Main Icon

باب:نمازِوِتر كا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 1133

جلد 7

حدیث مبارکہ

عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهَا قَالَتْ: مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قَدْ اَوْتَرَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ اَوَّلِ اللَّيْلِ وَمِنْ اَوْسَطِهِ وَمِنْ آخِرِهِ وَانْتَهَى وِتْرُهُ اِلَى السَّحَرِ .

عن عائشة رضي الله عنها قالت: من كل الليل قد اوتر رسول الله صلى الله عليه وسلم من اول الليل ومن اوسطه ومن آخره وانتهى وتره الى السحر .

حدیث ترجمہ

اُمُّ المؤمنین حضرت سَیِّدَتُنَا عائشہ صدیقہرَضِیَ اﷲ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں : ”رسولِ پاکصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے رات کے ہر حصہ میں وتر پڑھے ہیں،کبھی رات کے اول حصہ میں ،کبھی درمیانی اور کبھی آخری حصہ میں اور آخری عمل سحری کے وقت وتر پڑھنے کا رہا۔“

شرح حدیث

وتر کا افضل وقت:مُفَسِّرِشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانحدیث مذکور کے تحت فرماتے ہیں:”سحر سے مراد رات کا آخری چھٹا حصہ ہے یعنی حضورصَلَّی اﷲ عَلَیْہِ وَسَلَّمنے کبھی عشا کے وقت وتر پڑھ لئے اورکبھی عشا پڑھ کر سوئے اور درمیان رات جاگ کر تہجد و وتر پڑھے مگر آخری عمل یہ رہا کہ صبح صادق کے قریب تہجد کے بعد وتر پڑھے،مسلمان جس پر عمل کرے سنت کا ثواب پائے گا اگرچہ آخر رات میں پڑھنا افضل ہے۔“
شارحِ بخاری علامہ غلامِ رسول رضوی
عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اﷲ الْقَوِیفرماتے ہیں:”اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ وتروں کا وقت عشا کی نماز اور طلوعِ فجر کے درمیان ہے اور سیّدِ عالَمصَلَّی اﷲ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے رات کے تمام اجزا میں وتر کی نماز پڑھی ہے۔اُمُّ المومنین عائشہرَضِیَ اﷲ عَنْہَاسے یہ بھی روایت ہے کہ جس کو یہ خوف ہو کہ وہ آخر رات کو بیدار نہ ہوسکے گا و ہ اول شب میں وتر کی نماز پڑھ لے اور جسے آخر رات میں بیدار ہونے کا یقین یا ظنِّ غالِب ہو تو اس کا آخر رات نماز پڑھنا افضل ہے۔حضرت ابوبکر صدیق ،عثمان،ابو ہریرہ اور رافع بن خدیجرَضِیَ اﷲ عَنْہُمْاول شب میں وتر پڑھا کرتے تھے اور عمر فاروق،عَلِیُّ الْمرتضٰی، عبداﷲبن مسعود،عبداﷲبن عباس اور عبداﷲبن عمرو(رَضِیَ اﷲ عَنْہُمْ)آخر رات میں وتر پڑھتے تھے ۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 7 , حدیث نمبر: 1133