- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 5
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- حدیث نمبر 573
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُ: اَنَّ فُقَراءَ المُهَاجِريْنَ اَتَوْارَسُولَ اللهِ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ، فَقَالُوا:ذَهَبَ اَهْلُ الدُّثُورِ بِالدَّرَجَاتِ العُلٰى وَالنَّعِيم المُقِيْمِ، فَقَالَ: وَمَاذَاك؟، فَقَالُوا:يُصَلُّونَ كَمَا نُصَلِّي، وَيَصُومُوْنَ كَمَانَصُومُ، وَيَتَصَدَّقُونَ وَلاَ نَـتَصَدَّقُ، وَيُعْتِقُونَ وَلاَ نُعْتِقُ، فَقَالَ:رَسُوْلُ الله صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم : اَفَلَا اُعَلِّمُكُمْ شَيْئًا تُدْرِكُونَ بِهِ مَنْ سَبَقَكُمْ، وَتَسْبِقُونَ بِهِ مَنْ بَعْدَكُمْ، وَلَا يَكُونُ اَحَدٌ اَفْضَلَ مِنْكُمْ اِلَّا مَنْ صَنَعَ مِثْلَ مَاصَنَعْتُمْ؟ قَالُوْا: بَلٰی يَارَسُوْلَ اللّٰہ، قَالَ:’’تُسَبِّحُونَ وَتَحْمَدُوْنَ وَتُكَبِّرُونَ دُبُرَ كُلِّ صَلاَةٍ ثَلاثاًوَثَلاثِينَ مَرَّةً.‘‘ فَرَجَعَ فُقَرَاءُ المُهَاجِرِينَ اِلٰى رَسُوْلِ الله صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ، فَقَالُوا:سَمِعَ اِخْوَانُنَا اَهْلُ الْاَمْوالِ بِمَا فَعَلْنَا، فَفَعَلُوا مِثلَهُ. فَقَالَ رَسُوْلُ الله صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم :’’ذَلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ.‘‘
عن ابي هريرة رضی اللہ تعالی عنہ: ان فقراء المهاجرين اتوارسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ، فقالوا:ذهب اهل الدثور بالدرجات العلى والنعيم المقيم، فقال: وماذاك؟، فقالوا:يصلون كما نصلي، ويصومون كمانصوم، ويتصدقون ولا نـتصدق، ويعتقون ولا نعتق، فقال:رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم : افلا اعلمكم شيئا تدركون به من سبقكم، وتسبقون به من بعدكم، ولا يكون احد افضل منكم الا من صنع مثل ماصنعتم؟ قالوا: بلی يارسول اللہ، قال:’’تسبحون وتحمدون وتكبرون دبر كل صلاة ثلاثاوثلاثين مرة.‘‘ فرجع فقراء المهاجرين الى رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم ، فقالوا:سمع اخواننا اهل الاموال بما فعلنا، ففعلوا مثله. فقال رسول الله صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم :’’ذلك فضل الله يؤتيه من يشاء.‘‘
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنَا ابوہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ مہاجر ین فقراء نے سرکارِ مدینہ، سرورِ قلب وسینہ،فیض گنجینہصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمتِ بابرکت میں حاضر ہوکر عرض کی: ’’ مالدار بڑے درجے اور دائمی نعمت لے گئے۔‘‘ فرمایا:’’وہ کیسے؟‘‘ عرض کی:’’جیسے ہم نمازیں پڑھتے ہیں وہ بھی پڑھتے ہیں،جیسے ہم روزے رکھتے ہیں وہ بھی رکھتے ہیں، مگر وہ (مالدار ہونے کے سبب)خیرات کرتے ہیں ہم نہیں کر سکتے، وہ غلام آزاد کرتے ہیں ہم نہیں کرسکتے۔‘‘حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’کیامیں تمہیں وہ چیز نہ سکھاؤں جس کے ذریعے تم آگے والوں تک پہنچ جاؤاور پیچھے والوں سے آگے بڑھ جاؤ اور تم سےافضل کوئی نہ ہو سوائے اس کے جو تم جیسا عمل کرے؟‘‘عرض کی:’’جی ضرور ارشاد فرمائیے۔