- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 2
- باب : مجاھدہ کا بیان
- حدیث نمبر 104
حدیث مبارکہ
عَنْ اَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: یَتْبَعُ الْمَیِّتَ ثَلَاثَۃٌ: اَہْلُہُ وَمَالُہُ وَعَمَلُہُ، فَیَرْجِعُ اِثْنَانِ وَیَبْقٰی وَاحِدٌ، یَرْجِعُ اَہْلُہُ وَمَالُہُ وَیَبْقٰی عَمَلُہُ. ( )
عن انس رضی اللہ عنہ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال: یتبع المیت ثلاثۃ: اہلہ ومالہ وعملہ، فیرجع اثنان ویبقی واحد، یرجع اہلہ ومالہ ویبقی عملہ. ( )
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنَا انسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہےکہرسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےفرمایا: ’’ میت کے پیچھے تین چیزیں جاتی ہیں ، گھر والے ، مال اور اس کاعمل، پس دو چیزیں یعنی اس کے گھر والے اور اس کا مال واپس لوٹ آتے ہیں اور ایک چیز یعنی اس کا عمل اس کے ساتھ باقی رہتاہے۔ ‘‘
شرح حدیث
دو بے وفا اور ایک وفادار ساتھی:مذکورہ حدیث پاک میں اُن تین چیزوں کو بیان کیا گیا ہے جن کا تعلق انسان کے ساتھ اس کی زندگی میں ہوتا ہے لیکن ان تینوں میں سے دو یعنی مال اور گھر والے بے وفا اورساتھ چھوڑ جانے والےاور فقط ایک یعنی عمل وفادار اور قبر میں ساتھ جانے والا ہے۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ بعد مرنے قبر تک تین چیزیں ساتھ جاتی ہیں ۔ دو بے وفا جو مردے کو چھوڑ کر لوٹ آتی ہیں ایک وفادار جو ساتھ رہتی ہے۔ ‘‘ ( )
¥گھر والوں میں کون شامل ہے؟حدیث پاک میں سب سے پہلے گھروالوں کا ذکر ہے کہ وہ بھی قبر تک میت کے ساتھ جاتے ہیں ۔
گھروالوں میں کون کون لوگ شامل ہیں ؟عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ گھر کے لوگوں سے مراد بال بچے ، عزیز و اَقارب اور دوست و آشنا ہیں ۔ ‘‘ ( )
¥ایک اِشکال اور اُس کی وضاحت:یہاں ایک اشکال ہے کہ بعض میتیں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کے ساتھ ان کے گھر والے نہیں ہوتے، جبکہ حدیث پاک سے ظاہر ہوتا ہے کہ ہر میت کے ساتھ اس کے گھر والے بھی ہوتے ہیں ۔ اس اشکا ل کا جواب دیتے ہوئےعَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَرعَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتےہیں : ’’ حدیث پاک میں غالب یعنی اکثریت کا لحاظ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اکثر لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ مرنے کے بعد ان کے ساتھ ان کے گھروالے جاتے ہیں ، اگرچہ بہت سے لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں کہ ان کے ساتھ صرف ان کا عمل جاتا ہے، گھروالے نہیں جاتے۔ ‘‘ ( )
