Main Icon

باب : مجاھدہ کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 99

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُُ عَنْہَا اَنَّہَاقَالَتْ:کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا دَخَلَ الْعَشْرُ اَحْیَا اللَّیْلَ، وَاَیْقَظَ اَہْلَہُ، وَجَدَّ وَشَدَّ الْمِئْزَرَ. ( )
وَالْمُرَادُ: اَلْعَشْرُ الاَوَاخِرُ مِنْ شَہْرِ رَمَضَانَ.وَ”المِئْزَرُ“اَلْاِزَارُ، وَ ہُوَ کِنَایَۃٌ عَنْ اِعْتِزَالِ النِّسَاءِ. وَقِیْلَ: اَلْمُرَادُ تَشْمِیْرُہُ لِلْعِبَادَۃِ .یُقَالُ: شَدَدْتُ لِھٰذَا الْاَمْرِ مِئْزَرِیْ، اَیْ تَشَمَّرْتُ ، وَتَفَرَّغْتُ لَہُ.

عن عائشۃ رضی اللہ عنہا انہاقالت:کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اذا دخل العشر احیا اللیل، وایقظ اہلہ، وجد وشد المئزر. ( )
والمراد: العشر الاواخر من شہر رمضان.و”المئزر“الازار، و ہو کنایۃ عن اعتزال النساء. وقیل: المراد تشمیرہ للعبادۃ .یقال: شددت لھذا الامر مئزری، ای تشمرت ، وتفرغت لہ.

حدیث ترجمہ

اُمُّ المؤمنین حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے فرماتی ہیں کہ: ’’ جب رمضان کا آخری عشرہ آتا تورسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرات کو زندہ کرتے (یعنی شب بیداری فرماتے) اور اپنے گھر والوں کو بھی جگاتے اور عبادت میں خوب کوشش کرتے اور تہبند مضبوطی سے باندھ لیتے۔ ‘‘ (یعنی عبادت کے لیے کمر بستہ ہوجاتے۔)عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :”اَلْعَشْرُ الاَوَاخِرُ“ سے مراد رمضان کا مہینہ ہےاورالمِئْزَرُ“سے مراد اِزار یعنی تہبند ہے۔اور اس جملے میں ازواجِ مطہراترَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّسے اجتناب کرنے کے متعلق کنایہ کیا گیا ہے اور یہ بھی کہا گیا ہے اس سے مراد عبادت میں کوشش کرنا ہےجیساکہ کہاجاتاہے میں نے اس کام کے لیے اپنی کمر کس لی۔ یعنی میں اس کام کے لیے تیار ہوں اور فارغ ہوں ۔

