- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حدیث نمبر 219
حدیث مبارکہ
وَ عَنْ اُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا اَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِنَّمَا اَنَا بَشَرٌ وَ اِنَّكُمْ تَخْتَصِمُونَ اِلَيَّ وَلَعَلَّ بَعْضَكُمْ اَنْ يَكُونَ اَلْحَنَ بِحُجَّتِهِ مِنْ بَعْضٍ فَاَقْضِيْ لَهُ بِنَحْوِ مَا اَسْمَعُ فَمَنْ قَضَيْتُ لَهُ بِحَقِّ اَخِيْهِ فَاِنَّمَا اَقْطَعُ لَهُ قِطْعَةً مِّنَ النَّارِ. ( )
و عن ام سلمة رضي الله عنها ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : انما انا بشر و انكم تختصمون الي ولعل بعضكم ان يكون الحن بحجته من بعض فاقضي له بنحو ما اسمع فمن قضيت له بحق اخيه فانما اقطع له قطعة من النار. ( )
حدیث ترجمہ
حضرت سیدتنا اُمِّ سَلَمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہےکہ تاجدارِ رِسالت ، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’میں ایک بشر ہوں اور تم اپنے جھگڑے میرے پاس لاتے ہو ۔ شاید تم میں سے کوئی اپنی دلیل کو زیادہ چرب زبانی سے پیش کرے تو میں اس کی بات کو سننے کے مطابق فیصلہ کر دوں لہٰذا جس کو میں اس کے بھائی کا حق فیصلہ کر کےدے دوں تو وہ اسے نہ لے کیونکہ میں اس کے لیے آگ کے ٹکڑے کا فیصلہ کرتا ہوں ۔ ‘‘
شرح حدیث
رسولُ اللہکے ظاہری وباطنی فیصلے:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ حدیث پاک میں رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ظاہر کے مطابق فیصلہ فرمانے کا ذکر ہے ، واضح رہے کہ دو عالَم کے مالک ومختار ، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ظاہر اور باطن دونوں پر فیصلہ کرنا کا اختیار ِکلی عطا فرمایا ہے ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جس کے لیے چاہیں اس کے ظاہری احکام کے مطابق فیصلہ فرمادیں اور جس کے لیے چاہیں اپنے خداداد باطنی علم کے ذریعے فیصلہ فرمادیں۔ امام جلال الدین سیوطی شافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مبارک ظاہری وباطنی فیصلوں کے متعلق ایک رسالہ بنام ’’اَلبَاھِرُ فِیْ حُکْمِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْبَاطِنِ وَالظَّاھِرِ‘‘ تحریر فرمایا ہے ، دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ نے اس کا ترجمہ بنام ’’مدنی آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے روشن فیصلے‘‘ شائع کیا ہے ، اس رسالے میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ظاہری ، باطنی اور ظاہری وباطنی تینوں طرح کے فیصلوں کی تفصیل ملاحظہ کی جاسکتی ہے۔’’میں ایک بشر ہوں ‘‘کے معانی:شارحین کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے اِس کے کئی معانی بیان فرمائے ہیں :
(1) علامہ بدرالدین عینی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ’’اِس سے مراد یہ ہے کہ میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بتائے بغیرذاتی طور پر علم غیب نہیں جانتا ، ہاں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بتائے سے علم غیب جانتا ہوں۔ ‘‘( )
(2) علامہ ابوزکریا یحییٰ بن شرف نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی نے بھی یہی معنی بیان فرمائے ہیں۔ ( )
(3)مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’میں ایک بشر ہوں یعنی خدایا یا خدا کا جزء یا فرشتہ یا جن نہیں ہوں خالص اِنسان ہوں۔ یہ حصر اِضافی ہے لہٰذا اِس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں صرف بشر ہوں ، نہ نبی ہوں ، نہ رسول ، نہ نور ، نہ رحمۃ اللعالمین وغیرہ۔
اللہتعالیٰ نے حضور کو لاکھوں صفات بخشی ہیں مگر حضور ہیں جنس بشر سےجیسے(اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰهٌ وَّاحِدٌۚ-) کے معنیٰ یہ ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ایک ہی اِلٰہہے ، یہ مطلب نہیں کہ وہ اُلُوہیت اور وحدانیت کے سواء کسی صفت سے موصوف نہیں ، نہ کریم ہے ، نہ غفار ، نہ ستار ، نہ مالک الملک وغیرہ۔ اِس فرمانِ عالی کا مقصد یہ ہے کہ ہم ہیں بشر اور بشر سے بھول ، خطا اِجتہادی غلطی بھی ہوسکتی ہے اور وہ دھوکا بھی دیا جاسکتا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ بعض جھوٹے مدعی اپنے کو سچا ظاہر کریں ، ہم اُن کی گواہی پر اعتماد کرکے اسے سچا مان لیں۔ خیال رہے کہ حضراتِ انبیاء کرام (عَلَیْہِمُ السَّلَام) گناہ ، بدعقیدگی اور اِن کے اِرادوں سے معصوم ہیں۔ خطا ئےاِجتہادی سے معصوم نہیں۔ ‘‘( )جو شخص حق پر نہ ہو وہ فیصلہ قبول نہ کرے:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی نے مذکورہ حدیث پاک سے دو مسئلے بیان فرمائے ہیں :
