Main Icon

پڑوسی کے حقوق کے بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 306

جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا نِسَاءَ الْمُسْلِمَاتِ ، لَا تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا وَلَوْ فِرْسِنَ شَاةٍ.( )

وعنه ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : يا نساء المسلمات ، لا تحقرن جارة لجارتها ولو فرسن شاة.( )

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ اے مسلمان عورتوں! کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کی دی ہوئی چیز کو حقیر نہ جانے اگرچہ وہ بکری کاکُھر ہی کیوں نہ ہو۔ “

شرح حدیث

معمولی ہدیہ بھی خوشی سے قبول کرلو:مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ ہدیہ چاہے حقیر چیز کا ہی کیوں نہ ہو لینے والے کو اس میں عیب نہیں نکالنا چاہیے۔ مُفَسِّرشہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : “ اگر تم امیر ہو اور تمہاری پڑوسن غریب اور وہ غریب اپنی محبت سے کوئی معمولی چیز بطور ہدیہ بھیجے تو نہ اسے واپس کردو اور نہ اسے نگاہِ حقارت سے دیکھو بلکہ خوشی سے قبول کرو کہ اس کا دل خوش ہوجائےﷲ∞تعالیٰ اخلاص کا ایک پیسہ بھی قبول فرمالیتا ہے۔ اس حدیث کا مطلب اس کے برعکس بھی ہوسکتا ہے یعنی کوئی عورت اپنی پڑوسن کو معمولی ہدیہ دینے میں نہ ہچکچائے جو کچھ جُڑے بنے دیتی رہےکہ ہدیوں سے

محبتیں بڑھتی ہیں ، چونکہ چیزوں میں عیب نکالنے کی عادت زیادہ عورتوں میں ہوتی ہے اس لیے انہی سے خطاب کیا گیا ، یہ حدیث ہم غریبوں کے لیے بڑی ہمت افزاء ہے کیونکہ اس سے معلوم ہورہا ہے کہ خود نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم مسکینوں کے معمولی ہدیہ ثواب وغیرہ کو بھی ردّ نہیں فرماتے۔ “ ( )
عورتوں سے خطاب کی وجہ:یاد رہے کہ چیزوں میں عیب نکالنے اور انہیں حقیر جاننے کی عادت عام طور پرعورتوں میں زیادہ ہوتی ہے اس لیے یہاں بطورِ خاص ان سے خطاب فرمایا گیاورنہ مَردوں کو بھی یہی حکم ہے کہ وہ معمولی چیز کو حقیر جان کر اسے تحفہ دینے سے نہ رُکیں اور نہ ہی تحفے میں ملنے والی معمولی چیز کو حقیر جانیں۔ نیز حدیث پاک میں جو فرمایا گیا کہ اگرچہ بکری کا کُھر ہی ہدیہ میں ہو یہ مبالغہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ آسانی سے جو چیز بھی ہدیہ کرسکتے ہو وہ کرو کسی چیز کو حقیر جانتے ہوئے ہدیہ سے نہ رُکو ، یہاں حقیقۃ بکری کا کُھر مراد نہیں ہے کہ عام طورپر کُھر ہدیہ نہیں کیا جاتا ، مقصد یہ ہے کہ جو موجود ہو اس کے اعتبار سے ہدیہ کردو کیونکہ کچھ نہ دینے سے دینا بہتر ہے۔ ( )معمولی تحفہ بھی قبول کرلینا سنت ہے:حضور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عادتِ مبارکہ تھی کہ اگر آپ کی بارگاہ میں تحفے کے طور پر کوئی معمولی چیز بھی پیش کی جاتی تو آپ اسے قبول فرما لیا کرتے تھے جیسا کہ حضرت سَیِّدناابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : “ اگر مجھے ایک دستی یا پائے کے لیے دعوت دی جائے تو میں اسے منظور کر لوں گا اور اگر ہدیے کے طور پر میرے لیے دستی یا پایا بھیجا جائے تو میں ضرور قبول کرلوں گا۔ ‘‘( )
مدنی گلدستہ
’’اَخُوَّت‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) کسی کے دیئے ہوئے معمولی تحفے کو بھی حقارت کی نگاہ سے نہیں دیکھنا چاہیے۔
(2) کسی چیز کے معمولی ہونے کی وجہ سے اسے حقیر جان کر تحفہ دینے سے نہیں رُکناچاہیے۔
(3) عورتوں کی طرح مردوں کو بھی یہی حکم ہے کہ وہ ملنے والے معمولی تحفے کو حقیر نہ جانیں اور معمولی چیز کو حقیر جان کر تحفہ دینےسے باز نہ رہیں۔
(4) معمولی چیز کا ہدیہ یا تحفہ قبول کرلینا بھی سنت مبارکہ ہے کہ تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممعمولی چیز کی دعوت و ہدیہ بھی قبول فرمالیا کرتے تھے ۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اپنی استطاعت کے مطابق اپنے پڑسیوں کو تحفہ دینے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کی طرف سے ہدیہ میں آنے والی معمولی اور حقیر چیز کو بھی خوش دلی سے قبول کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 306