Main Icon

پڑوسی کے حقوق کے بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 304

جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ اَبِيْ ذَرٍّرَضِيَ اللهُ عَنْهُ ، قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : يَا اَبَا ذَرٍّ ، اِذَا طَبَخْتَ مَرَقَةً ، فَاَكْثِرْ مَاءَهَا ، وَتَعَاهَدْ جِيْرَانَكَ.وَفِيْ رِوَايَةٍ لَهُ عَنْ اَبِيْ ذَرٍّ ، قَالَ : اِنَّ خَلِيْلِيْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَوْصَانِيْ : اِذَا طَبَخْتَ مَرَقًا فَاَكْثِرْ مَاءَهُ ، ثُمَّ انْظُرْ اَهْلَ بَيْتٍ مِنْ جِيْرَانِكَ ، فَاَصِبْهُمْ مِنْهَا بِمَعْرُوْفٍ.( )

وعن ابي ذررضي الله عنه ، قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : يا ابا ذر ، اذا طبخت مرقة ، فاكثر ماءها ، وتعاهد جيرانك.وفي رواية له عن ابي ذر ، قال : ان خليلي صلى الله عليه وسلم اوصاني : اذا طبخت مرقا فاكثر ماءه ، ثم انظر اهل بيت من جيرانك ، فاصبهم منها بمعروف.( )

حدیث ترجمہ

حضرت سَیِّدنا ابو ذر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے ، فرماتے ہیں کہ سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : “ اے ابو ذر! جب تم شوربہ پکاؤ تو ا ُس کا پانی زیادہ رکھو اور اپنے پڑوسی کا خیال رکھو۔ ‘‘
ایک اور روایت میں ان ہی سے مروی ہے فرماتے ہیں : “ بے شک میرے خلیل صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےمجھے وصیت فرمائی کہ جب تم شوربہ پکاؤ تو ا س کا پانی زیادہ رکھو ، پھر اپنے پڑوسی کے گھر والوں کو دیکھو اور انہیں اس میں سے بھلائی کے ساتھ (کچھ)شوربہ دے دو۔ “

شرح حدیث

آسان نیکیوں کی ترغیب:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حدیث پاک میں سالن کے دیگر اجزاء کے بجائے شوربہ بڑھانے کا فرمایا گیا

کیونکہ شوربہ بڑھانا ہر ایک کے لئے آسان ہو تا ہے جبکہ گوشت اور مصالحہ وغیرہ بڑھانا سب کے لئے آسان نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ مستحب کاموں میں سے جو آسان ہو اسے کرنے کی زیادہ ترغیب دینی چاہیے تاکہ بندہ آسانی سےعمل کرکے زیادہ سے زیادہ اجر و ثواب کما سکے۔آسان نیکیوں کی ترغیب اور ان کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لئے دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبہ المدینہ کی 192 صفحات پر مشتمل کتاب’’آسان نیکیاں‘‘ کا مطالعہ کرنا بہت مفید ہے۔
معمولی سالن بھی ہدیہ بھیجتے رہیں:عام طورپر ایسا ہوتا ہے کہ جب گھر میں کوئی اچھا سالن یا کوئی گوشت وغیرہ پکتا ہے تو لوگ اپنے پڑوسیوں کو بھیجتے ہیں لیکن اس حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ سالن اگرچہ معمولی ہی کیوں نہ ہو وہ بھی پڑوسی کو بھیجنا چاہیے کہ اس سے بھی پڑوسی کے حق کی حفاظت ہوتی ہے البتہ اس بات کا خیال رکھیں کہ اگر سالن ایسا معمولی ہے کہ پڑوسی اسے اچھا نہیں سمجھیں گے ، یا برا محسوس کریں گے تو نہ بھیجنا بہتر ہے۔پہلے قریبی پڑوسیوں کو دینا افضل ہے:جب بھی اپنے پڑوس میں کوئی چیز دینی ہو تو کوشش کریں کہ جو سب سے قریبی پڑوسی ہو انہیں دیں ، اس کی کئی وجوہات ہیں : (1) جو سب سے قریبی پڑوسی ہوتے ہیں اُن کے ساتھ ملنا جلنا اورآمنا سامنا زیادہ ہوتا ہے۔ (2) خوشی غمی کے موقع پر قریبی پڑوسی بہت زیادہ تعاون کرتے ہیں جبکہ دور کے پڑوسیوں میں یہ بات کم ہوتی ہے۔ (3) مشکل وقت میں سب سے پہلے قریبی پڑوسی ہی مدد کے لیے آتے ہیں بلکہ بعض معاملات میں تو وہ گھر کے نائب کی حیثیت رکھتے ہیں ، خصوصاً ایسے معاملات میں جب گھروالے خود بھی اپنے گھر سے غافل ہوتے ہیں تو قریبی پڑوسی ہی ان کےگھر کی دیکھ بھال کرتے ہیں۔ (4) جن احادیث وروایات میں پڑوسی کی مختلف اقسام بیان فرمائی گئیں ہیں ان میں بھی سب سے پہلے قریبی پڑوسی کو بیان فرمایا گیا ہے ، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اس کا حق پہلے ہے ، عربی کا مشہور مقولہ ہے : ’’اَلْحَقُّ لِلْقَرِیْب ثُمَّ لِلْبَعِیْد یعنی پہلے قریب والے کا حق ہے پھر دور والے کا۔ ‘‘ اس مقولے سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ سب سے پہلے قریبی

