باب : استقامت کا بیان

فیضان ریاض الصالحین جلد 2

حضرتِ سَیِّدُنا ابوعَمْرو یاابوعَمْرہ سُفیان بنعبد اللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے مروی ہے کہ میں نے بارگاہ رسالت میں عرض کی: ’’یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مجھے اِسلام کے بارے میں کوئی ایسی بات ارشاد فرمائیے کہ پھر آپ کے علاوہ کسی اور سے اس کے متعلق نہ پوچھوں۔ ‘‘ فرمایا : ’’ کہو:میںاللہ عَزَّ وَجَلَّپر ایمان لایا۔ پھر اس پر ثابت قدم رہو۔ ‘‘

عَنْ اَبِیْ عَمْرٍو، وَقِیْلَ:اَبِیْ عَمْرَۃَ سُفْیَانَ بِنْ عَبْدِ اللّٰہِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: قُلْتُ:یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قُلْ لِّی فِی الْإِسْلَامِ قَوْلًا لَاأَسْئَلُ عَنْہُ اَحَدًاغَیْرَکَ، قَالَ:قُلْ: اٰمَنْتُ بِاللّٰہِ ثُمَّ اسْتَقِمْ. ( )

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 85 ، باب : استقامت کا بیان

:حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُسے مروی ہے کہ سرکارِ دو عالَم نورِ مُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشادفرمایا: ’’ میانہ رَوِی اختیار کرو، اور راہِ راست پر رہو۔ اور جان لو کہ تم میں سے کوئی بھی (محض) اپنے عمل سے نجات نہیں پاسکتا۔ ‘‘ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننے عرض کی: ’’یَارَسُوْلَ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا آپ بھی نہیں ؟ ‘‘ فرمایا: ’’ ہاں ، میں بھی نہیں ، مگر یہ کہاللہ عَزَّ وَجَلَّمجھے اپنی رحمت اور فضل سے ڈھانپ لے۔ ‘‘

عَنْ اَبِیْ ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہ عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم:قَارِبُوْا وَسَدِّدُوْا، وَاعْلَمُوْا اَنَّہُ لَنْ یَنْجُوَ اَحَدٌ مِّنْکُمْ بعَمَلِہِ، قَالُوْا: وَلَا اَنتَ یَارَسُوْلَ اللّٰہ؟ قَالَ: وَلَا اَنَا اِلّا أنْ یَّتَغَمَّدَنِیَ اللّٰہُ بِرَحْمَۃٍ مِّنْہُ وَفَضْلٍ. ( )
وَالْمُقَارَبَۃُ:اَلْقَصْدُالَّذِیْ لَاغُلُوَّ فِیْہِ وَلاَ تَقْصِیْرَ، وَالسَّدَادُ اَلْاِسْتِقَامَۃُ وَالْإِصَابَۃُ وَیتَغَمَّدَنِی یَلْبِسُنِیْ وَیَسْتُرُ نِیْ.قَالَ الْعُلَمَاءُ مَعْنَی الْاِسْتِقَامَۃِ لُزُوْمُ طَاعَۃِ اللّٰہِ تَعَالٰی، قَالُوْا وَہِیَ مِنْ جَوَامِعِ الکَلِم، وَہِیَ نِظَامُ الأُمُوْرِ؛ وبِاللّٰہِ التَّوفِیق.

فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 86 ، باب : استقامت کا بیان