- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- ظلم کی حرمت کا بیان
ظلم کی حرمت کا بیان
فیضان ریاض الصالحین جلد 3
حضرت سیدنا جابر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’ظلم سے بچو !کیونکہ ظلم قیامت کے اندھیروں میں سےہےاور بخل سے بچو
کیونکہ بخل ہی نے تم سےپہلے لوگوں کو ہلاک کیا اوراُنہیں اِس بات پر اُبھارا کہ وہ ایک دوسرے کا خون بہائیں اور محرمات (یعنی حرام کئے گئے کاموں) کو حلال سمجھیں۔ ‘‘
عَنْ جَابِرِ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قَالَ : اِتَّقُوا الظُّلْمَ فَاِنَّ الظُّلْمَ ظُلُمَاتُ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ وَاتَّقُوا الشُّحَّ فَاِنَّ الشُّحَّ اَہْلَکَ مَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ حَمَلَہُمْ عَلَی اَنْ سَفَکُوْا دِمَاء َہُمْ وَاسْتَحَلُّوا مَحَارِمَہُمْ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 203 ، ظلم کی حرمت کا بیان
حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’قیامت کے دن تم لوگ ضرور حق داروں کو ان کے حقوق سپرد کرو گے حتّٰی کہ بے سینگ بکری کا سینگ والی بکری سے بدلہ لیا جائے گا۔ ‘‘
عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوقَ اِلَی اَہْلِہَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ حَتّٰی یُقَادَ لِلشَّاۃِ الْجَلْحَاء ِ مِنَ الشَّاۃِ الْقَرْنَاءِ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 204 ، ظلم کی حرمت کا بیان
حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہےکہ ہم حجۃ الوداع کے حوالے سے گفتگو کر رہے تھے کہ حضور نبی کریم ، رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے درمیان تشریف لائے ، ہم حجۃ الوداع کے بارے میں نہیں جانتے تھے۔ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد و ثناء بیان فرمائی ، پھر دجال کا تفصیل کے ساتھ ذکر فرمایا۔ پھر ارشاد فرمایا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بھیجے ہوئے ہر نبی نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا ، حتی کہ حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلَاماور اُن کے بعد آنے والے تمام انبیاء کرام عَلَیْہِمُ السَّلَامنے بھی اپنی اُمتوں کو اِس سے ڈرایااور اگر دجال تم میں ظاہر ہو جائے تو اُس کا حال تم پر مخفی نہ رہے گا ( یعنی تم اُسے آسانی سے پہچان لوگے) کیونکہ تم پر یہ بات پوشیدہ نہیں کہ بے شک تمہارا ربّ عَزَّوَجَلَّ کانا نہیں جبکہ دجال دائیں آنکھ سے کانا ہے گویا کہ اس کی وہ کانی آنکھ اُبھرا ہوا انگور ہے۔ سنو ! بیشک اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تم پر تمہارے خون اورتمہارے مال اس طرح حرام کردیئے ہیں جس طرح تم پر یہ دن اس مہینے اور اس شہر میں حرام ہے۔ سنو !کیا میں نےتمہیں(اللہ عَزَّوَجَلَّ کا)پیغام پہنچادیا؟‘‘صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی : ’’جی ہاں۔ ‘‘آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بار گاہ الٰہی میں تین مرتبہ یوں عرض کی : ’’اے اللہ
عَزَّوَجَلَّتو بھی اس پر گواہ ہو جا۔ ‘‘پھر فرمایا : ’’تم پر افسوس ہے!دیکھو میرے بعد کافر وں کی طرح نہ ہو جاناکہ ایک دوسرے کی گرد نیں مارنے لگو۔ ‘‘
