Main Icon

باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 967

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي جَعْفَرٍ عبدِ اللَّهِ بنِ جعفرٍ، رَضِيَ اللہُ عَنْهُمَا قَالَ: اَرْدَفَني رَسُوْلُ اللہِ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم، ذَاتَ يَوْمٍ خَلْفَهُ، وَاَسَرَّ اِلَيَّ حَدِيْثاً لَا اُحَدِّثُ بِهِ اَحَدًا مِنَ النَّاسِ، وَكَانَ اَحَبَّ مَا اسْتَتَر بِهِ رَسُوْلُ اللہِ صَلّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّم لِحَاجَتِهِ هَدَفٌ اَوْ حَائشُ نَخْلٍ. يَعْني: حَائِطَ نَخْلٍ.( )وَزَادَ فِيهِ البَرْقانيُّ بِاِسْنَاد ِمُسْلِم: بَعْدَ قَوْلِه:حائشُ نَخْلٍ :¬ فَدَخَلَ حَائطاً لِرَجُلٍ منَ الْاَنْصارِ، فَاِذا فِيْهِ جَمَلٌ ، فَلَمَّا رَاٰى رَسُوْلَ اللہ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم جَرْجَرَ وذَرفَتْ عَيْنَاه ، فَاَتَاهُ النبيُّ صَلّى اللہُ عَلَيْهِ وسَلَّم فَمَسَحَ سَرَاتَهُ ¬ اَي : سَنَامَهُ ¬ وَذِفْرَاهُ فَسَكَنَ ، فَقَالَ :”مَنْ رَبُّ هٰذَا الْجَمَلِ ، لِمَنْ هَذا الْجَمَلُ ؟“ فَجَاءَ فَتى مِنَ الْاَنصَارِ فقالَ : هٰذَا لِی يَا رَسُوْلَ اللَّهِ. فَقَالَ :”اَفَلا تَتَّقِي اللہَ في هٰذِهِ الْبَهيمَةِ الَّتي مَلَّكَكَ اللَّهُ اِيَّاهَا ؟ فَاِنَّهُ يَشْكُو ْ اِليَّ اَنَّكَ تُجِيْعُهُ وَتُدْئِبُهُ.“

عن ابي جعفر عبد الله بن جعفر، رضي اللہ عنهما قال: اردفني رسول اللہ صلى الله عليه وسلم، ذات يوم خلفه، واسر الي حديثا لا احدث به احدا من الناس، وكان احب ما استتر به رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم لحاجته هدف او حائش نخل. يعني: حائط نخل.( )وزاد فيه البرقاني باسناد مسلم: بعد قوله:حائش نخل :¬ فدخل حائطا لرجل من الانصار، فاذا فيه جمل ، فلما راى رسول اللہ صلى الله عليه وسلم جرجر وذرفت عيناه ، فاتاه النبي صلى اللہ عليه وسلم فمسح سراته ¬ اي : سنامه ¬ وذفراه فسكن ، فقال :”من رب هذا الجمل ، لمن هذا الجمل ؟“ فجاء فتى من الانصار فقال : هذا لی يا رسول الله. فقال :”افلا تتقي اللہ في هذه البهيمة التي ملكك الله اياها ؟ فانه يشكو الي انك تجيعه وتدئبه.“

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابوجعفرعبداللّٰہبن جعفررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں:”ایک دنرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےسواری پر مجھے اپنے پیچھےبٹھایا اور ایک راز کی بات بتائی،جسے میں کسی کو نہیں بتاتا۔ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوقضائے حاجت کے لیےکسی اُونچے ٹیلے یا کھجور کے جُھنڈ سے پردہ کرنا زیادہ پسند تھا۔ امام برقانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِینے مسلم کی سند کے ساتھ ”حائشُ نَخْلٍ“کے بعد مزید روایت بیان کی کہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک انصاری کے باغ میں داخل ہوئے تو وہاں ایک اونٹ موجود تھا، اس نے نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دیکھا تو بلبلانے لگا اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے، رحمت عالَمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماُس کے قریب ہوئے اور اُس کے کوہان اور سر کے پچھلے حصے پر دستِ مبارک پھیرا تو وہ پُر سکون ہوگیا۔حضورنبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دریافت فرمایا کہ اس کا مالک کون ہے؟ یہ اونٹ کس کا ہے؟ ایک انصاری نوجوان حاضر ہوااور عرض کی :یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!یہ اونٹ میرا ہے۔حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ” کیا تم اس چوپائے کے معاملے میںاللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے نہیں ڈرتے جس نے تمہیں اس کا مالک بنایا ہے؟ بے شک! اِس نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ تم اسے بھوکا رکھتے ہو اوراسے تھکادیتے ہو(یعنی بہت کام لیتے ہو)۔ “

شرح حدیث

جانور بھی حضور کو پہچانتے ہیں:حدیثِ مذکور میں نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جانوروں کے ساتھ نرمی کرنے اور ان کا خیال رکھنے کی ترغیب دلائی ہےکہ سواری کے جانور کے دانہ پانی کا خیال رکھا جائے اور اسے وقت پر چارہ دیا جائے، نیز جانور پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالا جائے۔ اس حدیث میں نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی نبوت کی نشانی بھی ہے کہ جانور آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو پہچانتے ہیں کہ آپاللّٰہ عَزَّوَجَلَّکے رسول ہیں اور آپ ہی ہماری فریاد سنیں گے۔دلیل الفالحین میں ہے:”جب اس اونٹ نے نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دیکھا تو اُس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ یہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے معجزات میں سے ایک معجزہ ہے جوآپ کے سچا نبی ہونے پردلالت کرتا ہے۔نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماُس اونٹ کے پاس تشریف لائے اور اُس کے کوہان پر دستِ مبارک پھیرا، آپ کا یہ فعل کمالِ شفقت اور اس بے زبان جانور پر رحم کی وجہ سے تھا پس وہ فوراً پُرسکون ہوگیا اور رونا بند کر دیا۔“
ہاں یہیں کرتی ہیں چڑیاں فریاد ہاں یہیں چاہتی ہے ہرنی داد
اسی در پر شُترانِ ناشاد گلۂ رنج و عنا کرتے ہیں
آج کل بھی دیکھا جاتا ہے کہ لوگ جانوروں پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ لاد دیتے ہیں، پھر انہیں تیز چلانے کے لئے اس بے دردی سے مارتے ہیں کہ زخمی کر دیتے ہیں،اس کے باوجود اُن کے کھانے پینے کا خیال نہیں رکھتے ، ایسوں کو چاہیے کہ اِن بے زبان جانوروں پر رحم کریں اور عذاب الٰہی سے ڈریں کہ مظلوم کی دعا بہت جلد قبول ہوتی ہے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 967