Main Icon

باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 965

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِی ثَعْلَبةَ الخُشَنِي رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : كَانَ النَّاسُ اِذَا نَزَلُوا مَنْزِلاً تَفَرَّقُوْا فِی الشِّعَابِ وَالْاَوْدِيَةِ. فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم :”اِنَّ تَفَرُّقَكُمْ في هَذِهِ الشِّعَابِ وَالْاَوْدِية اِنَّما ذٰلِكُمْ مِنَ الشَّيْطَان“ فَلَمْ يَنْزِلُوْا بَعْدَ ذٰلِكَ مَنْزِلاً اِلَّا انْضَمَّ بَعْضُهُمْ اِلٰی بَعْضٍ.

عن ابی ثعلبة الخشني رضي الله عنه قال : كان الناس اذا نزلوا منزلا تفرقوا فی الشعاب والاودية. فقال رسول اللہ صلى الله عليه وسلم :”ان تفرقكم في هذه الشعاب والاودية انما ذلكم من الشيطان“ فلم ينزلوا بعد ذلك منزلا الا انضم بعضهم الی بعض.

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا ابو ثعلبہ خُشَنیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”جب لوگ دورانِ سفر کسی گھاٹی یا وادی میں پڑاؤ کرتے تو پھیل جاتے (یعنی الگ الگ ہوجاتے) رسولِ اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”تمہارا اِن گھاٹیوں اور وادیوں میں الگ الگ ٹھہرنا شیطان کی طرف سے ہے۔“ اس کے بعد سے وہ لوگ جب بھی کسی جگہ پڑاؤ کرتے توایک جگہ مل کررہتے۔‘‘

شرح حدیث

الگ الگ ٹھہرنا خطرناک ہے:حدیث مذکور میں سفر کے آداب میں سے یہ ادب بیان کیا گیا ہے کہ جب لوگ سفر میں پہاڑی راستوں پر یا کسی وادی پر قیام کریں توالگ الگ ہوکر نہ ٹھہریں کیونکہ الگ الگ ٹھہرنے میں کوئی کسی کے حال سے واقف نہ ہوگا ، کسی پر کوئی مصیبت آئی یا کسی کو کسی چیز کی ضرورت پڑی تو دوسرا اس کی مدد نہ کرسکے گا ،لہٰذا ایسی جگہوں پر ایک ساتھ ملکر ٹھہرنا چاہیے۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یارخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:(الگ الگ ٹھہرنا شیطان کی طرف سے ہے کیونکہ )تمہارے اس طرح بکھرنے سے شیطان کو موقع ملتا ہے کہ کفار سے تم پر چڑھائی کرادے کیونکہ وہ سمجھیں گے کہ یہ لوگ متفرق ہیں ان پر اچانک ٹوٹ پڑو یہ ایک دوسرے کی مدد نہ کرسکیں گے اس طرح الگ الگ اترنا خطرناک ہے۔ جیسے جسمانی دوری خطرناک ہے ایسے ہی دلی دوری بھی شیطانی اثر سے ہوتی ہے اور سخت خطرناک۔ ربّ تعالیٰ مسلمانوں میں تنظیم اور یکجہتی نصیب کرے۔سُبحانَ اﷲ!حضور(صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)نے مسلمانوں کے صرف جسموں کو یکجا نہ فرمایا بلکہ اُن کے دِلوں کو بھی یکجا کردیا مسلمان یک دِل اور یک جان ہیں۔اِس سے معلوم ہوا کہ ہمیشہ مسافر منزل پر اکٹھے رہیں اس میں بہت فائدے ہیں۔ہر ایک،ایک دوسرے سے خبردار رہتا ہے تعاون کرسکتا ہے۔

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 965