Main Icon

ظلم کی حرمت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 205

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا قَالَ کُنَّا نَتَحَدَّثُ عَنْ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ وَالنَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَیْنَ اَظْہُرِنَا وَلَا نَدْرِی مَا حَجَّۃُ الْوَدَاعِ حَتّٰی حَمِدَ اللَّہَ رَسُولُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاَثْنَی عَلَیْہِ ثُمَّ ذَکَرَ الْمَسِیْحَ الدَّجَّالَ فَاَطْنَبَ فِی ذِکْرِہِ وَقَالَ : مَا بَعَثَ اللَّہُ مِنْ نَبِیٍّ اِلَّا اَنْذَرَ اُمَّتَہُ اَنْذَرَہُ نُوحٌ وَالنَّبِیُّونَ مِنْ بَعْدِہِ وَاِنَّہُ اِنْ یَخْرُجْ فِیکُمْ فَمَا خَفِیَ عَلَیْکُمْ مِنْ شَاْنِہِ فَلَیْسَ یَخْفَی عَلَیْکُمْ اَنَّ رَبَّکُمْ لَیْسَ بِاَعْوَرَ وَاِنَّہُ اَعْوَرُ عَیْنِ الْیُمْنٰی کَاَنَّ عَیْنَہُ عِنَبَۃٌ طَافِیَۃٌ اَلَااِنَّ اللَّہَ حَرَّمَ عَلَیْکُمْ دِمَاءَ کُمْ وَاَمْوَالَکُمْ کَحُرْمَۃِ یَوْمِکُمْ ہَذَا فِیْ بَلَدِکُمْ ہَذَا فِی شَہْرِکُمْ ہَذَا اَلَا ہَلْ بَلَّغْتُ ؟ قَالُوْ : ا نَعَمْ! قَالَ : اللّٰہُمَّ اشْہَدْ ثَلاَثًا وَیْلَکُمْ اَوْ وَیْحَکُمُ انْظُرُوا : لَا تَرْجِعُوْا یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ. ( )

عن ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما قال کنا نتحدث عن حجۃ الوداع والنبی صلی اللہ علیہ وسلم بین اظہرنا ولا ندری ما حجۃ الوداع حتی حمد اللہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم واثنی علیہ ثم ذکر المسیح الدجال فاطنب فی ذکرہ وقال : ما بعث اللہ من نبی الا انذر امتہ انذرہ نوح والنبیون من بعدہ وانہ ان یخرج فیکم فما خفی علیکم من شانہ فلیس یخفی علیکم ان ربکم لیس باعور وانہ اعور عین الیمنی کان عینہ عنبۃ طافیۃ الاان اللہ حرم علیکم دماء کم واموالکم کحرمۃ یومکم ہذا فی بلدکم ہذا فی شہرکم ہذا الا ہل بلغت ؟ قالو : ا نعم! قال : اللہم اشہد ثلاثا ویلکم او ویحکم انظروا : لا ترجعوا یضرب بعضکم رقاب بعض. ( )

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے روایت ہےکہ ہم حجۃ الوداع کے حوالے سے گفتگو کر رہے تھے کہ حضور نبی کریم ، رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے درمیان تشریف لائے ، ہم حجۃ الوداع کے بارے میں نہیں جانتے تھے۔ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد و ثناء بیان فرمائی ، پھر دجال کا تفصیل کے ساتھ ذکر فرمایا۔ پھر ارشاد فرمایا : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ کے بھیجے ہوئے ہر نبی نے اپنی امت کو دجال سے ڈرایا ، حتی کہ حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلَاماور اُن کے بعد آنے والے تمام انبیاء کرام عَلَیْہِمُ السَّلَامنے بھی اپنی اُمتوں کو اِس سے ڈرایااور اگر دجال تم میں ظاہر ہو جائے تو اُس کا حال تم پر مخفی نہ رہے گا ( یعنی تم اُسے آسانی سے پہچان لوگے) کیونکہ تم پر یہ بات پوشیدہ نہیں کہ بے شک تمہارا ربّ عَزَّوَجَلَّ کانا نہیں جبکہ دجال دائیں آنکھ سے کانا ہے گویا کہ اس کی وہ کانی آنکھ اُبھرا ہوا انگور ہے۔ سنو ! بیشک اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تم پر تمہارے خون اورتمہارے مال اس طرح حرام کردیئے ہیں جس طرح تم پر یہ دن اس مہینے اور اس شہر میں حرام ہے۔ سنو !کیا میں نےتمہیں(اللہ عَزَّوَجَلَّ کا)پیغام پہنچادیا؟‘‘صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی : ’’جی ہاں۔ ‘‘آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بار گاہ الٰہی میں تین مرتبہ یوں عرض کی : ’’اے اللہ