‘‘ ارشاد فرمایا:’’ہرنماز کے بعد33بارسُبْحَانَ اللّٰہاور 33باراَلْحَمْدُلِلّٰہاور 33باراللّٰہ اَکْبَرپڑھ لیا کرو۔‘‘مہاجرین فقراء آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں دوبارہ حاضر ہوئے اورعرض کی:’’ہمارے اِس عمل کو ہمارے مالدار بھائیوں نے سنا تو اُنہوں نے بھی یہ عمل شروع کر دیا ہے۔‘‘آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’ذَالِكَ فَضْلُ اللّٰہ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُیعنی یہ تواللّٰہ عَزَّوَجَلَّکا فضل ہے، جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے۔‘‘
شرح حدیث
صحابہ کرام اورنیکیوں کی حرص:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیث مذکورسےصحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی نیکیوں میں حرص معلوم ہوئی کہ وہ کس طرح اَعمالِ صالحہ میں ایک دوسرے سےآگے بڑھنے کی کوشش کیا کرتے تھے۔جن کے پاس اتنا سرمایہ نہ تھا کہ صدقہ وخیرات کریں ،غلام آزاد کریں تو وہ غمگین ہو گئےکہ ہم اہل ثَروت سے پیچھے رہ جائیں گے کیونکہ وہ بقیہ عبادات کے ساتھ ساتھ مالی صدقات بھی کرتے تھے، کاش! ہم بھی اُن جیسی طاقت پاتے تو اُن سے پیچھےنہ رہتے۔صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی نہ تو یہ ربّ تعالیٰ سے شکایت ہے اور نہ ہی دیگر مالدار صحابہ سے حسد ہے بلکہ یہ رشک ہے، یعنی انہوں نے بھی ان مالدار صحابہ کی نعمت کی خواہش کی، اورقربان جائیے!حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی کر م نوازی پر کہ اُن کی دل جوئی فرماتے ہوئے ایسا بہترین عمل تجویز فرمایاکہ جس کے ذریعے وہ مالدار نہ ہونے کے باوجود بھی پرہیزگار مالداروں کے مراتب تک پہنچ جائیں۔مُفَسِّرشہِیر مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی اَحمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”مال دار بڑے درجے اور دائمی نعمت لے گئے۔“یعنی ہمارے مقابل درجات میں بڑھ گئے اور جنت کی اعلیٰ نعمتوں کے مستحق ہوگئے۔اس میں نہ تو ربعَزَّ وَجَلَّکی شکایت ہے اور نہ مالداروں پر حسد بلکہ ان پر رشک ہے۔دینی چیزوں میں رشک جائز ہے یعنی دوسروں کی سی نعمت اپنے لئے بھی چاہنا ۔حسدحرام ہے یعنی دوسروں کی نعمت کے زَوال کی خواہش۔‘‘تسبیحات کی تعداد کے متعلق وضاحت:واضح رہے کہ تسبیحات کی تعدادسےمتعلق کئی طرح کی روایات ہیں۔*بعض روایات میں تینوں تسبیحات کے ساتھ فقط ایک بار 33کا ذکر ہے۔*بعض روایات میں اس بات کی تصریح ہے کہ ہر تسبیح کو 33، 33بار پڑھے۔*بعض روایات میں اس بات کی تصریح ہے کہ 33بارسُبْحَانَ اللّٰہ، 33 باراَلْحَمْدُ لِلّٰہاور34 باراللّٰہ اَکْبَرپڑھے۔*بعض روایات میں اس بات کی تصریح ہے کہ ہرتسبیح کو گیارہ گیارہ بار پڑھے تاکہ 33 کا عدد پورا ہو جائے۔مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کی صراحت نہیں ہے کہ ہر تسبیح کو 33، 33بار پڑھاجائے یا کل ملا کر33 بار پڑھا جائے۔لیکناِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّدطِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’اس حدیث پاک میں یہ بھی احتمال ہے کہ تینوں کی کل تعداد 33 بار ہو اور ہر تسبیح کو اتنی بار پڑھا جائے کہ تینوں اس تعداد کو پہنچ جائیں۔ اور ظاہر یہ ہے کہ ہر تسبیح کو مستقل 33، 33بار پڑھا جائے اور جس روایت میں گیارہ گیارہ بار پڑھنے کی تصریح ہے وہ اس روایت کے منافی نہیں ہے کیونکہ اکثر روایت میں 33، 33بار کا ہی ذکر ہے۔