Main Icon

ظلم کی حرمت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 204

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اَنَّ رَسُولَ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : لَتُؤَدُّنَّ الْحُقُوقَ اِلَی اَہْلِہَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ حَتّٰی یُقَادَ لِلشَّاۃِ الْجَلْحَاء ِ مِنَ الشَّاۃِ الْقَرْنَاءِ. ( )

عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قال : لتؤدن الحقوق الی اہلہا یوم القیامۃ حتی یقاد للشاۃ الجلحاء من الشاۃ القرناء. ( )

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’قیامت کے دن تم لوگ ضرور حق داروں کو ان کے حقوق سپرد کرو گے حتّٰی کہ بے سینگ بکری کا سینگ والی بکری سے بدلہ لیا جائے گا۔ ‘‘

شرح حدیث

روزِقیامت جانوروں کا حشر:مذکورہ حدیث پاک کے آخری حصے میں اس بات کا بیان ہے کہ ’’بغیر سینگ والی بکری کو سینگ والی بکری سے بروز قیامت بدلہ دلایاجائے گا۔ ‘‘اس کے تحتعَلَّامَہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرما تے ہیں : ’’حدیث پاک میں یہ تصریح ہے کہ قیامت کے دن جانوروں کو اسی طرح زندہ کیا جائے گا جس طرح مکلف انسا نوں کو دوبارہ زندہ کیا جا ئے گا ۔ اسی طرح بچوں ، مجنونوں اور جن لوگوں کو اسلام کی دعوت نہیں پہنچی اُن کوبھی زندہ کیا جائے گا ۔ قرآنِ پاک اور احادیث مبارکہ میں اس پر دلائل قائم ہیں چنانچہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے پاک کلام قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتاہے :وَ اِذَا الْوُحُوْشُ حُشِرَتْﭪ(۵)(پ۳۰ ، التکویر : ۵)
ترجمۂ کنزالایمان : اور جب وحشی جانور جمع کئے جائیں۔
علما ئےکرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں : ’’ قیامت کے دن جانوروں کا حشر اور دوبارہ زندہ کرنےکے لئے یہ ضروری نہیں کہ اُن کو جزا ، سزا یا ثواب دیا جائےاور یہ جو سینگ والی بکری سے بغیر سینگ والی بکری کابدلہ لیا جائے گا وہ ایسا بدلہ نہیں ہے جیسا انسانوں سے لیا جائےگاکیو نکہ جانورمکلف(یعنی احکام شریعت کے پابند)نہیں ہیں اور یہ بدلہ فقط صورتاً ہوگا۔ ( )(بدلہ دلانے کے بعد ان کومٹی کردیا جائے گا۔ )
سب سے بڑامفلس کون۔۔۔؟میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک کے شروع میں ظلم کا بدلہ دلائے جانے کا بیان ہے کہ کسی کے حق کو تلف کرلینا یہ بھی ایک ظلم ہے اور کل بروز قیامت حق دار کو اس کا حق ظالم سے دلوایا جائے گا۔ عام طور پر لوگ حقوق العباد یعنی بندوں کے حقوق ادا کرنے کی کوئی اہمیت نہیں سمجھتے۔ حالانکہ بندوں کے حقوق کا معاملہ بہت ہی اہم اور نہایت ہی سنگین ہے۔ بلکہ ایک حیثیت سے دیکھا جائے توحُقُوقُ اللہ یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّکے حقوق سے زیادہ حقوق العبادیعنی بندوں کے حقوق سخت ہیں کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ تو اَرْحَمُ الرَّاحِمِیْن یعنی سب سے زیادہ رحم فرمانے والا ہے ۔ وہ اپنے فضل و کرم سے اپنے بندوں پر رحم فرما کر اپنے حقوق معاف فرما

دے گا مگر بندوں کے حقوق کو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس وقت تک نہیں معاف فرمائے گا جب تک بندے اپنے حقوق خود معاف نہ کردیں۔ لہٰذا بندوں کے حقوق کو ادا کرنا یا معاف کرالینا بے حد ضروری ہے ورنہ قیامت میں بڑی مشکلوں کا سامنا ہوگا۔ حدیث پاک میں ہے کہاللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک مرتبہ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے استفسارفرمایا : ’’ کیا تم لوگ جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟ ‘‘صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی : ’’جس شخص کے پاس درہم اور دوسرے مال وسامان نہ ہوں وہی مفلس ہے۔ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’ میری اُمَّت میں اعلیٰ درجے کا مفلس وہ شخص ہے کہ جو قیامت کے دن نماز ، روزہ اور زکوٰۃ کی نیکیوں کولے کر میدان حشر میں آئے گا مگر اس کا یہ حال ہوگا کہ اس نے دنیا میں کسی کو گالی دی ہوگی ، کسی پر تہمت لگائی ہوگی ، کسی کا مال کھالیا ہوگا ، کسی کا خون بہایا ہوگایا کسی کو مارا ہوگا ، تو یہ سب لوگ اپنے اپنے حقوق اس سے طلب کریں گےاوراللہ عَزَّوَجَلَّ اس کی نیکیوں سے تمام حق داروں کو ان کے حقوق کے برابرنیکیاں دلائے گااور اگر اس کی نیکیوں سے تمام حقوق والوں کے حقوق نہ ادا ہو سکے بلکہ نیکیاں ختم ہوگئیں اور حقوق باقی رہ گئے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ حکم دے گا کہ تمام حقوق والوں کے گناہ اس کے سر پر لاد دو۔ چنانچہ سب حق داروں کے گناہوں کو یہ سر پر اٹھائے گا پھر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ ‘‘( )
دنیا میں مال سے، قیامت میں اَعمال سے بدلہ:مُفَسِّرشہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الْاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ اگر دنیا میں تم نے لوگوں کے حقوق ادا نہ کئے تو لامحالہ (یعنی ہر صورت )قیامت میں ادا کرو گے ، دنیا میں مال سےوہاں اَعمال سے۔ ( لہٰذا) بہتر ہے کہ یہاں ہی اداکردو ورنہ پچھتاؤگے۔ ‘‘( )بلااجازت خلال کرنے کا وبال:مشہور تابعی بزرگ حضرت سیدنا وہب بن منبہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ بنی اسرائیل کے ایک

