Main Icon

ظلم کی حرمت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 218

جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اَنَّ رَسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اَتَدْرُوْنَ مَا الْمُفْلِسُ؟ قَالُوا : الْمُفْلِسُ فِینَا مَنْ لَا دِرْہَمَ لَہُ وَلَا مَتَاعَ فَقَالَ : اِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ اُمَّتِی مَنْ یَاْتِی یَومَ الْقِیَامَۃِ بِصَلَاۃٍ وَّصِیَامٍ وزَکاۃٍ وَ یَاْتِیْ وقَدْ شَتَمَ ہٰذَاوقَذَفَ ہَذَا وَاَکَلَ مَالَ ہٰذَا وَسَفَکَ دَمَ ہٰذَا وَضَرَبَ ہٰذَا فیُعْطٰی ہٰذَا مِنْ حَسَنَاتِہِ وہٰذَا مِنْ حَسَنَاتِہِ فَاِنْ فَنِیَتْ حَسَنَاتُہُ قَبْلَ اَنْ یُقْضٰی مَا عَلَیْہِ اُخِذَ مِنْ خَطَایَاہُمْ فَطُرِحَتْ عَلَیْہِ ثُمَّ طُرِحَ فِی النَّارِ. ( )

وعن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال اتدرون ما المفلس؟ قالوا : المفلس فینا من لا درہم لہ ولا متاع فقال : ان المفلس من امتی من یاتی یوم القیامۃ بصلاۃ وصیام وزکاۃ و یاتی وقد شتم ہذاوقذف ہذا واکل مال ہذا وسفک دم ہذا وضرب ہذا فیعطی ہذا من حسناتہ وہذا من حسناتہ فان فنیت حسناتہ قبل ان یقضی ما علیہ اخذ من خطایاہم فطرحت علیہ ثم طرح فی النار. ( )

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ کیا تم جانتے ہومفلس کون ہے؟‘‘ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی : ’’ہم میں سے مفلس وہ ہے جس کے پاس مال و دولت اور سامان نہ ہو۔ ‘‘تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’میری اُمَّت میں مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا ، لیکن اس نے کسی کو گالی دی ہوگی ، کسی پر تہمت لگائی ہو گی ، کسی کا مال کھایا ہوگا ، کسی کا خون بہایا ہوگا ، کسی کو مارا ہوگا ، پس اُن لوگوں میں سے پہلے ایک کو اُس کی نیکیاں دی جائیں گی ، پھر دوسرے کو بھی اُس کی نیکیاں دی جائیں گی ، پھر اگر اُس کے ذمہ حقوق کی ادائیگی سے قبل نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو اُن (مظلو موں ) کے گناہ اُس(ظالم) پر ڈال دیئے جائیں گے اور پھر اُسے آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ ‘‘

شرح حدیث

حقیقی مفلس کی وضاحت:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی مذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک سے معلوم ہو ا کہ حقوق العباد میں معافی اور شفاعت نہ ہو گی مگر یہ کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ چاہے توصاحب حق یعنی مظلوم کو راضی کردے یعنی ان دونوں میں صلح کروادے ۔ امام نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : “ حقیقی مفلس وہی ہے جس کا اِس حدیث پاک میں ذکر کیا گیا ورنہ وہ شخص جس کے پاس مال نہ ہو یا کم ہو اسے