‘‘یہی وجہ ہے کہ اکثر علمائے کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلَامنے اس روایت کے اعتبار سے تعداد کو بیان کیا ہے جس میں سارے عدد آجائیں اور وہ یہ ہے کہ 33بارسُبْحَانَ اللّٰہ، 33باراَلْحَمْدُ لِلّٰہاور 34 باراللّٰہ اَکْبَرپڑھے۔تسبیحات کے دیگر فضائل:مذکورہ حدیث پاک میں تسبیحات کی یہ فضیلت بیان فرمائی گئی ہے کہ جو بھی یہ تسبیحات مذکورہ تعداد کے مطابق پڑھے گا تو اسے مالداروں کی طرح راہِ خدا میں صدقہ وخیرات کرنے اور غلام آزاد کرنے کی طرح اجروثواب ملے گا۔ بعض روایات میں یہ بھی فضیلت بیان فرمائی گئی ہے کہ ان تسبیحات کو مقررہ تعداد کے مطابق پڑھنے والا نامراد نہیں ہوتا۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُناکعب بن عُجْرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی کہ حضور نبی اَکرم نورِمُجَسَّمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’کچھ اَذکار نماز کے بعد کے ہیں، جن کا کہنے والا نا مراد نہیں رہتا۔ ہر فرض نماز کے بعدسُبْحَانَ اللّٰہ33 بار،اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ33بار،اللّٰہ اَکْبَرْ34 بار۔‘‘بعض احادیث میں اِن تسبیحات کی یہ فضیلت بھی بیان فرمائی گئی ہے کہ اس کے پڑھنے والے کی تمام خطائیں بخش دی جائیں گی اگرچہ سمند رکے جھاگ کے برابر ہوں۔ چنانچہ حضرت سَیِّدُنَاابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہے کہ سرکارِ دوعالَمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’جو ہر نمازکے بعد33بارسُبْحَانَ اللّٰہ،33 باراَلْحَمْدُ لِلّٰہِ،33باراللّٰہ اَکْبَرْکہے کہ یہ کُل ننانوے ہوئے اور یہ کلمہ کہہ کر سو پورے کر لے:لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ لَہُ الْمُلْکُ وَلَہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیءٍ قَدِیْرٌتو اس کی تمام خطائیں بخش دی جائیں گی، اگرچہ دریا کے جھاگ کی مثل ہوں۔‘‘عمل قلیل اجرکثیر کا باعث:مذکورہ حدیث پاک سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بسااَوقات عمل قلیل پر اجرکثیر عطا کردیا جاتا ہے، جیسا کہ مذکورہ حدیث پاک میں صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے مالدار صحابہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمْکے بڑے بڑے اعمال یعنی راہِ خدا میں خرچ کرنا، راہِ خدا میں صدقہ وخیرات کرنا، راہِ خدا میں غلاموں کو آزاد کرنا بیان کیا تو حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ایک نہایت ہی قلیل عمل عطا فرمایا کہ ہر نماز کے بعد 33بارسُبْحَانَ اللّٰہ، 33باراَلْحَمْدُ لِلّٰہاور 33 باراللّٰہ اَکْبَرپڑھیں تو یہ قلیل عمل اس اجرکثیر کا باعث ہوگا جو مالدار صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے بڑے بڑے اَعمال کے سبب انہیں ملتا ہے۔رب تعالیٰ کی رحمت کے قربان! اپنے بندوں کے لیے قلیل اعمال پر کثیر اجروثواب عطا فرمایا کہ میرے بندے کسی طرح نیک عمل کریں اور میں انہیں بخش دوں۔ بہت محروم ہےوہ شخص جو پھر بھی نیک اَعمال کرکے رحمت الٰہی کا اپنے آپ کو حق دار نہ بنائے اور بہت خوش نصیب ہیں وہ جو نیک اعمال کرکے رحمت اِلٰہی کے سمندر میں غوطہ زن رہے۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدفرض نماز کے بعدذِکرودعا کی فضیلت:مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کا بیان ہے کہ حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مذکورہ تسبیحات کو نمازوں کے بعد پڑھنے کا حکم ارشاد فرمایا۔