¥میت کے ساتھ مال جانے سے کیا مراد ہے؟حدیث پاک میں گھروالوں کے بعد میت کے مال کا ذکر ہے کہ وہ بھی قبر تک اس کے ساتھ جاتا ہے۔ مال سے کیا مراد ہے؟ اور اس مال کے میت کے ساتھ جانے کا کیا مطلب ہے؟عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیاس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ مال سے مرادغلام، باندیاں ، جانور اور گھر وغیرہ ہیں لیکن یہاں میت کے ساتھ جانے والے مال سے مراد خاص قسم کا مال ہے جس کا تعلق مرنے کے بعد اور دفن ہونے سے پہلے میت کےساتھ رہتا ہے یعنی تجہیز و تکفین، غسل اور تدفین وغیرہ کے اَخراجات اور جب اُسے دفن کردیا جاتا ہے تو اب مکمل طور پر اُس کا تعلق مال سے بھی ختم ہوجاتا ہے۔ ‘‘ ( )عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَرعَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’ عرب میں یہ بات رائج تھی کہ میت کے ساتھ اُس کے جانوروں کوبھی قبرستان تک لے جاتے تھے۔ ‘‘ ( ) (تو میت کی ملکیت میں جو جانور وغیرہ ہیں ان کا قبر تک جانا گویا اس کے مال کا اس کے ساتھ جانا ہے۔)اِنسان کا مال تین3طرح کاہے:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دنیا کی ہر شے فانی یعنی ختم ہونے والی ہے۔ چاہے گھر ہو یا مال و دولت، آل اَولاد ہوں یا رشتہ دار، ہر شے ایک مخصوص وقت تک ہمارے ساتھ ہے اور اُن تمام چیزوں سے حاصل ہونے والا نفع بھی معینہ مدت تک ہی ہے۔ جیسے ہی آدمی موت کا شکار ہوتا ہے یہ تمام چیزیں بھی ساتھ چھوڑ جاتی ہیں ، انسان زندگی بھر اپنی دولت پر گھمنڈ کرتا ہے لیکن موت اس کے غرور کو خاک میں ملادیتی ہے، جس مال کو یہ اپنا سمجھتا ہے اس کے مرنے کے بعد اس کے رشتہ دار وغیرہ اس پر قبضہ جمالیتے ہیں ، انسان کا مال تو فقط وہی ہے جو اس نے استعمال کرلیا یا راہِ خدامیں خرچ کرکے آخرت کے لیے جمع کرلیا۔چنانچہ، حضرت سَیِّدُنَا ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ بندہ کہتا ہے :میرا مال ، میرا مال۔ حالانکہ اس کا مال صرف تین چیزیں ہیں : جو اس نے کھا کر ختم کردیا، یا پہن کر بوسیدہ کردیا یا کسی کو (راہ خدا میں ) دے کر (آخرت کے لیے) جمع کردیا اور جو ان تین کے علاوہ ہے وہ اسے لوگوں کے لیے چھوڑنے والا ہے۔ ‘‘ ( )
¥قبرمیں اعمال کی مختلف شکلیں :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مردے کے ساتھ اس کی قبر میں صرف اور صرف اس کے اعمال جاتے ہیں ، اب اگر اس کے اعمال اچھے ہیں تو وہ قبر میں ان سے اُنس حاصل کرےگا اور اگر اعمال بُرے ہیں تو وہ اس کے لیے عذابِ قبر کا باعث ہوں گے۔عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ مذکورہ حدیث میں جوفرمایا گیاہے کہ میت کا عمل اس کے ساتھ باقی رہتا ہے تو باقی رہنے کا معنی یہ ہے کہ اگر میت نیک و صالح ہوتو اس کا عمل خوبصورت چہرہ ، اچھے لباس اور بہترین خوشبو کے ساتھ قبر میں اس کے پاس آتا ہے اور اس سے کہتا ہے:”تجھے اس بات کی خوشخبری ہو کہ تیرا معاملہاللہ عَزَّ وَجَلَّنے آسان فرما دیاہے۔ “مُردہ پوچھتاہے: ’’ تو کون ہے؟ ‘‘ تو وہ کہتا ہے: ’’ میں تیرا نیک عمل ہوں ۔ ‘‘ ایک اور حدیث پاک میں حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کافرکے بارے میں ارشاد فرمایا کہ ’’ اس کے پاس ایک بد صورت آدمی آتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تیر ا خبیث (یعنی بُرا) عمل ہوں ۔ ‘‘ ( )
