Main Icon

باب : استقامت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 86

جلد 2

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم:قَارِبُوْا وَسَدِّدُوْا، وَاعْلَمُوْا اَنَّہُ لَنْ یَنْجُوَ اَحَدٌ مِّنْکُمْ بعَمَلِہِ، قَالُوْا: وَلَا اَنتَ یَارَسُوْلَ اللّٰہ؟ قَالَ: وَلَا اَنَا اِلّا أنْ یَّتَغَمَّدَنِیَ اللّٰہُ بِرَحْمَۃٍ مِّنْہُ وَفَضْلٍ. ( )
وَالْمُقَارَبَۃُ:اَلْقَصْدُالَّذِیْ لَاغُلُوَّ فِیْہِ وَلاَ تَقْصِیْرَ، وَالسَّدَادُ اَلْاِسْتِقَامَۃُ وَالْإِصَابَۃُ وَیتَغَمَّدَنِی یَلْبِسُنِیْ وَیَسْتُرُ نِیْ.قَالَ الْعُلَمَاءُ مَعْنَی الْاِسْتِقَامَۃِ لُزُوْمُ طَاعَۃِ اللّٰہِ تَعَالٰی، قَالُوْا وَہِیَ مِنْ جَوَامِعِ الکَلِم، وَہِیَ نِظَامُ الأُمُوْرِ؛ وبِاللّٰہِ التَّوفِیق.

عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:قاربوا وسددوا، واعلموا انہ لن ینجو احد منکم بعملہ، قالوا: ولا انت یارسول اللہ؟ قال: ولا انا الا أن یتغمدنی اللہ برحمۃ منہ وفضل. ( )
والمقاربۃ:القصدالذی لاغلو فیہ ولا تقصیر، والسداد الاستقامۃ والإصابۃ ویتغمدنی یلبسنی ویستر نی.قال العلماء معنی الاستقامۃ لزوم طاعۃ اللہ تعالی، قالوا وہی من جوامع الکلم، وہی نظام الأمور؛ وباللہ التوفیق.

حدیث ترجمہ

:حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ سرکارِ دو عالَم نورِ مُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشادفرمایا: ’’ میانہ رَوِی اختیار کرو، اور راہِ راست پر رہو۔ اور جان لو کہ تم میں سے کوئی بھی (محض) اپنے عمل سے نجات نہیں پاسکتا۔ ‘‘ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی: ’’یَارَسُوْلَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا آپ بھی نہیں ؟ ‘‘ فرمایا: ’’ ہاں ، میں بھی نہیں ، مگر یہ کہاللہ عَزَّ وَجَلَّمجھے اپنی رحمت اور فضل سے ڈھانپ لے۔ ‘‘