لوگ مفلس کہتے ہیں حقیقت میں وہ مفلس نہیں کیونکہ یہ اِفلاس ہمیشہ نہیں رہتا کبھی موت سے اور کبھی زندگی میں خوشحالی سے دُور ہوجاتا ہےاِس کے برخلاف قیامت کے روز نیکیوں سے مفلس ہونے والے کے لیے تو مکمل ہلاکت ہے۔ ‘‘( )
اللہ عَزَّوَجَلَّ
صلح کروادے گا:حضرت سیدنا انس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ ایک روز سرکارِمدینہ راحت قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف فرما تھے ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے تبسم فرمایا ۔ امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ! میرے ماں باپ آپ پر قربان! آپ نے کس لئے تبسم فرمایا؟‘‘ارشاد فرمایا : ’’(کل بروزِ قیامت)میرے دو اُمتی اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں دوزانو گر پڑیں گے ، ایک عرض کرےگا : ’’یا اللہ عَزَّوَجَلَّ ! اس سے میرا انصاف دلا کہ اس نے مجھ پر ظلم کیا تھا ۔ ‘‘ اللہ عَزَّوَجَلَّ مدعی(دعویٰ کرنے والے)سے فرمائے گا : ’’اب یہ بے چارہ کیا کرے ، اس کے پاس تو کوئی نیکی باقی نہیں۔ ‘‘مظلوم عرض کرے گا : ’’میرے گناہ اس کے نامہ اعمال میں ڈال دے۔ ‘‘اتنا ارشاد فرما کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم رونے لگے ، پھر فرمایا : ’’وہ دن بہت عظیم دن ہوگا کیونکہ اس وقت ہر ایک اس بات کا ضرورت مند ہوگا کہ اس کا بوجھ ہلکا ہو۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ مظلوم سے فرمائےگا : دیکھ !تیرے سامنے کیا ہے؟وہ عرض کرےگا : اے پروردگار عَزَّوَجَلَّ ! میں اپنےسامنے سونے کے بڑے شہر اور بڑے بڑے محلات دیکھ رہا ہوں جو مو تیوں سے آراسۃ ہیں یہ اور عمدہ محلات کس پیغمبر یا صدیق یا شہید کے لئے ہیں؟اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشاد فرمائےگا : ’’یہ اُس کے لئے ہیں جو اِن کی قیمت ادا کرے ۔ ‘‘بندہ عرض کرےگا : ’’اِن کی قیمت کون ادا کر سکتا ہے؟‘‘اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرمائےگا : ’’تو ادا کر سکتا ہے۔ ‘‘وہ عرض کرےگا : ’’کس طرح ؟‘‘اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشادفرما ئےگا : ’’اس طرح کہ تو اپنے بھائی کے حقوق معاف کردے ۔ ‘‘بندہ عرض کرےگا : ’’اے میرے ربّ عَزَّوَجَلَّ !میں نے سب حقوق معاف کئے۔ ‘‘اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرمائے گا : ’’اپنے بھائی کا ہاتھ پکڑ اور دونوں

اکھٹے جنت میں چلے جاؤ۔ ‘‘پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرو اور آپس میں صلح کرواؤ کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ بھی بروزِ قیامت مسلمانوں میں صلح کروائے گا۔ ‘‘( )
اَحکم الحاکمین کا عدل واِنصاف:عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’ظالم کی نیکیاں مظلوم کو دینے اور مظلوم کے گناہ ظالم پر ڈالنے سے خدائے اَحکم الحاکمین جَلَّ جَلَالُہُ کا عقلاً و نقلاً عدل وانصاف ثابت ہو رہا ہے ، کیونکہ اگر ظالم کی نیکیاں زیادہ ہوں گی تو اُس کی نیکیوں کا پلڑا بھاری ہو جائے گا جو کہ اُس کی برائیوں پہ غالب آ جائے گا ، اگر اِس سبب سے اُسے جنت میں داخل کر دیا جائے تو مظلوم کا حق باقی رہ جائے گااور اگر اُسے جہنم میں داخل کر دیا جائے تویہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اِس فرمان کے منافی ہےجس میں اِرشاد فرمایا :فَمَنْ ثَقُلَتْ مَوَازِیْنُهٗ فَاُولٰٓىٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ(۱۰۲)(پ۱۸ ، المؤمنون : ۱۰۲)
ترجمۂ کنزالایمان : تو جن کی تولیں بھاری ہو لیں وہ ہی مراد کو پہونچے۔
اورحقوق العباد کا معاملہ ایسا ہے کہ جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ معاف نہ فرمائےگا۔ (یعنی جب تک بندہ خود معاف نہ کردے اللہ عَزَّوَجَلَّ معاف نہ فرمائے گا۔ ) پس ضروری تھا کہ اس کی نیکیاں لے کر (مظلوم )کو دی جائیں اور مظلوم کے گناہ اس کے پلڑے میں رکھے جائیں تا کہ میزان برابر ہو جائے ۔ پھر جہنم میں داخل کر کے اسے اتنا عذاب دیا جائے گا جتنے کا وہ مستحق ہے ، پھر اگر اس کی نیکیاں باقی ہوں گی تو اُن کے سبب اسے جہنم سے نکال کر جنت میں داخل کیا جائے گا یا صرف اِیمان کی برکت سے ہی جنت میں داخل کردیا جائے گا کیونکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کسی کے عمل کو ضائع نہیں کرتا۔ ‘‘( )
ظالم کی نیکیوں اور مظلوم کے گناہوں کی وضاحت:مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان نےاس حدیث