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا قَالَ کُنَّا نَتَحَدَّثُ عَنْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ وَالنَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَیْنَ اَظْہُرِنَا وَلَا نَدْرِی مَا حَجَّۃُ الْوَدَاعِ حَتّٰی حَمِدَ اللَّہَ رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاَثْنَی عَلَیْہِ ثُمَّ ذَکَرَ الْمَسِیْحَ الدَّجَّالَ فَاَطْنَبَ فِی ذِکْرِہِ وَقَالَ : مَا بَعَثَ اللَّہُ مِنْ نَبِیٍّ اِلَّا اَنْذَرَ اُمَّتَہُ اَنْذَرَہُ نُوحٌ وَالنَّبِیُّونَ مِنْ بَعْدِہِ وَاِنَّہُ اِنْ یَخْرُجْ فِیکُمْ فَمَا خَفِیَ عَلَیْکُمْ مِنْ شَاْنِہِ فَلَیْسَ یَخْفَی عَلَیْکُمْ اَنَّ رَبَّکُمْ لَیْسَ بِاَعْوَرَ وَاِنَّہُ اَعْوَرُ عَیْنِ الْیُمْنٰی کَاَنَّ عَیْنَہُ عِنَبَۃٌ طَافِیَۃٌ اَلَااِنَّ اللَّہَ حَرَّمَ عَلَیْکُمْ دِمَاءَ کُمْ وَاَمْوَالَکُمْ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ہَذَا فِیْ بَلَدِکُمْ ہَذَا فِی شَہْرِکُمْ ہَذَا اَلَا ہَلْ بَلَّغْتُ ؟ قَالُوْ : ا نَعَمْ! قَالَ : اللّٰہُمَّ اشْہَدْ ثَلاَثًا وَیْلَکُمْ اَوْ وَیْحَکُمُ انْظُرُوا : لَا تَرْجِعُوْا یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 205 ، ظلم کی حرمت کا بیان
اُمّ المؤمنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے مروی ہے کہ تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’جس نے کسی کی بالشت برابر زمین ظلماً قبضے میں لی تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے سات زمینوں کا طوق پہنائے گا۔ ‘‘
عَنْ عَا ئشَۃَ رضی اللہ عنہا فَاِنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم قَالَ : مَنْ ظَلَمَ قِیْدَ شِبْرٍ مِنَ الاَرْضِ طُوِّقَہُ مِنْ سَبْعِ اَرَضِیْنَ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 206 ، ظلم کی حرمت کا بیان
حضرت سیدنا ابوموسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور نبی پاک ، صاحب لولاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشاد فرمایا : ’’بیشک اللہ عَزَّوَجَلَّ ظالم کو مہلت دیتا ہے پھر جب اسے پکڑتا ہے تو نہیں چھوڑتا۔ ‘‘پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی :وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِیَ ظَالِمَةٌؕ-اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ(۱۰۲)(پ۱۲ ، ھود : ۱۰۲)
ترجمۂ کنزالایمان : اور ایسی ہی پکڑ ہے تیرے رب کی جب بستیوں کو پکڑتا ہے ان کے ظلم پربیشک اس کی پکڑ دردناک کرّی ( سخت )ہے ۔
عَنْ اَبِی مُوسَی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّ اللَّہَ لَیُمْلِی لِلظَّالِمِ فاِذَا اَخَذَہُ لَمْ یُفْلِتْہُ ثُمَّ قَرَاَ : ) وَ كَذٰلِكَ اَخْذُ رَبِّكَ اِذَاۤ اَخَذَ الْقُرٰى وَ هِیَ ظَالِمَةٌؕ-اِنَّ اَخْذَهٗۤ اَلِیْمٌ شَدِیْدٌ(۱۰۲) (( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 207 ، ظلم کی حرمت کا بیان
حضرت سیدنا معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے(یمن کی طرف حاکم بنا کر)بھیجاتو فرمایا : ’’تم اہل کتاب کی طرف جارہے ہو ، انہیں اس بات کی گواہی کی طرف بلانا کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا رسول ہوں۔ اگر وہ یہ بات مان لیں تو انہیں بتانا کہ بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ان پر دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ اگر یہ بات مان لیں توانہیں بتانا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان پر زکوٰۃ فرض کی ہے ، جو ان کے مالداروں سے لے کر ان کے فقراء میں تقسیم کردی جائے۔ اگر وہ یہ بات بھی مان لیں تو (زکوٰۃ لیتے وقت) ان کے عمدہ مالوں سے احترازکرنا اور مظلوم کی بددعا سے بچناکیونکہ اس کے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے درمیان کوئی پردہ نہیں۔ ‘‘
