طویل ہونے کے ساتھ ساتھ نیک اَعمال کا ہونا بھی ضروری ہے تاکہ جیسے جیسے عمر بڑھتی جائے نیک اَعمال میں بھی اضافہ ہوتا جائے ۔کیونکہ جیسے جیسے عمر طویل ہوتی جائے گی نیک اعمال کے سبب اس کے اجر وثواب اور درجات میں بھی اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔عَلَّامَہْ عَبْدُالرَّءُوْفْ مَنَاوِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِیمذکورہ حدیث پاک کی شرح کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ جس کے عمل کثیر ہوں گے تو جب جب اس کی عمر بڑھے گی اس کا اجر بھی بڑھے گا اور اس کے درجات بھی بڑھیں گے کیونکہ زندگی میں اُجور کی زیادتی اعمال کی زیادتی کا سبب ہے اور اگریہ (اعمال کی زیاد تی ) نہ بھی ہو پھر بھی ایمان پر استقامت تو حاصل ہے ہی اور اس سے بڑھ کر اور کیاسعادت ہوگی؟ یہاں پر یہ اعتراض کرنا درست نہیں ہے کہ کبھی کبھی ایمان سلب بھی تو کرلیا جاتا ہے؟ کیونکہ اگرعلمِ الٰہی میں اس کا برا خاتمہ لکھا جاچکا ہے تو وہ تو ہوکر ہی رہے گا ، عمر کے کم یا زیادہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ پس (ایمان کی سلامتی کے ساتھ) اگر عمر طویل ہوگی تو نیک اعمال اور درجات میں اضافہ ہوگا اور اگر عمر کم ہوگی تو نیک اعمال بھی کم ہوں گے۔ ‘‘ ( )
¥زندگی کے لمحات اَنمول ہیرے ہیں :دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ رسالے” اَ نمول ہیرے“ صفحہ 3پر شیخ طریقت امیر اہلسنت ، بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائیدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَۃفرماتے ہیں :ہماری زندگی کے لمحات انمول ہیرے ہیں اگران کو ہم نے بے کار ضائع کردیا تو حسرت و ندامت کے سوا کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔
دن بھر کھیلوں میں خاک اُڑائی
لاج آئی نہ ذرّوں کی ہنسی سےاللہ عَزَّ وَجَلَّنے انسان کو ایک مُقرَّرہ وَقت کے لیے خاص مقصد کے تحت اِس دنیا میں بھیجا ہے۔ چنانچِہ ارشاد ہوتا ہے:اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ (۱۱۵)(پ۱۸، مؤمنون:۱۱۵)ترجمۂ کنزالایمان: تو کیا یہ سمجھتے ہو کہ ہم نے تمہیں بے کار بنایا اور تمہیں ہماری طرف پھرنا نہیں ۔
”خزائن العرفان“ میں اس آیتِ مقدّسہ کے تحت لکھا ہے: ’’ اور (کیا تمہیں ) آخِرت میں جزا کے لیے اٹھنا نہیں بلکہ تمہیں عبادت کے لیے پیدا کیا کہ تم پر عبادت لازم کریں اور آخِرت میں تم ہماری طرف لوٹ کر آؤ تو تمہیں تمہارے اعمال کی جزا دیں ۔ ‘‘ موت وحیات کی پیدائش کا سبب بیان کرتے ہوئے پارہ ۲۹سورۃُالملکمیں ارشاد ہوتا ہے:الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًاؕ-الَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًاؕ-(پ۲۹، الملک:۲)ترجمۂ کنزالایمان:وہ جس نے موت اور زندگی پیدا کی کہ تمہاری جانچ ہو تم میں کس کا کام زیادہ اچھا ہے۔
¥زندگی بہت مختصر ہے:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ دو آیات کے علاوہ بھی قرآنِ پاک میں دیگر مقامات پر تخلیقِ انسانی یعنی انسان کی پیدائش کا مقصد بیان کیاگیا ہے۔ یقینا زندگی بہت مختصر ہے، جو شخص اس مختصر سی زندگی میں اچھے اور نیک اعمال کرنے میں کامیاب ہوگیا، اپنے قیمتی وقت کو فضول برباد اور ضائع کرنے کی بجائےاللہ عَزَّوَجَلَّاور اس کے پیارے حبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رضا والے کاموں میں خرچ کیا، یقیناً ایسا شخص دنیا و آخرت دونوں میں خوش وخرم رہے گا، لیکن جس نے اپنا قیمتی وقتاللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رضا والے کاموں کی بجائے گناہوں میں برباد کردیا تو اسےمرنے کے بعد پچھتاوے کا کوئی فائدہ نہ ہوگا۔ بہت خوش نصیب ہے وہ شخص جس نے موت سے پہلے پہلے آخرت کی تیاری کرلی۔
