Main Icon

باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1080

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ شَقِيْقِ بْنِ عَبْدِاللهِ التَّابِعيِّ الْمَتَّفَقِ عَلٰى جَلَالَتِهِ رَحِمَهُ اللهُ، قَالَ: كَانَ اَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَ سَلَّمَ لَا يَرَوْنَ شَيْئًا مِنَ الْاَعْمَالِ تَرْكُهُ كُفْرٌ غَيْرَ الصَّلَاةِ .

عن شقيق بن عبدالله التابعي المتفق على جلالته رحمه الله، قال: كان اصحاب محمد صلی اﷲ تعالی علیہ والہ و سلم لا يرون شيئا من الاعمال تركه كفر غير الصلاة .

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا شقیق بن عبداﷲرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہتابعی بزرگ ہیں اور ان کی جلالت متفق ہے،وہ فرماتے ہیں :’’ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننماز کے علاوہ کسی اور عمل کے ترک کو کفر نہ سمجھتے تھے ۔“

شرح حدیث

کیا تارکِ نماز کافرہے ؟دلیل الفالحین میں ہے:”ترکِ نماز کفرہے یانہیں؟ اس مسئلے میں اختلاف ہے۔بعض صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانوتابعینِ عِظامرَحِمَہُمُ اﷲ السَّلَامکے نزدیک پنج وقتہ نماز میں سے کسی ایک کوبھی سُستی کی وجہ سے ترک کرنے والا کافر ہے اور اس کے لئےمُرتدکاحکم ہوگا۔ جبکہ اکثر صحابہ و ائمہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکا موقف یہ ہےکہ ترکِ نماز کفر نہیں اور جن احادیث میں ترکِ نمازکو کفر کہا گیا ہے ان سے مراد یہ ہے کہ جو نماز کی فرضیت کا انکار کرتے ہوئے اس کا ترک جائزجانے اس کے لئے حکمِ کفر ہے جبکہ وہ نومسلم یا دیہی علاقوں میں علمائے دِین کی صحبت سے دور رہنے کی وجہ سے معذورنہ ہو،یا یہ مراد ہے کہ نماز ترک کرنا کفر کی طرف لے جاسکتاہے کیونکہ یہ کبیرہ گناہ ہے اور گناہ کفر کاقاصد ہوتا ہے ۔یا ترکِ نماز کوکفر کہنا ڈانٹ ڈپٹ کے لئے ہے تاکہ لوگ اس کے ترک پر جری نہ ہوں، اسی لئے امام شافعی اور دیگر ائمہرَحِمَہُمُ اﷲ السَّلَامنے فرمایا کہ جو سُستی کی وجہ سے نماز ترک کردے اسے قتل کیاجائے گا مگر وہ کافر نہ ہوگا۔امام زُہریعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیاور ایک جماعتِ اکابرین کا یہ موقف ہے کہ بےنمازی کوقیدکردیاجائے اور مارا جائے یہاں تک کہ نماز کی پابندی کرنے لگے ۔یا یہ مرادہےکہ نماز کا تارِکاﷲعَزَّ وَجَلَّکی نعمتوں کا منکر ہے کیونکہ حقیقی بندگی کا تقاضا یہ ہےکہ بندہ اپنے ربّعَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں جھک جائے اور اس کی ظاہری وباطنی نعمتوں کا شکر اد ا کرے،مگر کفر سے مُتَّصِف شخص ان چیزوں کی ادائیگی میں عار محسوس کرتاہے ، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ نماز شکر کی اصل وبنیاد ہے ،گویا یوں کہا گیا ہےکہ مومن اورکافر میں فرق کرنے والی شے مُنِعم حقیقی (ربّ تعالیٰ)کے شکر کو ترک کرنا ہے ،تو جونماز قائم کرے وہ کامل مومن ہے او ر جو نماز ترک کرے وہ اپنے مولیٰ کریم کی نعمتوں کا منکر اور اس کے شکر سے غفلت برتنے والا ہے۔“
مرآۃ المناجیح میں ہےکہ”بندۂ مؤمن اورکفر کے درمیان نمازکی دیوارحائل ہے جواس تک کفر کو نہیں پہنچنے دیتی جب یہ آڑ ہٹ گئی تو کفر کا اس تک پہنچنا آسان ہوگیا،ممکن ہے کہ آیندہ یہ شخص کفر بھی کر بیٹھے۔خیال رہے کہ بعض ائمہ ترکِ نمازکو کفربھی کہتے ہیں،بعض کے نزدیک بے نمازی لائقِ قتل ہے اگرچہ کافرنہیں ہوتا۔ہمارے امام صاحب(
رَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہ)کے نزدیک بے نمازی کو مار پیٹ اورقید کیا جائے جب تک کہ وہ نمازی نہ بن جائے۔ہمارے ہاں اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بے نمازی قریبِ کفر ہے یا اس کے کفر پر مرنے کا اندیشہ ہے یا ترکِ نماز سے مراد نماز کا انکارہے،یعنی نماز کا منکرکافرہے۔“
”اُس زمانہ(اَقدس)میں نمازپڑھنا مومن کی علامت تھی اور نہ پڑھنا کافر کی پہچان،اس لئے وہ حضرات جسے نماز نہ پڑھتے دیکھتے سمجھتے کافرہوگا۔لہٰذا اِس حدیث سے یہ لازم نہیں کہ نماز چھوڑنا کفرہو اور بے نمازی کافرہو۔
مدنی گلدستہ’’اہلِ بیت‘‘کے6حروف کی نسبت سے اَحادیثِ مذکورہ اور اُن کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1) نماز ایمان کی علامت ،روزِمحشر دلیل وحجت اورذریعۂ مغفرت ہے۔
(2) بے نمازی پر جہنم کی”
لَمْلَم“نامی وادی میں خوفناک اژدھے مسلط کئے جائیں گے جبکہ”جُبُّ الْحُزْن“ نامی وادی میں اسے انتہائی بھیانک بچھوؤں کاسامنا کرنا پڑےگا۔
(3) صحابہ کرام
عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکسی بھی حالت میں نماز ترک نہ کیاکرتے تھے ۔ ان کے مبارک دور میں نماز چھوڑنا بہت بڑا جرم تھا یہاں تک کہ اس زمانے میں ترک ِنماز کو کفر سمجھا جاتاتھا ۔
(4) بے نمازی ذلیل وخوار ہوکر بھوکا پیا سا مرتاہے،اس کی پیا س اتنی شدید ہوتی ہے کہ سب دریاؤں کا پانی بھی اس کی پیاس نہیں بجھا سکتا۔
(5) بروزِمحشر بے نمازی کو
اﷲعَزَّ وَجَلَّکی ناراضی کاسامنا کرنا پڑے گا، اس کا حساب بہت سختی سے لیا جائے گا، پھر اسے گھسیٹ کر جہنم میں ڈال دیاجائے گا۔
(6) بے نمازی کی عمر سے برکت ختم کردی جاتی ہے،نیک لوگوں کی علامت اس کے چہرے سے مٹا دی جاتی ہےاور اس کی کوئی دعا آسمان تک بلند نہیں کی جاتی ۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّہمیں نمازوں کی پابندی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1080