Main Icon

باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 966

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ سَهْلِ بْنِ عَمْرٍو وَقِيْلَ سَهْلِ بن الرَّبيعِ بنِ عَمْرو الْاَنْصَاريِّ الْمَعْرُوْفِ بِابْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ، وَهُوَ مِنْ اَهْلِ بَيْعَةِ الرِّضوَان رَضِيَ اللہُ عَنْهُ قَالَ : مَرَّ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم بِبَعِيْرٍ قَدْ لَحِقَ ظَهْرُهُ بِبَطْنِهِ فَقَالَ :” اِتَّقُوْا اللہَ فِی هٰذِهِ الْبَهَائمِ الْمُعْجَمَةِ فَارْكَبُوْهَا صَالِحَةً، وكُلُوْهَا صَالِحَةً .“

عن سهل بن عمرو وقيل سهل بن الربيع بن عمرو الانصاري المعروف بابن الحنظلية، وهو من اهل بيعة الرضوان رضي اللہ عنه قال : مر رسول الله صلى الله عليه وسلم ببعير قد لحق ظهره ببطنه فقال :” اتقوا اللہ فی هذه البهائم المعجمة فاركبوها صالحة، وكلوها صالحة .“

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا سہل بن عَمرو اور ایک قول کے مطابق سہل بن ربیع بن عَمرو انصاری جو کہاِبْنِ حَنْظَلِيَّہکے نام سے مشہور ہیں اور اَہلِ بیعتِ رضوان میں سے ہیںرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُوہ فرماتے ہیں کہ رسولِ اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک اونٹ کے پاس سے گزرے جس کی کمر پیٹ سے ملی ہوئی تھی تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:” اِن بے زبان چوپایوں کے معاملے میںاللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے ڈرو، ان پراس وقت سوار ہو جب یہ صحیح حالت میں ہوں اورانہیں اس وقت کھا ؤ جب یہ ٹھیک ہوں۔‘‘

شرح حدیث

جانوروں پر حضورعَلَیْہِ السَّلَامکا کرم:ہمارے پیارے پیارے آقا، مدینے والے مصطفےٰصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکتنے رَءُوْفٌ رَّحیم ہیں کہ انسان تو انسان جانوروں پر بھی رحم کرنے کا درس دے رہے ہیں جب آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کمزور اونٹ دیکھا تو فرمایا :”ان بے زبان جانوروں کے معاملے میںاللّٰہ تَعَالٰیسے ڈرو۔“بے شک یہ جانور بول نہیں سکتے ،اپنے دکھ درد کی شکایت نہیں کر سکتے مگراللّٰہ عَزَّوَجَلَّسب جانتا ہے وہ تم سے ان جانوروں کے بارے میں بھی پوچھ گچھ فرمائے گا۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:علما فرماتے ہیں کہ جانور پر ظلم انسان پر ظلم کرنے سے زیادہ بڑا ہے کہ انسان تو اپنا دکھ درد کسی سے کہہ سکتا ہے بے زبان جانور کسی سے فریاد بھی نہیں کرسکتا۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جانور کا چارہ پانی مالک پر واجب ہے،بعض آئمہ کے ہاں ظالم مالک کو حاکم جانور فروخت کردینے پر مجبور کرسکتا ہے۔(ان پراس وقت سوار ہو جب یہ صحیح حالت میں ہوں)یعنی جو جانور سواری کے لائق ہو اس پر سوار ہو،بیمار اور کمزور، چھوٹے بچے پر نہ سواری کرو نہ بوجھ لادو،یہ ہے اسلامی عدل و انصاف اور یہ ہے حضور(صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی رحمتعَلَی الْخَلق،آج حکومتیں جانوروں کے متعلق قوانین بناتی ہیں ظالم مالکوں کا چالان کرتی ہیں ان کا ماخذ یہ حدیث ہے۔صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 966