Main Icon

پڑوسی کے حقوق کے بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 305

جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : وَاللهِ لَا يُؤْمِنُ ، وَاللهِ لَايُؤْمِنُ ، وَاللهِ لَايُؤْمِنُ ، قِيْلَ : مَنْ يَا رَسُوْلَ اللهِ؟ قَالَ : اَلَّذِيْ لَا يَاْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ. ( ) وَفِيْ رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ : لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ لَايَاْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ. ( )

وعن ابي هريرة رضي الله عنه ان النبي صلى الله عليه وسلم قال : والله لا يؤمن ، والله لايؤمن ، والله لايؤمن ، قيل : من يا رسول الله؟ قال : الذي لا يامن جاره بوائقه. ( ) وفي رواية لمسلم : لا يدخل الجنة من لايامن جاره بوائقه. ( )

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : “ خدا کی قسم! وہ مؤمن نہیں ، خدا کی قسم! وہ مؤمن نہیں ، خدا کی قسم! وہ مؤمن نہیں ، عرض کی گئی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! کون؟‘‘ ارشاد فرمایا : “ وہ شخص جس کی شرارتوں سے اس کے پڑوسی محفوظ نہ ہو۔ “ اور مسلم شریف کی ایک روایت میں ہے : وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گاجس کے پڑوسی اس کی شرارتوں سے محفوظ نہ ہوں۔ ‘‘

شرح حدیث

مؤمن نہ ہونے کا مطلب:مذکورہ حدیث پاک میں سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پڑوسی کو تکلیف دینے والے کے

بارے میں تین بار قسم کھاکر ارشاد فرمایا کہ وہ مومن نہیں ، یہ تین بار فرمانا تاکید کے لیے تھا اور اس میں حقیقی ایمان کی نہیں بلکہ کمال ایمان کی نفی ہے یعنی وہ کامل مؤمن نہیں ہے نیز حضور اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے پہلے ہی یہ نہ فرمایا کہ پڑوسی کو تکلیف دینے والا مؤمن نہیں بلکہ پہلے تین بار صرف یہ فرمایا کہ وہ مؤمن نہیں پھر سائل کے پوچھنے پر بتایا کہ وہ شخص مؤمن نہیں جس کا پڑوسی اس کے شر سے محفوظ نہ ہو تاکہ سننے والوں کے دلوں میں یہ بات اچھی طرح بیٹھ جائے کیونکہ جو بات انتظار اور پوچھنے کے بعد معلوم ہوتی ہے وہ بہت اچھے طریقے سے ذہن نشین ہوتی ہے۔ ‘‘( )
پڑوسی کو اذیت نہ دینے کی ترغیب:عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک میں پڑوسی کو اذیت نہ دینے کی بہت زیادہ ترغیب دی گئی ہے ، کیا تم ا س بات پر غور نہیں کرتے کہ نبی اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تین مرتبہ قسم کھا کر تاکید سے ارشاد فرمایا کہ : وہ شخص مؤمن نہیں جس کا پڑوسی اس کے شرور سے محفوظ نہ ہو۔ اور اس کا معنی یہ ہے کہ وہ کامل ایمان والا مؤمن نہیں اور اس (مذموم) وصف والا اعلیٰ درجات تک نہ پہنچنے گا۔ لہٰذا ہر مؤمن کو چاہیے کہ وہ اپنے پڑوسی کو اذیت دینے سے بچے اور ایمان کے اعلیٰ درجات میں ہونے کی طرف راغب ہو اور اس چیز سے باز آ جائے جس سے اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے منع فرمایا ہے اور اس چیز میں رغبت رکھے جس میں ان کی رضا ہے۔ ‘‘( )جنت میں نہ جانے کا معنی:مسلم شریف کی حدیث پاک میں بیان ہو اکہ جس کی فتنہ انگیزیوں سے ا ُس کا پڑوسی محفوظ نہ ہو وہ جنت میں نہ جائے گا۔ علامہ نَووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی نے اس کا ایک معنی یہ بیان فرمایا ہے کہ جب کامیاب لوگوں کے لئے جنت کے دروازے کھولے جائیں گے اُس وقت اُن کے ساتھ داخل نہ ہو گا بلکہ اس کا

داخلہ(جہنم میں) گناہوں کی سزا پوری ہونے تک مؤخر کر دیا جائے گااور یہ بھی ممکن ہے کہ اسے معاف کر دیا جائے ، اس صورت میں وہ(جہنم میں نہیں جائے گا بلکہ)ابتداءً ہی جنت میں داخل ہو جائے گا۔ ‘‘( )
پڑوسی کو تکلیف دینےوالوں کے لیےلمحہ فکریہ:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یاد رہے کہ اگرچہ ہر مسلمان کو اپنے شر اور فتنہ انگیزی سے بچانا ضروری ہے لیکن پڑوسی کو بچانازیادہ ضروری ہے کیونکہ بندے کا دوسروں کے مقابلے میں پڑوسی سے زیادہ واسطہ پڑتا ہے ، ا س لئے وہ اچھے اخلاق کا دوسروں سے زیادہ مستحق ہے۔ مگرافسوس! فی زمانہ پڑوسیوں کے حقوق ادا نہ کرنا ، انہیں بات بات پر تنگ کرنا ، چھوٹے چھوٹے معاملات پر فتنہ وفساد برپا کرنا ، معمولی کام پر ان سے قطع تعلقی کرلینا ہمارے معاشرے میں عام ہوچکا ہے ، اب تو حالات اتنے بگڑ چکے ہیں کہ فتنہ وشرانگیزی اور تکلیف دینے میں سب سے پہلا ہدف پڑوسی ہی ہوتا ہے ، پڑوسی کو اسلام نے ایسی عزت وحرمت عطا فرمائی ہے کہ اگر اس کے حقوق اچھی طرح ادا کیے جائیں تو وہ اپنے پڑوسی کے لیے اس کے نائب کی حیثیت اختیار کرلے جبکہ ہمارے معاشرے میں پڑوسی کے حقوق اس قدر بری طرح پامال کیے جاتے ہیں کہ بندہ جتنا اپنے پڑوسیوں کے شر سے پناہ مانگتا ہے اتنا کسی ذاتی دشمن کے شرسے بھی پناہ نہیں مانگتا لہذا ہمیشہ اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھیں اور ایسی تمام باتوں سے بچتے رہیں جن سے وہ پریشان ہوں یا انہیں تکلیف پہنچے۔مدنی گلدستہ
’’ایمان‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1) پڑوسی کو اذیت دینا ایمان کے اعلیٰ درجات سے محرومی کا سبب ہے۔
(2) ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ پڑوسی کو بڑی چھوٹی ہر طرح کی اذیت دینے سے بچے اور ایمان کے اعلیٰ درجات پانے کی طرف رغبت اختیار کرے۔

(3) پڑوسی کو اذیت دینا جنت میں ابتداءً داخل ہونے میں رُکاوٹ بن سکتا ہے۔
(4) کوئی اہم بات سمجھانی ہوتو اس بات کو ایک سے زیادہ مرتبہ دُہرایا جا سکتا ہے۔
(5) انتظار اور سوال کرنے کے بعد معلوم ہونے والی بات اچھی طرح ذہن نشین ہو جاتی ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ
سے دعا ہے کہ وہ ہمیں پڑوسیوں کےحقوق پامال کرنے سے بچائے اور ہمیشہ اپنے پڑوسیوں کا خیال رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 305