نوجوان نے اپنےسابقہ تمام گنا ہوں سے توبہ کی ، ستر سال تک لگا تار اس طرح عبادت کرتا رہا کہ دن کو روزہ رکھتا ، رات کو جاگ کر عبادت کرتا ، نہ کوئی عمدہ غذاکھا تااور نہ کسی سائے کے نیچے آرام کرتا۔ اِنتقال کے بعد اُس کے ایک دوست نے اُسے خواب میں دیکھا توپوچھا : ’’مَا فَعَلَ اللہُ بِکَ؟یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیا معا ملہ فرمایا؟جواب دیا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ نے حساب لیا ، پھر سارے گناہ بخش دیئے مگر ایک لکڑی جس سے میں نے اُس کے مالک کی اجازت کے بغیر دانتوں میں خلال کر لیا تھا اور وہ معاف کر وانا رہ گیا تھا اس کی وجہ سے مجھےجنت میں جانےسے روک دیا گیا ۔ ‘‘( )
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!حقوق العباد کا معاملہ بہت حساس ہے ، عافیت اسی میں ہے کہ دنیا میں رہتے ہوئے جتنے بھی حقوق العباد جانے انجانے میں تلف ہوئے ان کو معاف کروالیا جائے۔ بزرگان دین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن بھی اس معاملے میں حددرجہ احتیاط فرمایا کرتے تھے۔ چنانچہ ،
آدھاسیب معاف کروانے کے لیے بلخ کاسفر:دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کے مطبوعہ رسالے ’’ظلم کا انجام‘‘ صفحہ ۱۰پر ہے : حضرت سیدنا ابراہیم بن اَدہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے ایک نہر میں سیب دیکھا ، اُٹھا یا اور کھا لیا ۔ مگر یہ خیال آتے ہی پریشان ہو گئے کہ یہ میں نے کیا کیا ؟ اس کے مالک کی اجازت کے بغیر کھالیا۔ چنانچہ مالک کو تلاش کرتے ہوئے باغ تک پہنچے۔ معلوم ہوا کہ باغ کی مالکہ ایک خا تون ہے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اس سے بلا اجازت سیب کھانے کی معذرت طلب کی۔ اس نے عرض کی : ’’حضور!یہ میرا اور بادشاہ کا مشترکہ باغ ہے ، میں تو اپنا حق معاف کردیتی ہوں لیکن بادشاہ کا حق معاف کرنے کا مجھے کوئی اختیار نہیں ۔ ‘‘بادشاہ کی رہائش مشہور شہر بلخ میں تھی۔ لہٰذا سیدنا ابراہیم بن ادہم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمنے آدھا سیب معاف کروانے کیلئے بلخ کا سفر اختیار کیا اور بادشاہ سے معاف کر وا کر ہی دم لیا ۔
اس حکایت میں بغیر پوچھے دوسروں کی چیزیں ہڑپ کرجانے والوں ، سبزیوں اور پھلوں کی ریڑھیوں

