Main Icon

باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 572

جلد 5

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قَالَ: لَاحَسَدَ اِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ:رَجُلٌ آتَاهُ اللهُ القُرْآنَ، فَهُوَ يَقُومُ بِهِ اٰ نَآءَ اللَّيْلِ وَاٰنَآءَ النَّهَارِ، وَرَجُلٌ آ تَاهُ اللّٰہ مَالًا،فَهُوَ يُنْفِقُهُ اٰنَآءَ اللَّيْلِ وَاٰ نَآءَ النَّهَارِ.

عن ابن عمر رضي الله عنهما عن النبي صلی اللہ علیہ والہ وسلم قال: لاحسد الا في اثنتين:رجل آتاه الله القرآن، فهو يقوم به ا ناء الليل واناء النهار، ورجل آ تاه اللہ مالا،فهو ينفقه اناء الليل وا ناء النهار.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنَاعبداللّٰہابن عمررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہماسےمروی ہے کہ حضور نبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’دو شخصوں کے علاوہ کسی سے رشک جائز نہیں۔ ایک وہ شخص جسےاللّٰہ عَزَّوَجَلَّنے قرآن ( کا علم) دیا اور وہ رات اور دن کے اوقات میں اس کی تلاوت کرتا ہے اور ایک وہ شخص جسےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنےمال دیا اور وہ رات اور دن کے اوقات میں اسے ( نیک کاموں میں )خرچ کرتا ہے۔‘‘

شرح حدیث

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حدیث مذکور میں تلاوت قرآن کرنے والے اور حلال مال کو راہِ خدامیں خرچ کرنےوالے کو قابل رشک کہا گیا ہے۔قرآن کریم وہ بلند مرتبہ کتاب ہے کہ جس نےبھی اس پر عمل کیا، اس سے محبت کی ،اس کی تلاوت کو اپنا مشغلہ بنایا وہ دنیا وآخرت میں کامیاب ہوگیا، نیک لوگوں میں اس کا اعلیٰ مقام ہوگیا،قرآن پر عمل کرنے والا لوگوں کا پیشوا وامام بن جاتاہے، لوگوں کے دلوں میں اس کی محبت ڈال دی جاتی ہے۔اسی طرح اپنا حلال ما ل نیک کاموں میں خرچ کرنے والا بھی بہت خوش بخت ہے کہ جس ربّ نے اسے حلال مال دیاوہ اسےا س کے حکم کے مطابق، اس کے رضا والےکاموں میں خرچ کرکے لوگوں کی خیر خواہی کرتاہے،غریبوں یتیموں کی امداد کرتاہے اور دیگر نیک امور میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتا ہے تو ایسا شخص واقعی نیک بخت اور قابل رشک ہے ۔قابل رشک پڑوسی:حضرت سَیِّدُنَاابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ سرکارِ نامدار ،مدینے کےتاجدارصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’رشک نہیں مگردوشخصوں پر:ایک وہ جسےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے قرآن سکھایا اور وہ دن رات کے اوقات میں اس کی تلاوت کرتا ہے،اس کے پڑوسی نے سنا توکہنے لگا : کاش ! مجھے بھی ویسا ہی دیا جاتا جوفلاں کو دیا گیا تو میں بھی اس کی طرح عمل کرتا۔ دوسرا وہ شخص جسےاللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے ما ل دیا وہ اسے حق (یعنی خیر وبھلائی کے کاموں)میں خرچ کرتاہے، کسی نےکہا :’’ کاش! مجھے بھی ویسا ہی دیاجاتا جیسا فلاں کو دیا گیا تو میں بھی اُسی کی طرح عمل کرتا۔‘‘مدنی گلدستہ’’حلال مال‘‘کے7حروف کی نسبت سے مذکورہ اَحادیث اور ان کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) حسد مذموم اور رشک محمود ہے، پھر ان دونوں کے مختلف اَقسام کے اعتبار سے مختلف اَحکام ہیں۔
(2) جس دینی نعمت کا حصول واجب ہو اس پر رشک کرنا واجب، جس کا حصول مستحب ہو اس پر رشک کرنا مستحب اور جس کا مباح ہو اس پر رشک کرنا مباح ہے۔
(3) وہ مالدار قابل رشک ہے جو اپنا مال بھلائی کے کاموں میں خرچ کرتاہو۔
(4) ایسا شخص جسے
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّنے قرآن وسنت کا علم عطا فرمایا اور وہ اس کے مطابق فیصلہ کرتا ہے اور اس علم کو دوسروں کو سکھاتا ہے وہ بھی قابل رشک ہے۔
(5) کنجوسی واسراف سے بچتے ہوئے اپنے اہل وعیال پر خرچ کرنا دیگر نفلی صدقات سے بہتر ہے ۔
(6) زکوٰۃاور دیگر صدقات واجبہ ادا کرنے والا بخل سے بری ہے۔
(7) حلال مال بھلائی ، مروت،صدقات وخیرات اور اپنی عزت کی حفاظت میں خرچ کرنا چاہیے۔
اللّٰہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں رزق حلال کمانے اور بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 5 , حدیث نمبر: 572