- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 6
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
فیضان ریاض الصالحین جلد 6
حضرتِ سَیِّدُنا ابو ہریرہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہے کہ حضورنبی کریم رَءُوْفٌ رحیمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”جب تم سر سبز زمین میں سفر کرو تو اونٹوں کو زمین سے ان کاحصہ دو اور جب بنجر زمین میں سفر کرو تو اُنہیں تیز چلاؤ اور ان کے تھکنے سے پہلے وہاں سے گزر جاؤ اور جب تم رات میں قیام کرو تو راستے میں اُترنے سے بچو کیونکہ وہ جانوروں کا راستہ ہے اور وہ جگہ رات کے وقت کیڑے مکوڑوں کا ٹھکانہ ہے۔“
عَنْ اَبي هُرَيْرَة رَضِيَ اللہُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم :” اِذا سافَرْتُم في الخِصْبِ فَاَعْطُوْا الْاِبِلَ حَظَّهَا مِنَ الْاَرْضِ ، وَاِذَا سَافَرْتُمْ فِی الْجَدْبِ ، فَاَسْرِعُوا عَلَيْهَا السَّيْرَ وَبَادِرُوْا بِهَا نِقْيَهَا ، وَاِذَا عَرَّسْتُمْ ، فَاجْتَنِبُوْا الطَّرِيْقَ ، فَاِنَّهَا طُرُقُ الدَّوَابِّ ، وَمَاوَى الهَوَامِّ باللَّيْلِ .“
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 962 ، باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
حضرتِ سَیِّدُنا ابو قتادہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدورانِ سفرجب رات میں قیام فرماتے تو سیدھی کروٹ پر آرام فرماتے اور جب صبح صاد ق سے کچھ پہلے قیام کا ارادہ فرماتے تو دستِ مبارک کھڑا کر کے ہتھیلی پر اپنا سراقدس رکھ لیا کرتے ۔“
عَنْ اَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : كانَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم اِذَا كانَ في سَفَرٍ ، فَعَرَّسَ بلَيْلٍ اضْطَجَعَ عَلى يَمينِهِ، وَ اِذا عَرَّس قُبَيْلَ الصُّبْحِ نَصَبَ ذِرَاعَهُ وَوَضَعَ رَاْسَهُ عَلٰی كَفِّه.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 963 ، باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
حضرت انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُسے مَروی ہے کہ رسولِ اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:”تم رات میں سفر کیا کرو کیونکہ رات کو زمین لپیٹ دی جاتی ہے۔“
عَنْ اَنسٍ رَضِيَ اللہُ عَنْهُ قَالَ: قال رَسُوْلُ اللَّه صَلّى اللہُ عَلَيْهِ وسَلَّم :”عَلَيْكُمْ بِالْدُّلْجَةِ ، فَاِنَّ الْاَرْضَ تُطْوَى بِاللَّيلِ.“
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 964 ، باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
حضرت سیدنا ابو ثعلبہ خُشَنیرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”جب لوگ دورانِ سفر کسی گھاٹی یا وادی میں پڑاؤ کرتے تو پھیل جاتے (یعنی الگ الگ ہوجاتے) رسولِ اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا: ”تمہارا اِن گھاٹیوں اور وادیوں میں الگ الگ ٹھہرنا شیطان کی طرف سے ہے۔“ اس کے بعد سے وہ لوگ جب بھی کسی جگہ پڑاؤ کرتے توایک جگہ مل کررہتے۔‘‘
عَنْ اَبِی ثَعْلَبةَ الخُشَنِي رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : كَانَ النَّاسُ اِذَا نَزَلُوا مَنْزِلاً تَفَرَّقُوْا فِی الشِّعَابِ وَالْاَوْدِيَةِ. فَقَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم :”اِنَّ تَفَرُّقَكُمْ في هَذِهِ الشِّعَابِ وَالْاَوْدِية اِنَّما ذٰلِكُمْ مِنَ الشَّيْطَان“ فَلَمْ يَنْزِلُوْا بَعْدَ ذٰلِكَ مَنْزِلاً اِلَّا انْضَمَّ بَعْضُهُمْ اِلٰی بَعْضٍ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 965 ، باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
حضرتِ سَیِّدُنا سہل بن عَمرو اور ایک قول کے مطابق سہل بن ربیع بن عَمرو انصاری جو کہاِبْنِ حَنْظَلِيَّہکے نام سے مشہور ہیں اور اَہلِ بیعتِ رضوان میں سے ہیںرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُوہ فرماتے ہیں کہ رسولِ اکرمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک اونٹ کے پاس سے گزرے جس کی کمر پیٹ سے ملی ہوئی تھی تو آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا:” اِن بے زبان چوپایوں کے معاملے میںاللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے ڈرو، ان پراس وقت سوار ہو جب یہ صحیح حالت میں ہوں اورانہیں اس وقت کھا ؤ جب یہ ٹھیک ہوں۔‘‘
