Main Icon

ظلم کی حرمت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 221

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ خَوْلَۃَ بِنْتِ ثَامِرٍ الْاَنْصَارِیَّۃِ وَہِیَ اِمْرَاَۃُ حَمْزَۃَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ وَعَنْہَاقَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللہِ صَلیَّ اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ : اِنَّ رِجَالًا یَتَخَوَّضُوْنَ فِیْ مَالِ اللہِ بِغَیْرِ حَقٍّ فَلَہُمُ النَّارُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ .( )

عن خولۃ بنت ثامر الانصاریۃ وہی امراۃ حمزۃ رضی اللہ عنہ وعنہاقالت : سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یقول : ان رجالا یتخوضون فی مال اللہ بغیر حق فلہم النار یوم القیامۃ .( )

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا حمز ہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی زوجہ حضرتِ سَیِّدَتُنا خولہ بنت ثامر انصاریہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ میں نے سرکار مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو یہ فرماتے سنا : ’’بعض لوگ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مال میں ناحق تصرف کرتے ہیں ، قیامت کے دن (وہ مال)ان کے لئے آگ ہوگا۔ ‘‘

شرح حدیث

حاکم ومتولی کے ناحق تصرف کی ممانعت:عَلَّامَہ شِھَابُ الدِّین احمد بِن مُحَمَّد قَسْطَلَّانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں : ’’ بعض لوگوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اس مال میں ناحق تصرف کرتے ہیں جسے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مسلمانوں کی

بھلائی کے لئے بنایاہے۔ اس حدیث پاک میں حاکموں اور متولیوں کے لیے ممانعت ہے کہ وہ مسلمانوں کے بیت المال میں ناحق تصرف کریں۔ ‘‘( )
مالِ نا حق کھانے کاانجام دوزخ کی آگ ہے :مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’اللہ کے مال سے مراد بیت المال کا مال ہے ، زکوٰۃ ، خراج ، جزیہ ، غنیمت وغیرہ۔ حق سے مراد ہے یا استحقاق یا سلطان اسلام کی اجازت یعنی بیت المال میں ان کا حق نہیں اور وہ لے لیتے ہیں یا حق کم ہے وہ زیادہ لے لیتے ہیں۔ قیامت کےدن وہ مال ان کے لئے آگ ہوگا۔ ناحق مال کھانے کا انجام دوزخ کی آگ ہے ۔ ‘‘( )مدنی گلدستہ
’’صدیق ‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مال میں ناحق تصرف کرنا گناہ کبیرہ ، حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔
(2)اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مال سے مراد بیت المال ، زکوۃ ، خراج ، عُشر ، جزیہ ومالِ غنیمت وغیرہ ہیں۔
(3)مذکورہ حدیث پاک میں ہر وہ شخص مراد ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مال پر مقرر کیا گیا ہو جیسے حاکم ، متولی ، عامل زکوٰۃ ، چندہ لینے والے یا مالِ غنیمت پر مقرر کیے جانے والے افراد۔
(4)جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کے مال میں ناحق تصرف کرے گا کل بروز ِقیامت وہ مال اس کے لیے آگ ہوگا۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اس کے مال میں ناحق تصرف کرنے سے محفوظ فرمائے ، ہمارے تمام گناہوں کو معاف فرمائے اور بلا حساب جنت میں داخلہ عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 221