¥یہ سانس کی مالا اب بس ٹوٹنے والی ہے:حضرتِ سَیِّدُنا حسن بصریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ جلدی کرو! جلدی کرو!!تمہاری زندگی کیا ہے ؟ یہی سانس تو ہیں کہ اگر رُک جائیں تو تمہارے ان اعمال کا سلسلہ بھی منقطع ہوجائے جن سے تماللہ عَزَّوَجَلَّکا قُرب حاصل کرتے ہو۔اللہ عَزَّ وَجَلَّاس شخص پر رحم فرمائے جس نے اپنا محاسبہ کیا اور اپنے گناہوں پر چند آنسو بہائے۔پھر آپرَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِنے پارہ16سورہ مریم کی یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی:اِنَّمَا نَعُدُّ لَهُمْ عَدًّاۚ (۸۴)(پ۱۶، مریم:۸۴)ترجمۂ کنزالایمان:ہم تو ان کی گنتی پوری کرتے ہیں ۔حُجَّۃُ الْاِسلامحضرتِ سَیِّدُنا امام محمدبن محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوالِیفرماتے ہیں : ’’ یہاں گنتی سے سانسوں کی گنتی مُراد ہے۔ ‘‘ ( )
یہ سانس کی مالا اب بس ٹوٹنے والی ہے
غفلت سے مگر دل کیوں بیدار نہیں ہوتا
دل ہائے گناہوں سے بیزار نہیں ہوتا
مغلوب شہا نفس بدکار نہیں ہوتاصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد¥مدنی گلدستہ
سَیِّدُنَا ’’ ابو بکر ‘‘ کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1)عمر کا طویل ہونا بندے کے اِختیار میں نہیں لیکن زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرنا بندے کے اختیار میں ہے لہٰذا زندگی کے قیمتی لمحات کو غنیمت جانتے ہوئے زیادہ سے زیادہ نیکیاں کرنے کی کوشش کیجئے۔
(2) جس طرح ایک تاجر اپنا سرمایہ ایسی جگہ لگاتا ہے جہاں اُسے زیادہ سے زیادہ منافع ہو اسی طرح بندے کو اپنی زندگی اُن اعمال میں صَرف کرنی چاہیے جن سے آخرت میں زیادہ فائدہ ہو۔
(3) طویل عمر بھیاللہ عَزَّ وَجَلَّکی ایک نعمت ہے لہذا اس نعمت کی قدر کرتے ہوئے زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کیے جائیں ۔
(4) عمر کا طویل ہونا مؤمن کے لیے اس لیے بھی بہت بڑی نعمت ہے کہ اگرچہ وہ زندگی میں نیک اعمال پر استقامت نہ پا سکے مگر اس کا ایمان تو سلامت ہے اور یہ خود بڑی نعمت ہے۔
(5) نامۂ اَعمال میں فقط نیکیاں ہی نیکیاں ہوں کوئی گناہ نہ ہو یہ انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَامکا خاصہ ہے کہ وہ گناہوں سے پاک ہیں یااللہ عَزَّ وَجَلَّکے ان نیک بندوں کی صفت ہوسکتی ہے جنہیں وہ اپنی رحمت سے گناہوں سے محفوظ فرمالے، جس کی نیکیاں اور گناہ دونوں برابر ہوں وہ بھی خوش نصیب ہے لیکن ان معنی میں کہ اس کے نامۂ اعمال میں کچھ نہ کچھ تو نیکیاں ہیں ۔
(6) زندگی بے حد مختصر ہے، یقیناً سمجھدار وہی ہے جو اس مختصر زندگی کی قدر کرتے ہوئے موت سے قبل آخرت کی تیاری میں مشغول ہوجائے کہ موت کے بعد پچھتاوے کا کوئی فائدہ نہیں ۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں نیکیوں بھری زندگی گزارنے کی توفیق فرمائے، گناہوں سے بچنے اور دوسرے کو بچانے کی توفیق عطا فرمائے، ایمان وعافیت کے ساتھ شہادت کی موت عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 108