مبارکہ کے تحت ظالم کی مظلوم کو دی جانے والی نیکیوں اور مظلوم کے ظالم کو دیئے جانے والے گناہوں سے متعلق دو واہم وضاحتیں فرمائی ہیں : (1) اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے فضل وکرم سے نیکیوں میں اِضافہ فرماتا ہے ، بسا اَوقات ایک نیکی کا ثواب دس گنا سے لے کر سات سو گنا تک عطا فرماتا ہے ، بعض نیکیوں کا اس سے بھی زیادہ عطا فرماتا ہے ، ظالم کی جو نیکیاں مظلوموں کو دی جائیں گی وہ اُسی اضافے میں سے ہوگا ، اس کی اصل نیکیوں میں سے ایک بھی نہیں چھینی جائے گی۔ یونہی روزہ قرض دار کو نہ دیا جائے گاکہ فرمایا جائے گا : ’’اَلصَّومُ لِیْ وَاَنَا اُجْزیٰ بِہٖ روزہ میرا ہے اور میں ہی اس کا عوض ہوں ۔ ‘‘(2) نیکیاں ختم ہونے کی صورت میں مظلوم کے جو گناہ ظالم کے نامہ اعمال میں ڈال دیے جائیں گے اس سے مراد بُرے عقائد نہیں بلکہ بُرے اعمال ہیں ، نیز بُرے اعمال میں بھی فقط گناہ صغیرہ مراد ہیں لہٰذا اگر کسی مسلمان پر کافر کا قرض رہ گیا تو اس کا کفر یا زنا ، چوری وغیرہ اس پر نہ ڈالی جائے گی۔ ( )
مدنی گلدستہ
’’غارِ حرا‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1)حقیقی مفلس وہ ہےجو قیامت کے دن نماز ، روزہ دیگر اَعمالِ صالحہ لے کر آئے گالیکن اس نے لوگوں پر ناحق ظلم کیا ہو گاجس کی وجہ سے اس کی نیکیاں مظلوموں کو دے دی جائیں گی۔
(2)روپے پیسے کی مفلسی عارضی ہےجو موت آنے پر بلکہ کبھی زندگی میں ہی دولت مل جانے پر ختم ہو جاتی ہےجبکہ اپنی نیکیاں دوسرے کو دے کر اُس کے گناہ اپنے سر لینا یہ ایسی حقیقی مفلسی ہے جو بروزِ قیامت بعض لوگوں کو ملے گی۔
(3)جب تک خود بندہ اپنے حقوق معاف نہ کردے اللہ عَزَّوَجَلَّ بھی حقوق العباد کو معاف نہیں فرمائے گا۔
(4)بروزِ قیامت اضافی ثواب مظلوموں کو دے دیا جائے گا اصل نیکیاں نہ دی جائیں گی ، اسی طرح

نیکیاں ختم ہونے کی صورت کی میں مظلوموں کے بُرے اعمال اور ان میں بھی صغیرہ گناہ ظالم کے نامہ اَعمال میں ڈال دیے جائیں گے۔
(5)کل بروزِ قیامت اللہ عَزَّوَجَلَّ بھی اپنے بندوں کے درمیان صلح فرمائے گا ، لہذا ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے مسلمان بھائیوں کے درمیان صلح کروائیں۔
(6)بروزِ قیامت اپنے حقوق معاف کردینے والے اور جس کو معاف کیے دونوں کو اللہ عَزَّوَجَلَّ جنت میں داخلے کا حکم ارشاد فرمائے گا۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ دنیا وآخرت دونوں کی مُفلسی سے محفوظ فرمائے ، حقوق العباد کو ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، ہمیں بلا حساب بخش دے اور جنت میں داخلہ نصیب فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 218