عَنْ سَهْلِ بْنِ عَمْرٍو وَقِيْلَ سَهْلِ بن الرَّبيعِ بنِ عَمْرو الْاَنْصَاريِّ الْمَعْرُوْفِ بِابْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ، وَهُوَ مِنْ اَهْلِ بَيْعَةِ الرِّضوَان رَضِيَ اللہُ عَنْهُ قَالَ : مَرَّ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم بِبَعِيْرٍ قَدْ لَحِقَ ظَهْرُهُ بِبَطْنِهِ فَقَالَ :” اِتَّقُوْا اللہَ فِی هٰذِهِ الْبَهَائمِ الْمُعْجَمَةِ فَارْكَبُوْهَا صَالِحَةً، وكُلُوْهَا صَالِحَةً .“
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 966 ، باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
حضرتِ سَیِّدُنا ابوجعفرعبداللّٰہبن جعفررَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُمَافرماتے ہیں:”ایک دنرسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےسواری پر مجھے اپنے پیچھےبٹھایا اور ایک راز کی بات بتائی،جسے میں کسی کو نہیں بتاتا۔ نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکوقضائے حاجت کے لیےکسی اُونچے ٹیلے یا کھجور کے جُھنڈ سے پردہ کرنا زیادہ پسند تھا۔ امام برقانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِینے مسلم کی سند کے ساتھ ”حائشُ نَخْلٍ“کے بعد مزید روایت بیان کی کہ آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمایک انصاری کے باغ میں داخل ہوئے تو وہاں ایک اونٹ موجود تھا، اس نے نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو دیکھا تو بلبلانے لگا اور اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے، رحمت عالَمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماُس کے قریب ہوئے اور اُس کے کوہان اور سر کے پچھلے حصے پر دستِ مبارک پھیرا تو وہ پُر سکون ہوگیا۔حضورنبی پاکصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دریافت فرمایا کہ اس کا مالک کون ہے؟ یہ اونٹ کس کا ہے؟ ایک انصاری نوجوان حاضر ہوااور عرض کی :یارسولَ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!یہ اونٹ میرا ہے۔حضورنبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ” کیا تم اس چوپائے کے معاملے میںاللّٰہ عَزَّوَجَلَّسے نہیں ڈرتے جس نے تمہیں اس کا مالک بنایا ہے؟ بے شک! اِس نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ تم اسے بھوکا رکھتے ہو اوراسے تھکادیتے ہو(یعنی بہت کام لیتے ہو)۔ “
عَنْ اَبِي جَعْفَرٍ عبدِ اللَّهِ بنِ جعفرٍ، رَضِيَ اللہُ عَنْهُمَا قَالَ: اَرْدَفَني رَسُوْلُ اللہِ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم، ذَاتَ يَوْمٍ خَلْفَهُ، وَاَسَرَّ اِلَيَّ حَدِيْثاً لَا اُحَدِّثُ بِهِ اَحَدًا مِنَ النَّاسِ، وَكَانَ اَحَبَّ مَا اسْتَتَر بِهِ رَسُوْلُ اللہِ صَلّى اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّم لِحَاجَتِهِ هَدَفٌ اَوْ حَائشُ نَخْلٍ. يَعْني: حَائِطَ نَخْلٍ.( )وَزَادَ فِيهِ البَرْقانيُّ بِاِسْنَاد ِمُسْلِم: بَعْدَ قَوْلِه:حائشُ نَخْلٍ :¬ فَدَخَلَ حَائطاً لِرَجُلٍ منَ الْاَنْصارِ، فَاِذا فِيْهِ جَمَلٌ ، فَلَمَّا رَاٰى رَسُوْلَ اللہ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم جَرْجَرَ وذَرفَتْ عَيْنَاه ، فَاَتَاهُ النبيُّ صَلّى اللہُ عَلَيْهِ وسَلَّم فَمَسَحَ سَرَاتَهُ ¬ اَي : سَنَامَهُ ¬ وَذِفْرَاهُ فَسَكَنَ ، فَقَالَ :”مَنْ رَبُّ هٰذَا الْجَمَلِ ، لِمَنْ هَذا الْجَمَلُ ؟“ فَجَاءَ فَتى مِنَ الْاَنصَارِ فقالَ : هٰذَا لِی يَا رَسُوْلَ اللَّهِ. فَقَالَ :”اَفَلا تَتَّقِي اللہَ في هٰذِهِ الْبَهيمَةِ الَّتي مَلَّكَكَ اللَّهُ اِيَّاهَا ؟ فَاِنَّهُ يَشْكُو ْ اِليَّ اَنَّكَ تُجِيْعُهُ وَتُدْئِبُهُ.“
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 967 ، باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
حضرتِ سَیِّدُنا انسرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں کہ”جب ہم کسی جگہ پڑاؤ کرتے تو اُس وقت تک نفل وغیرہ نہ پڑھتے جب تک کجاوے نہ اُتارلیتے ۔“
عَنْ اَنسٍ رَضيَ اللَّهُ عنْهُ ، قَالَ : كُنَّا اِذا نَزَلْنَا مَنْزِلًا، لَا نُسَبِّحُ حَتّٰی نَحُلَّ الرِّحَالَ.
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 968 ، باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب