Main Icon

باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1076

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَن اِبْنِ ِعُمَرَرَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰى يَشْهَدُوْا اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللهِ وَ يُقِيْمُوْا الصَّلَاةَ وَ يُؤْتُوا الزَّ كَاةَ فَاِذَا فَعَلُوْا ذٰلِكَ عَصَمُوْا مِنِّيْ دِمَاءَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ اِلَّا بِحَقِّ الْاِسْلَامِ وَ حِسَابُهُمْ عَلىَ اللهِ تَعَالٰى.

عن ابن عمررضي الله عنهما ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: امرت ان اقاتل الناس حتى يشهدوا ان لا اله الا الله وان محمدا رسول الله و يقيموا الصلاة و يؤتوا الز كاة فاذا فعلوا ذلك عصموا مني دماءهم و اموالهم الا بحق الاسلام و حسابهم على الله تعالى.

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا ابنِ عمررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ دو عالَم کے مالک ومختار، مکی مَدَنی سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک وہ اِس بات کی گواہی نہ دیں کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)اﷲ عَزَّ وَجَلَّکے رسول ہیں اور جب تک وہ نماز قائم نہ کریں اور زکوٰۃ ا دا نہ کریں ۔ اور جب وہ ایسا کرلیں گے تومجھ سے اپنا خون اور مال محفوظ کرلیں گےسوائے اسلام کے حق کے اور ان(کے باطنی امور ) کا حساباﷲ عَزَّ وَجَلَّہی پر ہے۔‘‘

شرح حدیث

تمام اَحکام پر اِیمان لاناضروری ہے:عَلَّامَہ بَدْرُالدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِیفرماتے ہیں:”حدیثِ مذکور میں توحیدورسالت کی گواہی دینےاورنمازوزکوٰۃ کی ادائیگی سےمرادتمام اَحکامِ اِسلامیَّہ کو مانناہے۔حضور نبی رحمت،شفیعِ اُمَّتصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجو اَحکاماﷲ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے لائے اُن تمام پر اِیمان لانا ضروری ہے، تو جو ان سب باتوں پر ایمان لےآئے اس کا مال اور جان محفوظ ہو جائے گا مگراسلام کےحقوق معاف نہ ہونگےان کی ادائیگی ضروری ہوگی جیسے قصاص،حد اورتَلافیٔ مال وغیرہ حقوق معاف نہ ہوں گے ۔“شہادت، نماز اور زکوٰۃ کی خصوصیت کی وجہ:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:’’توحیدورِسالت کی گواہی اہم بنیادی اِعتقادی رکن ہے، نماز بدنی اور زکوٰۃ مالی رکن ہے ،توحید ورسالت کی گواہی اصل ہے اور یہی کفار پر شاق ہے۔(اس لیے حدیث پاک میں اسےاَوَّلاً ذکرکیا گیا )نماز کفار پراس لئے گراں ہے کہ یہ دن میں پانچ مرتبہ پڑھی جاتی ہےاور زکوٰۃ بھی انسانی طبیعت پر بھاری ہے کیونکہ عموماً انسان کو مال سے محبت ہوتی ہے،تو جب بندہ ان تینوں اُمور کی ادائیگی کرلے گا تو بقیہ اَحکام کی اَدائیگی اُس کے لیےآسان ہوگی۔“نمازوزکوٰۃکے تارِک کا شرعی حکم:صدرُالشریعہ، بدرُالطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں: ’’ہر مُکَلَّف یعنی عاقِل بالغ پر نما ز فرضِ عین ہے اس کی فرضیت کا منکر کافر ہے اور جو قصداً چھوڑ ے اگرچہ ایک ہی وقت کی وہ فاسِق ہے اور جو نماز نہ پڑھتا ہو قید کیا جائے یہاں تک کہ توبہ کرے اور نماز پڑھنے لگے بلکہ ائمۂ ثلاثہ مالک و شافعی و احمدرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمْکے نزدیک سلطانِ اسلام کو اس کے قتل کا حکم ہے۔‘‘ ایک اور مقام پر فرماتےہیں:’’زکوٰۃ فرض ہے، اُس کا منکر کافر اور نہ دینے والا فاسق اور قتل کامستحق اورادا میں تاخیر کرنے والا گنہگار و مَردودُ الشَّہادہ ہے۔‘‘اِسلام کے حق سے کیا مراد ہے ؟حدیثِ مذکورکےآخری حصے میں بیان ہواکہ توحید ورسالت کی گواہی اور نماز و زکوٰۃ کی ادائیگی سے جان و مال محفوظ ہوجائے گا مگرحقِ اسلام معاف نہ ہوگا۔علمائے کرامرَحِمَہُمُ اﷲ السَّلَامنے یہاں حقِ اسلام سے یہ حقوق مراد لیے ہیں:”(1)قتلِ عمدکاقصاص( یعنی کسی مسلمان کوظلماً قتل کرنےکےجرم میں شرائط پائی جانے پرقاتل کوبھی قتل کیاجائے گا) (2)مُحصِن کارجم(شادی شدہ شخص زنا کرے تو شرائط پائی جانے پراسےسنگسار کیا جائے گا) (3) کوئی مسلمان(مَعاذَاﷲ)مرتدہوجائے تواس کی سزا قتل ہے۔ (4) مختلف اَموال میں فرض ہونے والی زکوٰۃ معاف نہ ہو گی۔(5) کَفّارے معاف نہ ہوں گے۔اور(6) نفقاتِ واجبہ معاف نہ ہونگے ۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1076