Main Icon

باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 782

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ جُحَيْفَةَ وَهْبِ بْنِ عَبْدِ اللهِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ:رَاَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ وَهُوَ بِالْاَبْطَحِ فِیْ قُبَّةٍ لَهُ حَمْرَاءَ مِنْ اَدَمِ فَخَرَجَ بِلَالٌ بِوَضُوْئِهِ فَمِنْ نَاضِحٍ وَنَائِلٍ فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ حَمْرَاءُ كَاَنِّیْ اَنْظُرُ اِلَى بَيَاضِ سَاقَيْهِ فَتَوَضَّاَ وَاَذَّنَ بِلَالٌ فَجَعَلْتُ اَتَتَبَّعُ فَاهُ هَاهُنَا وَهَاهُنَا يَقُوْلُ يَمِيْنًا وَشِمَالًا:حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الفَلَاحِ ثُمَّ رُكِزَ تْ لَهُ عَنَزَةٌ فَتَقَدَّمَ فَصَلَّى يَمُرُّ بَيْنَ يَدَيْهِ الْكَلْبُ وَالْحِمَارُ لَا يُمْنَعُ.

عن ابی جحيفة وهب بن عبد الله رضی اللہ عنہ قال:رايت النبي صلى الله عليه وسلم بمكة وهو بالابطح فی قبة له حمراء من ادم فخرج بلال بوضوئه فمن ناضح ونائل فخرج النبي صلى الله عليه وسلم وعليه حلة حمراء كانی انظر الى بياض ساقيه فتوضا واذن بلال فجعلت اتتبع فاه هاهنا وهاهنا يقول يمينا وشمالا:حي على الصلاة حي على الفلاح ثم ركز ت له عنزة فتقدم فصلى يمر بين يديه الكلب والحمار لا يمنع.

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدُنا ابوجُحَیْفَہوہب بنعبداللّٰہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”میں نے حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو مکہ مکرمہ میں دیکھا،آپ وادیٔاَبْطَحْمیں چمڑے کے سرخ خیمے میں تشریف فرما تھے، حضرت سَیِّدُنَا بلالرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُآپ کے وضو کا پانی لے کر باہر تشریف لائے، تو کسی کو اس کے چھینٹے نصیب ہوئے اور کسی نے وہ پانی حاصل کرلیا اتنے میں حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامسُرخ جوڑا پہنے باہر تشریف لائے گویا کہ میں اِس وقت بھیرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی پنڈلیوں کی سفیدی دیکھ رہا ہوں، پھر آپ نے وضو فرمایا اور حضرت بلالرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے اذان دی، میں اُن کے منہ کی طرف دیکھنے لگا، وہ منہ کو دائیں جانب پھیر کرحَیَّ عَلَى الصَّلَاةِکہتے اور بائیں جانب پھیر کرحَیَّ عَلَى الفَلَاحِکہتے تھے، پھر آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے لیے ایک نیزہ گاڑا گیا اور آپ نے آگے بڑھ کر نماز پڑھائی، آپ کے آگے سے کُتے اور گدھے گزر رہے تھے لیکن انہیں روکا نہیں جاتا تھا۔“

شرح حدیث

تبرکات سے برکت حاصل کرنا:مذکورہ حدیثِ پاک میں بھی اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے سرخ جوڑا زیبِ تن فرمایا۔ ”سُرخ جوڑے سے مراد خالص سرخ رنگ میں رنگا ہوا (مُعَصْفَریعنی کُسُم کا رنگا ہوا سرخ)کپڑا نہیں ہے کہ یہ تو مَرد کےلیے منع ہے بلکہ سُرخ خُطُوط (یعنی سُرخ دھاگوں)سےمُخَطَّطْ(دھاری دار تیار کردہ) کپڑا مراد ہے یا سرخ سُوت سے بنا ہوا کپڑا۔ لہٰذا یہ حدیث ممانعت کی حدیث کے خلاف نہیں۔“
حدیثِ پاک میں بیان ہوا کہ حضرت سَیِّدُنَا بلال
رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنبی اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وضو کا پانی لے کر باہر تشریف لائے تو کسی کو صرف اس کے چھینٹے نصیب ہوئے اور کسی کو وہ پانی نصیب ہوا اس کے بعد حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے وضو فرمایا۔اِمَام اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں:”اس عبارت میں تقدیم و تاخیر ہے یعنی ایک بات جو پہلے واقع ہوئی اسے بعد میں اور جو بعد میں ہوئی اسے پہلے بیان کیا گیا ہے، یہاں حضرت بلالرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُکا پانی لے کر آنا پہلے بیان کیا گیا ہے اور حضورصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا وضو کرنا بعد میں لیکن درحقیقت حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامنے پہلے وضو فرمایا اور اس کے بعد حضرت بلالرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُآپ کے وضو کا پانی لے کر خیمے سے باہر تشریف لائے اور پھر لوگوں نے اس پانی سے برکت حاصل کی۔ نیز اس حدیث پاک میں بزرگوں کے تبرکات اور ان کے لباس، کھانے پینے اور وضو کے پانی وغیرہ سے جو بچ جائے اس سے برکت حاصل کرنے کے جواز پر دلیل ہے۔“مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کبیرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”حضور (صَلَّی اللّٰہ عَلَیْہِ وَسَلَّم)نے خیمہ میں وضو کیا،غسالہ(استعمال شدہ پانی) ایک لگن میں گرا حضرت بلال وہ پانی کا لگن باہر صحابہ کے پاس لائے تاکہ صحابہ اس سے برکتیں حاصل کرلیں،صحابہ کرام(رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُمْ)اس غسالہ شریف پر ٹوٹ پڑے، اسے حاصل کرنے اور برکت لینے کے لیے کیوں کہ وہ پانی حضور کے اَعضاء سے لگ کر نورانی بھی ہوگیا اور نور گر بھی۔پھول سے لگی ہوئی ہوا دماغ مہکادیتی ہے، حضور کے جسمِ اَطہر سے لگا ہوا پانی رُوح واِیمان مہکادے گا۔“حدیث پاک میں بیان ہوا کہ حضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے لیے ایک نیزہ گاڑا گیا اور آپ نے آگے بڑھ کر نماز پڑھائی، آپ کے آگے سے کُتے اور گدھے گزر رہے تھے لیکن انہیں روکا نہیں جاتا تھا ”کیونکہ امام کا سُترہ ساری جماعت کا سترہ ہوتا ہے اس کے آگے سے گزرنا جائز ہے۔“مدنی گلدستہ’’جنت‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1) بزرگوں کے تبرکات اور ان کے لباس، کھانے پینے اور وضو کے پانی وغیرہ سے جو بچ جائے اس سے برکت حاصل کرنا جائز ہے۔
(2) صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانحضورعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے غسالہ سے برکتیں حاصل کرتے تھے کہ حضور کے اعضاء سے لگا ہوا پانی نورانی اور نور گَر ہے، جسمِ اَطہر سے لگا ہوا پانی روح وا یمان کو مہکادیتا ہے۔
(3) امام کا سُترہ ساری جماعت کا سُترہ ہوتا ہے اور اس کے آگے سے گزرنا جائز ہوتا ہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّہمیں ممنوعہ سُرخ کپڑے پہننے سے بچائے اور بزرگانِ دِین کے تبرکات سے برکت حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 782