پڑوسیوں کو دینا چاہیے۔ چند صورتیں ایسی بھی ہیں کہ ان میں دُور والے پڑوسی کو پہلے دینا زیادہ افضل ہے ، مثلاً : (1)دور والا پڑوسی قریب والے کے مقابلے میں زیادہ تنگدست وغریب ہے۔ (2) دور والا پڑوسی قریبی رشتے دار بھی ہے۔
لذت پر اُلفت کو ترجیح دیں:مذکورہ حدیث پاک سے یہ بھی معلوم ہو اکہ لذت پر اُلفت و محبت کو ترجیح دینی چاہیے کیونکہ شوربے میں گھی اور مصالحہ بڑھانے کے بجائے صرف پانی بڑھانے سے اگرچہ اس کا مزہ کم ہو جائے گا لیکن پڑوسیوں کو دینے کی برکت سے ان کے ساتھ تعلقات اچھے ہو جائیں گے اور باہمی محبت بڑھے گی کیونکہ تحفہ دینے سے آپس میں محبت بڑھتی ہوتی ہے۔ افسوس ہمارے معاشرے میں صورت حال اس کے بر عکس ہے کہ الفت و محبت پر مزے کو ترجیح دی جاتی ہے اور جب پڑوسی کے ہاں کھانے پینے کی کوئی چیز بھیجی جائے اور وہ مزے دار نہ ہو یا پڑوسی کے مزاج اور ذوق کے مطابق نہ ہو تو وہ بھیجنے والے کے خلوص کو صرفِ نظر کر کے خوب باتیں بناتا ہے کہ اسے تو پکانا ہی نہیں آتا ، صحیح طریقے سےبھونا بھی نہیں ہے ، شوربہ بھی کچا رہ گیا ہے ، فلاں نے تو کھانا بنانے کے مختلف کورس کئے ہیں لیکن دال بھی ٹھیک سے نہیں بناسکتا۔ ایسے حضرات کو چاہیے کہ اپنے طرزِ عمل پر غور کریں اور کسی کے کھانے میں عیب نکال کر باہمی اُلفت و محبت کی راہ میں دیوار کھڑی کرنے کے بجائے بھیجنے والےکے خلوص کی طرف نظر کریں تاکہ باہمی تعلقات کی عمارت مضبوط ہو۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمینمدنی گلدستہ
’’پڑوس‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1) کسی بھی نیکی کو چھوٹا سمجھ کر نہیں چھوڑنا چاہیے۔
(2) ایک دوسرے کوآسان نیکوں کی ترغیب دیتے رہنا چاہئے ۔

(3) کھانے پینے کی اشیاء پڑوسیوں کو بھیجنے کی احادیث میں ترغیب دلائی گئی ہے ، لہذا ضروری نہیں ہے کہ جب کوئی خاص قسم کا کھانا بنے تو ہی پڑوس میں بھیجیں بلکہ گھر میں بننے والے روز مرہ کے کھانے بھی پڑوس میں بھیجتے رہنا چاہیے۔
(4) لذت پر اُلفت و محبت کو ترجیح دینی چاہیے، دینے والے کی چیز نہیں بلکہ خلوص کو دیکھنا چاہیے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے پڑوسیوں کے یہاں سالن اور کھانے پینے کی مختلف چیزیں بھیجنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 304