¥قبر عمل کا صندوق ہے:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں : ’’ عمل سے مراد میت کے وہ اَفعال و اَقوال ہیں جن پر ثواب و عذاب مُرَتَّب ہوتا ہے، اسی وجہ سے کہا گیا ہے کہ ’’ قبر عمل کا صندوق ہے۔ ‘‘ اور حدیث میں فرمایا گیا کہ ’’ قبر یاتو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا۔ ‘‘ ( )مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں : ’’ اَعمال سے مراد سارے اچھے بُرے عمل ہیں جو میت نے اپنی زندگی میں کیے ۔اَعمال کے ساتھ جانے سے مراد ا ُن کا میت کے ساتھ تعلق ہے جو مرنے کے بعد قائم رہتا ہے۔نیک اَعمال جو قبول ہوگئے ہمیشہ اُس کے ساتھ رہتے ہیں ، بُرے اَعمال شفاعت، بخشش یا سزا بھگتنے تک چمٹے رہتے ہیں ، اِن چیزوں کے بعد پیچھا چھوڑتے ہیں ، جس پر مولیٰ رحم کرے، حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) جسے سنبھال لیں اُس کا بیڑا پار ہے، قبر اَعمال کا صندوق ہے یا دوزخ کی بھٹی ہے یا جنت کی کیاری، اِس لیے بزرگوں کی قبر کو روضہ کہتے ہیں یعنی جنت کا باغ۔ ‘‘ ( )
¥مُردے کے صدمے:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک میں جہاں علم وحکمت کے کئی مدنی پھول چننے کو ملتے ہیں وہیں ہمیں قبر وآخرت کی تیاری کا بھی مدنی ذہن ملتا ہے۔ بہت خوش نصیب ہے وہ شخص جو اپنی دُنیوی زندگی کواللہ عَزَّ وَجَلَّاور اُس کے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رضا والے کاموں میں گزارنے کی کوشش کرتا ہے، دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی تیاری میں لگا رہتا ہے، یہاں تک کہ ایمان وعافیت کے ساتھ قبر میں چلا جاتا ہے اور بہت بدنصیب ہے وہ شخص جو دنیا کی عیش کوشیوں میں اپنا قیمتی وقت برباد کرتا ہے،اللہ عَزَّوَجَلَّاور اُس کے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ناراضی والے کاموں میں لگا رہتا ہے، حتی کہ اندھیری قبر میں اُتار دیا جاتا ہے۔شیخ طریقت، امیر اہلسنتاپنے رسالے ”مُردے کے صدمے“صفحہ7 پر فرماتے ہیں : افسوس ! ہم صدموں سے بھر پور موت کی تیاری سے یکسر غافل ہیں ۔دنیا کی ہر وہ چیز جس سے زندگی میں آدمی کو محبت ہوتی ہے مرنے کے بعد اس کی یاد تڑپاتی ہے اور صدمہ مُردے کے لیے نا قابل برداشت ہوتا ہے ۔اس بات کو یوں سمجھنے کی کوشش کیجئے کہ جب کسی کا پھول جیسا اکلوتا بچہ گم ہو جائے تووہ کس قدر پریشان ہوتا ہے اور اگر ساتھ ہی اس کا کا روبار وغیرہ بھی تباہ ہو جائے تو اس کے صدمے کا کیا عالَم ہوگا ؟ نیز اگر وہ افسر بھی ہو اور مصیبت با لائے مصیبت اس کا وہ عہدہ بھی جاتا رہے تو اس پر جو کچھ صدمے کے پہاڑ ٹوٹیں گے اس کو وہی سمجھے گا۔