Main Icon

باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 780

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ سَمُرَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اِلْبَسُوا الْبَيَاضَ فَاِنَّهَا اَطْهَرُ وَاَطْيَبُ وَكَفِّنُوْا فِيْهَا مَوْتَاكُمْ.

عن سمرة رضی اللہ عنہ قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: البسوا البياض فانها اطهر واطيب وكفنوا فيها موتاكم.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا سَمُرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”سفید لباس پہنا کرو کیونکہ یہ نہایت ستھرا اور پاکیزہ ہے اور اسی میں اپنے مُردوں کو کفن دیا کرو۔“

شرح حدیث

سفید کپڑے کی خصوصیات:مذکورہ حدیث پاک میں سفید لباس پہننے کی ترغیب دی گئی ہے۔مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”اَطْیَبُبنا ہےطَیِّبٌسے اگرطَیِّبٌخبیث کا مقابل ہو تو بمعنی حلال ہوتا ہے جیسے ربّ تعالیٰ کا فرمان:﴿لَا یَسْتَوِی الْخَبِیْثُ وَ الطَّیِّب﴾(پ۷،المائدۃ:۱۰۰) (ترجمہ ٔ کنزالایمان: ستھرا اور گندہ برابر نہیں۔)ورنہ اس کے معنی ہوتے ہیں پسندیدہ شرعًایا عقلًا یا طبعًا یہاں اس ہی آخری معنیٰ میں ہے یعنی سفید کپڑا پاکیزہ بھی ہے کہ ذرا سا دھبہ دور سے معلوم ہوجاتا ہے اور دھولیا جاتا ہے، رنگین کپڑے کے داغ دھبے نظر نہیں آتے، نیز رنگین کپڑے کے دھونے میں رنگ دھل جانے کا خطرہ ہوتا ہے سفید کپڑے میں یہ خطرہ نہیں، نیز سفید کپڑا اپنے پیدائشی رنگ پر ہے رنگین کپڑے کا رنگ عارضی، جتنا حسن و زیبائش سفید کپڑے میں ہے اتنا دوسرے میں نہیں۔ وہ جو وارد ہوا کہ حضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے سیاہ عمامہ باندھا یا سرخ جوڑا یعنی سرخ دھاری والا جوڑا پہنایا عورت کا کپڑا رنگین ہو وہ سب بیانِ جواز کے لیے ہے یہ فرمانِ عالی بیانِ استحباب کے لیے۔ بعض طلباء صوفیاء رنگین کپڑے پہنتے ہیں وہ محض اس لیے کہ جلد جلد دھونا نہ پڑیں ورنہ مسلمان کے لیے سفید کپڑا بہت ہی بہتر ہے۔“ظاہر و باطن کو سفید رکھو:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِینے مرقاۃ میں اِس حدیث پاک کے تحت سفید لباس پر بڑی اعلیٰ گفتگو فرمائی ہے، اس میں سے بعض کا خلاصہ یہ ہے کہ سفید لباس میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ بندہ اپنے ظاہر کو صاف رکھنے کے ساتھ ساتھ اپنے باطن کو بھی حسد، خیانت، عداوت اور تمام بُرے اخلاق سے پاک کرے کہ یہ چیزیں نجاستِ حُکمیہ سے مشابہت رکھتی ہیں بلکہ یہ چیزیں حقیقی نجاست ہیں۔ حاصل یہ ہے کہ انسان کا ظاہر اس کے باطن پر دلالت کرتا ہے، بدن اور کپڑوں کی ظاہری طورپر صفائی ستھرائی اور ان کی تزیین و آرائش باطن کے معاملے میں گہرا اثر رکھتی ہے، اسی لیے ارشادِ باری تعالیٰ ہے:وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْﭪ(۳) وَ ثِیَابَكَ فَطَهِّرْﭪ(۴)(پ۲۹،المدثر:۳، ۴)ترجمہ ٔکنز الایمان:اور اپنے رب ہی کی بڑائی بولو اور اپنے کپڑے پاک رکھو۔
