Main Icon

باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1075

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ:قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: بُنِيَ الْاِسْلَامُ عَلٰی خَمْسٍ: شَهَادَةِ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَ اَنَّ مُحَمَّدًارَّسُولُ اللهِ وَ اِقَامِ الصَّلَاةِوَ اِيْتَاءِالزَّ كَاةِ وَحَجِّ الْبَيْتِ وَصَوْمِ رَمَضَانَ.

عن ابن عمر رضي الله عنهما قال:قال رسول الله صلی اﷲ علیہ وسلم: بني الاسلام علی خمس: شهادة ان لا اله الا الله و ان محمدارسول الله و اقام الصلاةو ايتاءالز كاة وحج البيت وصوم رمضان.

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا ابنِ عمررَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہےکہ حضورنبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:”اِسلام کی بنیادپانچ چیزوں پر ہے۔اس بات کی گواہی دینا کہاﷲ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی معبود نہیں اورمحمدصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اﷲ عَزَّ وَجَلَّکے رسول ہیں،نماز قائم کرنا ، زکوٰۃ ادا کرنا،بیتُ اﷲشریف کا حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا ۔“

شرح حدیث

اِسلام مثل خیمہ یا چھت کے ہے:مرآۃ المناجیح میں ہے:”اسلام مثل ِخیمہ یا چھت کے ہے اور یہ پانچ ارکان اس کے پانچ ستونوں کی طرح کہ جو کوئی ان میں سے ایک کا انکار کرے گا وہ اسلام سے خارج ہوگا اور اس کا اسلام مُنہدم ہو جاوئے گا۔خیال رہے کہ ان اعمال پر کمالِ ایمان موقوف ہے اور ان کے ماننے پر نفسِ ایمان موقوف لہٰذا جوصحیحُ العقیدہ مسلمان کبھی کلمہ نہ پڑھے یا نماز روزہ کا پابند نہ ہو، وہ اگرچہ مومن تو ہے مگر کامل نہیں، اور جو ان میں سے کسی کا انکار کرے وہ کافر ہے۔(رسالت کی گواہی )سےسارے عقائدِ اِسلامیہ مراد ہیں جو کسی عقیدے کا مُنکِر ہے وہ حضور (صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی رسالت ہی کا منکرہے۔حضور کو رسول ماننے کے یہ معنی ہیں کہ آپ کی ہر بات کو مانا جاوے۔(نماز قائم کرنے سے مراد یہ ہے کہ نماز) ہمیشہ پڑھنا، صحیح پڑھنا،دل لگا کر پڑھنا۔ اگر مال ہو تو زکوٰۃ و حج ادا کرنا فرض ہے ورنہ نہیں مگر ان کا ماننا بہرحال لازم ہے۔“
حدیثِ مذکورمیں اِسلام کے پانچ بنیادی ارکان ترتیب واہمیت کے ساتھ مذکور ہوئے ہیں۔سب سے پہلے توحید ورِسالت کا بیان ہوا جو ہر نیک عمل کی بنیاد ہے، پھر نماز کا ذِکر ہواجو دن رات میں پانچ بار ہوتی ہےیہ بندے اور ربّ
عَزَّوَجَلَّکے درمیان ایک مضبوط واسطہ ہے، پھر زکوٰۃ کا بیان ہوا جو سال میں ایک مرتبہ اس وقت واجب ہوتی ہےجب مخصوص مال پر سال گزر جائے، پھر روزے ہیں جو سال میں ایک ماہ کےلئے واجب ہوتے ہیں یہ بدنی عبادت ہے ، پھر حج کا مرتبہ ہے جو عمر بھر میں ایک مرتبہ فرض ہے وہ بھی مخصوص شرائط کے ساتھ، ان پانچوں اَرکان کی اہمیت سے متعلق چند باتیں ملاحظہ فرمائیے:(1)توحیدورسالت:توحید ورسالت کا اقرار اسلام کی اصل ہے، بقیہ ارکان نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج وغیرہ اس کے تابع ہیں کیونکہ اَعمالِ صالحہ اس وقت تک کارآمد و مقبول نہیں جب تک توحید ورسالت کونہ مان لیاجا ئے ۔توحید سے مراد یہ ہےکہاﷲ عَزَّ وَجَلَّایک ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ،نہ ذات میں نہ صفات میں ،نہ حکومت نہ عبادت میں ، وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی عبادت و بندگی کی جائے، وہ بے پروا ہے کسی کا محتاج نہیں ، تمام جہاں اس کے محتاج ہیں۔