شرح حدیث

’’ رات کو زندہ کرنا ‘‘ کے مختلف معانی:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیث پاک میں ہے کہ ’’ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرات کو زندہ کرتے۔ ‘‘ شارحینِ حدیث نے اس کے کئی معانی بیان کیے ہیں ۔چنانچہاِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد بِنْ عَبْدُاللّٰہ طیبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ رات کو زندہ کرنے کی دو ۲صورتیں ہوسکتی ہیں : (1) اگر ہم عبادت کرنے والےکے اعتبار سے دیکھیں تو رات کو زندہ کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ جب کوئی شخص اُس نیند کو چھوڑ کر عبادت میں مشغول ہو جاتا ہے جسے موت کہا گیا ہے تو گویا اس نے اپنے آپ کو زندہ کردیا جیسا کہ فرمانِ باری تعالی ہے:اَللّٰهُ یَتَوَفَّى الْاَنْفُسَ حِیْنَ مَوْتِهَا وَ الَّتِیْ لَمْ تَمُتْ فِیْ مَنَامِهَاۚ-(پ:۲۴، الزمر:۴۲)ترجمۂ کنزالایمان:اللہجانوں کو وفات دیتا ہے ان کی موت کے وقت اور جو نہ مریں اُنہیں ان کے سوتے میں ۔
(2) اور اگر ہم رات کے اعتبار سے دیکھیں تو رات کو زندہ کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ رات بھر قیام کرنے کی وجہ سے عابد کی رات دن کی طرح ہوگئی گویا کہ اس نے رات کو زندہ کردیا کہ رات کو ( آرام کرنے کے بجائے) اسے عبادت و طاعت میں گزار دیا۔ لہذا جس نے رمضان کی آخری راتوں میں خوب عبادت کی اور تمام راتوں کو جاگ کر گزارا تو اس نے ان راتوں کی برکتوں سے اپنا حصہ پالیا اور جس نے رات کے کچھ حصے میں عبادت کی تو اس نے کچھ حصہ ہی پایا۔ ‘‘ ( )
شیخ عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِینے بھی رات کو زندہ کرنے کے دو۲ معنی بیان کیے ہیں : ’’ (1) رات کو زندہ کرنا اس معنی میں ہےکہ وقت کی زندگی اور تازگی اس میں عبادت کرنے سے ہوتی ہے۔ (2) رات کے وقت اپنے آپ کو زندہ کرنا اس معنی میں ہےکہ انسان کی زندگی شب بیداری (جاگنے) میں ہے کیونکہ نیند موت کی طرح ہےچنانچہ عبادت میں شب بیدرای کرناگویا کہ خود کو زندہ کرنا ہے اور بیکار رہنا اپنے آپ کو مردہ بنانے کے مترادف ہے۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ رات کو زندہ کرنا یہ مجازاً کہا گیا ہے۔ کیونکہ جب بندہ نیک اعمال کرنے کے لیے رات کو جاگاتو گویا اس نے رات کو زندہ کردیا کیونکہ نیند موت کی بہن ہے نیز حدیث پاک میں ہے:”اپنے گھروں کو قبرستان مت بناؤ۔“یعنی پوری رات سوتے ہی نہ رہو کہ مُردوں کی طرح ہوجاؤاور تمہارے گھر قبرستان ہوجائیں ۔ ‘‘ ( )
¥
عبادت کے لیے گھر والوں کو جگانا:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرمضان المبارک کی مبارک راتوں میں عبادت کا نہ صرف خود اہتمام فرماتے بلکہ اپنے گھروالوں کو بھی جگاتے، معلوم ہوا کہ رمضان المبارک کی مبارک راتوں میں عبادت کرنا اور اپنے گھروالوں کو بھی عبادت کے لیے جگانا دونوں سنت سے ثابت ہیں ۔چنانچہ شیخ عبدالحق محدث دہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ ’’ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرمضان المبارک کے آخری دس دنوں میں اپنے اہل یعنی گھروالوں کو بھی جگاتے تاکہ وہ بھی عبادت کریں اور شبِ قدر کو تلاش کرنے کی سعادت سے محروم نہ رہیں ۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے اہل یعنی گھر والوں کو نماز کے لیے جگاتے تاکہ وہ بھی ان مبارک گھڑیوں کی فضیلت سے آگاہ ہوجائیں اور ان مبارک ساعتوں میں نیک اعمال کرنے کو غنیمت جانیں جیسا کہ حضرت سَیِّدَتُنَا زینب بنت اُمّ سَلَمَہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب، دانائے غیوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرمضان المبارک کے آخری عشرے میں اپنے گھر والوں میں سے ہر اس فرد کو جگاتے جو قیام کی استطاعت رکھتا ۔ ‘‘ ( )
¥
گھر والوں کو نیکی کی دعوت:عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَفَّارفرماتے ہیں : ’’ حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے گھر والوں کو نفلی اعمال کی ترغیب دلائے اور اُنہیں فرائض کے علاوہ دیگر نیک اعمال کرنے کا بھی حکم دے یعنی ترغیب دلائے اور اعمال صالحہ کرنے پر بھر پور انداز میں اُبھارے۔ ‘‘ ( )ایک اہم وضاحت:حدیث پاک میں اس بات کا ذکرہے کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے گھر والوں کو جگاتے تھے اس سے ایسا لگتا ہے کہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنے گھر والوں کے ساتھ گھر میں ہوتے تھے حالانکہ آپ تو حالتِ اعتکاف میں تھے اور حاجت طبعی کے علاوہ گھر تشریف نہ لے جاتے تو پھرآپ اپنے گھر والوں کو کس طرح جگاتے تھے؟عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِینے اس اِشکال کے چند جوابات بیان کیے ہیں : (۱) مسجد میں ایک چھوٹا سا دروازہ تھا جو آپ کے گھر کی طرف کھلتا تھااسی دروازے سے آپ اپنے گھر والوں کو جگاتے تھے۔ (۲) یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جب آپ حاجتِ طبعی کے لیے گھر تشریف لے جاتے تو اس وقت گھر والوں کو جگا دیا کرتے تھے۔ ( )
