باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1077
جلد 7
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ مُعَاذٍرَضِیَ اﷲ عَنْہُ قَالَ: بَعَثَنِی رَسُولُ اﷲ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِلَی الْیَمَن فَقَالَ:اِنَّکَ تَاْتِی قَوْمًا مِنْ اَہْلِ الْکِتَابِ، فَادْعُہُمْ اِلٰی شَہَادَۃِ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اﷲ، وَاَنِّی رَسُولُ اﷲ، فَاِنْ اَطَاعُوْا لِذٰلِکَ، فَاَعْلِمْہُمْ اَنَّ اﷲ تَعَالٰی اِفْتَرَضَ عَلَیْہِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِی کُلِّ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ، فَاِنْ ھُمْ اَطَاعُوا لِذَالِکَ،فَاَعْلِمْہُمْ اَنَّ اﷲ تَعَالٰی اِفْتَرَضَ عَلَیْہِمْ صَدَقَۃً تُؤْخَذُ مِنْ اَغْنِیَائِہِمْ فَتُرَدُّ عَلَی فُقَرَائِہِمْ،فَاِنْ ہُمْ اَطَاعُوالِذَالِکَ،فَاِیَّاکَ وَکَرَائِمَ اَمْوَالِہِمْ، وَاتَّقِ دَعْوَۃَ الْمَظْلُومِ فَاِنَّہُ لَیْسَ بَیْنَہَا وَبَیْنَ اﷲ حِجَابٌ.
عن معاذرضی اﷲ عنہ قال: بعثنی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم الی الیمن فقال:انک تاتی قوما من اہل الکتاب، فادعہم الی شہادۃ ان لا الہ الا اﷲ، وانی رسول اﷲ، فان اطاعوا لذلک، فاعلمہم ان اﷲ تعالی افترض علیہم خمس صلوات فی کل یوم ولیلۃ، فان ھم اطاعوا لذالک،فاعلمہم ان اﷲ تعالی افترض علیہم صدقۃ تؤخذ من اغنیائہم فترد علی فقرائہم،فان ہم اطاعوالذالک،فایاک وکرائم اموالہم، واتق دعوۃ المظلوم فانہ لیس بینہا وبین اﷲ حجاب.
حدیث ترجمہ
حضرت سیدنا مُعاذرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ دو جہاں کے تاجور، سُلطانِ بحرو بَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھےیمن کی طرف حاکم بنا کربھیجاتو فرمایا :’’تم اہلِ کتاب کی طرف جارہے ہو، انہیں اس بات کی گواہی کی طرف بلانا کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میںاﷲ عَزَّ وَجَلَّکا رسول ہوں۔اگر وہ یہ بات مان لیں تو انہیں بتانا کہ بے شک!اﷲ عَزَّ وَجَلَّنے ان پر دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔اگر اسے بھی مان لیں توانہیں بتانا کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّنے ان پر زکوٰۃ فرض کی ہے،جو ان کے مالداروں سے لے کر اُن کے فقرا میں تقسیم کی جائے گی۔اگر وہ یہ بات بھی مان لیں تو(زکوٰۃ لیتے وقت)ان کے عمدہ مالوں سے احترازکرنا اور مظلوم کی بددعا سے بچناکیونکہاﷲ عَزَّ وَجَلَّاوراس کے درمیان کوئی حجاب نہیں۔ ‘‘
شرح حدیث
اِسلامی احکام بتانے کا طریقہ:حدیثِ مذکورمیں غیرمسلموں کو اسلامی اَحکام بتانے کا طریقہ بیان ہواکہ پہلےانہیں توحیدورسالت کی طرف بلایا جائے جب اُس کا اِقرارکرلیں تو مسلمانوں کی سب سے اہم عبادت نمازِ پنجگانہ کی فرضیت بتائی جائے،پھر زکوٰۃ کی طرف بلایا جائے،اسے بھی مان لیں توسمجھوکہ اب تمام عقائدِاسلامیہ کو مان لیں گے، کیونکہ کُفارپرسب سے زیادہ گِراں اپنے جھوٹےمعبودوں کا انکار ہے پھر نماز و زکوٰۃ ، جب وہ ان تینوں باتوں کو مان گئے تو گویا تمام عقائد ِاِسلامیہ کے مُعترف ہو گئے۔ اب انہیں دیگر اسلامی عقائد کے بارے بتایا جائے جب انہیں بھی مان لیں تو اب ان کاجان و مال محفوظ ہوگیا،کوئی ان کے مال و جان میں ناحق تَصَرُّف نہیں کرسکتا۔ہاں! اسلامی حقوق کی ادائیگی لازم رہے گی وہ معاف نہیں ہونگے ،جیسے قصاص ،زکوٰۃ اور دیگر واجبات ِ مالیہ وغیرہ، پھر زکوٰۃ و دیگر واجبات کی وُصُولی کے وقت بھی اس بات کا خیال رکھا جائے گا کہ نہ تو ان کا عمدہ مال لیا جائے نہ ہی ردی و گھٹیا بلکہ درمیانہ مال لیا جائے گا تاکہ انہیں بھی نقصان کا احساس نہ ہو اور فقرا کی بھی امدادہوجائے ۔ہاں! وہ خوشی سے عمدہ مال دینا چاہیں تو پھر لینے میں کوئی حرج نہیں ۔ اس حدیث سے یہ بھی درس ملا کہ کسی پر ظلم نہ کیا جائے کہ مظلوم کی دعا بہت جلد قبول ہوتی ہے،اسکی قبولیت میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بنتی ، بسا اوقات مظلوم کی ”آہ“ ظالم کے لئے دنیا وآخرت میں رُسوائی کا باعث بن جاتی ہے ،پھر وہ کہیں کا نہیں رہتا ، برباد ہوجاتاہے۔
