Main Icon

باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1078

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ جَابِرٍ رَضِیَ اﷲ عَنْہُ قَال:سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ يَقُوْلُ:اِنَّ بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ، تَرْكَ الصَّلَاةِ.

عن جابر رضی اﷲ عنہ قال:سمعت رسول الله صلی اﷲ علیہ وسلم يقول:ان بين الرجل وبين الشرك والكفر، ترك الصلاة.

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا جابررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہےکہ میں نے حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو یہ فرماتے ہوئے سنا:”بے شک!بندے اورکفروشرک کے درمیان ترکِ نماز کا فاصلہ ہے۔“

شرح حدیث

حدیثِ مذکورمیں ترکِ نماز پر بہت سخت وعیدبیان ہوئی کہ بندے اور کفر وشرک کے درمیان نماز حائل ہے اگر نماز نہ پڑھے گا تو کفر اس کی طرف راہ پاسکتا ہے کہ ترکِ نماز سخت کبیرہ گنا ہ ہے اور گناہ کفر کے قاصد ہوتے ہیں ،تارکِ نماز کو بہت شدید سزاؤں کا سامنا کرنا پڑے گا،مرتے وقت بھی اور قبر وحشر میں بھی وہ طرح طرح کے عذابوں سے دوچار ہوگا۔بےنمازی کوملنے والی سزاؤں کی ایک جھلک ملاحظہ فرمائیے۔نمازمیں سُستی کرنے والے کیلئے پندرہ سزائیں:حضرت سیدنافقیہ ابواللیث سمرقندیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”نماز میں سُستی کرنے والے کواﷲ عَزَّ وَجَلَّپندرہ (15)سزائیں دے گا،6 دنیا میں،3موت کے وقت ،3 قبر میں اور3 قبر سے نکلنے کے بعد۔چھ دُنیوی سزائیں:(1)اﷲ عَزَّ وَجَلَّبے نمازی کی عمر سے برکت ختم کردے گا۔(2)اﷲ عَزَّ وَجَلَّاس کے چہرے سے نیک لوگوں کی علامت مٹادے گا۔(3)اﷲ عَزَّ وَجَلَّاس کے کسی عمل پراجر وثواب نہ دے گا۔ (4)اس کی کوئی دعا آسمان تک بلندنہ ہونے دی جائے گی۔(5)دنیا میں مخلوق اس سے نفرت کرے گی اور(6)نیک لوگوں کی دعا میں اس کاکوئی حصہ نہ ہوگا۔موت کے وقت کی تین سزائیں:(1)بے نمازی ذلیل ہو کر مرے گا۔(2)بھوکا مرے گا۔(3)مرتے وقت اتنی سخت پیاس لگے گی کہ اگر سارے دریاؤں کا پانی بھی اسے پلا دیا جائے تو پیاس نہ بجھے ۔قبرکی تین سزائیں :(1)اﷲ عَزَّ وَجَلبے نمازی کی قبر اس پر تنگ کر دے گا اورقبر اسے اس طرح دبائے گی کہ اس کی پسلیاں ٹوٹ پھو ٹ کر ایک دوسرے میں پیوست ہوجائیں گی۔(2)اس کی قبر میں آگ بھڑکادی جائے گی۔ جس کے انگاروں میں وہ دن رات اُلٹ پلٹ ہوتارہے گا۔(3)اس پر ایک اژدھا مُسلَّط کر دیا جائے گا جس کا نام ”اَلشَّجَاعُ الْاَقْرَع“(یعنی گنجا سانپ ) ہے۔ اس کی آنکھیں آگ کی اور ناخن لوہے کے ہوں گے، ہرناخن کی لمبائی ایک دن کی مسافت کے برابر ہو گی، وہ گرج دار بجلی کی مثل آواز میں کہے گا: میں”اَلشَّجَاعُ الْاَقْرَع“ ہوں،مجھے میرے ربعَزَّوَجَلَّنےحکم دیا ہے کہ میں فجر کی نمازضائع کر نے کے جرم میں فجر سے ظہر تک اور ظہر ادانہ کرنے پر ظہر سے عصر تک اورعصر ضائع کر نے پر عصر سےمغرب تک اورمغرب نہ پڑھنے کی وجہ سےمغرب سے عشا تک اورعشاضائع کرنے پر(عشاسے)صبح تک تجھے مارتارہوں۔ اور جب بھی وہ ایک بار مارے گاتو مُردہ ستّر(70)ہاتھ زمین میں دھنس جائے گا پھروہ اپنے ناخن زمین میں داخل کر کے اسے نکالے گااوریہ عذاب اس پر قیامت تک ہوتارہے گا ۔قیامت کے دن کی تین سزائیں :(1)اﷲ عَزَّ وَجَلَّبےنمازی پرایک فرشتہ مُسلّط کردے گا جو اسے منہ کے بل گھسیٹتے ہوئےجہنم کی طرف لے جائے گا۔(2) حساب کے وقتاﷲ عَزَّ وَجَلَّاس کی طرف نظرِ غضب سے ديکھے گا جس سے اس کے چہرے کا گوشت جھڑجائے گا۔(3)اﷲ عَزَّ وَجَلَّاس کا حساب سختی سے لے گا جس سے زیادہ سخت وطویل کوئی عذاب نہ ہو گا،اﷲ عَزَّ وَجَلَّاس کو دوزخ میں لے جانے کا حکم صادر فرمائے گااور جہنم کتنا بُرا ٹھکانا ہے۔( ) ایک اور جگہ ارشاد فرمایا :”نماز چھوڑنے والے کو زکوٰۃ نہ دو ، نہ اسےاپنے پاس ٹھہراؤ اور نہ اپنے پاس بٹھاؤ کیونکہ اس پر آسمان سے لعنت اترتی ہے۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1078