عَزَّوَجَلَّتو بھی اس پر گواہ ہو جا۔ ‘‘پھر فرمایا : ’’تم پر افسوس ہے!دیکھو میرے بعد کافر وں کی طرح نہ ہو جاناکہ ایک دوسرے کی گرد نیں مارنے لگو۔ ‘‘

شرح حدیث

حجۃ الوداع کا کیا مطلب ہے؟علامہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیعمدۃ القاری میں مذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے حجۃ الوداع کے بارے میں لاعلمی کا اظہار اِس لیے فرمایا تھاکہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حجۃ الوداع کا ذکر کیا تو وہ آپس میں با تیں کرنے لگے ، لیکن وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ حجۃ الوداع سے کیا مراد ہے؟آیا نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ظاہری پردہ فرما جائیں گے یا اِس کے کچھ اورمعنیٰ ہے؟اور جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وصالِ ظاہری ہو گیا تو ظاہر ہو گیا کہ اِس سے مراد حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کارُخصت ہو جانا ہے ، کیونکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی وفاتِ ظاہری کے قریب لوگوں کو وصیتیں فرمائی تھیں ۔ ‘‘( )حجۃ الوداع کے اَسماء اور اُن کی وجہ تسمیہ:دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۷۲۲صفحات پرمشتمل کتاب ’’فیضان صدیق اکبر‘‘ صفحہ۲۷۹ پر ہے : ۱۰سن ہجری میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حج ادا فرمایا ، اسے حَجَّۃُالوَدَاع ، حَجَّۃُالاِسلام ، حَجَّۃُالبَلَاغ اورحَجَّۃُ التَّمَام وَالکَمَال بھی کہتے ہیں۔ (1)حجۃ الوداع کہنے کی وجہ یہ ہے کہ نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے لوگوں کو الوداع کہا اور وصیت فرمائی کہ میرے بعد کفر کی طرف نہ لوٹ جانا نیز صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے گواہی لی کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیغامات ان تک پہنچادیئے ہیں۔ (2) حجۃ الاسلام کہنے کہ وجہ یہ ہے کہ مدینہ منورہ میں حج کی فرضیت کے بعد آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صِرف یہی حج کیا۔ (3) حجۃ البلاغ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ نبی کریم رؤف رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اَحکامِ شرع لوگوں تک پہنچادیئے۔ (4) حجۃ التمام والکمال

