Main Icon

باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 968

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنسٍ رَضيَ اللَّهُ عنْهُ ، قَالَ : كُنَّا اِذا نَزَلْنَا مَنْزِلًا، لَا نُسَبِّحُ حَتّٰی نَحُلَّ الرِّحَالَ.

عن انس رضي الله عنه ، قال : كنا اذا نزلنا منزلا، لا نسبح حتی نحل الرحال.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ”جب ہم کسی جگہ پڑاؤ کرتے تو اُس وقت تک نفل وغیرہ نہ پڑھتے جب تک کجاوے نہ اُتارلیتے ۔“

شرح حدیث

جانوروں کا بوجھ اُتاردو:اِمَام نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِیفرماتے ہیں :”لَا نُسَبِّحُ“ کا معنی ہےکہ ہم نفل نماز نہ پڑھتےتھے۔ یعنی ہم نماز کے حریص ہونے کے باوجود کجاوے اتارنے اور جانوروں کو آرام دینے سے پہلے نماز نہیں پڑھتے تھے۔“اس حدیث میں حضرت سیدنا انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُنے سفر میں قیام کی ایک احتیاط بیان فرمائی ہے کہ جب بھی سفر میں کہیں پڑاؤ کریں تو پہلے کجاوے کھول لیں پھر کوئی دوسرا کام کریں تاکہ جانوروں کو کچھ راحت ملے۔ صحابہ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانعبادت وریاضت کے بہت زیادہ حریص تھے وہ اپنا وقت فضولیات میں ضائع کرنے کے بجائے عبادتِ الٰہی میں گزارنا پسند کرتے تھے اس کے باوجود جب بھی سفر میں کہیں ٹھہرتے تو پہلے کجاوے کھول کر جانوروں کو آرام دیتے پھر کوئی اور کام کرتے۔ اپنے اس عمل سے انہوں نے یہ بتا دیا کہ یہ کام بہت اہم ہے لہٰذا جب بھی سفر میں کہیں ٹھہرو تو پہلے یہ کام کرو ۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں: ”یعنی (دورانِ سفر) ہم نفلی عبادت پر اس کام کو مقدم رکھتے تھے کہ پہلے اُونٹوں پر سے کجاوے وغیرہ اتارتے تھے تاکہ وہ ہلکے ہو جائیں پھر منزل پر نوافل وغیرہ ادا کرتے تھے اس میں اونٹوں کو راحت ہوتی تھی اور ان حضرات کو بے فکری ہوجاتی تھی جس سے نماز اطمینان سے ہوتی تھی اس ایک عمل میں بہت سی حکمتیں ہیں۔“مدنی گلدستہ’’رحمتِ عالَم‘‘کے8حروف کی نسبت سے احادیثِ مذکورہ اور ان کی وضاحت سے ملنے والے8 مدنی پھول
(1) اسلام ہمیں انسان تو انسان جانوروں کے ساتھ بھی اچھا اور نرمی والا سلوک کرنے کا درس دیتا ہے۔
(2) سفر میں جب کہیں قیام کریں تو پہلے سواری کے جانوروں سے بوجھ وغیرہ اتارلیں پھر کوئی اور کام کریں تاکہ جانوروں کو راحت ملے ۔
(3) جو جانور سواری کے لائق ہو اسی پر سوار ہونا چاہیے،بیمار ، کمزور یا چھوٹے بچے پر نہ تو سوار ہو نا چاہئے نہ ہی کوئی وزنی چیز لادنی چاہئے ۔
(4) دورانِ سفر بیچ راستے میں قیام نہ کریں کہ اسی جگہوں پر زہریلے جانوروں اور خونخوار درندوں سے ضرر کا اندیشہ ہوتا ہے۔
(5) سفر میں جب کسی جگہ قیام کریں تو متفرق ہوکر نہیں ٹھہرنا چاہیے کہ یہ شیطان کا طریقہ ہے اوراس میں خطرات بھی زیادہ ہیں ۔
(6) دوران سفر قحط زدہ یا بنجر زمین سے سواری کے جانور کو تیزی سے چلائیں تاکہ جلد کسی سر سبز جگہ پر پہنچ کر چارہ وغیرہ کھا سکے ۔
(7) اگر آسانی ہو تو سفررات میں کرنا چاہئے کیونکہ رات کو مسافت جلد طے ہوجاتی ہے۔
(8) جو جانور بوڑھے ہوجائیں ان سے کام نہ لیا جائے ،ان کے کھانے پینے کا خیال رکھا جائے ،
اِنْ شَآءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّاس عمل سے گھر میں برکت ہوگی ۔اللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں سفر کی سنتوں اورآداب کے مطابق سفرکرنے کی توفیق عطا فرمائے اورہمیں جانوروں کے حقوق اداکرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 968