- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- حدیث نمبر 309
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِيْ شُرَيْحِ الْخُزَاعِي رَضِيَ الله عَنْهُ: اَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُحْسِنْ اِلٰى جَارِهِ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا اَوْ لِيَسْكُتْ.( )
عن ابي شريح الخزاعي رضي الله عنه: ان النبي صلى الله عليه وسلم ، قال : من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليحسن الى جاره ، ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليكرم ضيفه ، ومن كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليقل خيرا او ليسكت.( )
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدُنا ابو شُرَیح خُزاعی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ جو اللہ عَزَّوَجَلَّ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے اپنے پڑوسی کے ساتھ احسان کرنا چاہیے اور جو اللہ عَزَّوَجَلَّ اوریومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کی خاطر تواضع کرے اور جو اللہ عَزَّوَجَلَّ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اچھی بات کہے یاخاموش رہے۔ ‘‘
شرح حدیث
پڑوسی کو اذیت دینے سے کیا مرادہے؟عَلَّامَہ شِھَابُ الدِّین احمد بِن مُحَمَّد قَسْطَلَّانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں : ’’جو شخص اس اللہ عَزَّوَجَلَّ پر کامل ایمان رکھتا ہے جس نے اسے پیدا کیا اوراس آخری دن پر کامل ایمان رکھتا ہے جس کی طرف اس کو لوٹنا ہے اور جس میں اسے اس کے عمل کی جزا دی جائے گی تو وہ اپنے پڑوسی کو ایذا نہ دے۔ ‘‘( )
مُفَسِّرِ شَھِیر ، مُحَدِّثِ کبیر حکیمُ الامَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان پڑوسی کو اذیت دینے کا مطلب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’یعنی اس کو تکلیف دینے کے لیے کوئی کام نہ کرے۔ ‘‘( )پڑوسی کی اذیت برداشت کرنا:مروی ہے کہ ایک شخص حضرت سَیِدُنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی : ’’میرا ایک پڑوسی ہے جو مجھے تکلیف پہنچاتا ہے ، بُرا بھلا کہتا اور مجھ پر تنگی کرتا ہے۔ ‘‘آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : ’’واپس جاؤ! اگر ا س نے تمہارے بارے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نافرمانی کی ہے تو تم اس کے بارے میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی فرمانبرداری کرو۔ ‘‘( )
سیدنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَالِی فرماتے ہیں : ’’یاد رکھو!پڑوس کا حق صرف یہ نہیں کہ پڑوسی کو اذیت دینے سے رُکا جائے بلکہ اس کی طرف سے پہنچنے والی تکلیفوں کو برداشت کرنا بھی اس کے حق میں شامل ہے۔ کیونکہ بعض اوقات پڑوسی بھی تکلیف نہیں پہنچاتا لہذا صرف تکلیف نہ پہنچانے سے پڑوسی کا حق ادا نہیں ہوگا (کیونکہ یہ تو رکنے کے بدلے میں رکنا ہے کہ اُس نے اذیت نہیں دی تو اِس نے بھی نہیں دی) اسی لیے صرف پڑوسی کی طرف سے پہنچنے والی تکلیف کو برداشت کرنا ہی کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ نرمی اور اچھے طریقے سے پیش آنا بھی ضروری ہے۔ منقول ہے کہ قیامت کے دن فقیر پڑوسی اپنے امیر پڑوسی کو پکڑ کر بارگاہِ الٰہی میں عرض کرے گا : “ اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ ! ااس سے پوچھ کہ اس نے مجھے اپنے حسن سلوک سے کیوں محروم رکھا اور میرے لیے اپنے گھر کا دروازہ کیوں بند کیا۔ ‘‘( )(حالانکہ میں اس کے فضل و احسان کا محتاج تھا۔ )پڑوسی کے تکلیف دینےپر حکمت عملی:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! واضح رہے کہ پڑوسی کی طرف سے پہنچنے والی اذیت و تکلیف کو برداشت
کرنا اور اس پر صبر کرنا بہتر اور اجر و ثواب کا باعث ہے لیکن اگر صبر کرنا ممکن نہ رہے تو اسے موقع کی مناسبت سے بہتر حکمت عملی کے ساتھ روکا بھی جاسکتا ہے۔ چنانچہ حضرت سَیِّدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ ایک شخص نے حضور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر اپنے پڑوسی کی شکایت کی تو آپ عَلَیْہِ السَّلَام نےارشاد فرمایا : “ واپس چلے جاؤ اور صبر کرو۔ ‘‘ پھر وہ دو یا تین مرتبہ دوبارہ بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں حاضر ہواتو آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے ارشاد فرمایا : “ جاؤ اور اپنا سامان راستے میں رکھ دو۔ ‘‘ چنانچہ اس نے اپنا سامان راستے میں رکھ دیا ، لوگ اس سے اس کی وجہ پوچھنے لگے اس نے لوگوں کو اپنے پڑوسی کا حال بتایا تو لوگوں نے اس کے پڑوسی پر لعن طعن کرنا شروع کر دی اور اسے بُرا بھلا کہنے لگے ، (جب اس پڑوسی کو صورت حال کا علم ہوا) تو وہ اس کے پاس آیا اور کہنے لگا : “ واپس چلو ، اب میری طرف سے تمہیں کوئی ایسی بات نہ پہنچے گی جس سےتمہیں کوئی تکلیف ہو۔ ‘‘( )پڑوسی کو اذیت دینے کا نقصان:حضرت سَیِّدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ تاجدارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے عرض کی گئی : “ فلاں عورت دن میں روزہ رکھتی ہے اور رات میں قیام کرتی ہے اور اپنے پڑوسیوں کو اپنی زبان سے ایذاء پہنچاتی ہے۔ ‘‘ ارشاد فرمایا : ’’اس میں کوئی بھلائی نہیں ، وہ جہنمی ہے۔ ‘‘( )
شیخ عبدالحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : “ پڑوسی کو تکلیف دینے کی وجہ سے وہ عورت جہنم میں جائے گی اور اس کے نماز ، روزے اور صدقہ افضل ترین عمل ہونے کے باوجود اس کے گناہ کا کفارہ نہ بن سکیں گے۔ “ ( ) مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْر حَکِیْمُ الْاُمَّت مفتی احمد یار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : “ یہ کام دوزخیوں کے ہیں اگر یہ عبادت گزار بی بی اپنی تیز زبان سے توبہ نہ کرے گی تو اولًا دوزخ میں جاوے گی ، نوافل سے لوگوں کے حق معاف نہیں ہوتے ، پھر سزا بھگت کر جنت