اب چونکہ آدمی کے مر جانے کے باوجود اس کی عقل سلامت رہتی ہے ، لہٰذ ا اس کو والدین ، بیوی بچوں ، بھائی بہنوں ، اور دوستوں کا فِراق (جدائی) نیز گاڑی ، لباس، مکان ، دکان، فیکٹری، عمدہ پلنگ ، فرنیچر ، کھیل کود کا سامان ، کھانے پینے کی چیزوں کا ذخیرہ ، خون پسینے کی کمائی، عُہدہ وغیرہ ہر ہر چیز کی جُدائی کا صدمہ ہوتا ہے اور جو جتنا زیادہ راحتوں میں زندگی گزارتاہے مرنے کے بعد اُن آسائشوں کے چھوٹنے کا صدمہ بھی اتنا ہی زیادہ ہوگا۔ جس کے پاس مال ودولت کم ہو اُس کو اُس کے چھوٹنے کا غم بھی کم اور جس کے پاس زیادہ ہو اس کو چھوٹنے کا غم بھی زیادہ ۔حُجَّۃُ الْاِسلامحضرتِ سَیِّدُنا امام محمد غزالیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِیفرماتے ہیں : ’’ یہ اِنکشاف جان نکلتے ہی تدفین سے پہلے ہو جاتا ہے اور وہ فانی دنیا کی جن جن نعمتوں پر مطمئن تھا اُن کی جدائی کی آگ اُس کے اَندر شُعْلَہ زَن ہوتی ہے۔ ‘‘ ( )
¥قبر کی کہانی، قبر کی زبانی:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ذرا سوچئے، قبر کی اندھیری رات کیسی ہوگی؟ جب قبر میں مُردے کو لٹایا جاتا ہے تو وہ اس کے ساتھ کیا حشر کرتی ہے؟ آئیے قبر کی کہانی قبر کی زبانی سنتے ہیں ، تبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۶۴۷صفحات پر مشتمل کتاب ’’ حکایتیں اور نصیحتیں ‘‘ صفحہ۲۰۶ پر ہے: امیرالمؤمنین حضرتِ سَیِّدُناعمر بن عبد العزیزرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُایک جنازے کے ساتھ قبرِستان تشریف لے گئے، جب لوگوں نے صفیں بنالیں توآپ سب سے پیچھے چلے گئے، وہاں ایک قَبْرکے پاس بیٹھ کر غور وفکر میں ڈوب گئے، آپ کے دوستوں نے استفسار کیا: ’’ اے امیرالمؤمنین! آپ تو میت کے ولی ہیں اور آپ ہی پیچھے چلے گئے۔ ‘‘ کسی نے عرض کی: ’’ یا امیرَالمومنین! آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُیہاں تنہا کیسے تشریف فرما ہیں ؟ ‘‘ فرمایا:ابھی ابھی ایک قَبْر نے مجھے پُکار کربلایا اور بولی: اے عمر بن عبد العزیز! مجھ سے کیوں نہیں پوچھتے کہ میں اپنے اندر آنے والوں کے ساتھ کیا برتاؤکرتی ہوں ؟ میں نے اُس قبر سے کہا : مجھے ضَرور بتا۔ وہ کہنے لگی: ’’ جب کوئی میرے اندر آتا ہے تو میں اس کا کفن پھاڑ کرجِسْم کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالتی ہوں اوراس کا گوشت کھا جاتی ہوں ، کيا آپ مجھ سے يہ نہيں پوچھیں گے کہ میں اس کے جوڑوں کے ساتھ کيا کرتی ہوں ؟ ‘‘ میں نے کہا: ضَرور بتا۔ تو کہنے لگی: ’’ ہتھيلیوں کو کلائيوں سے ، گُھٹنوں کوپِنڈليوں سے اور پِنڈليوں کو قدموں سے جُداکرديتی ہوں ۔ ‘‘ اتنا کہنے کے بعد حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن عبد العزیزرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُہچکیاں لے کر رونے لگے۔