Main Icon

باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 918

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ سَعِيْدِ الْخُدْرِيِّ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ : قَالَ رسُولُ اللَّه صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَقِّنُوْا مَوْتَاكُمْ لَا اِلٰهَ اِلَّا اللہُ.

عن ابی سعيد الخدري رضی اللہ عنہ قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لقنوا موتاكم لا اله الا اللہ.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابو سعید خدریرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ رسولِ اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”اپنےمرنے والوں کو کلمہ ٔ طیبہ کی تلقین کرو۔“

شرح حدیث

مرنے والے کے پاس حاضر رہیں:اِمَام اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیاِس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں: ”مَوْتَاکُمْسے مراد یہ ہے کہ جو شخص مرنے والا ہو اُسے کلمہ پڑھنےکی تلقین کرو ۔یعنی اُسے کلمہ یاد دِلاؤ تاکہ اس کی زندگی کا آخری کلام کلمہ طیبہ ہو جیسا کہ حدیث میں گزرا کہ جس کا آخری کلام ”لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰہ“ ہوگا وہ جنت میں داخل ہوگا۔ تلقین کرنے کا یہ حکم مستحب ہے واجب نہیں۔ تمام علماء کا اس طرح تلقین پر اتفاق ہے لیکن مرنے والے کے پاس بہت زیادہ کثرت سے پڑھنا یا مرنے والے پر زور دینا مکروہ ہے تاکہ کہیں نزع کی تکلیف اور سختی کے سبب وہ کلمہ سے بیزار نہ ہوجائے اور کوئی ایسی بات نہ کہہ دے جو کہ نہیں کہنی چاہیے۔ علما فرماتے ہیں کہ جب وہ ایک مرتبہ کلمہ پڑھ لے تو پھر دوبارہ یا بار بار پڑھنے کا نہ کہا جائے ہاں اگر کلمہ پڑھنے کے بعد کوئی اور بات کی تو پھر کلمہ پڑھنے کی تلقین کریں گے تاکہ اس کا آخری کلام کلمہ طیبہ ہو۔ مرنے والے کے پاس (گھر والے یا دوست احباب وغیرہ) موجود رہیں تاکہ کلمہ یاد دِلائیں اور اسے اُنسیت حاصل ہو۔نزع میں کلمۂ کفر نکل جائے تو۔۔۔!خیال رہے کہ اگر مومن بوقتِ موت کلمہ نہ پڑھ سکے جیسے بیہوش یا شہید وغیرہ تو وہ ایمان پر ہی مرا کہ زندگی میں مومن تھا لہٰذا اب بھی مومن بلکہ اگر نزع کی غشی میں اس کے منہ سے کلمہ ٔکفر سنا جائے تب بھی وہ مومن ہی ہو گا اس کا کفن دفن نماز سب کچھ ہوگی،کیونکہ غشی کی حالت کا اِرتداد (ایمان سے پھر جانا) معتبر نہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ مرتے وقت کلمہ پڑھانا اس حدیثِ مذکورہ پر عمل کے لیے ہے نہ کہ اسے مسلمان بنانے کیلئے،مسلمان تو وہ پہلے ہی ہے۔بہارِ شریعت میں ہے:”مرتے وقتمَعَاذَ اللّٰہاس کی زبان سے کلمہ ٔ کفر نکلا تو کفر کا حکم نہ دیں گے کہ ممکن ہے موت کی سختی میں عقل جاتی رہی ہو اور بے ہوشی میں یہ کلمہ نکل گیا۔ اور بہت ممکن ہے کہ اس کی بات پوری سمجھ میں نہ آئی کہ ایسی شدت کی حالت میں آدمی پوری بات صاف طور پر ادا کرلے دشوار ہوتا ہے۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدموت کی بعض علامات:حدیث پاک میں حکم ہے کہ مرنے والے کو کلمہ طیبہ کی تلقین کی جائے لیکن یہ کیسے پتا چلے گا کہ بندے کا آخری وقت آگیا ہے؟ علمائے کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلَامنے موت کی بعض علامات یہ بھی بیان فرمائی ہیں: (1) اس وقت پاؤں اس قدر سست ہوجاتے ہیں کہ اگر انہیں کھڑا کیا جائے تو کھڑے نہیں رہ سکتے۔(2)ناک ٹیڑھی ہوجاتی ہے۔(3)آنکھوں اور کان کا درمیانی حصہ اندر دھنس جاتا ہے۔تلقین کرنے کا طریقہ:صدر الشریعہ،بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْغَنِیفرماتے ہیں :”جان کنی کی حالت میں جب تک روح گلے کو نہ آئی( ہو) مرنے والے کو تلقین کریں یعنی اس کے پاس بلند آواز سےاَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ اللّٰہپڑھیں مگراسے ( یعنی مرنے والے کو) اس کے کہنے کا حکم نہ کریں۔ جب اس (یعنی مرنے والے ) نے کلمہ پڑھ لیا تو تلقین موقوف کردیں۔ہاں اگر کلمہ پڑھنے کے بعد اس نے کوئی بات کی تو پھر تلقین کریں کہ اس کا آخری کلام:لَآاِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہہو۔“تلقین کون کرے؟اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ تلقین کون کرے؟ چنانچہ،صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْغَنِیفرماتے ہیں:”تلقین کرنے والا کوئی نیک شخص ہو، ایسا نہ ہو جس کو اس کے مرنے کی خوشی ہو اور اس کے پاس اس وقت نیک اور پرہیزگار لوگوں کا ہونا بہت اچھی بات ہے اور اس وقت وہاں سورۂيٰسٓشریف کی تلاوت اور خوشبو ہونا مستحب، مثلاً لوبان یا اگر بتیاں سُلگا دیں۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّدمدنی گلدستہ’’کلمۂ طیبہ‘‘کے8حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے8مدنی پھول
(1) جس کی موت کا وقت قریب ہو اسے کلمہ پڑھنے کی تلقین کرنی چاہیے۔
(2) تلقین کرنے کا مطلب یہ ہے کہ مرنے والے کے پاس کلمہ شریف بلند آواز سے پڑھا جائے تاکہ اسے یاد آجائے اور اُسے پڑھنے کا حکم نہیں دیا جائے پھر جب وہ کلمہ پڑھ لے تو تلقین روک دیں۔
(3) مرنے والے کے پاس سورہ یٰسٓ شریف کی تلاوت کی جائے۔
(4) مرنے والے کو تلقین کرنا مستحب ہے۔
(5) مرنے والے کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہیے بلکہ کچھ لوگ اس کے پاس رہیں تاکہ تلقین کریں اور اُن سے مرنے والا اُنسیت بھی حاصل کرے۔
(6) اگر کوئی شخص مرتے وقت کوئی کلمہ کفر کہہ دے تو اس پر حکِم کفر نہیں کیونکہ ہو سکتا ہے کہ موت کی سختی کی وجہ سے ایسی بات منہ سے نکل گئی ہو۔
(7) تلقین کرنے والا کوئی نیک شخص ہونا چاہیے۔
(8) مرنے والے کے پاس نیک اور پرہیزگار لوگوں کا ہونا بہت اچھی بات ہےاور خوشبو سلگانا مستحب ہے۔
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں نزع کی سختیوں میں آسانی فرمائے اور ہمیں تلاوتِ قرآنِ پاک اور کلمہ شریف پڑھتے ہوئے موت نصیب فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 918