Main Icon

ظلم کی حرمت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 206

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ عَا ئشَۃَ رضی اللہ عنہا فَاِنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قَالَ : مَنْ ظَلَمَ قِیْدَ شِبْرٍ مِنَ الاَرْضِ طُوِّقَہُ مِنْ سَبْعِ اَرَضِیْنَ. ( )

عن عا ئشۃ رضی اللہ عنہا فان رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم قال : من ظلم قید شبر من الارض طوقہ من سبع ارضین. ( )

حدیث ترجمہ

اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے مروی ہے کہ تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’جس نے کسی کی بالشت برابر زمین ظلماً قبضے میں لی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے سات زمینوں کا طوق پہنائے گا۔ ‘‘

شرح حدیث

سات زمینوں کے طوق کا معنٰی:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ’’علامہ خطابی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا کہ اِس حدیث کے دو معنیٰ ہیں : ایک یہ ہے کہ ظلماً زمین پر قبضہ کرنے والے کو اس بات کا حکم دیا جائے گا کہ وہ اس زمین کو اٹھا کر محشر کی طرف لے جائےتو وہ اس کے گلے میں طوق کی طرح ہو جائے گی۔ دوسرا معنیٰ یہ ہے کہ اس کو سات زمینوں تک دھنسا نے کی سزادی جائے گی۔ ‘‘( )

عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں : ’’طوق ڈالنے کا معنیٰ یہ ہے کہ یہ سات زمینیں اٹھا کر اس کے گلے میں ڈال دی جا ئیں گی تو وہ اس کے گلے میں طوق کی طرح ہو جائیں گی یا ان زمینوں کو اس کے گلے میں طوق کی طرح کر دیا جائے گا جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے :
سَیُطَوَّقُوْنَ مَا بَخِلُوْا بِهٖ یَوْمَ الْقِیٰمَةِؕ-(پ۴ ، ال عمرن : ۱۸۰)
ترجمۂ کنزالایمان : عنقریب وہ جس میں بخل کیا تھا قیامت کے دن ان کے گلے کا طوق ہوگا۔
اور اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی گردن کو اتنا ہی لمبا کر دےگا جیسا کہ حدیث پاک میں ہے کہ ’’کافر کی داڑھ اُحد پہا ڑ کی طرح ہوگی۔ ‘‘( )
زمین کی ملکیت کہاں تک ہے؟علامہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ’’مذکورہ حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ جو شخص کسی زمین کا مالک ہو تو وہ زمین کے نیچے سے لے کر اس کی انتہا یعنی اوپر نیچے تک اس کا مالک ہوتا ہے ، اور اس مالک ِزمین کے لئے جائز ہے کہ وہ اپنی زمین کے نیچے کسی کوگڑھا ( سرنگ )یا کنواں نہ کھودنے دے ، خواہ اس سے اس کی زمین کو ضرر ہویا نہ ہو۔ اسی طرح مالک زمین کے لئے یہ بھی جائز ہے کہ زمین میں جہاں تک چاہے گڑھا (سرنگ )کھودے یا زمین کے اوپر جہاں تک چاہے بلندی میں عمارت بنائے جبکہ اس(گڑھا کھودنے یا عمارت بنانے )سے کسی دوسرے کو ضرر نہ ہو ۔ ‘‘( )زمین پرظلماً قبضہ زیادہ سخت ہے:مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’اس حدیث سے معلوم ہوا کہ زمین کے سات طبقےاوپر نیچے ہیں ، صرف سات ملک نہیں۔ پہلے تو اس غاصب کو زمین کے سات طبق کا طوق پہنایا جائے گا پھر اسے زمین میں دھنسایا جائے گا۔ لہذاجن احادیث میں ہے کہ

اسے زمین میں دھنسایا جائے گا وہ احادیث اس حدیث کے خلاف نہیں۔ یہ حدیث بالکل ظاہر پر ہے کہ کسی تاویل کی ضرورت نہیں۔
ﷲ∞تعالیٰ اس غاصب (ظالم قابض)کی گردن اتنی لمبی کردے گا کہ اتنی بڑی ہنسلی (گردن کی ہڈی)اس میں آجائے گی۔ معلوم ہوا کہ زمین کا غضب دوسرے غصب سے سخت تر ہے۔ ‘‘( )قبضہ مافیا کے لیے لمحہ فکریہ:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک میں قبضہ مافیا اور ایسے تمام لوگوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے جو دوسروں کی زمینوں پر ناجائز طریقے سے قبضہ کرلیتے ہیں ، رِشوتوں کے ذَرِیعے دوسروں کی جگہوں پر قبضہ کر کے عمارتیں بنانے والوں ، لوگوں کی طرف سے ٹھیکے پر ملی ہوئی زَرعی زمینیں دبالینے والے کِسانوں ، وَڈَیروں اورخائِن زمین داروں کو گھبراکر جھٹ پٹ توبہ کرلینی چاہئے اور جن جن کی زمینیں دبائی ہیں وہ انہیں واپس کرکے ان سے معافی بھی مانگنی چاہیے۔مدنی گلدستہ
’’کعبہ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)دوسروں کی حق تلفی کرنا ، ظلماً کسی کی زمین پر قبضہ کرلینا قابل مذمت ہے ، جس میں معاشرتی نقصان کے ساتھ ساتھ اُخروی نقصان بھی ہے ۔
(2)اسلام میں ظلماً کسی کی زمین وغیرہ پر قبضہ کرنے کی بالکل اجازت نہیں ہے ، کیونکہ اسلام مسلمانوں کی جان ، مال ، آل اولاد سب چیزوں کا تحفظ فراہم کرتا ہے ۔
(3)اپنی ملکیت میں ہر طرح کے تصرف کی اجازت ہے مگر دوسروں کے مال یا زمین وغیرہ میں اس کی اجازت کے بغیر تصرف کرنا خلاف شرع ہے ، اسلام میں اس کی سختی سے ممانعت ہے۔
(4)دنیا میں دوسروں کی زمین پر ناجائز قبضہ کرنے والوں کو عبرت حاصل کرنی چاہیے کہ یہی زمین کل

بروز قیامت ان کے گلے کا طوق بن جائے گی۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعاہے کہ وہ ہمیں دوسروں کی زمین پر ناجائز قبضوں سے محفوظ فرمائے ، ہمیں سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے صدقے ہرطرح کے اُخروی عذاب سے محفوظ فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 206