Main Icon

باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 786

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ:كُفِّنَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيْ ثَلَاثَةِ اَثْوَابٍ بِيْضٍ سَحُوْلِيَّةٍ مِنْ كُرْسُفٍ لَيْسَ فِيْهَا قَمِيْصٌ وَلَا عِمَامَةٌ.

عن عائشة رضی اللہ عنہا قالت:كفن رسول الله صلى الله عليه وسلم في ثلاثة اثواب بيض سحولية من كرسف ليس فيها قميص ولا عمامة.

حدیث ترجمہ

اُمّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں:”سرکارصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوسحول کے بنے ہوئے تین سفید سوتی کپڑوں میں کفن دیا گیا، ان میں نہ قمیص تھی اور نہ عمامہ۔“

شرح حدیث

(امام نوویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:)سحول یمن کا ایک علاقہ ہے جس کی طرف سحولی کپڑے منسوب ہیں۔اونی اور ریشمی کفن خلافِ سنت ہے:مذکورہ حدیثِ پاک میں حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا کفن مبارک بیان کیا گیا ہے۔مرآۃ المناجیح میں ہے:حضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکو سوتی یعنی سفید کپڑے کا کفن دیا گیا یہی سنت ہے، اُونی یا ریشمی کفن سنت کے خلاف ہے بلکہ مرد کے لیے ریشمی کفن حرام ہے۔ یہاں قمیص سے سلی ہوئی قمیص مراد ہے جو زندگی میں پہنی جاتی ہے کفن کی قمیص مراد نہیں کہ وہ تو سنت ہے۔ اس سے معلوم ہوتاہے کہ غسل کے وقت قمیص اُتارلی گئی تھی، لہذا یہ حدیث حضرت جابر ابن سمرہ کی اس حدیث کے خلاف نہیں جس میں ہے کہ حضورصَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّمکو تین کپڑوں میں کفن دیا گیا: قمیص، ازار اورلفافہ کہ وہاں کفن کی قمیص مراد ہے۔ عمامہ کے متعلق بعض علما نے اس کے معنی کیے ہیں کہ ان تین میں عمامہ نہ تھا بلکہ عمامہ ان کے علاوہ تھا، اس بنا پر مشائخ، علما، صوفیا کے کفن میں عمامہ دینا مستحب ہے۔وَاللّٰہ اَعْلَم
شیخ عبدالحق محدث دہلوی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”بعض متاخرین نے اَشراف (سادات)کے لیے کفن میں عمامہ کو مستحسن قرار دیا ہے۔ اور کہا ہے کہ عمامہ کا شملہ میت کے چہرے کی طرف رکھیں پشت کی جانب نہ رکھیں جس طرح زندگی میں پشت کی جانب ڈالتے ہیں۔ عمامہ سے مراد وہ کپڑا ہے جس کے تین بل آجائیں، امام احمدرَحْمَۃُ اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہکے نزدیک اسی طرح ہے۔“فتاویٰ امجدیہ میں ہے:’’کفن میں عمامہ ہو نا علما و مشا ئخ کیلئے جا ئز ،عوام کیلئے مکروہ ہے ۔‘‘مدنی گلدستہ’’کعبہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) حضور
عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکو تین سفیدسوتی کپڑوں میں کفن دیا گیا۔
(2) سفید کپڑے کا کفن دینا سنت ہے، اونی اور ریشمی کپڑے کا کفن خلاف سنت ہے بلکہ مرد کے لیے ریشمی کفن حرام ہے۔
(3) بعض علماء متاخرین نے مشائخ و علما کو کفن میں عمامہ دینا مستحب قرار دیا ہے۔
(4) کفن میں جب عمامہ دیا جائے گا تو اس کا شملہ میت کے ایک پہلو میں رکھیں پشت پر اس طرح نہ ڈالیں جس طرح زندگی میں ڈالتے ہیں۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے مُردوں کو سنت کے مطابق کفن دینے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 786