تو اس آیت مبارکہ میں ظاہر و باطن کو جمع کیا گیا ہے، اور حدیث شریف میں بھی اس بات کی طرف ایک پوشیدہ اشارہ ہے کہ دنیا میں سفید لباس پہننا زیادہ پسندیدہ ہے کہ اس سے اہلِ آخرت کا لباس یاد آتا ہے۔ پھر جان لو کہ کفن میں سفید کپڑا سب سے افضل اس لیے ہے کہ میت کو بار بار فرشتوں کے رُوبَرو ہونا پڑتا ہے اور یہ ایسا ہی معاملہ ہے جیسے کسی محفل یعنی علماو اَ کابرین سے ملاقات کے لیے یا جماعت کے لیے مسجد میں جانے والا اچھا لباس پہنتا ہے اسی طرح مُردے کو فرشتوں کی مجلس میں جانے کے لیے سفید کفن دیا جاتا ہے۔ اور عید کے لباس کے بارے میں بعض علماء فرماتے ہیں کہ اس دن زیادہ قیمتی لباس پہننا چاہیے تاکہ
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی نعمت اور اس کے احسانات اور زینت کا اظہار ہو اور اس کی تائید وہ حدیث پاک کرتی ہے کہ جو جامع صغیر میں بَرِوایت امام بیہقی نقل کی گئی ہے، چنانچہ حضرت سَیِّدُنَا جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُروایت کرتے ہیں کہ ”حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمعیدین اور جمعہ کے دن اپنی سُرخ چادر پہنتے تھے۔“ اور یہاں سرخ چادر سے مراد یہ ہے کہ اس چادر پر سرخ دھاریاں یعنی لکیریں تھیں۔مدنی گلدستہ’’سفید لباس‘‘کے8حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول
حضورنبی کریم
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”سفید لباس پہنا کرو کیونکہ یہ نہایت سُتھرا اور پاکیزہ ہے اور اسی میں اپنے مُردوں کو کفن دیا کرو۔“
رنگین کپڑے کے دھونے میں رنگ دُھل جانے کا خطرہ ہوتا ہے سفید کپڑے میں یہ خطرہ نہیں اور سفید کپڑا اپنے پیدائشی رنگ پر ہے رنگین کپڑے کا رنگ عارضی ہے۔
جس طرح ظاہری طورپر سفید و صاف لباس پہننا چاہیے اسی طرح اپنے باطن کو بھی حسد، خیانت، دھوکہ دہی اور تمام بُری صفات سے پاک رکھنا چاہیے۔
بدن اور لباس وغیرہ کو پاک و صاف رکھنے سے باطن پر بھی اچھا اثر پڑتا ہے۔
سفید لباس پہننا اس لیے بھی افضل ہے کہ اس سے اہلِ آخرت کا لباس یاد آتا ہے۔
مُردے کو سفید کفن دینا اس لیے بھی افضل ہے کہ وہ فرشتوں کے مقابل ہوتا ہے، جس طرح زندگی میں انسان علماء و صلحاء سے ملاقات کے وقت اچھا لباس پہنتا ہے اسی طرح مرنے کے بعد فرشتوں کے رُوبَرو ہونے کی وجہ سے مُردے کو بھی بہترین رنگ یعنی سفید کپڑے میں کفنایا جاتا ہے۔
عید کے دن اعلیٰ اور قیمتی کپڑا پہننا افضل ہے تاکہ
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی نعمتوں اور اُس کے اِحسانات کا خوب اِظہار ہو سکے۔
حضور
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامعیدین اور جمعہ میں سُرخ دھاریوں والی چادر پہنتے تھے۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں پاکیزہ اورستھرا سفید لباس پہننے کی توفیق عطا فرمائے اور اپنے مُردوں کو بھی سفید کپڑے میں کفنانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 780