اس سے معلوم ہوا کہ نماز کے بعد ذکرودرود وغیرہ باعث فضیلت ہے۔عَلَّامَہ اَبُوحَفْص سِرَاجُ الدِّیْن عُمَر بِنْ عَلِیْ اِبْنِ مُلَقَّن رَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:’’اِس حدیث پاک میں نمازوں کے بعد تسبیح اور تحمید پر ابھارا گیا ہےاور یہ کہ یہ تسبیحات فضیلت میںاِنْفَاقْ فِیْ طَاعَۃِ اللّٰہکے برابر ہیں۔رسولُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’نمازوں کو بہترین ساعتوں میں رکھا گیا ہے تو نمازوں کے بعد دعا میں کوشش کرو۔‘‘حضرت سَیِّدُنَا انس بن مالکرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے، فرمایا: ’’جب نماز قائم کی جاتی ہے تو آسمان کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اور دعا قبول کی جاتی ہے۔‘‘حضرت سَیِّدُنَا امام جعفر صادقرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: ’’فرض نمازوں کے بعد دعا کرنا نفل نمازوں کے بعد دعا کرنے سے افضل ہے کیونکہ فرض نماز نفل نماز سے افضل ہے۔‘‘فضیلت کی تمنا کرنا کیسا؟قرآنِ مجید میںاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے: (وَ لَا تَتَمَنَّوْا مَا فَضَّلَ اللّٰهُ بِهٖ بَعْضَكُمْ عَلٰى بَعْضٍؕ)(پ۵، النساء:۳۲)ترجمۂ کنزالایمان:’’اور اس کی آرزو نہ کرو جس سےاللّٰہنے تم میں ایک کودوسرے پر بڑائی دی۔‘‘ اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگراللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے کسی کو کوئی فضیلت دی ہو تو اس کی تمنا نہیں کرنی چاہیے تو اغنیاء صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے جن عبادتوں کے اجر کی فضیلت دی تھی، فقراء صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے ان کی تمنا کیوں کی؟ اس کا ایک جواب تویہ ہے کہ قرآن کریم میں ان چیزوں کے حصول کی تمنا سے منع کیا گیا ہے جو شرعاً محال ہیں۔مثلاً عورت اذان، امامت یا طلاق دینے کی تمنا کرے، یا کوئی شخص اب نبی بننے کی تمنا کرے یا کوئی شخص انبیاء کے اجر پانے کی تمنا کرے، ایسی تمنا کرنے سےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے منع فرمادیا ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ اس آیت مبارکہ میں اس تمنا کی ممانعت جو حسد کہلاتی ہے،یعنی اپنے بھائی کی فضیلت دیکھ کر اس سےچھن جانے کی تمنا کرنا، اور اگر فقط یہ تمنا ہو کہ اس جیسی نعمت یا فضیلت مجھے بھی مل جائے تو اسے غبطہ یعنی رشک کہتے ہیں اور یہ شرعا ًجائز اور محمود یعنی قابل تعریف ہے۔ چنانچہ صراط الجنان میں ہے: ’’جب ایک انسان دوسرے کے پاس کوئی ایسی نعمت دیکھتا ہے جو اس کے پاس نہیں تو اس کا دل تشویش میں مبتلا ہوجاتا ہے، ایسی صورت میں اس کی حالت دوطرح کی ہوتی ہے:(1)وہ انسان یہ تمنا کرتا ہے کہ یہ نعمت دوسرے سے چھن جائے اور مجھے حاصل ہوجائے۔ یہ حَسَد ہے اور حَسَد مذموم اور حرام ہے۔ (2)دوسرے سے نعمت چھن جانے کی تمنا نہ ہو بلکہ یہ آرزو ہو کہ اُس جیسی مجھے بھی مل جائے اسے غبطہ (رشک)کہتے ہیں، یہ مذموم نہیں۔‘‘مذکورہ حدیث پاک میں فقراء صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے اغنیاء صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو دیکھ کر اُن کی عبادات پر جو تمنا کی وہ رشک ہےاور ایسی تمنا کرنا شرعاً بالکل جائز بلکہ قابل تعریف ہے۔