¥پانچوں نمازوں کی اہمیت:حدیثِ مذکورمیں نماز کی اہمیت کابھی واضح بیان ہے کہ توحید ورسالت کے بعد اسی کا ذکر ہوا۔ حالانکہ توحید ورِسالت کے اقرار میں ضمناً اس کا اقرا ر بھی موجودتھا ،رسالت کو ماننے سے مراد یہ ہے کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجو بھی احکام لائے ان سب کو مانا جائے ،مگر پھر بھی اسے علیحدہ سے بیان کیا گیا کہ اسلام لانے کےبعد یہی سب سے اہم اور افضل رکن ہے۔نماز کی فضیلت بیان کرتے ہوئے نبی کریم، رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”نمازی کے لیے تین کرامتیں ہیں:(1)نمازی جب نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو آسمان سے لے کرسر کی مانگ تک اس پرخیر وبرکت بَرسائی جاتی ہے۔(2) فِرِشتے نمازی کے قَدموں سے لے کر آسمان تک اُس کے چاروں طرف جمع ہوجاتےہیں۔(3)ایک مُنادی یوں ندا کرتاہے:”اگرنمازی جان لے کہ کِس سے مناجات کر رہا ہے تو دورانِ نماز کبھی بھی اِدھر اُدھر متوجہ نہ ہو۔“( )ایک اور حدیث پاک میں ہے:”جب مسلمان نماز شروع کرتا ہے تو اُس کے گُناہ اُس کے سر پر رکھ دئیےجاتے ہیں ، جب سجدے میں جاتا ہے تو سارے گُناہ گر جاتے ہیں، جب وہ نماز سے فارغ ہوتا ہے تو گناہوں سے پاک صاف ہو چکا ہوتا ہے۔“ ایک روایت میں یوں ہے:”جب آدمی نماز میں ہوتا ہے تو گویا بادشاہ کے دروازے پر دستک دے رہا ہوتاہے اور جو بادشاہ کا دروازہ کھٹکھٹاتا رہے تو کبھی نہ کبھی دروازہ کُھل ہی جاتا ہے۔“مدنی گلدستہ’’حسنین کریْمَین‘‘کے11حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے11مدنی پھول
(1) اَحادیثِ مبارکہ میں جہاں توحید ورِسالت کے اِقرار پر اِسلام کا حکم دیا گیا وہاں جمیع عقائدِ اِسلامیہ کا اِقرار مرادہےکیونکہ شےثابت ہوتی ہے تو جمیع لوازمات کے ساتھ ثابت ہوتی ہے۔
(2) اسلام لانے کی وجہ سے جان ومال محفوظ ہوجاتاہے۔ اب اس میں کوئی تَصَرُّف نہیں کرسکتا، ہاں حقوقِ اسلام کی ادائیگی لازم رہے گی ۔
(3) نما ز ہر عاقل، بالغ، قادرمسلمان پر فرضِ عین ہے اس کی فرضیت کا منکر کافر ہے۔
(4) جو بد نصیب شخص اِسلام لانے کے بعدمَعَاذَاﷲاسلام کا منکر ہوجائے وہ مُرتد ہے،حاکمِ اسلام اس کے قتل کا حکم دےگا۔
(5) قتلِ مسلم ،زنا اور ظلم یہ بہت خطر ناک گناہ ہیں ، ان سے ہرمسلمان کو کوسوں دور بھاگنا چاہیے کہ ان کے کرنےسے انسان دنیا وآخرت میں رُسوا وبرباد ہو جاتاہے ۔
(6) کسی غیر مسلم کو اسلام کی دعوت دیتے وقت اولاً اس سے توحید و رسالت کا اقرار کرایاجائے پھر بقیہ ارکان کی تعلیم دی جائے ۔
(7) نمازی جب نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اس پرخیر و برکت کی برسات ہوتی ہے۔
(8) جب نمازی نماز کےلئے کھڑاہوتاہے تو گُناہ اُس کے سر پر رکھ دئیےجاتے ہیں نماز پڑھنے سے اس کے گناہ گر جاتے ہیں،وہ نماز سے فارغ ہوتاہے تو اس کے گناہ معاف ہوچکے ہوتے ہیں۔
(9) زکوٰۃ فرض ہے، اِس کا منکر کافراورادا میں تاخیر کرنے والا گنہگار و مَردودُ الشہادہ ہے۔
(10) کسی پر ظلم نہیں کرنا چاہیے کہ مظلوم کی دعا بہت جلد قبول ہوتی ہےجس کے نتیجے میں ظالم عبرت کا نشانہ بن جاتاہے۔
(11) نمازپوری توجہ سے پڑھنی چاہیے،حالتِ نماز میں بندہاﷲعَزَّ وَجَلَّسے مناجات کر رہا ہوتاہے اگر وہ یہ بات کماحَقُّہ جان لے تو کبھی اِدھر اُدھر توجہ نہ کرے ۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں دیگرنیک اعمال کے ساتھ ساتھ نمازپنج گانہ کی ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
α صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1077