جب اِفاقہ ہوا تو کچھ اس طرح عبرت کے مَدَ نی پھول لٹانے لگے: ’’ اے لوگو! اِس دنیا میں ہمیں بہت تھوڑ ا عرصہ رہنا ہے ، جو اِس دنیا میں سخت گنہگار ہونے کے باوُجُود صاحِب اقتدارہے وہ آخِرت میں انتہائی ذلیل و خوا ر ہے۔ جو اس جہاں ميں مالدار ہے وہ آخرت ميں فقير ہوگا۔اِس کا جوان بوڑھا ہوجائے گا اور جو زندہ ہے وہ مرجائے گا۔ دنیا کا تمہاری طرف آنا تمہیں دھوکہ میں نہ ڈال دے، کيونکہ تم جانتے ہو کہ يہ بہت جلد رخصت ہوجاتی ہے ۔ کہاں گئے تلاوتِ قرآن کرنے والے؟ کہاں گئےبيتُ اللہکا حج کرنے والے ؟ کہاں گئے ماہِ رَمَضان کے روزے رکھنے والے ؟ خاک نے ان کے جسموں کا کيا حال کرديا ؟ قبر کے کيڑوں نے اُن کے گوشت کا کيا اَنجام کرديا ؟ ان کی ہڈِّيوں اور جوڑوں کے ساتھ کيا ہوا ؟اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم!دُنيا ميں یہ آرام دِہ نرْم نرْم بستر پر ہوتے تھے ليکن اب وہ اپنے گھر والوں اور وطن کو چھوڑ کر راحت کے بعد تنگی میں ہيں ، اُن کی بيواؤں نے دوسرے نکاح کرکے دوبارہ گھر بسالیے، اُن کی اَولاد گليوں میں دربدر ہے، اُن کے رشتہ داروں نے اُن کے مکانا ت وميراث آپَس میں بانٹ لی۔وَاللہ!ان میں کچھ خوش نصيب ہيں جو قبروں میں مزے لوٹ رہے ہيں اوروَاللہ! بعض قبر میں عذاب میں گرفتار ہيں ۔
افسوس صد ہزار افسوس، اے نادان! جو آج مرتے وَقت کبھی اپنے والِد کی ، کبھی اپنے بیٹے کی توکبھی سگے بھائی کی آنکھیں بند کر رہا ہے، ان میں سے کسی کو نہلا رہا ہے ، کسی کو کفن پہنا رہا ہے، کسی کے جنازے کو کندھے پر اُٹھارہا ہے ، کسی کے جنازے کے ساتھ جا رہا ہے، کسی کو قبر کے گڑھے میں اُتارکردفنا رہا ہے۔ یاد رکھ! کل یہ سبھی کچھ تیرے ساتھ بھی ہونے والا ہے۔ کاش! مجھے علْم ہوتا! کون سا گال قبر میں پہلے خراب ہوگا۔ ‘‘ پھر حضرت سیِّدُنا عمر بن عبدالعزيزرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُرونے لگے اور روتے روتے بے ہوش ہوگئے اور ايک ہفتے کے بعد اس دنيا سے تشريف لے گئے۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اللہ عَزَّ وَجَلَّکی قسم!ہماری بوئی ہوئی فصل کی کٹائی کا وقت قریب آگیا ہے، ہم کب تک اس غفلت کا شکار رہیں گے؟ قیامت کی ہولناکیاں ہمارےسامنے ہیں کہ جس دن باپ اپنی اولاد سے بھاگے گا، ماں کی مامتا بھی اس دن کسی کام نہ آئے گی، اس وقت انتہائی افسوس ہوگاجب ہمارے اعمال کا حساب ہوگا، ہم سوکھی ہوئی اس گھاس کی مانند ہو جائیں گے جس کو ہوائیں اِدھر سے اُدھر پھینک رہی ہوتی ہیں ۔ ہم کب تک اس غفلت میں مبتلا رہیں گے؟ حالانکہ توبہ کی قبولیت کا علم تو ظاہر ہو چکا ہے۔اے خواہشات کے سمندر میں غرق ہونے والو! نجات کی کشتی پرسوارہوجاؤاور اپنے اعمال سے برائیوں کا خاتمہ کردو، اپنے نفس کو ندامت کے ساحل پر ڈال دو، پھر تماللہ عَزَّ وَجَلَّکو بہت زیادہ کرَم فرمانے والاپاؤ گے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّکی بارگا ہ میں ذِلّت اور عاجزی کے ساتھ اپنے ہاتھ پھیلاؤ اور اس گھڑی گریہ وزاری کرتے ہوئے پکارو!