اَعمالِ صالحہ کی طرف رَغبت:جب فقراء صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے اَغنیاء صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی عبادت میں سبقت کو بیان کیا تو سرکارِ دوعالَم، نورِمُجَسَّمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے انہیں ایسا عمل بتایا جس کے سبب وہ اَغنیاء صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے اَعمال جیسا اَجروثواب حاصل کرسکیں۔ جیسے ہی آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے وہ عمل فقراء صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو بتایا تو اسے اغنیاء صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے سن لیا اور انہوں نے بھی اس پر عمل شروع کردیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اَعمالِ صالحہ کی طرف رغبت کرنی چاہیے اور یہ رغبت کرنا صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکی سُنَّت ہے۔عبادت پر اَجر ربّ کا فضل ہے:جب فقراء صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے اغنیاء صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے بارے میں بتایا کہ انہوں نے بھی وہ عمل شروع کردیا ہے تو حضور نبی کریم، رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’یہ تواللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے۔‘‘معلوم ہوا کہ عبادت پر اجر بندے کے عمل سے نہیں بلکہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکے فضل سے ملتا ہے، اب وہ اپنا فضل جسے چاہے عطا فرمائے اور جتنا چاہے عطا فرمائے، بسا اوقات تو ایک نیکی کا اجر دس گنا بھی عطا فرماتا ہے اور بعضوں کے لیے اس سے بھی زیادہ جتنا چاہتا ہے زیادہ فرماتا ہے۔چنانچہ ارشاد فرماتا ہے: (مَنْ جَآءَ بِالسَّیِّئَةِ فَلَا یُجْزٰۤى اِلَّا مِثْلَهَا)(پ۸، الانعام:۱۶۰)ترجمۂ کنز الایمان:’’جو ایک نیکی لائے تو اس کے لیے اس جیسی دس ہیں۔‘‘یعنی ایک نیکی کرنے والے کو دس نیکیوں کی جزا اور یہ بھی حدونہایت کے طریقہ پر نہیں بلکہاللّٰہتعالیٰ جس کے لیے جتنا چاہے اس کی نیکیوں کو بڑھائے، ایک کے سات سو کرے یا بے حساب عطا فرمائے ، اصل یہ ہے کہ نیکیوں کا ثواب محض فضل ہے۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّایک اور مقام پر ارشاد فرماتا ہے: (وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُؕ-) (پ۳، البقرۃ،۲۶۱)ترجمۂ کنزالایمان: ’’اوراللّٰہاس سے بھی زیادہ بڑھائے جس کے لیے چاہے۔‘‘ربّ تعالیٰ نے اپنا فضل طلب کرنے کا حکم دیا ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: (وَ سْــٴَـلُوا اللّٰهَ مِنْ فَضْلِهٖؕ-)(پ۵، النساء:۳۲)ترجمۂ کنزالایمان:’’اوراللّٰہسے اس کا فضل مانگو۔‘‘رسولُاللّٰہشارِع ومختار ہیں:مذکورہ حدیث پاک سے یہ بھی معلوم ہوا کہاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے حضور تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوتصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو شارِع اور مختار بنا کر بھیجا ہے، آپ کو عبادت مشروع کرنے اور اس پر اجروثواب بتلانے کا اختیار ہے، یہی وجہ ہے کہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فقراء صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکو اَغنیاء صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے بڑے بڑے اَعمال کے مقابلے میں ایک چھوٹا ساعمل عطا فرمایا اور اس پر ثواب بھی بتلایا کہ اگر تم اس پر عمل کرو گے تو تمہیں بڑے بڑے اعمال کا اجروثواب عطا کیا جائے گا۔