Main Icon

باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1077

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ مُعَاذٍرَضِیَ اﷲ عَنْہُ قَالَ: بَعَثَنِی رَسُولُ اﷲ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِلَی الْیَمَن فَقَالَ:اِنَّکَ تَاْتِی قَوْمًا مِنْ اَہْلِ الْکِتَابِ، فَادْعُہُمْ اِلٰی شَہَادَۃِ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اﷲ، وَاَنِّی رَسُولُ اﷲ، فَاِنْ اَطَاعُوْا لِذٰلِکَ، فَاَعْلِمْہُمْ اَنَّ اﷲ تَعَالٰی اِفْتَرَضَ عَلَیْہِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِی کُلِّ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ، فَاِنْ ھُمْ اَطَاعُوا لِذَالِکَ،فَاَعْلِمْہُمْ اَنَّ اﷲ تَعَالٰی اِفْتَرَضَ عَلَیْہِمْ صَدَقَۃً تُؤْخَذُ مِنْ اَغْنِیَائِہِمْ فَتُرَدُّ عَلَی فُقَرَائِہِمْ،فَاِنْ ہُمْ اَطَاعُوالِذَالِکَ،فَاِیَّاکَ وَکَرَائِمَ اَمْوَالِہِمْ، وَاتَّقِ دَعْوَۃَ الْمَظْلُومِ فَاِنَّہُ لَیْسَ بَیْنَہَا وَبَیْنَ اﷲ حِجَابٌ.

عن معاذرضی اﷲ عنہ قال: بعثنی رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم الی الیمن فقال:انک تاتی قوما من اہل الکتاب، فادعہم الی شہادۃ ان لا الہ الا اﷲ، وانی رسول اﷲ، فان اطاعوا لذلک، فاعلمہم ان اﷲ تعالی افترض علیہم خمس صلوات فی کل یوم ولیلۃ، فان ھم اطاعوا لذالک،فاعلمہم ان اﷲ تعالی افترض علیہم صدقۃ تؤخذ من اغنیائہم فترد علی فقرائہم،فان ہم اطاعوالذالک،فایاک وکرائم اموالہم، واتق دعوۃ المظلوم فانہ لیس بینہا وبین اﷲ حجاب.

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا مُعاذرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ دو جہاں کے تاجور، سُلطانِ بحرو بَرصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھےیمن کی طرف حاکم بنا کربھیجاتو فرمایا :’’تم اہلِ کتاب کی طرف جارہے ہو، انہیں اس بات کی گواہی کی طرف بلانا کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میںاﷲ عَزَّ وَجَلَّکا رسول ہوں۔اگر وہ یہ بات مان لیں تو انہیں بتانا کہ بے شک!اﷲ عَزَّ وَجَلَّنے ان پر دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔اگر اسے بھی مان لیں توانہیں بتانا کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّنے ان پر زکوٰۃ فرض کی ہے،جو ان کے مالداروں سے لے کر اُن کے فقرا میں تقسیم کی جائے گی۔اگر وہ یہ بات بھی مان لیں تو(زکوٰۃ لیتے وقت)ان کے عمدہ مالوں سے احترازکرنا اور مظلوم کی بددعا سے بچناکیونکہاﷲ عَزَّ وَجَلَّاوراس کے درمیان کوئی حجاب نہیں۔ ‘‘

