Main Icon

باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1081

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِی هُرَيْرَةَرَضِیَ اﷲ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:اِنَّ اَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ عَمَلِهِ صَلَا تُهُ فَاِنْ صَلَحَتْ فَقَدْ اَفْلَحَ واَنْجَحَ وَ اِنْ فَسَدَتْ فَقَدْخَابَ وَخَسِرَ، فَاِنْ انْتَقَصَ مِنْ فَرِيضَتِهِ شَيْئًا،قَالَ الرَّبُ عَزَّوَجَلَّ:انْظُرُوْا هَلْ لِعَبْدِيْ مِنْ تَطَوُّعٍ فَيُكَمَّلَ مِنْهَا مَا انْتَقَصَ مِنَ الْفَرِيْضَةِ؟ ثُمَّ یَكُونُ سَائِرُ اَعْمَالِهِ عَلٰی هَذَا.

عن ابی هريرةرضی اﷲ عنہ قال:قال رسول الله صلی اﷲ علیہ وسلم:ان اول ما يحاسب به العبد يوم القيامة من عمله صلا ته فان صلحت فقد افلح وانجح و ان فسدت فقدخاب وخسر، فان انتقص من فريضته شيئا،قال الرب عزوجل:انظروا هل لعبدي من تطوع فيكمل منها ما انتقص من الفريضة؟ ثم یكون سائر اعماله علی هذا.

حدیث ترجمہ

حضرت سیدناابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہ حضورنبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”بروزِقیامت بندے کا جس عمل پر سب سے پہلے محاسبہ کیا جائے گا وہ نماز ہے، تو جس کی نمازوں کا معاملہ درست ہوگا وہ فلاح ونجات پاجائے گااورجس کا نمازوں کا معاملہ خراب ہو ا وہ خائب وخاسر ہوگا، پھر اگر کسی کی فرض نمازوں میں کچھ کمی ہوئی تواﷲعَزَّ وَجَلَّارشاد فرمائے گا :دیکھو! میرے بندے کے کچھ نوافل ہیں ؟چنانچہ نوافل سے فرض کی کمی پوری کی جائے گی ،پھر بقیہ سب اعمال میں بھی اسی طرح کا معاملہ ہوگا۔ ‘‘