سے چپ چاپ کچھ نہ کچھ اٹھا کر اپنی ٹوکری میں ڈال لینے والوں کے لیے عبرت ہی عبرت ہے ، بظاہر معمولی نظر آنے والی شے بھی اگر بغیر اجازت استعمال کرڈالی اور قیامت کے روز پکڑے گئے تو کیا بنے گا؟
امیراہلسنت اورحقوق العباد :میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!شیخ طریقت ، امیرِ اہلِسنّت ، بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہجہاں حُقُوقُ اللہ کو کما حقہ ادا کرنے کی کوشش فرماتے اور دوسروں کو ترغیب دلاتے ہیں وہیں حُقوق ُ العباد کے معاملے میں بھی بے حد احتیاط فرماتے ہیں۔ چنانچہ حقوق العباد کے متعلق فکر آخرت سے بھرپور مدنی ذہن دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں : ’’حُقُوقُ اللہ اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ چاہے تواپنی رحمت سے معاف فرما دے گا۔ مگر حُقوق ُ العِباد کا معاملہ سخْت تر ہے کہ جب تک وہ بندہ جس کا حق تَلَف کیا گیاہے مُعاف نہیں کرےگا اللہ عَزَّوَجَلَّ بھی مُعاف نہیں فرمائے گا ، اگرچہ یہ بات اللہ عَزَّوَجَلَّ پر واجب نہیں مگر اس کی مرضی یہی ہے کہ جس کا حق تَلف کیا گیا ہے ، اُس مظلوم سے مُعافی مانگ کر راضی کیا جائے۔ ‘‘ایک مرتبہ دوران ِگفتگو آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے متعلقین کی ترغیب کیلئے ارشاد فرمایا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ و رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فضْل و کرم سے حُقوق العباد کی ادائیگی کا خوف بچپن ہی سے میرے دل میں بیٹھا ہوا ہے۔ جب میں چھوٹا اور تقریبًا ناسمجھ تھا ، یتیمی اور غربت کا دور تھا۔ حُصولِ مُعاش کے لئے بھنے ہوئے چنے اورمونگ پھلیاں چھیلنے کے لئے گھرمیں لائی جاتی تھیں۔ ایک سير چنے چھیلنے پر چار آنے ، ایک سیر مونگ پھلیاں چھیلنے پر ایک آنہ مزدوری ملتی۔ ہم سب گھر والے مل کر اُسے چھیلتے۔ میں چھوٹا ہونے کی وجہ سے کبھی کبھار چند دانے منہ میں ڈال لیتا لیکن پھر پریشان ہوکر والدہ محترمہ سے عرْض کرتا : ’’ ماں! مونگ پھلی والے سے مُعاف کرالینا۔ ‘‘چنانچہ والدہ محترمہ سیٹھ سے کہتیں کہ’’بچے دو دانے منہ میں ڈال لیتے ہیں۔ ‘‘ جواباً وہ کہہ دیتا : ’’کوئی بات نہیں۔ ‘‘یہ سن کر میں سوچتا کہ میں نے تودو دانے سے زیادہ کھائے ہیں مگر ماں نے تو صرف دو دانے مُعاف کروائے ہیں؟ بعد میں جب شُعور آیا تو پتا چلا کہ ’’دو دانے‘‘ مُحاورہ ہے اور اس سے مُراد تھوڑے دانے ہی ہیں اور میں کبھی تھوڑے دانے کھا لیتا تھا۔ ‘‘( )
مدنی گلدستہ
’’بیت اللہ‘‘کے7حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے7مدنی پھول
(1)حقوق العباد کا معاملہ نہایت ہی حساس ہے ، کل بروز قیامت اللہ عَزَّوَجَلَّ جسے چاہے اپنے تمام حقوق فرمادے گا مگر بندوں کے جوحقوق تلف کیے ہیں جب تک وہ بندے معاف نہیں کریں گے تب تک اللہ عَزَّوَجَلَّ بھی معاف نہیں فرمائے گا۔
(2)بروز قیامت مال ودولت نہ ہوں گے لہٰذا کسی کو بدلہ دلانے کی صورت فقط یہی ہوگی کہ اس کو اتنی نیکیاں دی جائیں یا اس کے گناہ حق تلف کرنے والے کے نامہ اعمال میں ڈال دیے جائیں ۔
(3)قیامت کے دن جانوروں سے بدلہ لینا یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے انصاف پر دلیل ہےکہ اس دن کسی کے ساتھ بے انصافی نہ ہوگی ، جانوروں سے قصاص لینے کے بعد انہیں ہمیشہ کے لیے فنا کر دیا جائےگا۔
(4)حق دار کو اس کا حق دنیا میں ہی ادا کرنے میں عافیت ہے ، ورنہ کل بروز قیامت نیکیوں کی صورت میں دینا ہوگایا اس کے گناہوں کو لینا ہوگا ، اور یقیناً یہ بہت خسارے کا سودا ہے۔
(5)سب سے بڑا مفلس یعنی کنگال شخص وہ ہے جو کل بروزِ قیامت نامہ اعمال میں نیکیاں لے کر آئے گا مگر جن کے حقوق تلف کیے ہوں گے وہ اس کی تمام نیکیاں لے جائیں گے۔
(6)بزرگانِ دِین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن حقوق العباد کے معاملے میں بہت احتیاط فرمایا کرتے تھے۔
(7)شیخ طریقت ، امیراہلسنت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ بچپن سے ہی حقوق العباد کے معاملے میں مدنی ذہن رکھتے تھے ، ہمیں بھی چاہیے کہ اپنے بچوں کا ابھی سے حقوق العباد کے معاملے میں مدنی ذہن بنائیں۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے حقوق کی کما حقہ ادائیگی کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، نیز ہمیں حقوق العباد کے معاملے میں بھی احتیاط کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 204