Main Icon

باب : مجاھدہ کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 97

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ:قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ :نِعْمَتَانِ مَغْبُوْنٌ فِیْہِمَا کَثِیْرٌ مِنَ النَّاسِ، اَلصِّحَّۃُ وَالْفَرَاغُ. ( )

عن ابن عباس رضی اللہ عنہما قال:قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم :نعمتان مغبون فیہما کثیر من الناس، الصحۃ والفراغ. ( )

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَاعبداللہبن عباسرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشادفرمایا: ’’ تندرستی اورفراغت دو نعمتیں ایسی ہیں کہ اکثر لوگ اُن کی وجہ سے خسارہ اٹھاتے ہیں یا ان سے دھوکا کھاتے ہیں ۔ ‘‘

شرح حدیث

نقصان اُٹھانے والا اِنسان:عَلَّامَہ بَدْرُالدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیاس حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں : ’’ نعمت عمدہ حالت کو کہتے ہیں ۔جبکہ امام فخر الدین رازیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں کہ نعمت ایسی منفعت کو کہتے ہیں جو بطریقِ احسان کسی غیر کو دی جائے۔اور حدیث پاک میں جو خسارہ فرمایا گیا اس سے مراد بیع یعنی خرید وفروخت میں خسارہ ہے۔ یعنی صحت و فراغت یہ دو ایسے کام ہیں کہ اِنہیں اگر اُن کاموں میں استعمال نہ کیا جائے جہاں کرنا چاہیے تھا تو یہ دونوں نعمتیں پانے والا شخص نقصان اٹھائے گا یعنی وہ اِن دونوں کو نقصان کے ساتھ فروخت کرے گا۔کیونکہ جو شخص تندرستی وفراغت کی حالت میں عبادتِ الٰہی نہ بجا لائے تووہ بیماری و مشغولیت میں بدرجہ اَولیٰ عبادت نہ کرسکے گالہٰذا وہ بےعملی کے سبب نقصان و دھوکے میں رہ جائے گا۔اسی طرح بعض اوقات انسان صحت مند ہوتا ہے لیکن اَسبابِ معاش یعنی کاروبار وغیرہ میں مشغولیت کی وجہ سےعبادت کے لیے فارغ نہیں ہوتا اور کبھی اس کے بر عکس (یعنی فارغ تو ہوتا ہے لیکن مرض میں مبتلا ہونے کی وجہ سے عبادت نہیں کر پاتا ) تو جسے صحت وفراغت کی نعمت ملے اور وہ پھر بھی فضائل حاصل کرنے میں کوتاہی کرے تو ایسا شخص سرا سردھوکے وغفلت میں ہے۔ ‘‘ ( )
¥
دنیا آخرت کی کھیتی ہے:عَلَّامَہ حَافِظ اِبۡنِ حَجَرْ عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں : ’’ اس حدیث پاک کا حاصل یہ ہے کہ دنیا آخرت کی کھیتی ہے، اس میں کی گئی تجارت کا نفع آخرت میں ظاہر ہوگا۔ تو جس نے صحت وفراغت میں احکامِ خداندی کی پیروی کی وہ قابلِ رشک وخوش نصیب ہے اور جس نے اپنے فارغ اوقات اور صحت کے ایام کواللہ عَزَّ وَجَلَّکی نافرمانی میں گزارا تو وہ غافل اور نقصان اٹھانے والا ہے کیونکہ فراغت کے بعد مشغولیت اور صحت کے بعد بیماری آتی ہے اور اگربیماری نہ بھی آئے تو بڑھاپا آتا ہے ۔ ‘‘ ( ) (جو خود بسا اوقات بیماریوں کا مجموعہ ہوتاہے۔)
¥
دنیا کی حقیقت:مُفَسِّرشہِیر، مُحَدِّثِ کبیرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانحدیثِ مذکور کے تحت فرماتے ہیں : ’’ تندرستی اور عبادت کے لیے موقع مل جانااللہ(عَزَّوَجَلَّ) کی بڑی نعمتیں ہیں ۔ مگر تھوڑے لوگ ہی اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں اکثر لوگ اِنہیں دنیا کمانے میں صَرف کرتے ہیں حالانکہ دنیا کی حقیقت یہ ہے کہ محنت سے جوڑنا، مشقت سے اس کی حفاظت کرنا، حسرت سے چھوڑنا ۔خیال رہے کہ فراغت اور بیکاری میں فرق ہے فراغت اچھی چیز ہے بیکاری بُری چیز۔ فرمایا نبی کریمصَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے کہ جنتی لوگ کسی چیز پر حسرت نہ کریں گےسوائے اُن ساعتوں کے جو اُنہوں نے دنیا میںاللہکے ذکر کے بغیر صَرف کردیں ۔ ‘‘ ( )پانچ کو پانچ سے پہلے غنیمت جانو:حضرت سَیِّدُنَاعبداللہبن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت جانو: (1) جوانی کو بڑھاپے سے پہلے۔ (2) صحت کو بیماری سے پہلے۔ (3) مالداری کو تنگدستی سے پہلے۔ (4) زندگی کو موت سے پہلےاور (5) فراغت کو مصروفیت سے پہلے۔ ‘‘ ( )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یقیناً زندگی بے حد مختصر ہے، جو وقت مل گیا سو مل گیا، آئندہ وقت ملنے کی اُمید دھوکا ہے، کیا معلوم ہم آئندہ لمحے موت کی آغوش میں جاچکے ہوں ، واقعی کتنے خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی تیاری کا مدنی ذہن رکھتے ہیں ، اِس کے لیے بھرپور کوششیں کرتے ہیں ، اپنے قیمتی اوقات کو فضولیات، کھیل کود اور دیگر لہوولعب کے کاموں میں صرف کرنے کی بجائے
اللہ عَزَّوَجَلَّاور اس کے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی اطاعت وفرمانبرداری والے کاموں میں لگا کر اَنمول بناتے ہیں ، بیماری سے قبل صحت وتندرستی کی نعمت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خوب عبادات کرتے ہیں اور کتنے بدقسمت ہیں وہ لوگ جو دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی تیاری کا مدنی ذہن نہیں رکھتے، اپنے قیمتی اوقات کو فضولیات میں صَرف کردیتے ہیں ، صحت وتندرستی جیسی عظیم نعمت کواللہ عَزَّ وَجَلَّاور اس کے رسولصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رِضا والے کاموں میں صَرف کرنے کے بجائے گناہوں میں ضائع کردیتے ہیں ۔ یاد رکھیے! جب تک بندہ جوان رہتاہے، اس کی ہڈیاں اور جسم بھی مضبوط رہتاہے، جیسے جیسے وہ بڑھاپے کی جانب بڑھتا ہے کمزوری آنا شروع ہوجاتی ہے، پھر اس میں وہ طاقت نہیں رہتی جو جوانی میں تھی، اس لیے اپنی جوانی کو غنیمت جانیے اور خوب خوب ربّعَزَّ وَجَلَّکی عبادات کیجیے۔ شہزادہ اعلیٰ حضرت، حضور مفتی اعظم ہند، حضرت علامہ مولانا محمد مصطفےٰ رضا خان نوریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیجوانی میں عبادات وریاضت سے متعلق کیا خوب ارشاد فرماتے ہیں :
ریاضت کے یہی دن ہیں ، بڑھاپے میں کہاں ہمت
جو کچھ کرنا ہو اب کرلو، ابھی نوری جواں تم ہو
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ
”صدیق“کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)
تندرستی اور فراغت یہ دو ایسی نعمتیں ہیں کہ جن سے اکثر لوگ غافل ہیں ۔لہٰذا ان نعمتوں کی قدر کرتے ہوئے اَعمالِ صالحہ کی کثرت کرنی چاہیے ۔
(2) دنیا آخرت کی کھیتی ہے اس میں جیسا بیج ڈالیں گے آخرت میں و یسا ہی پھل ملے گا۔
(3) وقت کی اہمیت کا اس بات سے اندزاہ لگایا جا سکتا ہے کہ جنت میں کسی شے کی حسرت نہ ہوگی سوائے اس وقت کے جو دنیا میں
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ذ کر کے بغیر گزرا۔
(4) جو صحت و فراغت میں نیک اعمال نہ کر سکے تو اسے سوچ لینا چاہیے کہ صحت کے بعد بیماری اور فراغت کے بعد مصروفیت ہے اور بیماری و مصروفیت میں عبادت کا موقع بہت ہی کم ملتا ہے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّہمیں بیماری و بے جا مصروفیت سے پہلے اَعمالِ صالحہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور موت آنے سے پہلے اپنی موت کی تیاری کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 97