رسالت کی گواہی سے مراد یہ ہےکہ نبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور آپ کی ہر بات کی تصدیق کی جائے ، جو عقائد آپ نے بتائے ان تمام کو دل وجان سے تسلیم کیا جائے۔(2)نماز:توحیدورسالت کے بعداسلام کا سب سے اہم رکن نمازہے، اسےدِین کاستون، مومن کی معراج، حضورنبی کریمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی آنکھوں کی ٹھنڈک،حجت ودلیل اورمغفرت و درجات ِ عالیہ کے حصول کا ذریعہ کہا گیا ہے، بروزِقیامت سب سے پہلے اسی کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔ نمازمسلم و کافر کے درمیان فرق کرنے والی شےہے۔اس کے علاوہ نمازکےاوربھی بےشمار دِینی ودُنیوی فوائد و ثمرات ہیں، ایک حدیثِ قُدسی میں ہے،اﷲ عَزَّ وَجَلَّفرماتاہے:”میں نے تمہاری اُمَّت پر پانچ نمازيں فرض کیں اور خود سے عہد کيا کہ جس نے یہ نمازیں وقت پر پڑھیں ميں اسے جنت ميں داخل کروں گا اور جس نے ان کی حفاظت نہ کی اس کاميرے پاس کوئی عہد نہيں۔“حضورنبی مُکَرَّم،نُورِ مُجسَّمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمانِ مُعظَّم ہے :”جس نے جان ليا کہ نماز لازمی حق ہے( اور پھر اسے ادا بھی کيا) تو وہ جنت ميں داخل ہو گا۔“ایک اور جگہ مروی ہے:”نماز تمہاری میزان ہے اسی پرتمہارے وزن کی انتہا ہے اگر وزن میں پورے اُترو گے تو نجات پاجا ؤگے اور اگر کمی ہوئی تو عذاب دیئے جاؤ گے۔“(3) روزہ:روزہ بہت با برکت اوراہم بدنی عباد ت ہے۔روزہ جہنم سے ڈھال ہے، روزے دار کے منہ کی بواﷲ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک مُشک سے زیادہ پسندیدہ ہے، روزہ دار جب تک روزے کی حالت میں رہے اس کے نامۂ اعمال میں نیکیاں لکھی جاتی رہیں گی۔ روزہ دار کی ہڈیاں بھی تسبیح کرتی ہیں، روزہ دار کا سونا بھی عبادت شُمار کیا جاتا ہے۔عَرش اُٹھانے والے فِرِشتے روزہ داروں کی دُعا پرآمین کہتے ہیں، رَمَضَان کے روزہ دار کیلئے دریا کی مچھلیاں دُعائے مَغْفرت کرتی ہیں۔روزہ بندے اور ربّ کے درمیان راز ہے کیونکہ بندے کی اس عبادت پراﷲ عَزَّ وَجَلَّکےسوا کوئی مُطلع نہیں ہوتا۔رمضان میں روزہ دارو غیر روزہ دار کی پہچان نہیں ہوتی ہر شخص روزہ دار ہی نظرآتاہے۔اسی طرح نفلی روزہ رکھنے والا جب تک اِظہار نہ کرے اس کا روزہ دار ہونا معلوم نہیں ہوتا۔اس کے علاوہ بھی روزے کےبےشماردِینی ودُنیوی فوائد و ثمرات ہیں۔ روزے کی اہمیت و فضلیت سے متعلق مزید معلومات کے لئے عاشقانِ رسول کی مدنی تحریک دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارےمکتبۃُ المدینہکی مطبوعہ امیراہلسنت،بانی دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّارقادریدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَۃکی مایَۂ نازتالیف فیضا نِ سنت جلد اوّل کے باب فیضانِ رمضان کا مطالعہ فرمائیے۔(4) زکوٰۃ:زکوٰۃ بھی بہت اہم عبادت ہے،قرآنِ کریم میں متعددمقامات پر نماز کے ساتھ زکوٰۃ کی ادائیگی کا بھی حکم دیاگیا ہے۔ زکوٰۃ عبادتِ مالیہ ہے۔اﷲعَزَّوَجَلَّنے یہ اغنیاکے اَموال میں اس طرح واجب فرمائی کہ انہیں بھی کوئی نقصان نہ ہو اور فقرا کو بھی فائدہ ہوکیونکہ یہ کثیر مال پر بہت قلیل مقدار میں واجب ہوتی ہے۔خلیل ِملت حضرت علامہ مفتی محمدخلیل خان برکاتیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْکَافِیفرماتے ہیں:”زکوٰۃ کی اہمیت کا اندازہ اس سے ہوتاہےکہ زکوٰۃ دِین کا فرضِ اعظم ہے اور اَرکانِ اسلام کا تیسرا اہم رُکن ہے۔قرآنِ عظیم میں بیسیوں جگہ نماز کے ساتھ اس کاذِکر فرمایا گیا ۔