¥
آخری عشرے میں زیادہ عبادت کی وجوہات:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی حیاتِ طیبہ کا ہر ہر لمحہ اطاعت خداوندی میں گزرا لیکن چند مخصوص ایام ایسے بھی ہیں جن میں آپ کثرت سے عبادت فرماتے جیساکہ رمضان المبارک کا آخری عشرہ۔شارحین حدیث نے آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی آخری عشرے میں عبادت میں کثرت ورغبت اور مشقت کی چند وجوہات بیان فرمائی ہیں ۔ چنانچہ،عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافَعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ حضورنبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرمضان کے آخری عشرے میں دوسرے دنوں کی بنسبت زیادہ عبادت کرتے تھے کیونکہ ان ایام میں وہ لیلۃ القدر پوشیدہ ہے جس میں عبادت کرنا ہزار سال کی عبادت سے افضل ہے۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب دانائے غیوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا رمضان کے آخری عشرے میں بہت زیادہ عبادت کرنااس احتمال کی وجہ سے تھا کہ رمضان ناقص (یعنی29 دن کا) بھی ہوسکتا ہے اور کامل (یعنی30 دن کا) بھی، تو جب آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دس کی دس راتوں میں عبادت کرلی تو کسی طاق یا جفت رات کی عبادت فوت نہ ہوئی۔ ‘‘ (یعنی وہ تمام راتیں جن میں لیلۃ القدر ہونے کا امکان ہوتا ہے ان سب کو آپ نے پالیا۔) ایک قول یہ بھی ہے کہ ’’ رمضان کے آخری عشرے میں جو اعمال کیے جائیں گے یہ اس ماہ کے آخری عمل ہیں پس چاہیے کہ ان ایام میں کثرت سے عبادت کی جائےتاکہ یہ مبارک ماہ اچھی طرح اختتام پذیر ہو۔ ‘‘ ( )
¥
تہبند مضبوط باندھ نے سے کیا مراد ہے؟حدیث پاک میں آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی عبادت کے ساتھ اس بات کا بھی تذکرہ ہوا ہے کہ آپ اپنا تہبند مضبوطی سے باندھ لیتے تھے۔عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ ان الفاظ کےمعنی میں علماء کااختلاف ہے، ایک معنی یہ ہےکہ نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبقیہ مہینوں کی بنسبت رمضان کے آخری عشرے میں عبادت میں زیادہ کوشش کرتےتھے یعنی آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمعبادت کے لیے کمر بستہ ہوجاتے اور ہر چیز سے خود کو فارغ کر لیتے اور دوسرے قول کے مطابق یہ جملہ عبادت میں مشغولیت کی بنا پر اَزواج سے علیحدگی اختیار کرنے پر کنایۃً بولا جاتا ہے۔ ‘‘ ( )
¥
اعتکاف کا مقصدعظیم:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!رمضان المبارک کے آخری عشرے بلکہ پورے رمضان المبارک کا اعتکاف کرنا بھی سنت سے ثابت ہے، لہذا اپنی زندگی میں کم ازکم ایک بار تو پورے رمضان المبارک کے اعتکاف کی سعادت حاصل کرلینی چاہیے نیز ہرسال کم ازکم آخری دس دن کے اعتکاف کی کوشش تو ضرور کرنی چاہیے۔رمضان المبارک میں اعتکاف کرنے کا سب سے بڑا مقصد شبِ قَدْر کی تلاش ہے اور راجِح (یعنی غالِب ) یہی ہے کہ شب قدر رمضان المبارک کے آخِری دس۱۰ دنوں کی طاق راتوں میں ہوتی ہے۔ شب قدر بدلتی رہتی ہےیعنی کبھی اکیسویں ، کبھی تئیسویں ۲۳ ، کبھی پچیسویں ۲۵ کبھی ستائیسویں ۲۷ توکبھی اُنتیسویں ۲۹ شب۔ مسلمانوں کو شب قدر کی سعادت حاصِل کرنے کے‏لیے آخِری عشرے کے اِعتِکاف کی ترغیب دلائی گئی ہے۔ کیوں کہ معتکف دسوں ۱۰ دن مسجِدمیں ہی پڑا رہتاہے اوران دس ۱۰ دنوں میں کوئی بھی ایک رات شب قدرہوتی ہے۔لہٰذاوہ یہ شب مسجِد میں گزارنے میں کامیاب ہو جاتاہے۔
رمضان المبارک کے فضائل، رمضان المبارک کی مبارک راتوں میں اعتکاف کی ترغیب وفضائل، اور شب قدرکے بارے میں تفصیلی معلومات کے لیے شیخ طریقت، امیر اہلسنت، بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی
دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہکی مایہ ناز تصنیف ’’ فیضان سنت ‘‘ کے باب ’’ فیضانِ رمضان ‘‘ کا مطالعہ بہت مفید ہے۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ
سَیِّدُنَا ”ابوبکر“کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1)
حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمرمضان المبارک کے آخری عشرے میں کثرت سے عبادت کیا کرتے تھے۔
(2) عبادت کے لیے اپنے گھر والوں کو جگانا اور انہیں نیک افعال کی ترغیب دینا سنت سے ثابت ہے۔
(3) رات میں عبادت کرنا گویا کہ رات کو زندہ کرنے کی طرح ہے۔
(4) انسان کی اصل زندگی عبادتِ الٰہی میں ہے ، عبادت سے خالی زندگی، زندگی نہیں بلکہ موت ہے۔
(5) رمضان المبارک میں راتوں کو جاگ کر عبادت کرنا مستحب ہے خصوصاً آخری عشرے میں ۔
(6) شب قدر کی تلاش میں رمضان کی طاق راتوں میں عبادت کرنا سنت سے ثابت ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا کہ وہ ہمیں رمضان المبارک کے مہینے میں اور بالخصوص اس کے آخری عشرے میں خود بھی نیک اعمال کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنے گھر والوں کو بھی نیک اعمال کی ترغیب و تلقین کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 99