پرہیزگارفقراء واغنیاء کی فضیلت:مذکورہ حدیث پاک میں پرہیزگار فقراء اور اغنیاء دونوں کی چند اعتبارات سے فضیلت کا بیان ہے، تفصیل کچھ یوں ہے:(1)اغنیاء کثیر مال خرچ کرکے جو اجروثواب پاتے ہیں، فقراء کو نماز کے بعد مخصوص تعداد میں فقط تسبیحات پڑھنے سے ہی وہ اجروثواب مل جاتا ہے۔(2)اغنیاء کی اس اعتبار سے فضیلت کا بیان ہے کہ اغنیاء مال ودولت خرچ کرنے کے ساتھ ساتھ ان تسبیحات کو پڑھ کر مزید اجروثواب کو حاصل کرلیتے ہیں۔(3)اغنیاء فقراء کو اپنی زکوۃ، صدقہ وخیرات دے کر اپنی آخرت کو سنوارتے ہیں تو فقراء اغنیاء سے زکوۃ وغیرہ لے کر ان کی آخرت کو سنوارتے ہیں۔(4)اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے اگر اغنیاء کو حلال مال ودولت کے ذریعے عزت دی ہے، تو فقراء کو وقار اور خودداری کے ذریعے عزت دی ہے۔(5)اگر ربّ تعالیٰ نے اغنیاء کو مال ودولت سے نوازا ہے اور اپنی راہ میں خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائی ہے تو رب تعالی کے رسولصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فقراء کو ایساآسان عمل بتایا ہے کہ جس پر عمل کرکے وہ بغیر مال ودولت کے بھی اغنیاء کے برابر اجرو ثواب کے مستحق ہوجاتے ہیں۔غنی شاکر افضل یا فقیر صابر؟غنی شاکر (یعنی شکرگزار مالدار)افضل ہے یا فقیر صابر(یعنی صبر کرنے والا فقیر)؟ اس میں علماء کا اختلاف ہے، بعض نے غنی شاکر کو افضل قرار دیا ہے جبکہ بعض نے فقیر صابر کو۔بعض علماء نے یہ بھی فرمایا کہ نہ تو فقر فی نفسہٖ برا ہے اور نہ ہی غَنا۔اگر فقر آدمی کو فرائض وواجبات کی ادائیگی سے روک دے، غیر شرعی اُمور کرنے پر مجبور کردے تو ایسا فقر برا ہے۔لیکن اگر حضرت سَیِّدُنَا بلال حبشی، حضرت سَیِّدُنَا صہیب اور حضرت سَیِّدُنَا عمار بن یاسررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمجیسا فقر ہو بہت اچھا ہے بلکہ باعِثِ فخر ہے۔ اسی طرح اگر غنا انسان کو قارون اور فرعون بنادے تو بہت برا ہے،لیکن امیرالمؤمنین حضرت سیدنا عثمانِ غنی اورحضرت سَیِّدُنَا عبدالرحمٰن بن عوفرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَاجیسا غَنا ہو تو بہت اچھا ہے اور ربّ تعالیٰ کا فضل عظیم ہے۔
مرقاۃ المفاتیح میں ہے :”بعض احادیث میں صابرفقراء کی ایسی خصوصیات بیان فرمائی گئی ہیں جس سے واضح ہوتا ہے کہ وہ شاکر اغنیاء سے افضل ہیں۔ چنانچہ حضرت سیدنا انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ فقراء نے اپنا ایک نمائندہ بارگاہِ رسالت میں بھیجا ، اس نے آکر عرض کی: ’’یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میں فقراء کا نمائندہ ہوں۔‘‘ αآپ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’تمہیں اور جن کے پاس سے تم آئے ہو مرحبا ہو، تم ان لوگوں کے پاس سے آئے ہو جن سےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّمحبت فرماتا ہے۔‘‘ اس نے عرض کی: ’’یارسولَاللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !فقراء کہتے ہیں کہ اغنیاء حج اور عمرہ کرکے جنت لے گئے اور ہم اس پرقادر نہیں ہیں اور جب وہ اغنیاء بیمار ہوتے ہیں تو صدقہ اور خیرات کرتے ہیں جو ان کے لیے زاد آخرت بن جاتا ہے۔‘‘آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’میری طرف سے فقراء کو یہ پیغام پہنچادو کہ جو شخص صبر کرے اور ثواب کی نیت کرے، اس کو اغنیاء پر تین وجہ سے برتری حاصل ہے: (1) جنت میں ایک بلند جگہ ہے جس کو اہل جنت یوں دیکھیں گے جیسے زمین والے آسمان کے ستاروں کو دیکھتے ہیں،اس جگہ نبی ، یا شہیدفقیر یا مؤمن فقیر داخل ہوگا۔ (2)فقراء جنت میں اغنیاء سے پانچ سوسال پہلے داخل ہوں گے۔ (3)اگر غنیسُبْحَانَ اللّٰہ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَ اللّٰہ اَکْبَرُکہے اور فقیر بھی یہ کلمات کہے تو غنی ان کے اجر میں فقیر کے برابر نہیں ہوسکتا اگرچہ دس ہزار درہم بھی خرچ کردے، اسی طرح نیکی کے بقیہ تمام کاموں کا حال ہے۔‘‘وہ نمائندہ فقراء کے پاس گیا اور جاکر انہیں اس حدیث کی خبر دی تو فقراء نے یہ سن کر کہا: ’’ہم راضی ہوگئے، ہم راضی ہو گئے۔‘‘مدنی گلدستہ’’جنت کے8 دروازوں کی نسبت سے حدیثِ مذکوراور اس کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول
(1) صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننیکیوں کے معاملے میں بہت حریص تھے۔
(2) نماز کے بعدتسبیحات پڑھنے کی بہت فضیلت ہے،انہیں پڑھنے والا نامراد نہیں ہوتا، اسے راہِ خدا میں صدقہ وخیرات کرنے، غلام آزاد کرنے جیسے بڑے بڑے اَعمال جیسا اجروثواب عطا کیا جاتا ہے، نیز اس کی تمام خطائیں بخش دی جاتی ہیں اگرچہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں۔
(3) کئی قلیل عمل ایسے بھی ہوتے ہیں جو اجرکثیر کا باعث ہوتے ہیں، لہٰذا کسی بھی عمل کو قلیل سمجھ کر نہیں چھوڑنا چاہیے، چھوٹے سے چھوٹے عمل اور نیکی کو بھی فی الفور کرلینا چاہیے کہ ہوسکتا ہے وہ بڑے اجروثواب کا باعث ہو اور اسی چھوٹی سی نیکی کے سبب مغفرت ہوجائے۔
(4) اپنے بھائی میں کوئی فضیلت یا خاصیت دیکھ کر یہ تمنا کرنا کہاللّٰہ عَزَّوَجَلَّمجھے بھی ایسی ہی فضیلت یا خاصیت عطا فرمادے یہ تمنا جائز ہے ۔
(5) عبادت پر اجروثواب عمل سے نہیں بلکہ ربّ تعالیٰ کے فضل سے ملتا ہے، اس لیے رب تعالیٰ سے ہمیشہ اس کا فضل طلب کرنا چاہیے، کل قیامت میں بھی جنتی جنت میں ربّ تعالیٰ کے فضل سے ہی جائیں گے۔
(6)اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے حضور تاجدارِ رِسالت شہنشاہِ نبوتصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو شارِع اور مختارِ کُل بنایا ہےآپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجسے چاہیں جو چاہیں،جتنا چاہیں،جیسا چاہیں حکم دیں، آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ازرُوئے دِین ہر حکم شریعت ہےجس پر عمل کرنا لازم ہے۔
(7) حالت فقرہویاغنا دونوں میں پرہیزگاری اختیار کرنا لازم ہے۔
(8) فقر وغنا میں سے کوئی بھی فی نفسہٖ بُرا نہیں، فقر اگر آدمی کو فرائض وواجبات کی ادائیگی سے روک دے، گناہوں میں مبتلا کرنے کا سبب بن جائے تو ایسا فقر بُرا،اسی طرح اگر غنا آدمی کو قارون اور فرعون بنا دے تو ایسا غَنا قابلِ مذمت اور ممنوع ہے۔اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں نیکیوں کی حرص عطا فرمائے، ذِکرواَذکار کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اَحکامِ شرعیہ پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 573