میں جاوے گی۔ “ ( )بلی کے سبب پڑوسی کو نقصان کا خدشہ:معلوم ہوا کہ پڑوسی کو اذیت دینے کی شدید وعید بیان فرمائی گئی ہے ، لہذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنے پڑوسی کو اذیت دینے سے بچتا رہے ، ہمارے بزرگان دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن پڑوسیوں کا بہت احساس فرماتے اور کوئی بھی ایسا کام نہ کرتےجس سے پڑوسی کو اذیت پہنچنے کا اندیشہ ہوتا۔ چنانچہ دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبہ المدینہ کی مطبوعہ1393 صفحات پر مشتمل کتاب احیاء العلوم جلد 2 صفحہ771پر ہے کہ کسی بزرگ نے اپنے دوستوں سے گھر میں چوہوں کی کثرت کی شکایت کی تو ان سے کہا گیا : “ آپ بلی کیوں نہیں پال لیتے؟‘‘ فرمایا : ’’مجھے اس بات کا خوف ہے کہ بلی کی آواز سن کر چوہے پڑوسیوں کے گھروں میں چلے جائیں گے ، یوں میں ان کے لئے اس بات کو پسند کرنے والاہو جاؤں گا جس بات کو اپنی ذات کے لئے پسند نہیں کرتا۔ ‘‘ اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں بھی اپنے پڑوسیوں کا احساس کرنے اور انہیں اذیت و تکلیف پہنچانے والے کام کرنے سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمینپڑوسی پر احسان کرنے کے طریقے:حدیث نمبر 308 مذکور ہے کہ جو اللہ عَزَّوَجَلَّ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہےاسے چاہیے کہ پڑوسی کو اذیت نہ دے اور حدیث نمبر 309 میں ہے کہ جو اللہ عَزَّوَجَلَّ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے پڑوسی کے ساتھ احسان کرنا چاہیے۔ عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : “ مُصَنِّفْ یعنی امام نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی نے ان دونوں احادیث کو جمع کرکے اس بات کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ کامل ایمان اس وقت تک حاصل نہیں ہوسکتا جب تک دونوں چیزوں کو جمع نہ کیا جائے یعنی پڑوسی کو اذیت دینے سے بھی بچا جائے اور اپنی قدرت کے مطابق اس کے ساتھ حُسن سلوک بھی کیا جائے۔ “ ( )
حدیث پاک میں پڑوسی کے ساتھ احسان کرنے کے چند طریقے بیان کیے گئے ہیں ، چنانچہ حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ (1) جب وہ تم سے مدد مانگے تو اس کی مددکرو۔ (2)اگر تم سے قرض مانگے تو اسے دے دو۔ (3)اگر وہ غریب ہو تو اس کا خیال رکھو۔ (4)وہ بیمار ہو تو اس کی مزاج پُرسی کرو۔ (بلکہ ضرورت ہو تو تیمارداری کرو۔ ) (5)اگر اس کا انتقال ہو جائے تو اس کے جنازہ کے ساتھ جاؤ (6)اس کی خوشی میں خوشی کے ساتھ شرکت کرو۔ (7)اس کے غم و مصیبت میں ہمدردی کے ساتھ شریک رہو۔ (8)اس کی اجازت کے بغیر اپنا مکان اتنا اونچا نہ بناؤ کہ اس کی ہوا روک دو۔ (9)جب پھل خریدو تو اسے بھی ہدیۃً بھیجو اور نہ بھیج سکو تو چھپا کر رکھو ، اس پر ظاہر نہ ہونے دو اور تمہارے بچے بھی اس کے بچوں کے سامنے نہ کھائیں۔ (10)ہانڈی سے نکلنے والی خوشبودار بھاپ سے اسے اذیت نہ دو مگر یہ کہ ہنڈیا میں سے کچھ اس کے لیے بھی بھیج دو۔“( )مہمان کی تعظیم،کمالِ ایمان کی علامت:حدیث پاک میں فرمایا گیا کہ جو اللہ عَزَّوَجَلَّ اوریوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ اپنے مہمان کی خاطر تواضع کرے۔ یاد رہے کہ اس حدیثِ پاک کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جو مہمان کی خاطر تواضع نہیں کرے گا وہ کافر ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ مہمان کی تعظیم اور اس کی خاطرداری ایمان کا تقاضا اور کمالِ ایمان کی علامت ہے۔ ( )مہمان نوازی کے آداب:مہمان نوازی کے آداب میں سے ایک ادب یہ ہے کہ میزبان اپنے مہمان کا احترام اور ا س کی تعظیم کرے اور اس میں بہت سی چیزیں داخل ہیں جنہیں علماء کرام نے اپنی کتابوں میں مختلف مقامات پر بیان فرمایا ہے ، ان میں سے 4 درج ذیل ہیں : (1) میزبان اپنے مہمان سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملے۔ (2) مہمان