وَعَنْ مُعَاذٍرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : بَعَثَنِی رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : اِنَّکَ تَاْتِی قَوْمًا مِنْ اَہْلِ الْکِتَابِ فَادْعُہُمْ اِلَی شَہَادَۃِ اَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللَّہُ وَاَنِّیْ رَسُوْلُ اللَّہِ فَاِنْ ہُمْ اَطَاعُوْا لِذٰلِکَ فَاَعْلِمْہُمْ اَنَّ اللَّہَ قَدِافْتَرَضَ عَلَیْہِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِی کُلِّ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ فَاِنْ ہُمْ اَطَاعُوْا لِذٰلِکَ فَاَعْلِمْہُمْ اَنَّ اللَّہَ افْتَرَضَ عَلَیْہِمْ صَدَقَۃً تُؤْخَذُ مِنْ اَغْنِیَائِہِمْ فَتُرَدُّ عَلَی فُقَرَائِہِمْ فَاِنْ ہُمْ اَطَاعُوْا لِذَلِکَ فَاِیَّاکَ وَکَرَائِمَ اَمْوَالِہِمْ وَاتَّقِ دَعْوَۃَ الْمَظْلُومِ فَاِنَّہُ لَیْسَ بَیْنَہَا وَبَیْنَ اللَّہِ حِجَابٌ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 208 ، ظلم کی حرمت کا بیان
حضرت سیدنا ابو حمید عبدالرحمٰن بن سعد ساعدی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ راحت قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے قبیلہ اَزْدکے ایک شخص کوزکوٰۃ کا عامل بنایا جسے ابنِ لُتْبِیَّہْ کہا جاتا تھاجب وہ واپس آیا تو کہنے لگا : ’’یہ تمہارے لئے ہے اور یہ مجھے تحفہ دیا گیا ہے۔ ‘‘یہ سن کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم منبر پر تشریف فرما ہوئے ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد و ثناء بیان کی پھر ارشاد فرمایا : ’’میں تم میں سے کسی شخص کو ایسے کا م پر مقرر کرتاہوں جس کا اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے والی بنایا ہے اور وہ آکر کہتا ہے : یہ تمہارے لئے ہے اور یہ مجھے تحفہ دیا گیا ہے۔ وہ اپنے ماں باپ کے گھرکیوں نہیں بیٹھ گیا کہ اس کے پاس وہیں تحفہ آجاتااگر وہ سچا ہوتا۔ خداکی قسم ! تم میں سے کوئی بھی شخص اس میں سے نا حق لے گا تو قیامت کے دن اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اِس حال میں ملےگا کہ اُسے اُٹھائے ہوئے ہوگا۔ پس میں تم میں سے ہر گز کسی کو اس حالت
میں نہ پاؤں کہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اس حال میں ملے کہ اس نے اونٹ اُٹھایا ہوا ہو جو کہ بڑ بڑا رہاہو ، یا گائے یا بکری اُٹھائی ہوئی ہوجو کہ منہ سے آوز نکال رہی ہو۔ ‘‘پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو بلند فرمایا یہاں تک کہ آپ کی مبارک بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی ، پھر بار گاہِ الٰہی میں تین مرتبہ یوں عرض کی : ’’اےاللہ عَزَّوَجَلَّ کیا میں نے تیرا حکم پہنچا دیا؟‘‘
عَنْ اَبِی حُمَیْدٍ عَبْدِ الرَحْمٰنِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیِّ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : اِسْتَعْمَلَ النَّبیُّ صَلیَّ اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجُلاً مِنَ الْاَ زْدِ یُقَالُ لَہُ : ابْنُ اللُّتْبِیَّۃِ عَلَی الصَّدَقَۃِ فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ : ہَذَا لَکُمْ وَہَذَا اُہْدِیَ اِلَیَّ فَقَامَ رَسُوْلُ اللہِ صَلیَّ اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی المِنْبَرِ فَحَمِدَ اللہَ وَاَثْنَی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ : اَمَّا بَعْدُ فَاِنِّی اَسْتَعْمِلُ الرَّجُلَ مِنْکُمْ عَلَی الْعَمَلِ مِمَّا وَلَّانِیَ اللہُ فَیَاْ تِی فَیَقُوْلُ : ہَذَا لَکُمْ وَہَذَا ہَدِیَّۃٌ اُہْدِیَتْ اِلَیَّ اَفَلَا جَلَسَ فِیْ بَیْتِ اَبِیْہِ اَوْ اُمِّہِ حَتّٰی تَاْ تِیَہُ ہَدِیَّتُہُ اِنْ کَانَ صَادِقًاوَاللہ! لَا یَاْخُذُ اَحَدٌ مِّنْکُمْ شَیْئًا بِغَیْرِ حَقِّہِ اِلَّا لَقِیَ اللہَ تَعَالَی یَحْمِلُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَلَا اَعْرِفَنَّ اَحَدًا مِّنْکُمْ لَقِیَ اللہَ یَحْمِلُ بَعِیْرًا لَہُ رُغَاءٌ اَوْ بَقَرَۃً لَہَا خُوَارٌاَوْ شَاۃً تَیْعَرُ ثُمَّ رَفَعَ یَدَیْہِ حَتَّی رُوِیَ بَیَاضُ اِبْطَیْہِ فَقَالَ : اَللّٰہُمَّ ہَلْ بَلَّغْتُ ثَلَا ثاً. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 209 ، ظلم کی حرمت کا بیان
حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’ جس کا اپنے مسلمان بھائی پراس کی عزت یا کسی اور چیز کے حوالے سے کوئی ظلم ہوتو اسے چاہیے کہ اس دن سے پہلے آج ہی معافی حاصل کر لے جس دن دینار اور درہم پاس نہیں ہوں گے۔ اگر اس ظالم کے پاس اچھا عمل ہوگا تو اُس ظلم کے برابر اس سے لے لیا جائے گا ، اگراس ظالم کے پاس نیکیاں نہ ہوں گی تومظلوم کی برائیاں لے کر اس ظالم کے کھاتے میں ڈال دی جائیں گی۔ ‘‘
عَنْ اَبی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلیَّ اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ کَانَتْ عِنْدَہُ مَظْلِمَۃٌ لِاَخِیْہِ مِنْ عِرْضِہِ اَوْ مِنْ شَیْء ٍفَلْیَتَحَلَّلْہُ مِنْہُ الْیَوْمَ قبْلَ اَنْ لَا یَکُوْنَ دِیْنَارٌ وَلاَ دِرْہَمٌ اِنْ کَانَ لَہُ عَمَلٌ صَالِحٌ اُخِذَمِنْہُ بِقَدْرِ مَظْلِمَتِہِ وَ اِنْ لَمْ یَکُنْ لَہُ حَسَنَاتٌ اُخِذَ مِنْ سَیِّئَاتِ صَاحِبِہِ فَحُمِلَ عَلَیہِ.( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 210 ، ظلم کی حرمت کا بیان
حضرت سیدنا عبداللہ بن عَمر و بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے مروی ہے کہ سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشاد فرمایا : ’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی منع کردہ چیزوں کو چھوڑدے۔ ‘‘
عَنْ عَبْدِاللہ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا عَنِ النَّبِیِّ صَلیَّ اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ المُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِہِ وَیَدِہِ وَالمُہَاجِرُ مَنْ ہَجَرَ مَا نَہَی اللہُ عَنْہُ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 211 ، ظلم کی حرمت کا بیان
حضرت سیدنا عبداللہ بن عَمر و رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : رسولِ پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سامان کی دیکھ بھال پر ایک آدمی مقرر تھا ، اُسے کِرْکِرَہْ کہاجاتا تھا۔ وہ مر گیا تو حضور نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’وہ جہنم میں ہے۔ ‘‘صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے جب اس کے بارے میں
کھوج لگائی تو انہیں ایک چادر ملی جو اس نے خیانت کرتے ہوئے چھپائی تھی۔
عَنْ عَبْدِ اللہ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : کَانَ عَلَی ثَقَل النَّبیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم رَجُلٌ یُقَالُ لَہُ کِرْکِرَۃُ فَمَاتَ فَقَالَ رَسُول اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم : ہُوَ فی النَّارِ فَذ َہَبُوْا یَنْظُرُونَ اِلَیْہِ فَوَجَدُوْا عَبَاء َۃً قَدْ غَلَّہَا.( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 212 ، ظلم کی حرمت کا بیان
حضرت سیدنا ابو بکرہ نفیع بن حارث رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’زمانہ اپنی اس دن کی اصل حالت پر واپس آگیا جس دن اللہ عَزَّوَجَلَّ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا۔ سال بارہ مہینوں کا ہوتا ہے ان میں سے چار ماہ حرمت والے ہیں : تین تو
ایک ساتھ ہیں ذوالقعدہ الحرام ، ذوالحجہ الحرام اور محرم الحرام اور مُضَرْ والوں کا رجب جو کہ جمادی الآ خر اور شعبان کے بیچ میں ہے۔ ‘‘ پھر استفسار فرمایا : ’’ یہ کون سا مہینہ ہے؟ ‘‘ ہم نے عرض کی : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کا رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بہتر جانتے ہیں۔ ‘‘ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کچھ دیر خاموش رہے تو ہمیں گمان ہوا کہ شاید آپ اس مہینے کا کوئی دوسرا نام رکھ دیں گے۔ پھر فرمایا : ’’کیا یہ ذوالحجہ نہیں؟ ‘‘ہم نے عرض کی : ’’جی ہاں۔ ‘‘پھر فرمایا : ’’یہ کون سا شہر ہے؟‘‘ ہم نے عرض کی : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کا رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بہتر جانتے ہیں۔ ‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کچھ دیر خاموش رہے ، ہمیں پھر یہی گمان ہوا کہ شاید آپ اس شہر کا کوئی اورنام رکھ دیں گے۔ پھر ارشاد فرمایا : ’’کیا یہ شہرِ حرام نہیں ؟‘‘ہم نے عرض کی : ’’ جی ہاں۔ ‘‘پھر فرمایا : ’’یہ کون سا دن ہے؟ ‘‘ہم نے عرض کی : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کا رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بہتر جانتے ہیں۔ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کچھ دیر خاموش رہے ، ہمیں پھر وہی گمان ہوا کہ شاید آپ اس دن کا کوئی دوسرا نام رکھ دیں گے۔ پھر فرمایا : “ کیا یہ یومِ نحر یعنی قربانی کا دن نہیں؟‘‘ہم نے عرض کی : ’’جی ہاں۔ ‘‘ پھر فرمایا : ’’بے شک تمہارے خون ، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تم پر ایسے ہی حرام ہیں جیسےتمہاراآج کا دن تمہارے اس شہر اور تمہارے اس مہینے میں حرام ہے۔ عنقریب تم اپنے رب سے ملاقات کروگے ، وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں پوچھے گا ، خبردار! میرے بعد تم لوگ کفر کی طرف نہ لوٹ جانا کہ تم میں سے بعض بعض کی گردنیں مارنے لگیں ، جو حاضر ہیں انہیں چاہیے کہ وہ غائب تک میری یہ باتیں پہنچادیں ۔ ہوسکتا ہے جنہیں بات پہنچائی جائے اِن میں سے بعض زیادہ یاد رکھنے والے ہوں ، بعض سننے والوں سے۔ ‘‘پھردوبار ارشاد فرمایا : ’’سنو! کیا میں نےتبلیغ کردی؟ سنو !کیا میں نے تبلیغ کردی؟‘‘ ہم نے عرض کی : ’’ جی ہاں۔ ‘‘ پھر فرمایا : ’’اے اللہ عَزَّوَجَلَّ توبھی گواہ ہوجا۔ ‘‘
عَنْ اَبِي بَكْرَةَ نُفَیْعِ بْن الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضَ السَّنَةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا مِنْهَا اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ثَلَاثٌ مُتَوَالِيَاتٌ ذُو الْقَعْدَةِ وَذُو الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمُ وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِيْ بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ اَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ اَعْلَمُ فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا اَنَّهُ سَيُسَمِّيْهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ قَالَ : اَلَيْسَ ذَا الْحِجَّةِ؟ قُلْنَا بَلٰی. قَالَ : فَاَ يُّ بَلَدٍ هَذَا؟ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُوْلُهُ اَعْلَمُ فَسَكَتَ حَتّٰى ظَنَنَّا اَنَّهُ سَيُسَمِّيْهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ. قَالَ اَلَيْسَ الْبَلْدَةَ الْحَرَامَ؟ قُلْنَا بَلٰی. قَالَ : فَاَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ اَعْلَمُ فَسَكَتَ حَتّٰى ظَنَنَّا اَنَّهُ سَيُسَمِّيْهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ. قَالَ اَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ؟ قُلْنَا بَلٰى. قَالَ : فَاِنَّ دِمَاءَكُمْ وَاَمْوَالَكُمْ وَاَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هٰذَا فِي بَلَدِكُمْ هٰذَا فِي شَهْرِكُمْ هٰذَا وَسَتَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ فَيَسْاَلُكُمْ عَنْ اَعْمَالِكُمْ اَلَا فَلَا تَرْجِعُوْا بَعْدِيْ کُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ اَلَا لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ فَلَعَلَّ بَعْضَ مَنْ يُبَلَّغُهُ اَنْ يَّكُوْنَ اَوْعٰى لَهُ مِنْ بَعْضِ مَنْ سَمِعَهُ ثُمَّ قَالَ : اَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟ اَلَا هَلْ بَلَّغْتُ ؟ قُلْنَا نَعَمْ. قَالَ:اللّٰہُمَّ اشْھَدْ . ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 213 ، ظلم کی حرمت کا بیان
حضرت سیدناابو اُمامہ اِ یاس بن ثَعْلَبہ حارِثی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’جس شخص نے قسم کھاکر کسی مسلمان کا حق مارا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے لئے دوزخ کولازم اور جنت کو حرام کر دے گا ۔ ‘‘ایک شخص نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !اگر چہ تھوڑی سی چیز ہو؟‘‘ فرمایا : ’’اگر چہ پیلو کی شاخ ہی کیوں نہ ہو۔ ‘‘
عَنْ اَبِیْ اُمَامَۃَ اِیَاسِ بْنِ ثَعْلَبَۃَ الْحَارِثِیِّ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ صَلّی اللہ ُعَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنِ اقْتَطَعَ حَقَّ امْرِیءٍ مُسْلِمٍ بِیَمِیْنِہِ فَقدْ اَوْجَبَ اللہُ لَہُ النَّارَ وَحَرَّمَ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ فَقَالَ رَجُلٌ : وَ اِنْ کَانَ شَیْئًا یَسِیْرًا یَا رَسُوْلَ اللّٰہ ؟ فَقَالَ : وَ اِنْ کَانَ قَضِیْبًا مِنْ اَرَاکٍ.( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 214 ، ظلم کی حرمت کا بیان
حضرت سیدنا عدی بن عمیرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہےکہ میں نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : ’’ہم تم میں سے جسے کسی کام پر مقرر کریں اور وہ ایک سوئی یا اس سے زائد کوئی چیز چھپا ئے تو یہ خیا نت ہے ، جسے وہ قیا مت کے دن لائےگا ۔ ‘‘ایک سیاہ فام انصاری آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف کھڑا ہوا ، (راوی کہتے ہیں )گویا کہ میں اس کی طرف اب بھی دیکھ رہا ہوں۔ پھر اس نے عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم !آپ نے مجھے جس کام پر مقرر کیا ہے ، مجھ سے وہ کام واپس لے لیجئے۔ ‘‘آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’ تمہیں کیا ہوا؟‘‘عرض کی : ’’میں نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اِس اِس طرح فرماتے ہوئے سنا ہے۔ ‘‘ ارشاد فرمایا : ’’میں تو اب بھی یہی کہتا ہوں کہ ہم جسے کسی کام پرمقرر کریں تو اسے تھوڑااور زیادہ سب کچھ لانا چاہیے۔ پھر اُس میں سے جو دیا جائے وہ لے لے اور جس سے روکا جائے رُک جائے۔ ‘‘
عَنْ عَدِیِّ بن عُمَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ : مَنِ اسْتَعْمَلْنَاہُ مِنْکُمْ عَلَی عَمَلٍ فَکَتَمَنَا مِخْیَطًا فَمَا فَوْقَہُ کَانَ غُلُولًا یَاْتِیْ بِہِ یَومَ الْقِیَامَۃِ فَقَامَ اِلَیْہِ رَجُلٌ اَسْوَدُ مِنَ الْاَنْصَارِکَاَنِّی اَنْظُرُ اِلَیْہِ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللّٰہ اِقْبَلْ عَنِّی عَمَلَکَ قَالَ : وَمَا لَکَ ؟قَالَ : سَمِعْتُکَ تَقُولُ کَذَا
وکَذَاقَالَ : وَاَنَا اَقُولُہُ الْآنَ : مَنِِ اسْتَعْمَلْنَاہُ عَلَی عَمَلٍ فَلْیَجِیء ْ بقَلِیْلِہِ وَکَثِیرِہِ ، فَمَا اُوتِیَ مِنْہُ اَخَذَوَمَا نُہِیَ عَنْہُ انْتَہٰی( ).
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 215 ، ظلم کی حرمت کا بیان
امیر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مَروی ہے فرماتے ہیں خیبر کے
دن صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی ایک جماعت آئی ، وہ کہنے لگے : ’’فلاں شہید ہے ، فلاں شہید ہے۔ ‘‘یہاں تک کہ وہ ایک شخص کے پاس سے گزرے تو اس کے بارے میں بھی کہنے لگے : ’’فلاں بھی شہید ہے ۔ ‘‘ تب حضور نبی اکرم ، شفیع معظم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’ہرگز نہیں! میں اِسے جہنم میں دیکھ رہاہوں ، ایک چادریا عبا ء(یعنی جبے)کی وجہ سے جسے اُس نے چھپایا تھا۔ ‘‘
وعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : لَمَّا کَانَ یَوْمُ خَیْبَرَ اَقْبَلَ نَفَرٌ مِنْ اَصْحَابِ النَّبیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فقَالُوا:فُلاَنٌ شَہِیْدٌ وَفُلانٌ شَہِیْدٌ حَتّٰی مَرُّوْاعَلَی رَجُلٍ فَقَالُوْا: فُلَانٌ شَہِیْدٌ فَقَالَ النَّبیّ صَلیَّ اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : کَلَّا اِنِّی رَاَ یْتُہُ فیِ النَّارِ فیِ بُرْدَۃٍ غَلَّہَا اَوْعَبَاءَ ۃٍ.( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 216 ، ظلم کی حرمت کا بیان
حضرت سیدنا ابو قتادۃ حارث بن ربعی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اُن کے درمیان کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا : ’’ تمام کاموں سے افضل اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں جہاد کرنا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ پر ایمان لانا ہے۔ ‘‘ ایک شخص کھڑا ہوااور عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں شہید کردیا جاؤں تو کیا میرے تمام گناہ مٹا دئیے جائیں گے؟‘‘ نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’ہاں !اگر تم اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں اس حال میں شہید ہوئے کہ تم صبر کرنے والے ، مُحْتَسِب ( یعنی ثواب کی امید کرنے والے) ، جنگ میں آگے بڑھنے والے رہے اور پیٹھ پھیر کر پیچھے ہٹنے والے نہ ہوئے تو تمہارے سارے گناہ مٹادیئے جائیں گے۔ ‘‘ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’تم نے کیا پوچھا تھا؟‘‘ اس نے عرض کی : ’’مجھے یہ ارشاد فرمائیے کہ اگر میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں شہید کردیا جاؤں تو کیا میرے تمام گناہ معاف کردئیے جائیں گے؟‘‘ فرمایا : اگر تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں اس حال میں شہید ہوئے کہ تم صبر کرنے والے ، مُحْتَسِب ( یعنی ثواب کی امید کرنے والے) ، جنگ میں آگے بڑھنے والے رہے اور پیٹھ پھیر کر پیچھے ہٹنے والے نہ ہوئے تو تمہارے سارے گناہ مٹادیئے جائیں گے۔ مگریہ کہ قرض معاف نہ ہوگا۔ جبریل عَلَیْہِ السَّلَامنے مجھے یہ بات بتائی ہے۔ ‘‘
عَنْ اَبِی قَتَادَةَ الْحَارِثِ بِنْ رِبْعِیِّ رَضِیَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنَّهُ قَامَ فِيهِمْ فَذَكَرَ لَهُمْ اَنَّ الْجِهَادَ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ وَالْاِيْمَانَ بِاللَّهِ اَفْضَلُ الْاَعْمَالِ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ اَرَاَيْتَ اِنْ قُتِلْتُ فِي
سَبِيلِ اللَّهِ تُكَفَّرُ عَنِّي خَطَايَايَ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ اِنْ قُتِلْتَ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ وَاَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَيْفَ قُلْتَ؟ قَالَ اَرَاَيْتَ اِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ اَتُكَفَّرُ عَنِّي خَطَايَايَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ وَاَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ اِلَّا الدَّيْنَ فَاِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ لِي ذٰلِكَ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 217 ، ظلم کی حرمت کا بیان
حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضورنبی رحمت ، شفیعِ اُمَّت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’ کیا تم جانتے ہومفلس کون ہے؟‘‘ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی : ’’ہم میں سے مفلس وہ ہے جس کے پاس مال و دولت اور سامان نہ ہو۔ ‘‘تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’میری اُمَّت میں مفلس وہ ہے جو قیامت کے دن نماز روزہ اور زکوٰۃ لے کر آئے گا ، لیکن اس نے کسی کو گالی دی ہوگی ، کسی پر تہمت لگائی ہو گی ، کسی کا مال کھایا ہوگا ، کسی کا خون بہایا ہوگا ، کسی کو مارا ہوگا ، پس اُن لوگوں میں سے پہلے ایک کو اُس کی نیکیاں دی جائیں گی ، پھر دوسرے کو بھی اُس کی نیکیاں دی جائیں گی ، پھر اگر اُس کے ذمہ حقوق کی ادائیگی سے قبل نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو اُن (مظلو موں ) کے گناہ اُس(ظالم) پر ڈال دیئے جائیں گے اور پھر اُسے آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ ‘‘
وَعَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اَنَّ رَسُولَ اللّٰہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ اَتَدْرُوْنَ مَا الْمُفْلِسُ؟ قَالُوا : الْمُفْلِسُ فِینَا مَنْ لَا دِرْہَمَ لَہُ وَلَا مَتَاعَ فَقَالَ : اِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ اُمَّتِی مَنْ یَاْتِی یَومَ الْقِیَامَۃِ بِصَلَاۃٍ وَّصِیَامٍ وزَکاۃٍ وَ یَاْتِیْ وقَدْ شَتَمَ ہٰذَاوقَذَفَ ہَذَا وَاَکَلَ مَالَ ہٰذَا وَسَفَکَ دَمَ ہٰذَا وَضَرَبَ ہٰذَا فیُعْطٰی ہٰذَا مِنْ حَسَنَاتِہِ وہٰذَا مِنْ حَسَنَاتِہِ فَاِنْ فَنِیَتْ حَسَنَاتُہُ قَبْلَ اَنْ یُقْضٰی مَا عَلَیْہِ اُخِذَ مِنْ خَطَایَاہُمْ فَطُرِحَتْ عَلَیْہِ ثُمَّ طُرِحَ فِی النَّارِ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 218 ، ظلم کی حرمت کا بیان
حضرت سیدتنا اُمِّ سَلَمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہےکہ تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’میں ایک بشر ہوں اور تم اپنے جھگڑے میرے پاس لاتے ہو ۔ شاید تم میں سے کوئی اپنی دلیل کو زیادہ چرب زبانی سے پیش کرے تو میں اس کی بات کو سننے کے مطابق فیصلہ کر دوں لہٰذا جس کو میں اس کے بھائی کا حق فیصلہ کر کےدے دوں تو وہ اسے نہ لے کیونکہ میں اس کے لیے آگ کے ٹکڑے کا فیصلہ کرتا ہوں ۔ ‘‘
وَ عَنْ اُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا اَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ وَ اِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ اِلَيَّ وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ اَنْ يَكُونَ اَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ فَاَقْضِيْ لَهُ بِنَحْوِ مَا اَسْمَعُ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ اَخِيْهِ فَاِنَّمَا اَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِّنَ النَّارِ. ( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 219 ، ظلم کی حرمت کا بیان
حضرتِ سَیِّدُنا ابنِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے مروی ہےکہ سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’مومن ہمیشہ اپنے دِین کی وُسعت اور کشادگی میں رہتاہےجب تک کہ وہ ناحق قتل نہ کرے ۔ ‘‘
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلیَّ اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَنْ یَّزَالَ الْمُوْمِنُ فِیْ فُسْحَۃٍ مِنْ دِ یْنـِہِ مَا لَمْ یُصِبْ دَمًا حَرَامًا.( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 220 ، ظلم کی حرمت کا بیان
حضرت سیدنا حمز ہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی زوجہ حضرتِ سَیِّدَتُنا خولہ بنت ثامر انصاریہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ میں نے سرکار مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا : ’’بعض لوگ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مال میں ناحق تصرف کرتے ہیں ، قیامت کے دن (وہ مال)ان کے لئے آگ ہوگا۔ ‘‘
عَنْ خَوْلَۃَ بِنْتِ ثَامِرٍ الْاَنْصَارِیَّۃِ وَہِیَ اِمْرَاَۃُ حَمْزَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ وَعَنْہَاقَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلیَّ اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ : اِنَّ رِجَالًا یَتَخَوَّضُوْنَ فِیْ مَالِ اللہِ بِغَیْرِ حَقٍّ فَلَہُمُ النَّارُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ .( )
فیضان ریاض الصالحین ، حدیث نمبر: 221 ، ظلم کی حرمت کا بیان