شرح حدیث

آخرت کا خسارہ :دلیل الفالحین میں ہے :”روزِمحشرحقوقُ اﷲسےمتعلق سب سے پہلےنماز کے بارے میں سوال ہوگا،جس کی نمازیں مکمل ہوئیں اس طرح کہ تمام نمازیں شرائط کی پابندی اور مفسدات سے بچتے ہوئے ادا کیں تو وہ کامیاب ہوجائے گااور جس کی نمازوں میں کوئی رُکن یا شرط چھوڑنے یا مفسدِ نمازقول وفعل کےاِرتکاب کی وجہ سے کمی ہوئی تو وہ نا کام وہلاک اوراُخرَوی تجارت میں خسارہ پانے والا ہو گاکیونکہ وہ اس ثواب سے محروم رہے گا جونمازکی صحیح ادائیگی پر ملتااور اگر اس کے فرائض میں کچھ کمی ہوئی تواﷲ عَزَّ وَجَلَّاس پر مُؤکَّل فرشتوں سے فرمائے گاحالانکہ وہ خوب جانتاہے کہ”دیکھو! کیا میرے بندے کے پاس کچھ نوافل ہیں؟“ اگر نوافل ہوئے تو ربّ کریمعَزَّوَجَلَّکے فضل وکرم سے فرائض کی کمی نوافل سے پوری کی جائے گی، اس کے بعد تمام اَعمال روزہ وحج وغیرہ میں بھی ایسا ہی ہوگا کہ فرض روزوں کی کمی نفلی روزوں سے اور فرض حج کی کمی نفلی حج سے پوری کی جائے گی۔اس حدیثِ پاک میں فرائض کی صحیح طریقے سے ادائیگی اور ان کے مُفسدات سے بچنےکی تعلیم دی گئی ہے اور اِس بات پر اُبھارا گیا ہے کہ کثرت سے نوافل پڑھے جائیں تاکہ اِن کے ذریعے فرائض میں رہ جانے والی وہ کمی پوری ہو سکے جس سے کم ہی لوگ بچ پاتے ہیں۔ “
فیض القدیرمیں ہے:”روزِمحشر سب سے پہلاسوال نماز کے بارے میں ہوگا،کیونکہ
اﷲعَزَّوَجَلَّنے بندے کونماز کی تعظیم واہتما م کابطورِ خاص حکم دیا ہے،اﷲعَزَّ وَجَلَّکے نزدیک نماز دیگر عبادات سے مقدم ہے اس طرح سے کہ فرائض میں بندوں پر جو سب سے پہلے ہے وہ نماز ہے اور سرکارصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنئے اسلام لانے والے کو جو چیز سب سے پہلے سکھاتے وہ نماز ہےپس جو اس کی پابندی نہ کرے تو بروز ِقیامت اس کے پاس کوئی عذر نہ ہوگا۔“
مرقاۃ المفاتیح میں ہے :”
حقوقُ اﷲمیں سب سے پہلے نماز کا حساب ہوگا اورحقوقُ العباد میں قتل کا،یا نیکیوں میں پہلے نماز کا حساب ہے اور گناہوں میں پہلے قتل کا،لہٰذا حدیثِ مذکور اس حدیثِ پاک کےخلاف نہیں جس میں فرمایا گیا کہ پہلےقتل کا حساب ہوگا۔“نمازی کے حساب میں آسانی ہوگی :مرآۃ المناجیح میں ہے:” (روزِمحشر)اگرنماز کے حساب میں بندہ ٹھیک نکلا تو اگلےحساباِنْ شَآءَ اﷲآسان ہوں گے،اور اگر ان میں بندہ پھنس بھی جائے گا تو ربّ تعالیٰ نمازوں کی برکتوں سے اس کے چھٹکارے کی سبیل پیدا فرمادے گا، مثلًا اگر اس کے ذمہ حقوقُ العِباد ہیں تو حق والے کو جنت دے کر اسےمعاف کرادے گا اور اگرحقوقُ اﷲہیں تو انہیں رحم ِخُسروانہ اور الطافِ شاہانہ سےخودبخش دے گا۔ یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ نماز کے پابند کو گناہوں سے بچنے اور دوسری نیکیاں کرنے کی دنیا ہی میں توفیق مل جاتی ہے، لہٰذا وہاں جس کی نمازیں ٹھیک نکلیں اس کے دوسرے اعمال خود بخود ٹھیک نکلیں گے۔“فرائض میں کمی سے کیا مرادہے ؟حدیثِ مذکورمیں فرمایا گیا کہ بروزِ قیامت فرائض کی کمی نوافل سے پوری کی جائے گی۔یہاں فرائض کی کمی سے کیا مرادہے؟ اس بارے میں محدثینِ کرامرَحِمَہُمُ اﷲ السَّلَامکےچنداقوال ملاحظہ فرمائیے:فیض القدیرمیں ہے:”فرائض میں کمی سے مراد یہ ہے کہ اداکرتے وقت اس کی سنتوں اور ہیئتِ مشروعیہ میں کوئی کمی ہو گئی یافرائض و شروط میں کوئی کمی رہ گئی یافرض ہی ترک کردیا۔