اے وہ ذات جس کی نافرمانی کرنااس کو نقصان نہیں دیتی اور نہ ہی جس کی اطاعت کرنااس کو کوئی فائدہ دیتی ہے!یَا اَرْحَمَ الرّٰحِمِیْن! ہم تجھ سے سوال کرتے ہیں کہ تو ہماری خرابیوں کے بدلے درستی عطا فرما اور خسارے کے عوض نفع عطا فرما۔ اے وہ ذات جس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق جس میں چراغ ہے! اپنی رحمت سے ہمارے معاملے میں درگزرفرما، ہمیں دنیا میں رہتے ہوئے موت سے قبل آخرت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرما، تاکہ ہماری قبر اچھی ہو، ہمارا حشر اچھا ہو، کل بروزِ قیامت ہم تیری رحمت کے سائے میں ہوں ، اے ربّ کریم! ہمیں دُنیوی سوچوں سے نجات دلاکر اُخروی مدنی سوچ عطا فرما۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے … یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہے
جہاں میں ہیں عبرت کے ہر سُو نمونے … مگر تجھ کو اندھا کیا رنگ وبو نے
کبھی غور سے بھی یہ دیکھا ہے تو نے … جو آباد تھے وہ محل اب ہیں سُونے
جگہ جی لگانے کی دنیا نہیں ہے … یہ عبرت کی جا ہے تماشا نہیں ہےصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہاللہکے ولی ’’ بشر حافی ‘‘ کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1)مرنے کے بعد بندے کا تعلق ہرچیزسے منقطع ہوجاتا ہے سوائے اعمال کے کہ وہ بندے کے ساتھ اس کی قبر میں جاتے ہیں ۔
(2) انسان کا اصل مال جو آخرت میں اس کے کام آئے گا وہی ہے جو اس نےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں خرچ کرکے اپنی آخرت کے لیے جمع کرلیا۔
(3) نیک اعمال اچھی صورت میں آکر نیک مؤمن کا دل بہلاتے ہیں ، اسے خوشخبری دیتے ہیں جبکہ بُرے اعمال بُری صورت میں آکر اسے ڈراتے ہیں ۔
(4) نیک اعمال کے سبب بعض قبور جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بن جاتی ہیں اور بُرے اعمال کے سبب بعض قبور جہنم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا۔
(5) دنیا میں جو شخص جتنی زیادہ آسائشوں اور راحتوں میں زندگی گزارتا ہے موت کے بعد اسے ان چیزوں کی جدائی کا افسوس بھی اتنا ہی زیادہ ہوتا ہے۔
(6) احادیث میں بندے کو نیک اعمال کرنے پر ابھاراگیا ہے کیونکہ جس وقت لوگ اسے قبر میں تنہا چھوڑ کر چلے جائیں گے تو بندہ اپنے نیک اَعمال سے ہی اُنسیت حاصل کرے گا۔
(7) یقیناً سمجھدار وہی ہے جو دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی تیاری کرے، نیک اور اچھے اعمال بجالائے، بُرے اور گناہوں والے اعمال سے اپنے آپ کو بچانے کی کوشش کرے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں نیک اعمال کرنے کی توفیق عطافرمائے، بُرے اعمال سے بچنے کی ہمت اور طاقت عطا فرمائے، دنیا میں رہتے ہوئے قبر وحشر کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 104