(1) قاضی یا حاکم یا ہر وہ شخص جس کو کسی مقدمے کا فیصلہ کرنے پر مامور کیا گیا ہے وہ اس بات کا پابند ہے کہ فقط فریقین کے دعوے وغیرہ سن کر ظاہری طور پر جو بھی حکم بنتا ہو اس کے مطابق فیصلہ کردے۔
(2) جس شخص کے حق میں فیصلہ ہو اوہ بخوبی جانتا ہے کہ وہ حق پر ہے یا نہیں اگر وہ حق پر نہ ہو تو قاضی کے فیصلے کے مطابق اپنے بھائی کے حق میں سے کچھ نہ لے۔ ‘‘( )
رسولُ اللہظاہر پر فیصلہ فرماتے:عَلَّامَہ نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’مذکورہ حدیث پاک میں اس بات کو بھی بیان کیا گیا ہےکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم لوگوں کے درمیان قسم اور گواہوں کے ذریعے فقط ظاہر پر ہی فیصلہ صادر فرماتے اور آپ کو اسی کا مکلف کیا گیا ہے۔ اگرچہ اللہ عَزَّوَجَلَّ چاہے تو آپ کو فریقین کے باطنی معاملے پر بھی مطلع فرمادے اور آپ قسم وگواہی کے بغیر ہی یقینی فیصلہ فرمادیں لیکن جب اللہ عَزَّوَجَلَّ نے آپ کی اُمَّت
کو آپ کے اَفعال واَقوال و اَحکام کی پیروی کا حکم دیا ہے تو آپ کے لئے بھی ظاہری اَحکام جاری فرمائے تاکہ اُمَّت بھی باطن کی طرف متوجہ ہوئے بغیر ظاہر پر بخوشی آپ کی پیروی کرے۔ ‘‘( )ظاہر پر فیصلہ فرمانے کی حکمت:مُفَسِّر شہِیر ، حَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’خیال رہے کہ حضور صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمکے اکثر و بیشتر فیصلے ظاہر پر ہوتے تھے نہ کہ حقیقت پر تاکہ قیامت تک اُمَّت کے حکام (یعنی قاضی وغیرہ) فیصلوں میں حضور کی اِس سنت پر عمل کریں کہ اُمَّت کے پاس وحی ، اِلہامِ شرعی اور غیب پر اِطلاع نہیں ، اگر حضورِ اَنور کے فیصلے سارے اِلہام وغیرہ پر ہوتے تو اُمت کیسے عمل کرتی ۔ ‘‘( )جھوٹی گواہی پر ہونے والا فیصلہ:حدیثِ پاک میں فرمایا : ’’جس کو میں اس کے بھائی کا حق فیصلہ کر کےدے دوں تو وہ اسے نہ لے کیونکہ میں اس کے لیے آگ کے ٹکڑے کا فیصلہ کرتا ہوں ۔ ‘‘اِس کے تحت “ مرآۃ المناجیح “ میں ہے : “ یعنی میرا جو فیصلہ گواہی یا اِقرار یا قسم سے اِنکار پر ہوگا وہ ظاہر پر ہوگا اگر واقعہ اِس فیصلے کے خلاف ہو اور فریق دوم کو معلوم ہو تو اُس کے لیے اِس فیصلے سے وہ چیز حلال نہ ہوجائے گی حکم حاکم حرام کو حلال نہیں کرسکتا لہٰذا اگر حاکم جھوٹی گواہی پر مال یا خون یا طلاق کا غلط فیصلہ کردے تو مدعی اپنے مقابل کا نہ مال لے نہ قصاص نہ طلاق کی جھوٹی گواہی پر اُس کی عورت سے نکاح کرے۔ خیال رہے کہ جھوٹی گواہی وغیرہ سے جو فیصلہ ہوگا وہ فیصلہ حق ہوگا مگر اِس فیصلے میں حاکم گنہگار نہ ہوگا ، فریقین اور گواہ گنہگار ہوں گے لہٰذا اِس حدیث پاک پریہ اعتراض نہیں کہ حضرات انبیاء کرام خطاء اجتہادی پر قائم نہیں رہتے ، ربّ تعالیٰ انہیں مطلع فرمادیتا ہے تو اِس غلط فیصلے پر حضور کیوں قائم رہتے تھے بذریعہ وحی مطلع کیوں نہ کیے جاتے تھے؟ کیونکہ خطاء اجتہادی فیصلہ ہی غلط ہوتا ہے اگرچہ اس غلطی پر گناہ نہیں بلکہ ثواب ہوتا ہے اوریہاں فیصلہ حق ہے کیونکہ دلیل پر مبنی ہے۔ ‘‘( )
مدنی گلدستہ
’’مدینہ‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول(1)حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ظاہرو باطن دونوں پر فیصلے کرنے کا اختیار عطا فرمایا ہے لیکن آپ اکثر فیصلے ظاہر پر ہی فرماتے ہیں۔
(2)ظاہر پر فیصلے کرنے میں یہ حکمت ہے کہ آئندہ آنے والے قاضی وغیرہ آپ کے فیصلوں کی اتباع کرتے ہوئے اُن کے مطابق فیصلے کرسکیں۔
(3)جو شخص حق پر نہ ہواور اُس کے حق میں فیصلہ کر دیا جائے تواُس پر لازم ہے کہ وہ اس فیصلہ کو قبول نہ کرتے ہوئے اپنے بھائی کا حق نہ لے۔
(4)اگر کسی قاضی نے گواہی یا قسم پر ظاہر کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کردیا مگر گواہوں یا فریقین میں سے کسی ایک نے جھوٹی قسم کھائی تھی تو قاضی پر کوئی گناہ نہ ہوگا بلکہ جھوٹی قسم کھانے والا گنہگار ہوگا۔
(5)ظاہری دلیل کی بنا پر حاکم اِسلام نے اگر کوئی فیصلہ کردیااوروہ فیصلہ حقیقت کے خلاف ہوتو حکم حاکم سےوہ حرام شے حرام ہی رہے گی حلال نہ ہوگی ۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں بالکل صحیح فیصلہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، کسی بھی مسلمان بھائی کا حق جھوٹی قسم کے ذریعے تلف کرنے سے محفوظ فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 219