اس لیے کہتے ہیں کہ اس حج میں وقوف عرفہ کے دن پارہ ۶سورۃ المائدہ کی آیت نمبر۲ نازل ہوئی :
اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًاؕ-(پ۶ ، المائدۃ : ۳)
ترجمۂ کنزالایمان : آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو دِین پسند کیا۔
واضح رہے کہ ہجرت سے پہلے مکی دور میں دو عالَم کے مالِک و مختار ، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہر سال حج فرمایا کرتے تھے ، لیکن ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں حج کی فرضیت کے بعد آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صرف یہی حج فرمایا۔( )
دجال کی آنکھ کے بارے میں مختلف اقوال:مذکورہ حدیث پاک میں دجال کا ذکر ہے نیز اس کی ایک نشانی بھی بیان کی گئی ہے کہ وہ ایک آنکھ سے کانا ہوگا۔ عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِینے مختلف روایات کے حوالے سے دجال کی آنکھ کے بارے میں مختلف اقوال بیان فرمائے نیز اُن میں تطبیق بھی بیان فرمائی ہے : (1)اس کی آنکھ اُبھرا ہوا انگور ہے۔ (2) اس کی آنکھ کا ڈھیلا اُبھرا ہوا ہے۔ (3)اس کی دائیں آنکھ کانی ہے۔ (4)اس کی آنکھ ہموار ہے جس پر موٹا ناخنہ ( )ہے۔ (5)اس کی بائیں آنکھ کانی ہے۔ اِن تمام اَقوال میں یوں مطابقت کی جاسکتی ہے کہ دجال کی ایک آنکھ بالکل صحیح ہے اور دوسری آنکھ میں عیب ہے۔ ( )دجال کو دجال کہنے کی وجہ:عَلَّامَہ مُحَمَّد بِنْ عَلَّان شَافِعِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی مذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’دجال کا مطلب ہے بہت بڑا جھوٹا چونکہ دجال کا زندہ کرنے اور مارنے وغیرہ کے متعلق جو دعویٰ ہے

اس بات کو مؤمن ہی کیا ہر عقل مند شخص جھوٹا خیال کرتا ہےلہٰذا اسے دجال کہا گیا ۔ ( )
میرے بعد کافروں کی طرح نہ ہوجانا:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیحدیث پاک کے ان الفاظ ’’ میرے بعد کافروں کی طرح نہ ہوجانا۔ ‘‘ کے معنیٰ بیان کرتے ہوئے فرماتےہیں : ’’یعنی جب میں دنیا سے رخصت ہو جاؤں توتم میرے بعد ایمان وتقوی پر اُسی طرح قائم رہناجس طرح ابھی ہو ، کسی پر ظلم نہ کرنا ، مسلمانوں سے جنگ نہ کرنا ، نہ ہی ناجائز طریقے سےان کے اموال چھیننا کیونکہ یہ اَفعال گمراہی اور حق سے باطل کی طرف تجاوز ہیں۔ ( ) عَلَّامَہ شِھَابُ الدِّین اَحْمَد بِنْ مُحَمَّد قَسْطَلَّانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی فرماتے ہیں : ’’یعنی میرے وصال کے بعد مسلمانوں کی گردنیں مارنے میں اپنے اَفعال کافروں جیسے نہ کرلینا۔ ‘‘( )مدنی گلدستہ
’’ابدال‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)حجۃ الوداع رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا آخری خطبۂ حج ہے ، اس کے بعد آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دنیا سے تشریف لے گئے۔
(2)اس خطبہ میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو وعظ ونصیحت فرمائی۔
(3)دجال ایک حقیقت اور بہت بڑا فتنہ ہے جو قرب قیامت میں ظاہر ہوگا۔ اس کا ظہور قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔
(4)دجال کا فتنہ اتنا شدید ہوگا کہ پچھی امتوں کے انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَامبھی اس کے فتنے سے اپنی

امتوں کو ڈراتے تھے۔
(5)حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حجۃ الوداع کے خطبے میں اُمت مُسْلِمَہ کو ایمان پر قائم رہنے ، اَعمالِ صالحہ کرنے ، ظلم سے بچنے اور مسلمانوں کو ناحق قتل کرنے سے منع فرمایا۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعاہے کہ وہ مسلمانوں کو باہم محبت وبھائی چارہ سے رہنے کی توفیق عطافرمائے ، ہمیں تقویٰ وپرہیزگاری کی توفیق عطافرمائے ، ناحق قتل جیسے بڑے گناہ سے محفوظ فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 205