کے لیے کھانے اور دوسری خدمات کا انتظام کرے۔ (3)حتی الامکان اپنے ہاتھ سے اس کی خدمت کرے ، جیسے مہمان کے سامنے خود دستر خوان بچھائے ، وہ ہاتھ دھونے لگے تو خود اس کے ہاتھوں پر پانی ڈالے یا نل خود کھول کر دے وغیرہ۔ (4) مہمان کے لیے بقدرِ طاقت اچھا کھانا بنائے۔ ( )اچھی بات کرنے سے پہلے بھی غور کرلے:حدیث پاک میں یہ بھی فرمایا گیا کہ جواللہ عَزَّوَجَلَّاوریوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہیے کہ وہ اچھی بات کہے یاخاموش رہے۔امام شافعیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: ”اچھی بات کہنے سے پہلے بھی غور کرلے، جب ظاہر ہوجائے کہ جو بات کرنے والا ہے اس میں صرف بھلائی ہے،فساد نہیں ہے اور نہ ہی وہ بات حرام یا مکروہ کی طرف لے جانے والی ہے تو وہ بات کہے۔“ اگر انسان اچھی بات نہیں کہہ سکتا تو اسے چاہیے کہ خاموش رہے مباح بات بھی نہ کرے کیونکہ بعض اوقات مباح کلام بھی حرام یا مکروہ کی طرف لے جاتا ہے اور بالفرض اگر مباح کلام حرام یا مکروہ کی طرف لے جانے والا نہ ہو تو بھی اس میں وقت کا ضیاع ہے کہ یہ فضول کام ہے۔( )مدنی گلدستہ
’’کامل ایمان‘‘کے9حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے9مدنی پھول(1)اپنے پڑوسی کو تکلیف نہ دینے والے کو کامل ایمان والوں میں شمار کیا گیا ہے۔
(2)پڑوسی کی طرف سے پہنچنے والی تکلیف کو برداشت کرنا ہی پڑوسی کا حق نہیں بلکہ تکلیف برداشت کرنے کے ساتھ اس سے حسن سلوک کرنا بھی اس کے حقوق میں شامل ہے۔
(3)اگر پڑوسی کی اذیتوں پر صبر کرنا ممکن نہ رہے تو جائز طریقے اور حکمت عملی کے ساتھ اسے اذیت
پہنچانے سے روکا جا سکتا ہے ۔
(4)بزرگانِ دِین اپنے پڑوسیوں کے لئے بھی وہی کچھ پسند کرتے تھے جو اپنے لئے پسند کرتے تھے ۔
(5)پڑوسی کو اذیت دینا اُخروی اعتبار سے بھی انتہائی نقصان دہ ہے کہ عبادت و ریاضت کے باوجود رب تعالی کی ناراضگی کی صورت میں جہنم کی وعید ہے۔
(6)پڑوسیوں کے حقوق اچھی طرح ادا کرنے کے لیے احادیث میں بیان کردہ دس امور پر عمل کرنا چاہیے۔
(7)مہمان کی تعظیم کیجئے کہ ا س کی تعظیم اور خاطر داری کرنا ایمان کا تقاضا ہے۔
(8)اچھی بات کہیں یا پھر خاموش رہیں کہ فضول بات کرنے سے خاموش رہنا بہتر ہے۔
(9)اچھی بات کرنے سے پہلے بھی غور کرلیں کہ میں جو بات کہناچاہتا ہوں اس میں کوئی فساد تو نہیں یا وہ بات مکروہ یا حرام کی طرف لے جانے والی تو نہیں جب ظاہر ہوجائے کہ اس بات میں کوئی قباحت نہیں ہے تو پھر وہ بات کریں۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں پڑوسیوں کو تکلیف نہ دینے ، اُن کی طرف سے پہنچنے والی تکالیف پر صبر کرنے ، اُن کے ساتھ حسن سلوک کرنے ، مہمان کی خاطر تواضع کرنے اور فضول گوئی سے بچتے ہوئے اچھی بات کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 309