شرح حدیث

عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِییہ حدیث پاک نقل کرنے کے بعد اَلفاظِ حدیث کے معانی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’اَلْمُقَارَبَۃُ:ایساعمل جس میں اِفراط وتَفْریط نہ ہویعنی میانہ رَوی اختیار کرنا۔اَلسَّدَادُ:استقامت اختیار کرنا اور سیدھی راہ کو پہنچنا ۔یَتَغَمَّدُنِی:وہ مجھے ( فضل ورحمت ) سے ڈھانپ لے۔ علما ئے کرامرَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامفرماتے ہیں : ’’ استقامت کا معنیاللہ عَزَّ وَجَلَّکی فرمانبرداری پر ہمیشگی اختیار کرنا ہے۔ ‘‘ مزید فرماتے ہیں : حضور نبی اکرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا یہ فرمان عالی جامع کلمات میں سے ہے اور اِستقامت اُمور کو سرانجام دینی والی ہے ۔ ‘‘رحمت وفضل الٰہی سے اَعمال کی تکمیل:اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّدبِنْ عَبْدُاللّٰہ طِیْبِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’سَدِّدُوْاکا مطلب ہے: درستگی کو پہنچو، کثرتِ عبادت اور نیکیوں پر استقامت کےذریعےاللہ عَزَّوَجَلَّکا قرب حاصل کرو۔قَارِبُوْا:کا مطلب ہے کہ اپنے اُمور میں میانہ روی اختیار کرو ، اِفراط و تَفْریط سے بچو، راہِبانہ زندگی اختیار نہ کروورنہ تمہارے نفس اُکتا جائیں گےاورتمہارامعاشی نظام بگڑجائےگااورامورِ دنیا میں ضرورت سے زیادہ مشغول نہ ہوجاؤ، ورنہ نیکیوں سے بالکل دُور ہوجاؤگے۔اس حدیث پاک کایہ مطلب ہرگز نہیں کہ نیک اَعمال کیے ہی نہ جائیں بلکہ اس فرمان سے مقصودبندوں کے ذہن میں یہ بات ڈالنا ہے کہ تمام اَعمالاللہ عَزَّوَجَلَّکی رحمت و فضل سے مکمل ہوتے ہیں تاکہ لوگ اپنے اَعمال پر مغرور نہ ہوں اور اپنے اَعمال ہی کو سب کچھ نہ سمجھ لیں ۔ ‘‘ ( )نیک اَعمال کی توفیق :عَلَّامَہ اَبُوزَکَرِیَّایَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ اہلِ سنت کا موقف ہے کہ ثواب و عقاب اور اَحکام عقل سے ثابت نہیں ہوتے بلکہ شرع سے ثابت ہوتے ہیں اوراللہ عَزَّ وَجَلَّپر کوئی چیز
واجب نہیں ، تمام عالَم اُسی کی ملکیت میں ہیں ۔وہ جوچاہے، جیسا چاہے، حکم دے۔اگر فرمانبرداروں کو عذاب دے تو یہ اس کا عدل ہے اورانہیں اِنعام و اِکرام سے نوازے اور جنت میں داخل کرے تو یہ اُس کا فضل ہے۔وہ مسلمانوں کو اپنے فضل سے جنت میں داخل فرمائے گا اور منافقین کو اپنے عدل سے عذاب دے گا اور ہمیشہ کے ‏لیے انہیں جہنم میں داخل فرمائے گا۔یہ حدیث اِس بات پر دلیل ہے کہ کوئی شخص محض اپنے اَعمال کی وجہ سے جنت و ثواب کا حق دار نہیں ہو سکتا۔ ‘‘ ( ) بلکہ رَحمت ِالٰہی شرط ہے ۔
اعمال کے ذریعے دخول جنت کی وضاحت:اللہ عَزَّ وَجَلَّقرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے:اُدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (۳۲)(پ۱۴، النحل:۳۲)ترجمۂ کنزالایمان:جنت میں جاؤ بدلہ اپنے کیے کا۔
ایک اور مقام پر ارشاد فرماتا ہے:
تِلْكَ الْجَنَّةُ الَّتِیْۤ اُوْرِثْتُمُوْهَا بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ (۷۲)(پ۲۵، الزخرف:۷۲)ترجمۂ کنزالایمان: یہ ہے وہ جنت جس کے تم وارث کیے گئے اپنے اعمال سے۔
اِن کے علاوہ اورکئی آیات سے بظاہر یہ سمجھ آتا ہے کہ اعمال کے ذریعے جنت میں داخلہ ہوگا۔ توپھرحدیثِ مذکور اور اُن آیات میں کس طرح تطبیق ہوگی؟ علمائے کرام
رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَامنے اس کے مختلف جواب دیئے ہیں ، یہاں چند بیان کیے جاتے ہیں :عَلَّامَہ اَبُوزَکَرِیَّایَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ اِن آیات کامطلب یہ ہے کہ جن اَعمال پرجنت کی بشارت ہے وہ اَعمال بجا لانے کی توفیق وہدایت، اُن میں اِخلاص اور اُن کی قبولیت سباللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت اور اُس کے فضل سے ہی ہوگا۔ لہٰذا حدیث اور اُن آیات میں کوئی تضاد نہیں ۔ ‘‘ ( )
فتح الباری میں ہے: ’’
عَلَّامَہ ابن جَوْ زِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے اس سوال کے چار جواب دیے ہیں :
(۱) نیک اعمال کی توفیق
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت ہی سے ملتی ہے۔اگر اس کی رحمت شامل حال نہ ہوتی تونہ ہی ایمان نصیب ہوتا، نہ نجات دلانے والے اعمال کی توفیق ملتی۔ (۲) غلام کے منافع کامالک اس کامولا ہوتا ہے پس بندے کے عمل کامالک اس کا ربّ ہے۔اب بندے کواِنعام واِکرام سے نوازنا اور اسے جزا دینا اس کی رحمت ہی ہے۔ (۳) بعض احادیث سے یہ بات ثابت ہے کہ جنت میں داخلہ محضاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت سے ہوگا۔ہاں !اَعمالِ صالحہ کی بدولت جنت میں مختلف درجات ملیں گے۔ (۴) بندہ جو نیک عمل کرتا ہے اس کی ادائیگی میں بہت کم وقت لگتاہے لیکناللہ عَزَّ وَجَلَّاس عمل پر نہ ختم ہونے والاثواب عطا فرماتاہے۔ پس ختم ہو جانے والے عمل کے بدلے دائمی جزا دینا ربّ کریم کی بہت بڑی رحمت ہے۔ ‘‘ ( )مُفَسِّرشہِیر، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خان نعیمیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’ نیک اَعمال دوزخ سے بچنے، جنت میں داخل ہونے کے اَسباب تو ہیں مگر عِلَّتِ تامہ نہیں ۔بہت سے لوگ بغیر نیک عمل جنتی ہیں جیسے مسلمانوں کے ناسمجھ بچے یادیوانے یا وہ جو مسلمان ہوتے ہی فوت ہوجائیں اور بعض لوگ نیکیوں کے باوجود دوزخی ہیں جیسے نیکیاں کرنے والے کفار یا جن کی نیکیاں مردود ہوگئیں ۔ جنت ملنے کی علتِ تامہاللہ عَزَّ وَجَلَّکا فضل ہے۔حضتُخْم(بیج) درخت کی علت تامہ نہیں ، بہت بار تخم ضائع ہوجاتا ہے۔ اس فر مان کا مقصد لوگوں کو نیکیوں سے روکنا نہیں ہے، بلکہ نیکوں کو اپنے اعمال پر ناز کرنے سے بچانا ہے کہ اے پرہیزگارو! اپنے اعمال پر غرور نہ کرو، ربّتعالٰیکا فضل مانگو، شیطان کے اَعمال سے اس کے اَنجام سے سبق لو۔ ‘‘ ( )
¥
صحابۂ کرام کے اِسْتِفْسَار کی وضاحت:جب حضور نبی رحمت شفیع اُمَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے یہ ارشاد فرمایا کہ ’’ کوئی بھی اپنے عمل کے ذریعے نجات نہیں پاسکتا۔ ‘‘ تو صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی
عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
سے پوچھا کہ: ’’یَا رَسُوْلَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا آپ بھی نہیں ؟ ‘‘مُفَسِّرشہِیر، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّاناس كا معنی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’ یعنی آپ کی نیکیاں تو قبولیت کی انتہائی منزل پر ہیں ، کیا یہ بھی حصولِ جنت کے لیے کافی و افی نہیں ؟ کیا آپ کو بھیاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت درکار ہے؟ صحابہ سمجھے یہ تھے کہ ایسے موقعہ پر متکلممُسْتَثْنٰیہوتا ہے۔ شاید حضور یہ ہمارے لیے فرمارہے ہیں ، اس لیے یہ سوال کیا۔ اس سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ عمومی اَحکام پرحضور کو داخل نہ مانتے تھے۔ (حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ہاں ! میں بھی نہیں ! مگر یہ کہاللہ عَزَّ وَجَلَّمجھے اپنی رحمت سے ڈھانپ لے۔) یعنی میں بھی محض عمل سے بِلافضل الٰہی جنت کا حقدار نہیں ، ہاں ! ربّتعالٰیکی رحمت ہر طرف سے مجھے گھیرے تو جنت میری ہے۔ خیال رہے کہ تمام دنیا کے ‏لیے حضور انورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمرحمت ہیں ، ربّتعالٰیفرماتا ہے: (وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ (۱۰۷)) (پ۱۷، الانبیاء:۱۰۷) (ترجمۂ کنزالایمان:اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت سارے جہان کے ‏لیے) اور رحمتِ الٰہی جنت ملنے کا ذریعہ ہے۔ توہماری جنت کا وسیلۂ عظمیٰ حضورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمہیں اورحضور انورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمپر خود ربّتعالٰیکا فضل ربانی ہے (وَ كَانَ فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكَ عَظِیْمًا (۱۱۳)) (پ۵، النساء:۱۱۳) (ترجمۂ کنزالایمان:اوراللہکاتم پر بڑا فضل ہے۔) لہٰذا ہم اَور رحمت سے جنتی ہیں ، حضور ِانورصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمدوسری رحمت سے۔ سورج وچاند دونوں کو نور ربّ نے دیا مگر چاند کو سورج کے ذریعے اور سورج کو بِلا واسطہ اپنی طرف سے۔ لہٰذااس حدیث سے حضور کا ہماری مثل ہونا ثابت نہیں ہوتا ۔ (سَدِّدُوْا:یعنی راہِ راست پر رہو۔) اس طرح کہ عقائد درست رکھو، عبادات میں درمیانی رَوِش چلو کہ بقدرِ طاقت نوافل شروع کرو، پھر ہمیشہ نبھادو اور صرف فرائض پر کفایت نہ کرو، بلکہ نوافل بھی ادا کیا کرو، خصوصاً آخری رات میں عبادت کیا کرو کہ یہ چیزیں رحمتِ الٰہی حاصل کرنے کا ذریعہ ہیں ۔ خلاصہ یہ ہے کہ جنت کا ذریعہ رحمت الٰہی ہے اور رحمت کا ذریعہ نیک اعمال ہیں ، لہٰذا اَعمال سے غافل نہ ہو ، منزل قریب ہے۔ ‘‘ ( )مدنی گلدستہ
’’ فَضْلِ ربّ ‘‘ کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)
جنت میں داخلہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت سے ہوگا، بغیر رحمت الٰہی کے محض اپنے عمل سے کوئی بھی جنت میں داخل نہیں ہوسکتا۔
(2) جنت کا ذریعہ رحمتِ الٰہی ہے اور رحمت الٰہی کا ذریعہ نیک اَعمال ہیں ، لہٰذا بندے کو چاہیے کہ ربّ تعالی کی رحمت پر نظر رکھتے ہوئے نیک اعمال کرتا رہے۔
(3) جو کام اِستقامت سے کیا جائے اور
اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت شامل حال ہوتو اس کام میں ضرور کامیابی حاصل ہوتی ہے۔
(4) جنتی جنت میں حضورنبی رحمت شفیع اُمَّت
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صدقے داخل ہوں گے کیونکہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت ہیں اوراللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت ہی سے جنت ملے گی۔اللہکی رحمت سے تو جنت ہی ملے گی
اے کاش! محلے میں جگہ اُن کے ملی ہو
(5) نفلی عبادت میں میانہ روی اختیار کرنی چاہیے تاکہ اس پر دَوام و اِسْتِمْرَار (یعنی ہمیشگی ) حاصل ہو سکے ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ اپنے رحمت والے نبیصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صدقے ہمیں دینی ودُنیوی معاملات میں میانہ رَوی کی توفیق عطا فرمائے، اعمال صالحہ پر استقامت اور اپنی دائمی رضا سے مالا مال فرمائے۔آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 2 , حدیث نمبر: 86