Main Icon

باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 784

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ يَوْمَ فَتْحِ مَكَّةَ وَعَلَيْهِ عِمَامَةٌ سَوْدَاءُ.

عن جابر رضی اللہ عنہ ان رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل يوم فتح مكة وعليه عمامة سوداء.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا جابررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفتح مکہ کے روز (مکہ معظمہ میں)داخل ہوئے تو آپ کے سر پر سیاہ عما مہ تھا۔“

شرح حدیث

فتح مکہ کے دِن سیاہ عمامہ پہننے کا راز:مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ فتحِ مکہ کے دن جب نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ نے سیاہ عمامہ سَرِاَقدس پر سجایا ہوا تھا۔جَمْعُ الْوَسَائِلمیں ہے: ”(فتحِ مکہ کے دن) سیاہ عمامہ شریف سجانے میں راز یہ تھا کہ اس (سیاہ عمامہ) میں اشارہ ہے کہ یہ دِین تبدیل ہونے والا نہیں ہے جیسا کہ سیاہ رنگ تبدیل نہیں ہوتا جبکہ دوسرے رنگ (کہ وہ جلدی) بدل جاتے ہیں۔“مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”خیال رہے کہ لباس سفید افضل ہے مگر عمامہ سیاہ بھی جائز ہے، خصوصًا خطبہ کے وقت سارے کپڑے کالے پہننا خصوصًا محرم میں روافض سے تشبیہ ہے۔“ایک اِشکال اور اُس کا جواب:مذکورہ حدیثِ پاک پر ایک اشکال وارد ہوتا ہے کہ اس حدیث پاک میں اس بات کا ذکر ہے کہ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامفتحِ مکہ کے روز جب مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ کے سر پر سیاہ عمامہ تھا جبکہ ایک دوسری حدیث پاک میں ہے کہ آپ کے سر پر خود تھا تو بظاہر یہ دونوں روایات مُتضاد نظر آتی ہیں لیکن ان احادیث میں یوں تطبیق دی جاسکتی ہے کہ ”یا تو حدودِ حرم میں داخلہ کے وقت حضورِ انور(صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) نے خود بھی پہنا ہوا تھا یعنی لوہے کی ٹوپی اور عمامہ شریف بھی یا حدودِ حرم شریف میں داخلہ کے وقت تو خود پہنے ہوئےتھے اوربیتُ اﷲشریف میں یعنی مسجدِحرام میں داخلہ کے وقت خود اتار دیا تھا اور عمامہ پہن لیا تھا۔“حَافِظْ قَاضِی اَبُو الْفَضْل عِیَاض عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَہَّابفرماتے ہیں:”ان دونوں روایتوں میں اس طرح تطبیق دے سکتے ہیں کہ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامجب مکہ میں داخل ہوئے تو آپ کے سر پر خود یعنی لوہے کی ٹوپی تھی لیکن بعد میں آپ نے عمامہ شریف پہن لیا اور اس کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے جس میں بیان کیا گیا ہے کہ جب آپعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے خطبہ ارشاد فرمایا تو آپ کے سر پر سیاہ عمامہ تھا اور آپعَلَیْہِ السَّلَامنے خطبہ مکہ مکرمہ پر غلبہ حاصل کرنے کے بعد کعبہ معظمہ کے دروازے کے پاس دیا تھا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے آپ نے خود پہنا ہوا تھا اور بعد میں خود اُتار کر عمامہ شریف پہنا۔“مدنی گلدستہ’’حرم‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) فتح مکہ کے روز جب حضور
عَلَیْہِ السَّلَاممکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپ نے سیاہ عمامہ پہنا ہوا تھا۔
(2) فتحِ مکہ کے دن سیاہ عمامہ شریف سجانے میں یہ راز تھا کہ اس سیاہ عمامہ میں اشارہ ہے کہ یہ دین تبدیل ہونے والا نہیں ہے جیسا کہ سیاہ رنگ تبدیل نہیں ہوتا۔
(3) سیاہ عمامہ پہننا جائز ہے مگر خصوصاًمحرم میں خطبہ کے وقت سارے کپڑے کالے پہننا روافض سے تشبیہ کی وجہ سے منع ہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں عمامہ شریف کی سنت اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 784