زکوٰۃ ادا نہ کرنے والوں کو سخت عذاب کی وعید ہے۔زکوٰۃ سے مال کم نہیں ہوتا بلکہ بڑھتاہے۔زکوٰۃ ادا کرنے والےاﷲتعالیٰ کے محبوب بندوں میں شمار ہوتے ہیں اور یہ کمالِ ایمان کی نشانی ہے۔زکوٰۃسے جی چُرانے والوں کا حشر خراب ہوتاہے اور مال بھی برباد ہو جاتا ہے۔ زکوٰۃ کی فرضیت کا انکار کفر ہے اور منکر کافر ،اسلامی برادری سے خارج۔زکوٰۃ ادا نہ کرنے والا سخت نا شکرا اورگناہگارہے اورآخرت میں ملعون۔زکوٰۃ کی ادائیگی میں تاخیر کرنے والا گنہگار اور مردودُالشَّہادہ ہے ، اس کی گواہی نا مقبول ہے۔“(5)حج:”حج کی اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتاہے کہ حج اسلامی ارکان میں سے پانچواں رکن ہے ۔ حج ان گناہوں کو مٹا دیتاہے جو پیشتر ہوئے ۔حج کمزوروں اور عورتوں کا جہاد ہے۔حج محتاجی کو ایسا دور کرتا ہے جیسے بھٹی لوہےکےمیل کو،حجِ مَبرور(مقبول) کا ثواب جنت ہے۔حاجی کی مغفرت ہوجاتی ہے اور جس کے لئے حاجی استغفار کرے اسکی بھی۔حاجی اپنے گھر والوں میں سے چار سو افراد کی شفاعت کرے گا۔ حاجیاﷲ(عَزَّ وَجَلَّ)کے وفد ہیں،اﷲنے انہیں بلایا یہ حاضر ہوئے انہوں نے سوال کیااﷲنے انہیں دیا ۔ حاجی کے لئے دنیا میں عافیت ہےاورآخرت میں مغفرت ہے۔ جو حج کےلئے نکلا اورمر گیا قیامت تک اس کے لئے حج کرنے والے کا ثواب لکھاجائے گا، اس کی پیشی نہ ہو گی ، اور بِلا حساب جنت میں جائے گا۔ جس نے حج کیا یا عمرہ وہاﷲکی ضمان(سپردگی وذمہ داری)میں ہے،اگر مرجائے تواﷲتعالیٰ اسے جنت میں داخل فرمائے گا اور گھر واپس آجائے تو اجر و غنیمت کے ساتھ واپس آئے گا۔“ اس کے علاوہ بھی حج کے بے شمار دِینی ودُنیوی فوائد وثمرات ہیں۔اﷲ عَزَّ وَجَلَّہر مسلمان کو اسلام کے ان پانچوں ارکان اور بقیہ تمام اَحکام کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ہمارا خاتمہ ایمان پر فرمائے اور جنتُ الفردو س میں اپنے حبیبصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا پڑوس عطا فرمائے۔آمینمدنی گلدستہ’’ارکانِ اسلام ‘‘کے10حروف کی نسبت سے اَحادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے10مدنی پھول
(1) توحید ورسالت ،نماز ،روزہ،زکوٰۃ اورحج یہ اسلام کے بنیادی ارکان ہیں جو ان میں سے کسی ایک کابھی انکار کرے وہ مسلمان نہیں۔
(2) توحید ورسالت کا اِقرار اِسلام کی اصل ہے،بقیہ تما م ارکان اس کے تابع ہیں،کوئی بھی نیک عمل اس وقت تک مقبول نہیں جب تک توحید ورسالت کونہ مان لیاجا ئے۔
(3) جس کی نمازیں پوری ہوئیں بروزِ قیامت وہ نجات پا جائے گا اور جس کی نمازوں میں کمی ہوئی اسے عذاب دیا جائے گا۔
(4) جس نے نماز کو لازمی حق جان کراداکیا ا س کےلئے جنت کی بشارت ہے۔
(5) نماز دین کا ستون ہے جو اس کی فضیلت جاننے کے باوجود اسے ضائع کرے وہ دیگر اعمال کو بہت زیادہ ضائع کرنے والا ہوگا۔
(6) زکوٰۃ ادا کرنے والے
اﷲتعالیٰ کے محبوب بندوں میں شمار ہوتے ہیں اوریہ کمالِ ایمان کی نشانی ہے۔
(7) زکوٰۃ کی ادائیگی میں تاخیر کرنے والا گنہگارہے اور گواہی مقبول نہیں ۔
(8) جو نماز کو
اﷲ عَزَّ وَجَلَّکاحق سمجھتے ہوئے اچھی طرح وضو کرکے شرائط کی پابندی کے ساتھ اد اکرے وہ جہنم سے محفوط رہے گا ۔
(9) حج کمزوروں اور عورتوں کاجہاد ہے ،یہ محتاجی کو ایسے دور کرتاہے جیسے بھٹی لوہےکے میل کو۔
(10) پنج وقتہ نماز کی وقت پر ادائیگی،والدین کی خدمت اورراہ ِخدا میں جہاد کرنا یہ افضل ترین اعمال ہیں۔
اﷲ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں بالخصوص نمازکی پابندی کرنے کی توفیق عطافرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1075