- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
پڑوسی کے حقوق کے بیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 3
حضرت سَیِّدنا ابن عمر اور ام المؤمنین حضرت سَیِّدتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : “ جبریل (عَلَیْہِ السَّلَام) مجھے پڑوسی کے بارے میں مسلسل تاکید کرتے رہے یہاں تک کہ میں نے گمان کیا کہ وہ پڑوسی کو وارث ہی بنا دیں گے۔ “
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ وَعَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَا : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا زَالَ جِبْرِيْلُ يُوصِيْنِيْ بِالْجَارِ حَتّٰى ظَنَنْتُ اَنَّهُ سَيُوَرِّثُهُ.( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 303 ، پڑوسی کے حقوق کے بیان
حضرت سَیِّدنا ابو ذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ اے ابو ذر! جب تم شوربہ پکاؤ تو ا ُس کا پانی زیادہ رکھو اور اپنے پڑوسی کا خیال رکھو۔ ‘‘
ایک اور روایت میں ان ہی سے مروی ہے فرماتے ہیں : “ بے شک میرے خلیل صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےمجھے وصیت فرمائی کہ جب تم شوربہ پکاؤ تو ا س کا پانی زیادہ رکھو ، پھر اپنے پڑوسی کے گھر والوں کو دیکھو اور انہیں اس میں سے بھلائی کے ساتھ (کچھ)شوربہ دے دو۔ “
وَعَنْ اَبِيْ ذَرٍّرَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا اَبَا ذَرٍّ ، اِذَا طَبَخْتَ مَرَقَةً ، فَاَكْثِرْ مَاءَهَا ، وَتَعَاهَدْ جِيْرَانَكَ.وَفِيْ رِوَايَةٍ لَهُ عَنْ اَبِيْ ذَرٍّ ، قَالَ : اِنَّ خَلِيْلِيْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَوْصَانِيْ : اِذَا طَبَخْتَ مَرَقًا فَاَكْثِرْ مَاءَهُ ، ثُمَّ انْظُرْ اَهْلَ بَيْتٍ مِنْ جِيْرَانِكَ ، فَاَصِبْهُمْ مِنْهَا بِمَعْرُوْفٍ.( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 304 ، پڑوسی کے حقوق کے بیان
حضرت سَیِّدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : “ خدا کی قسم! وہ مؤمن نہیں ، خدا کی قسم! وہ مؤمن نہیں ، خدا کی قسم! وہ مؤمن نہیں ، عرض کی گئی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! کون؟‘‘ ارشاد فرمایا : “ وہ شخص جس کی شرارتوں سے اس کے پڑوسی محفوظ نہ ہو۔ “ اور مسلم شریف کی ایک روایت میں ہے : وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گاجس کے پڑوسی اس کی شرارتوں سے محفوظ نہ ہوں۔ ‘‘
وَعَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : وَاللهِ لَا يُؤْمِنُ ، وَاللهِ لَايُؤْمِنُ ، وَاللهِ لَايُؤْمِنُ ، قِيْلَ : مَنْ يَا رَسُوْلَ اللهِ؟ قَالَ : اَلَّذِيْ لَا يَاْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ. ( ) وَفِيْ رِوَايَةٍ لِمُسْلِمٍ : لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ لَايَاْمَنُ جَارُهُ بَوَائِقَهُ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 305 ، پڑوسی کے حقوق کے بیان
حضرت سَیِّدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ اے مسلمان عورتوں! کوئی پڑوسن اپنی پڑوسن کی دی ہوئی چیز کو حقیر نہ جانے اگرچہ وہ بکری کاکُھر ہی کیوں نہ ہو۔ “
وَعَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا نِسَاءَ الْمُسْلِمَاتِ ، لَا تَحْقِرَنَّ جَارَةٌ لِجَارَتِهَا وَلَوْ فِرْسِنَ شَاةٍ.( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 306 ، پڑوسی کے حقوق کے بیان
حضرت سَیِّدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، رسولِ اَکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ کوئی پڑوسی اپنے پڑوسی کو اپنی دیوار میں لکڑی گاڑنے سے منع نہ کرے۔ “ پھر حضرت سَیِّدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے : “ کیا بات ہے کہ میں تمہیں اس حکم سے اعراض کرتے ہوئے دیکھ رہا
ہوں ، اللہ (عَزَّ وَجَلَّ) کی قسم! میں اس حدیث کو تمہارے کندھوں کے درمیان رکھ دوں گا۔ ‘‘ (یعنی تمہارے سامنے علانیہ بیان کرتا رہوں گا۔ )
وَعَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : لَايَمْنَعْ جَارٌ جَارَهُ اَنْ يَغْرِزَ خَشَبَةً في جِدَارِهِ.ثُمَّ يَقُوْلُ اَبُوْ هُرَيْرَةَ : مَالِیْ اَرَاكُمْ عَنْهَا مُعْرِضِيْنَ! وَاللهِ لَاَرْمِيَنَّ بِهَا بَيْنَ اَكْتَافِكُمْ.( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 307 ، پڑوسی کے حقوق کے بیان
حضرت سَیِّدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ جو اللہ عَزَّوَجَلَّ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے وہ اپنے پڑوسی کو اذیت نہ دے اور جو اللہ عَزَّوَجَلَّ اوریومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کی خاطر تواضع کرے اور جو اللہ عَزَّوَجَلَّ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یاخاموش رہے۔ ‘‘
وَعَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، فَلَايُؤْذِ جَارَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ، فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ،
فَلْيَقُلْ خَيْرًا اَوْ لِيَسْكُتْ.( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 308 ، پڑوسی کے حقوق کے بیان
حضرت سَیِّدُنا ابو شُرَیح خُزاعی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ جو اللہ عَزَّوَجَلَّ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے اپنے پڑوسی کے ساتھ احسان کرنا چاہیے اور جو اللہ عَزَّوَجَلَّ اوریومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کی خاطر تواضع کرے اور جو اللہ عَزَّوَجَلَّ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یاخاموش رہے۔ ‘‘
عَنْ اَبِيْ شُرَيْحِ الْخُزَاعِي رَضِيَ الله عَنْهُ: اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُحْسِنْ اِلٰى جَارِهِ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا اَوْ لِيَسْكُتْ.( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 309 ، پڑوسی کے حقوق کے بیان
حضرت سیِّدتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے ، فرماتی ہیں ، میں نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میرے دو۲پڑوسی ہیں ، تو میں ان میں سے کس کی طرف ہدیہ بھیجوں؟ “
آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ارشاد فرمایا : ’’دونوں میں سے جس کا دروازہ تجھ سے زیادہ قریب ہے۔ “
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا ، قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُوْلَ اللهِ ، اِنَّ لِيْ جَارَيْنِ ، فَاِلٰى اَيِّهِمَا اُهْدِي؟ قَالَ : اِلٰى اَقْرَبِهِمَا مِنْكِ بَابًا.( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 310 ، پڑوسی کے حقوق کے بیان
حضرت سَیِّدنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سےروایت ہے ، تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک بہترین ساتھی وہ ہیں جو اپنے ساتھی کے لیے اچھے ہوں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نزدیک بہترین پڑوسی وہ ہیں جو اپنے پڑوسی کے لیے اچھے ہوں۔ ‘‘
وَعَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : خَيْرُ الْاَصْحَابِ عِنْدَ اللهِ تَعَالٰى خَيْرُهُمْ لِصَاحِبِهٖ ، وَخَيْرُ الْجِيْرَانِ عِنْدَ اللهِ تَعَالٰی خَيْرُهُمْ لِجَارِهٖ.( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 311 ، پڑوسی کے حقوق کے بیان