- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- حدیث نمبر 304
پڑوسی کے حقوق کے بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 304
جلد 3
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
وَعَنْ اَبِيْ ذَرٍّرَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا اَبَا ذَرٍّ ، اِذَا طَبَخْتَ مَرَقَةً ، فَاَكْثِرْ مَاءَهَا ، وَتَعَاهَدْ جِيْرَانَكَ.وَفِيْ رِوَايَةٍ لَهُ عَنْ اَبِيْ ذَرٍّ ، قَالَ : اِنَّ خَلِيْلِيْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَوْصَانِيْ : اِذَا طَبَخْتَ مَرَقًا فَاَكْثِرْ مَاءَهُ ، ثُمَّ انْظُرْ اَهْلَ بَيْتٍ مِنْ جِيْرَانِكَ ، فَاَصِبْهُمْ مِنْهَا بِمَعْرُوْفٍ.( )
وعن ابي ذررضي الله عنه ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : يا ابا ذر ، اذا طبخت مرقة ، فاكثر ماءها ، وتعاهد جيرانك.وفي رواية له عن ابي ذر ، قال : ان خليلي صلى الله عليه وسلم اوصاني : اذا طبخت مرقا فاكثر ماءه ، ثم انظر اهل بيت من جيرانك ، فاصبهم منها بمعروف.( )
حدیث ترجمہ
حضرت سَیِّدنا ابو ذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ اے ابو ذر! جب تم شوربہ پکاؤ تو ا ُس کا پانی زیادہ رکھو اور اپنے پڑوسی کا خیال رکھو۔ ‘‘
ایک اور روایت میں ان ہی سے مروی ہے فرماتے ہیں : “ بے شک میرے خلیل صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےمجھے وصیت فرمائی کہ جب تم شوربہ پکاؤ تو ا س کا پانی زیادہ رکھو ، پھر اپنے پڑوسی کے گھر والوں کو دیکھو اور انہیں اس میں سے بھلائی کے ساتھ (کچھ)شوربہ دے دو۔ “
شرح حدیث
آسان نیکیوں کی ترغیب:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حدیث پاک میں سالن کے دیگر اجزاء کے بجائے شوربہ بڑھانے کا فرمایا گیا
کیونکہ شوربہ بڑھانا ہر ایک کے لئے آسان ہو تا ہے جبکہ گوشت اور مصالحہ وغیرہ بڑھانا سب کے لئے آسان نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ مستحب کاموں میں سے جو آسان ہو اسے کرنے کی زیادہ ترغیب دینی چاہیے تاکہ بندہ آسانی سےعمل کرکے زیادہ سے زیادہ اجر و ثواب کما سکے۔آسان نیکیوں کی ترغیب اور ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبہ المدینہ کی 192 صفحات پر مشتمل کتاب’’آسان نیکیاں‘‘ کا مطالعہ کرنا بہت مفید ہے۔معمولی سالن بھی ہدیہ بھیجتے رہیں:عام طورپر ایسا ہوتا ہے کہ جب گھر میں کوئی اچھا سالن یا کوئی گوشت وغیرہ پکتا ہے تو لوگ اپنے پڑوسیوں کو بھیجتے ہیں لیکن اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ سالن اگرچہ معمولی ہی کیوں نہ ہو وہ بھی پڑوسی کو بھیجنا چاہیے کہ اس سے بھی پڑوسی کے حق کی حفاظت ہوتی ہے البتہ اس بات کا خیال رکھیں کہ اگر سالن ایسا معمولی ہے کہ پڑوسی اسے اچھا نہیں سمجھیں گے ، یا برا محسوس کریں گے تو نہ بھیجنا بہتر ہے۔پہلے قریبی پڑوسیوں کو دینا افضل ہے:جب بھی اپنے پڑوس میں کوئی چیز دینی ہو تو کوشش کریں کہ جو سب سے قریبی پڑوسی ہو انہیں دیں ، اس کی کئی وجوہات ہیں : (1) جو سب سے قریبی پڑوسی ہوتے ہیں اُن کے ساتھ ملنا جلنا اورآمنا سامنا زیادہ ہوتا ہے۔ (2) خوشی غمی کے موقع پر قریبی پڑوسی بہت زیادہ تعاون کرتے ہیں جبکہ دور کے پڑوسیوں میں یہ بات کم ہوتی ہے۔ (3) مشکل وقت میں سب سے پہلے قریبی پڑوسی ہی مدد کے لیے آتے ہیں بلکہ بعض معاملات میں تو وہ گھر کے نائب کی حیثیت رکھتے ہیں ، خصوصاً ایسے معاملات میں جب گھروالے خود بھی اپنے گھر سے غافل ہوتے ہیں تو قریبی پڑوسی ہی ان کےگھر کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ (4) جن احادیث وروایات میں پڑوسی کی مختلف اقسام بیان فرمائی گئیں ہیں ان میں بھی سب سے پہلے قریبی پڑوسی کو بیان فرمایا گیا ہے ، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس کا حق پہلے ہے ، عربی کا مشہور مقولہ ہے : ’’اَلْحَقُّ لِلْقَرِیْب ثُمَّ لِلْبَعِیْد یعنی پہلے قریب والے کا حق ہے پھر دور والے کا۔ ‘‘ اس مقولے سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ سب سے پہلے قریبی
پڑوسیوں کو دینا چاہیے۔ چند صورتیں ایسی بھی ہیں کہ ان میں دُور والے پڑوسی کو پہلے دینا زیادہ افضل ہے ، مثلاً : (1)دور والا پڑوسی قریب والے کے مقابلے میں زیادہ تنگدست وغریب ہے۔ (2) دور والا پڑوسی قریبی رشتے دار بھی ہے۔لذت پر اُلفت کو ترجیح دیں:مذکورہ حدیث پاک سے یہ بھی معلوم ہو اکہ لذت پر اُلفت و محبت کو ترجیح دینی چاہیے کیونکہ شوربے میں گھی اور مصالحہ بڑھانے کے بجائے صرف پانی بڑھانے سے اگرچہ اس کا مزہ کم ہو جائے گا لیکن پڑوسیوں کو دینے کی برکت سے ان کے ساتھ تعلقات اچھے ہو جائیں گے اور باہمی محبت بڑھے گی کیونکہ تحفہ دینے سے آپس میں محبت بڑھتی ہوتی ہے۔ افسوس ہمارے معاشرے میں صورت حال اس کے بر عکس ہے کہ الفت و محبت پر مزے کو ترجیح دی جاتی ہے اور جب پڑوسی کے ہاں کھانے پینے کی کوئی چیز بھیجی جائے اور وہ مزے دار نہ ہو یا پڑوسی کے مزاج اور ذوق کے مطابق نہ ہو تو وہ بھیجنے والے کے خلوص کو صرفِ نظر کر کے خوب باتیں بناتا ہے کہ اسے تو پکانا ہی نہیں آتا ، صحیح طریقے سےبھونا بھی نہیں ہے ، شوربہ بھی کچا رہ گیا ہے ، فلاں نے تو کھانا بنانے کے مختلف کورس کئے ہیں لیکن دال بھی ٹھیک سے نہیں بناسکتا۔ ایسے حضرات کو چاہیے کہ اپنے طرزِ عمل پر غور کریں اور کسی کے کھانے میں عیب نکال کر باہمی اُلفت و محبت کی راہ میں دیوار کھڑی کرنے کے بجائے بھیجنے والےکے خلوص کی طرف نظر کریں تاکہ باہمی تعلقات کی عمارت مضبوط ہو۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمینمدنی گلدستہ
’’پڑوس‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول(1) کسی بھی نیکی کو چھوٹا سمجھ کر نہیں چھوڑنا چاہیے۔
(2) ایک دوسرے کوآسان نیکوں کی ترغیب دیتے رہنا چاہئے ۔
(3) کھانے پینے کی اشیاء پڑوسیوں کو بھیجنے کی احادیث میں ترغیب دلائی گئی ہے ، لہذا ضروری نہیں ہے کہ جب کوئی خاص قسم کا کھانا بنے تو ہی پڑوس میں بھیجیں بلکہ گھر میں بننے والے روز مرہ کے کھانے بھی پڑوس میں بھیجتے رہنا چاہیے۔
(4) لذت پر اُلفت و محبت کو ترجیح دینی چاہیے، دینے والے کی چیز نہیں بلکہ خلوص کو دیکھنا چاہیے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے پڑوسیوں کے یہاں سالن اور کھانے پینے کی مختلف چیزیں بھیجنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 304