Main Icon

باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 964

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَنسٍ رَضِيَ اللہُ عَنْهُ قَالَ: قال رَسُوْلُ اللَّه صَلّى اللہُ عَلَيْهِ وسَلَّم :”عَلَيْكُمْ بِالْدُّلْجَةِ ، فَاِنَّ الْاَرْضَ تُطْوَى بِاللَّيلِ.“

عن انس رضي اللہ عنه قال: قال رسول الله صلى اللہ عليه وسلم :”عليكم بالدلجة ، فان الارض تطوى بالليل.“

حدیث ترجمہ

حضرت انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہے کہ رسولِ اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”تم رات میں سفر کیا کرو کیونکہ رات کو زمین لپیٹ دی جاتی ہے۔“

شرح حدیث

رات میں زیادہ مسافت طےہوتی ہے:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:”یعنی صِرف دن میں سفر کرنے پر اکتفا مت کرو بلکہ رات میں بھی سفر کرو کیونکہ رات میں سفر کرنا فائدہ مند ہے کہ مسافر سمجھتا ہے کہ اُس نے تھوڑا راستہ طے کیا حالانکہ وہ بہت زیادہ راستہ طے کرلیتا ہے۔“مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”اب بھی اہل عرب رات میں سفر زیادہ کرتے ہیں،سمندری جہاز رات میں تیز چلائے جاتے ہیں،تمام حجاج سے بعد نمازِ عشا کہہ دیا جاتا ہے کہ اب آرام کرو جیساکہ ہم نے تجربہ کیا۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 964