Main Icon

باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 963

جلد 6

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي قَتَادَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : كانَ رَسُوْلُ اللَّهِ صَلّى اللهُ عَلَيْهِ وسَلَّم اِذَا كانَ في سَفَرٍ ، فَعَرَّسَ بلَيْلٍ اضْطَجَعَ عَلى يَمينِهِ، وَ اِذا عَرَّس قُبَيْلَ الصُّبْحِ نَصَبَ ذِرَاعَهُ وَوَضَعَ رَاْسَهُ عَلٰی كَفِّه.

عن ابي قتادة رضي الله عنه قال : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم اذا كان في سفر ، فعرس بليل اضطجع على يمينه، و اذا عرس قبيل الصبح نصب ذراعه ووضع راسه علی كفه.

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابو قتادہرَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں:”نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدورانِ سفرجب رات میں قیام فرماتے تو سیدھی کروٹ پر آرام فرماتے اور جب صبح صاد ق سے کچھ پہلے قیام کا ارادہ فرماتے تو دستِ مبارک کھڑا کر کے ہتھیلی پر اپنا سراقدس رکھ لیا کرتے ۔“

شرح حدیث

فکرنماز:اِمَام نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْقَوِینے فرمایا:علمائے کرامرَحِمَہُمُ اللّٰہ السَّلَامفرماتے ہیں کہ”رسولُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماپنا مبارک ہاتھ کھڑا کر کےاُس پر سَراقدس اس لئے رکھتے تاکہ پکی نیند نہ آئے اور صبح کی نماز یا اس کا اَوَّل وقت نہ نکلے ۔“عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیفرماتے ہیں:یعنی نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب سفر میں وقتِ سحر سے پہلے کسی جگہ قیام کرتے تو اپنی داہنی کروٹ پرلیٹتے تاکہ بدن کو راحت ملے اور جب صبح صادق سے پہلے قیام فرماتے تو اپنا ہاتھ کھڑا کر کے اُس پر سرمبارک رکھ لیتے تاکہ نیند کا غلبہ نہ ہو۔
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حدیث مذکور میں دوران سفرپڑاؤ کرنے کا ایک بہت ہی اہم ادب بیان کیا گیا ہے کہ دورانِ سفر جب رات کے ابتدائی حصے میں پڑاؤ کریں تو داہنی کروٹ پر لیٹیں تاکہ بدن کو راحت ملے اور تھکن دور ہوجائے ،اور اگر رات کے آخری حصے میں قیام کریں تو اپنے ہاتھ سے ٹیک لگالیں تاکہ نیند کا غلبہ نہ ہواورفجر کی نماز وقت پرادا کی جاسکے، یہ ہے ہمارے پیارے پیارے آقا،مدینے والے مصطفےٰ
صَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا اندازِ سفر ، آپ تو نبی ہیں اور نبی کا دل جاگتا ہے آنکھیں سوتی ہیں لیکن پھر بھی آپصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنماز کی کتنی فکر فرماتے ہیں کہ ایسی حالت میں آرام نہیں فرماتے جس میں نماز کے فوت ہونے کا خوف ہو، یقینا ًآپ کا یہ فعل ہماری تعلیم کے لیے ہے۔مُفَسِّرشہِیرمُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّتمُفتِی احمد یار خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانفرماتے ہیں:”(نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)دوران سفر میں کہیں منزل پر قیام فرماتے تو سونے کی نیت سے داہنی کروٹ پر لیٹ جاتے جیسا کہ حضورِ انور کا دائمی طریقہ تھا کہ قبر کی رخ بستر ہوتا داہنا ہاتھ داہنے رخسار کے نیچے رکھتے داہنی کروٹ پر لیٹتے کہ اس طرح لیٹنے میں نیند غفلت کی نہیں آتی رات کو بآسانی اٹھا جاسکتا ہے۔اطبا بائیں کروٹ لینے کو اس لیے کہتے ہیں تاکہ نیند خوب آجائے اطبا کی نظر راحت بدن پر ہے حضور کی نظرپاک تہجد کے لیے اٹھنے پرتھی۔(جب نبی کریمصَلَّی اللّٰہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماخیر رات میں قیام فرماتےتواپنی کلائی کھڑی کرکے اُس پر سراقدس رکھ لیتے۔) اور لیٹ جاتے تاکہ کچھ تھکن دور ہوجائے مگر نیند نہ آجائے کیونکہ نماز فجر کا وقت قریب ہے ہر جگہ نماز کا خیال ہے۔“

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 6 , حدیث نمبر: 963