- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 7
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 7
حضرت سَیِّدناعبداﷲبن مسعودرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہے کہ میں نے حضور نبی کریم، رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میں عرض کی:’’اﷲ عَزَّ وَجَلَّکی بارگاہ میں کون سا عمل افضل ہے؟ ارشادفرمایا:’’وقت پرنماز ادا کرنا۔‘‘میں نے عرض کی:’’پھر کون سا؟“فرمایا:’’والدین کے ساتھ نیکی کرنا۔‘‘میں نے عرض کی:’’پھر کون سا ؟‘‘فرمایا:’’اﷲ عَزَّ وَجَلَّکی راہ میں جہاد کرنا۔‘‘
عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ:سَاَلْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَسَلَّمَ اَيُّ الْاَعْمَالِ اَفْضَلُ؟ قَالَ:الصَّلَاةُ عَلٰی وَقْتِهَا،قلتُ:ثُمَّ اَيٌّ؟ قَالَ:بِرُّ الْوَالِدَيْنِ،قُلْتُ:ثُمَّ اَيٌّ؟ قَالَ:الْجِهَادُ فِی سَبِيلِ اللهِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1074 ، باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
حضرت سیدنا ابنِ عمررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہےکہ حضورنبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”اِسلام کی بنیادپانچ چیزوں پر ہے۔اس بات کی گواہی دینا کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی معبود نہیں اورمحمدصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اﷲ عَزَّ وَجَلَّکے رسول ہیں،نماز قائم کرنا ، زکوٰۃ ادا کرنا،بیتُ اﷲشریف کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا ۔“
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: بُنِيَ الْاِسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ: شَهَادَةِ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَ اَنَّ مُحَمَّدًارَّسُولُ اللهِ وَ اِقَامِ الصَّلَاةِوَ اِيْتَاءِالزَّ كَاةِ وَحَجِّ الْبَيْتِ وَصَوْمِ رَمَضَانَ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1075 ، باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
حضرت سیدنا ابنِ عمررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے روایت ہے کہ دو عالَم کے مالک ومختار، مکی مَدَنی سرکارصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا :’’مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے اس وقت تک جنگ کروں جب تک وہ اِس بات کی گواہی نہ دیں کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد (صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)اﷲ عَزَّ وَجَلَّکے رسول ہیں اور جب تک وہ نماز قائم نہ کریں اور زکوٰۃ ا دا نہ کریں ۔ اور جب وہ ایسا کرلیں گے تومجھ سے اپنا خون اور مال محفوظ کرلیں گےسوائے اسلام کے حق کے اور ان(کے باطنی امور ) کا حساباﷲ عَزَّ وَجَلَّہی پر ہے۔‘‘
عَن اِبْنِ ِعُمَرَرَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: اُمِرْتُ اَنْ اُقَاتِلَ النَّاسَ حَتّٰى يَشْهَدُوْا اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللهِ وَ يُقِيْمُوْا الصَّلَاةَ وَ يُؤْتُوا الزَّ كَاةَ فَاِذَا فَعَلُوْا ذٰلِكَ عَصَمُوْا مِنِّيْ دِمَاءَهُمْ وَ اَمْوَالَهُمْ اِلَّا بِحَقِّ الْاِسْلَامِ وَ حِسَابُهُمْ عَلىَ اللهِ تَعَالٰى.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1076 ، باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
حضرت سیدنا مُعاذرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ دو جہاں کے تاجور، سُلطانِ بحرو بَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھےیمن کی طرف حاکم بنا کربھیجاتو فرمایا :’’تم اہلِ کتاب کی طرف جارہے ہو، انہیں اس بات کی گواہی کی طرف بلانا کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میںاﷲ عَزَّ وَجَلَّکا رسول ہوں۔اگر وہ یہ بات مان لیں تو انہیں بتانا کہ بے شک!اﷲ عَزَّ وَجَلَّنے ان پر دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔اگر اسے بھی مان لیں توانہیں بتانا کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّنے ان پر زکوٰۃ فرض کی ہے،جو ان کے مالداروں سے لے کر اُن کے فقرا میں تقسیم کی جائے گی۔اگر وہ یہ بات بھی مان لیں تو(زکوٰۃ لیتے وقت)ان کے عمدہ مالوں سے احترازکرنا اور مظلوم کی بددعا سے بچناکیونکہاﷲ عَزَّ وَجَلَّاوراس کے درمیان کوئی حجاب نہیں۔ ‘‘
عَنْ مُعَاذٍرَضِیَ اﷲ عَنْہُ قَالَ: بَعَثَنِی رَسُولُ اﷲ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِلَی الْیَمَن فَقَالَ:اِنَّکَ تَاْتِی قَوْمًا مِنْ اَہْلِ الْکِتَابِ، فَادْعُہُمْ اِلٰی شَہَادَۃِ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اﷲ، وَاَنِّی رَسُولُ اﷲ، فَاِنْ اَطَاعُوْا لِذٰلِکَ، فَاَعْلِمْہُمْ اَنَّ اﷲ تَعَالٰی اِفْتَرَضَ عَلَیْہِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِی کُلِّ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ، فَاِنْ ھُمْ اَطَاعُوا لِذَالِکَ،فَاَعْلِمْہُمْ اَنَّ اﷲ تَعَالٰی اِفْتَرَضَ عَلَیْہِمْ صَدَقَۃً تُؤْخَذُ مِنْ اَغْنِیَائِہِمْ فَتُرَدُّ عَلَی فُقَرَائِہِمْ،فَاِنْ ہُمْ اَطَاعُوالِذَالِکَ،فَاِیَّاکَ وَکَرَائِمَ اَمْوَالِہِمْ، وَاتَّقِ دَعْوَۃَ الْمَظْلُومِ فَاِنَّہُ لَیْسَ بَیْنَہَا وَبَیْنَ اﷲ حِجَابٌ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1077 ، باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
حضرت سیدنا جابررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ میں نے حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا:”بے شک!بندے اورکفروشرک کے درمیان ترکِ نماز کا فاصلہ ہے۔“
عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ قَال:سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ:اِنَّ بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ، تَرْكَ الصَّلَاةِ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1078 ، باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
حضرت سیدنابُریدہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ حضور نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’وہ معاہدہ جو ہمارے اوران(منافقین ) کےدرمیان ہے وہ نمازہے توجس نے نماز ترک کی اس نےکفر کیا۔ ‘‘
عَنْ بُرَ يْدَةرَضِیَ اﷲ عَنْہُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ:الْعَهْدُالَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ الصَّلَاةُ فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ .
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1079 ، باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
حضرت سیدنا شقیق بن عبداﷲرَحْمَۃُ اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہتابعی بزرگ ہیں اور ان کی جلالت متفق ہے،وہ فرماتے ہیں :’’ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننماز کے علاوہ کسی اور عمل کے ترک کو کفر نہ سمجھتے تھے ۔“
عَنْ شَقِيْقِ بْنِ عَبْدِاللهِ التَّابِعيِّ الْمَتَّفَقِ عَلٰى جَلَالَتِهِ رَحِمَهُ اللهُ، قَالَ: كَانَ اَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہِ وَ سَلَّمَ لَا يَرَوْنَ شَيْئًا مِنَ الْاَعْمَالِ تَرْكُهُ كُفْرٌ غَيْرَ الصَّلَاةِ .
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1080 ، باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
حضرت سیدناابو ہریرہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسےمروی ہےکہ حضورنبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”بروزِقیامت بندے کا جس عمل پر سب سے پہلے محاسبہ کیا جائے گا وہ نماز ہے، تو جس کی نمازوں کا معاملہ درست ہوگا وہ فلاح ونجات پاجائے گااورجس کا نمازوں کا معاملہ خراب ہو ا وہ خائب وخاسر ہوگا، پھر اگر کسی کی فرض نمازوں میں کچھ کمی ہوئی تواﷲعَزَّ وَجَلَّارشاد فرمائے گا :دیکھو! میرے بندے کے کچھ نوافل ہیں ؟چنانچہ نوافل سے فرض کی کمی پوری کی جائے گی ،پھر بقیہ سب اعمال میں بھی اسی طرح کا معاملہ ہوگا۔ ‘‘
عَنْ اَبِی هُرَيْرَةَرَضِیَ اﷲ عَنْہُ قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ:اِنَّ اَوَّلَ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ عَمَلِهِ صَلَا تُهُ فَاِنْ صَلَحَتْ فَقَدْ اَفْلَحَ واَنْجَحَ وَ اِنْ فَسَدَتْ فَقَدْخَابَ وَخَسِرَ، فَاِنْ انْتَقَصَ مِنْ فَرِيضَتِهِ شَيْئًا،قَالَ الرَّبُ عَزَّوَجَلَّ:انْظُرُوْا هَلْ لِعَبْدِيْ مِنْ تَطَوُّعٍ فَيُكَمَّلَ مِنْهَا مَا انْتَقَصَ مِنَ الْفَرِيْضَةِ؟ ثُمَّ یَكُونُ سَائِرُ اَعْمَالِهِ عَلٰی هَذَا.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 1081 ، باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان