Main Icon

ظلم کی حرمت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 212

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِ اللہ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : کَانَ عَلَی ثَقَل النَّبیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم رَجُلٌ یُقَالُ لَہُ کِرْکِرَۃُ فَمَاتَ فَقَالَ رَسُول اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم : ہُوَ فی النَّارِ فَذ َہَبُوْا یَنْظُرُونَ اِلَیْہِ فَوَجَدُوْا عَبَاء َۃً قَدْ غَلَّہَا.( )

عن عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ قال : کان علی ثقل النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم رجل یقال لہ کرکرۃ فمات فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم : ہو فی النار فذ ہبوا ینظرون الیہ فوجدوا عباء ۃ قد غلہا.( )

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا عبداللہ بن عَمر و رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : رسولِ پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سامان کی دیکھ بھال پر ایک آدمی مقرر تھا ، اُسے کِرْکِرَہْ کہاجاتا تھا۔ وہ مر گیا تو حضور نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا : ’’وہ جہنم میں ہے۔ ‘‘صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے جب اس کے بارے میں

کھوج لگائی تو انہیں ایک چادر ملی جو اس نے خیانت کرتے ہوئے چھپائی تھی۔

شرح حدیث

جہنم میں جانے سے کیا مرادہے؟عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’جہنم میں جانے سے یا تو یہ مراد ہے کہ اس کے گناہ کی وجہ سے اسے عذاب ہو رہا ہے۔ یا پھر یہ مراد ہے کہ اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اسے معاف نہ فرمایا تو وہ خیانت میں لی گئی چادر اس کے لیے آگ ہے۔ ( )
عَلَّامَہ بَدْرُالدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : (1)اس شخص کی سزایہ ہے کہ اس کو دوزخ میں ڈالاجائے مگریہ کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کو معاف فرمادے۔ (2)یہ بھی ممکن ہے کہ اس کو قبر میں دوزخ کا عذاب دیاجائے ، پھر وہ جہنم سے نجات پاجائےاور (3) یہ بھی ہوسکتاہے کہ وہ اصل میں منافق ہو اور اس کے نفاق کی وجہ سے اس پر دوزخ واجب ہوگئی ہو۔ (4)وہ خیانت کے جرم پر ہی بغیرتوبہ کے مرگیا ہو ، اس لیے جہنم میں چلا گیالیکن حضورنبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ایمان ہو اس کودوزخ سے نکال لیاجائےگا۔ ‘‘ ( )
مال غنیمت میں چوری کرنے کا حکم:عَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’اس بات پر اجماع ہے کہ مال غنیمت میں چوری کرنا گناہِ کبیرہ ہے۔ ‘‘ عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں : ’’مال غنیمت میں چوری چاہے کم ہو یا زیادہ دونوں ہی صورت میں حرام ہے ۔ ‘‘( )خیانت کی تعریف:’’بلا اجازتِ شرعی کسی کی امانت میں ناجائز تصرف کرنا خیانت کہلاتا ہے۔ ‘‘( )
خیانت سے متعلق تین فرامین مصطفےٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم:(1)’’منافق کی تین علامتیں ہیں : جب بات کرے تو جھوٹ بولےجب وعدہ کرے تو پورا نہ کرے اورجب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرے اگرچہ وہ نماز پڑھتاہو ، روزے رکھتا ہو اور اپنے آپ کو مسلمان سمجھتا ہو۔‘‘( )(2)’’قیامت کے دن ہر خائن کے لئے ایک جھنڈا گاڑا جائے گا اور کہا جائے گا : سنو! یہ فلاں بن فلاں کی خیانت ہے۔‘‘( )(3)’’مکروفریب اور خیانت جہنم میں لے جانے والے (اعمال) ہیں۔ ‘‘( )خائن کی توبہ کا حکم:خائن کا ربّ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس خیانت سے توبہ کرنے کے ساتھ ساتھ خیانت والی شے اس کے مالک کو واپس کرنا یا اسے معاف کروانا بھی ضروری ہے۔ حضرت علامہ ملا علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : ’’خیانت والی شے کو واپس کرنا یا اسے معاف کروانا صحت توبہ کے لیے شرط ہے۔ ‘‘ ( )عبرت ہی عبرت:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!کسی بھی مسلمان بھائی کی امانت میں خیانت کرنا ناجائز وگناہ ہے ، خائن کے بارے میں “ شعب الایمان “ کی یہ روایت پڑھیےاورعبرت سے سردھنیے :
حضرت سیدنا زاذان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ارشاد فرمایا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں مرناامانت کے علاوہ تمام گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔ بندے کو قیامت کے دن لایا جائے گا اگرچہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں قتل کیا گیا ہواوراس سے کہاجائے گا : ’’اپنی امانت ادا کر۔ ‘‘وہ عرض کرے گا : ’’اے رب عَزَّوَجَلَّ !کیسے ادا کروں حالانکہ دنیا توختم ہوگئی۔ ‘‘پس فرشتوں سےکہا

جائے گا : ’’اسے جہنمی وادی ھَاوِیَۃ کی طرف لے جاؤ۔ ‘‘وہ اسے لے کر ھَاوِیَۃکی جانب چل دیں گے اور پھر اس کی امانت اس کے سامنے اسی حالت میں لائی جائے گی جس حالت میں دنیا میں اسے دی گئی تھی۔ تو وہ اسے دیکھتے ہی پہچان لے گا اور اس کے پیچھے جائے گا یہاں تک کہ اسے حاصل کر لے گا اور اپنے کندھے پر اٹھا لے گا حتی کہ جب اسے یقین ہو جائے گا کہ وہ باہر آ گیا ہے تو وہ اس کے کندھے سے گر جائے گی اور اس طرح وہ ہمیشہ اس کے پیچھے جاتا ہی رہے گا۔ نمازایک امانت ہے ، وضو بھی امانت ہے ، وزن اور ماپ بھی امانت ہیں اور ان میں سخت ترین ودیعت ہے۔ ‘‘
حضرت سیدنازاذان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کہتے ہیں : میں حضرت سیدنا براء بن عازب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے پاس آیا اور ان سے عرض کی : ’’کیاآپ نہیں جانتے کہ حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ایساایساکہاہے؟‘‘ تو ارشاد فرمایا : ’’انہوں
نے سچ کہا ہے ، کیاآپ نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کا یہ فرمانِ عالیشان نہیں سنا : )
اِنَّ اللّٰهَ یَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰۤى اَهْلِهَاۙ-((پ۵ ، النساء : ۵۸) ترجمۂ کنزالایمان : بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں جن کی ہیں انہیں سپرد کردو۔ ( )خیانت ایک برا عمل ہے:حضرت علامہ ابن حجر مکی شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’جہاں تک امانتوں میں خیانت کرنے کامعاملہ ہے توہرایک اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے اَحکامات پرامین ہے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے اپنی بارگاہ میں اس طرح کھڑاکرےگاکہ اس کے اور بندے کے درمیان کوئی ترجمان نہ ہوگا۔ پھراس بندے سے اس کے بارے میں پوچھے گا کہ اس نے شرعی اَحکام میں اس کی امانت کی حفاظت کی یا انہیں ضائع کر دیا؟ لہذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اِن اُخروی سوالات کے جوابات کی تیاری کرے کیونکہ جب اللہ عَزَّوَجَلَّ اِن احکام کے بارے میں اِستفسار فرمائے گا تو اُس دن انکار کی کوئی گنجائش نہ ہو گی۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اِس فرمانِ عالیشان میں غور کیجئے : )اَنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ كَیْدَ الْخَآىٕنِیْنَ(۵۲)((پ۱۲ ، یوسف : ۵۲) ترجمۂ کنزالایمان : اللہ دغا بازوں کا مکر نہیں

چلنے دیتا۔ یعنی امانت میں خیانت کرنے والے کاکوئی حیلہ اسے ہدایت کے مقام پرفائزنہیں کرسکتا بلکہ اسے دنیا میں بھی راہِ ہدایت سے محروم کردیتا ہے اور آخرت میں بھی ساری انسانیت کے سامنے رسوا کرے گا۔ خیانت اگرچہ ہر چیزمیں قبیح ہے لیکن بعض چیزوں میں دوسری چیزوں کے مقابلے میں زیادہ قبیح ہے ، کیونکہ جو شخص روپے پیسے کے معاملے میں تجھ سے خیانت کرے وہ اس شخص کی مثل نہیں ہو سکتا جوتیرے اہل وعیال کے معاملے میں خیانت کا مرتکب ہو۔ نیز اللہ عَزَّوَجَلَّ نے امانت کے معاملے کو انتہائی عظمت دی اور اپنے پاک کلام قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں اس کی تاکید بیان کی ، چنانچہ ارشادہوتا ہے :
اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَى السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ الْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَهَا وَ اَشْفَقْنَ مِنْهَا وَ حَمَلَهَا الْاِنْسَانُؕ-اِنَّهٗ كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًاۙ(۷۲)(پ۲۲ ، الاحزاب : ۷۲)
ترجمۂ کنزالایمان : بیشک ہم نے امانت پیش فرمائی آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں پر تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کیا اوراس سے ڈر گئے اورآدمی نے اٹھالی بیشک وہ اپنی جان کو مشقت میں ڈالنے والا بڑا نادان ہے۔ ( )
مدنی گلدستہ
’’ولی ‘‘کے3حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے3مدنی پھول
(1)مالِ غنیمت ہو یا کوئی اور مال کسی بھی امانت میں بلا اجازتِ شرعی خیانت کرنا حرام اور گناہ ہے۔
(2)خائن کے لیے قرآن وسنت میں بہت سخت وعیدیں آئیں ہیں ، لہذا اگر کسی کے مال میں خیانت کی ہے تو معلوم ہونے کی صورت میں یاتو اسے یا اس کے ورثاء کو واپس کریں یا اس سے معافی کی ترکیب بنائیں ، اور اگر معلوم نہ ہو تو اس سے توبہ کریں اور جس کے مال میں خیانت کی ہے اس کی طرف سے صدقہ کردیں ۔
(3)دنیا و آخرت کی کامیابی و کامرانی اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کےرسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اِطاعت

ہی میں ہے ، بہت خوش نصیب ہے وہ شخص جو دنیا میں رہتے ہوئے آخرت کی تیاری کرتا رہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سےدعاہے کہ وہ ہمیں خیانت جیسے مہلک مرض سے محفوظ فرمائے ، ہمیں خود بھی گناہوں سے بچنے اور دوسروں کو بچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 212