“مرآۃ المناجیح میں ہے :”یہاں کمی سے ادا میں کمی مراد نہیں بلکہ طریقۂ ادا میں کمی مراد ہے یعنی اگرکسی نے فرائض ناقص طریقہ سے ادا کئے ہوں گے تو وہ کمی نوافل سے پوری کردی جائے گی۔یہ مطلب نہیں کہ بندہ فرض نماز نہ پڑھے نفل پڑھتا رہے اور وہاں نفل فرض بن جائیں۔ فرائض کی کمی سنتوں اور نوافل سے پوری کی جائے گی، اور کیوں نہ ہو کہ وہ سنتوں والے محبوبصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمہماری کمی پوری کرنے ہی تشریف لائے ہیں، گرتوں کو اٹھانا اور بگڑتوں کا بنانا انہیں کا کام ہے۔“
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیث ِمذکور سے نماز کی اہمیت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتاہےکہ بروزِ قیامت نماز ہی کے بارے میں سب سے پہلا سوال ہوگا،جس خوش نصیب کی نمازیں مکمل ہوئیں اس کا معاملہ دیگر اعمال میں بھی درست رہے گا۔ اور کیوں نہ ہوکہ مصطفےٰ کریم
صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے نماز کے اہتمام و حفاظت کو ایمانِ کامل کی نشانی قراردیاہے۔ارشادِ نبوی ہے :” نماز اسلام کی پہچان ہے، تو جس کا دل نماز کے لئے فارغ ہوا اور اس نے اس کے حقوق، وقت اور سنتوں کی رعايت کے ساتھ پابندی کی تو وہ (کامل) مؤمن ہے۔“اگر وہاں کسی کے فرائض میں کمی ہوئی تو کریم پروردگارعَزّوَجَلَّکے کرم سے وہ کمی نوافل کے ذریعے پوری کی جائے گی۔اور پھر دیگر اعمال میں بھی ایسا ہی معاملہ ہو گا ۔اوراگر اس کے پاس نفلی عبادت نہ ہوئی اور رحمتِ الٰہی نے دستگیری نہ کی تو وہ خائب وخاسرہوگا،اب اسے ایسی حسرت وندامت کا سامناکرناپڑے گا کہ کبھی ایسی حسرت کا سامنا نہ کیا ہوگی ۔ اس لئےسمجھ داری کا تقاضایہی ہے کہ فرائض میں کبھی غفلت نہ کی جائے، کیسے ہی حالات کا سامنا ہو کبھی بھی نماز ترک نہ کی جائے۔بارگاہِ رسالت سے ہمیں یہی تعلیم دی گئی ہے۔
میں پانچوں نمازیں پڑھوں باجماعت……ہو توفیق ایسی عطا یاالٰہی
پڑھوں سنتِ قبلیہ وقت ہی پر……ہوں سارے نوافل ادا یاالٰہی
مدنی گلدستہ’’حرمِ کعبہ‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکوراور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1) بروزِ قیامت سب سے پہلا سوال نماز کے بارے میں ہوگا جس کی نمازیں مکمل ہوں گیں وہ نجات پاجائے گااور جس کی نماز وں میں کمی ہوئی وہ ناکام ونامُرادہوگا۔
(2) فرائض کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ نوافل کا بھی خاص اہتمام کرنا چاہیے کہ ان سے فرائض کی کمی پوری کی جائے گی ۔
(3) حقو قُ العباد سے متعلق سب سے پہلا سوال قتلِ ناحق کے بارے میں ہوگا۔
(4) بے نمازی
اﷲ عَزَّ وَجَلَّکاحق ضائع کرنے والاہے، بروزِ قیامت وہ غَضَبِ الٰہی کاحق دار ہوگااور رحمتِ الٰہی سے مایوس ہوگا۔
(5) نماز ایمان کی پہچان ہے جو اس کی پابندی کرے وہ کامل مومن ہے ۔
(6) فجر وعشا باجماعت ادا کرنے والے کے لئے جہنم کی آگ اور نفاق سے آزادی لکھ دی جاتی ہے ۔
(7) اپنے مالک و مولیٰ کے حکم کی خلاف ورزی کرنا ناشکری و بے وفائی ہے۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّاپنے پیارے حبیبصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےصدقے ہمیں نماز اور دیگراَحکامِ اِسلامیہ کی دل وجان سے قدر کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے، روزِمحشراپنے عرش کے سائے میں جگہ عطا فرئےاور ہماری بےحساب مغفرت فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1081