شرح حدیث

اِسلامی احکام بتانے کا طریقہ:حدیثِ مذکورمیں غیرمسلموں کو اسلامی اَحکام بتانے کا طریقہ بیان ہواکہ پہلےانہیں توحیدورسالت کی طرف بلایا جائے جب اُس کا اِقرارکرلیں تو مسلمانوں کی سب سے اہم عبادت نمازِ پنجگانہ کی فرضیت بتائی جائے،پھر زکوٰۃ کی طرف بلایا جائے،اسے بھی مان لیں توسمجھوکہ اب تمام عقائدِاسلامیہ کو مان لیں گے، کیونکہ کُفارپرسب سے زیادہ گِراں اپنے جھوٹےمعبودوں کا انکار ہے پھر نماز و زکوٰۃ ، جب وہ ان تینوں باتوں کو مان گئے تو گویا تمام عقائد ِاِسلامیہ کے مُعترف ہو گئے۔ اب انہیں دیگر اسلامی عقائد کے بارے بتایا جائے جب انہیں بھی مان لیں تو اب ان کاجان و مال محفوظ ہوگیا،کوئی ان کے مال و جان میں ناحق تَصَرُّف نہیں کرسکتا۔ہاں! اسلامی حقوق کی ادائیگی لازم رہے گی وہ معاف نہیں ہونگے ،جیسے قصاص ،زکوٰۃ اور دیگر واجبات ِ مالیہ وغیرہ، پھر زکوٰۃ و دیگر واجبات کی وُصُولی کے وقت بھی اس بات کا خیال رکھا جائے گا کہ نہ تو ان کا عمدہ مال لیا جائے نہ ہی ردی و گھٹیا بلکہ درمیانہ مال لیا جائے گا تاکہ انہیں بھی نقصان کا احساس نہ ہو اور فقرا کی بھی امدادہوجائے ۔ہاں! وہ خوشی سے عمدہ مال دینا چاہیں تو پھر لینے میں کوئی حرج نہیں ۔ اس حدیث سے یہ بھی درس ملا کہ کسی پر ظلم نہ کیا جائے کہ مظلوم کی دعا بہت جلد قبول ہوتی ہے،اسکی قبولیت میں کوئی چیز رکاوٹ نہیں بنتی ، بسا اوقات مظلوم کی ”آہ“ ظالم کے لئے دنیا وآخرت میں رُسوائی کا باعث بن جاتی ہے ،پھر وہ کہیں کا نہیں رہتا ، برباد ہوجاتاہے۔
¥پانچوں نمازوں کی اہمیت:
حدیثِ مذکورمیں نماز کی اہمیت کابھی واضح بیان ہے کہ توحید ورسالت کے بعد اسی کا ذکر ہوا۔ حالانکہ توحید ورِسالت کے اقرار میں ضمناً اس کا اقرا ر بھی موجودتھا ،رسالت کو ماننے سے مراد یہ ہے کہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجو بھی احکام لائے ان سب کو مانا جائے ،مگر پھر بھی اسے علیحدہ سے بیان کیا گیا کہ اسلام لانے کےبعد یہی سب سے اہم اور افضل رکن ہے۔نماز کی فضیلت بیان کرتے ہوئے نبی کریم، رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”نمازی کے لیے تین کرامتیں ہیں:(1)نمازی جب نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو آسمان سے لے کرسر کی مانگ تک اس پرخیر وبرکت بَرسائی جاتی ہے۔(2) فِرِشتے نمازی کے قَدموں سے لے کر آسمان تک اُس کے چاروں طرف جمع ہوجاتےہیں۔(3)ایک مُنادی یوں ندا کرتاہے:”اگرنمازی جان لے کہ کِس سے مناجات کر رہا ہے تو دورانِ نماز کبھی بھی اِدھر اُدھر متوجہ نہ ہو۔“( )ایک اور حدیث پاک میں ہے:”جب مسلمان نماز شروع کرتا ہے تو اُس کے گُناہ اُس کے سر پر رکھ دئیےجاتے ہیں ، جب سجدے میں جاتا ہے تو سارے گُناہ گر جاتے ہیں، جب وہ نماز سے فارغ ہوتا ہے تو گناہوں سے پاک صاف ہو چکا ہوتا ہے۔“ ایک روایت میں یوں ہے:”جب آدمی نماز میں ہوتا ہے تو گویا بادشاہ کے دروازے پر دستک دے رہا ہوتاہے اور جو بادشاہ کا دروازہ کھٹکھٹاتا رہے تو کبھی نہ کبھی دروازہ کُھل ہی جاتا ہے۔“مدنی گلدستہ’’حسنین کریْمَین‘‘کے11حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے11مدنی پھول
(1) اَحادیثِ مبارکہ میں جہاں توحید ورِسالت کے اِقرار پر اِسلام کا حکم دیا گیا وہاں جمیع عقائدِ اِسلامیہ کا اِقرار مرادہےکیونکہ شےثابت ہوتی ہے تو جمیع لوازمات کے ساتھ ثابت ہوتی ہے۔
(2) اسلام لانے کی وجہ سے جان ومال محفوظ ہوجاتاہے۔ اب اس میں کوئی تَصَرُّف نہیں کرسکتا، ہاں حقوقِ اسلام کی ادائیگی لازم رہے گی ۔
(3) نما ز ہر عاقل، بالغ، قادرمسلمان پر فرضِ عین ہے اس کی فرضیت کا منکر کافر ہے۔
(4) جو بد نصیب شخص اِسلام لانے کے بعد
مَعَاذَاﷲاسلام کا منکر ہوجائے وہ مُرتد ہے،حاکمِ اسلام اس کے قتل کا حکم دےگا۔
(5) قتلِ مسلم ،زنا اور ظلم یہ بہت خطر ناک گناہ ہیں ، ان سے ہرمسلمان کو کوسوں دور بھاگنا چاہیے کہ ان کے کرنےسے انسان دنیا وآخرت میں رُسوا وبرباد ہو جاتاہے ۔
(6) کسی غیر مسلم کو اسلام کی دعوت دیتے وقت اولاً اس سے توحید و رسالت کا اقرار کرایاجائے پھر بقیہ ارکان کی تعلیم دی جائے ۔
(7) نمازی جب نماز کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اس پرخیر و برکت کی برسات ہوتی ہے۔
(8) جب نمازی نماز کےلئے کھڑاہوتاہے تو گُناہ اُس کے سر پر رکھ دئیےجاتے ہیں نماز پڑھنے سے اس کے گناہ گر جاتے ہیں،وہ نماز سے فارغ ہوتاہے تو اس کے گناہ معاف ہوچکے ہوتے ہیں۔
(9) زکوٰۃ فرض ہے، اِس کا منکر کافراورادا میں تاخیر کرنے والا گنہگار و مَردودُ الشہادہ ہے۔
(10) کسی پر ظلم نہیں کرنا چاہیے کہ مظلوم کی دعا بہت جلد قبول ہوتی ہےجس کے نتیجے میں ظالم عبرت کا نشانہ بن جاتاہے۔
(11) نمازپوری توجہ سے پڑھنی چاہیے،حالتِ نماز میں بندہ
اﷲعَزَّ وَجَلَّسے مناجات کر رہا ہوتاہے اگر وہ یہ بات کماحَقُّہ جان لے تو کبھی اِدھر اُدھر توجہ نہ کرے ۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں دیگرنیک اعمال کے ساتھ ساتھ نمازپنج گانہ کی ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
α صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1077