Main Icon

ظلم کی حرمت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 213

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِي بَكْرَةَ نُفَیْعِ بْن الْحَارِثِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَن النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : اِنَّ الزَّمَانَ قَدِ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضَ السَّنَةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا مِنْهَا اَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ثَلَاثٌ مُتَوَالِيَاتٌ ذُو الْقَعْدَةِ وَذُو الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمُ وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِيْ بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ اَيُّ شَهْرٍ هَذَا؟ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ اَعْلَمُ فَسَكَتَ حَتَّى ظَنَنَّا اَنَّهُ سَيُسَمِّيْهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ قَالَ : اَلَيْسَ ذَا الْحِجَّةِ؟ قُلْنَا بَلٰی. قَالَ : فَاَ يُّ بَلَدٍ هَذَا؟ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُوْلُهُ اَعْلَمُ فَسَكَتَ حَتّٰى ظَنَنَّا اَنَّهُ سَيُسَمِّيْهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ. قَالَ اَلَيْسَ الْبَلْدَةَ الْحَرَامَ؟ قُلْنَا بَلٰی. قَالَ : فَاَيُّ يَوْمٍ هَذَا؟ قُلْنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ اَعْلَمُ فَسَكَتَ حَتّٰى ظَنَنَّا اَنَّهُ سَيُسَمِّيْهِ بِغَيْرِ اسْمِهِ. قَالَ اَلَيْسَ يَوْمَ النَّحْرِ؟ قُلْنَا بَلٰى. قَالَ : فَاِنَّ دِمَاءَكُمْ وَاَمْوَالَكُمْ وَاَعْرَاضَكُمْ عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هٰذَا فِي بَلَدِكُمْ هٰذَا فِي شَهْرِكُمْ هٰذَا وَسَتَلْقَوْنَ رَبَّكُمْ فَيَسْاَلُكُمْ عَنْ اَعْمَالِكُمْ اَلَا فَلَا تَرْجِعُوْا بَعْدِيْ کُفَّارًا يَضْرِبُ بَعْضُكُمْ رِقَابَ بَعْضٍ اَلَا لِيُبَلِّغِ الشَّاهِدُ الْغَائِبَ فَلَعَلَّ بَعْضَ مَنْ يُبَلَّغُهُ اَنْ يَّكُوْنَ اَوْعٰى لَهُ مِنْ بَعْضِ مَنْ سَمِعَهُ ثُمَّ قَالَ : اَلَا هَلْ بَلَّغْتُ؟ اَلَا هَلْ بَلَّغْتُ ؟ قُلْنَا نَعَمْ. قَالَ:اللّٰہُمَّ اشْھَدْ . ( )

عن ابي بكرة نفیع بن الحارث رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم قال : ان الزمان قد استدار كهيئته يوم خلق الله السموات والارض السنة اثنا عشر شهرا منها اربعة حرم ثلاث متواليات ذو القعدة وذو الحجة والمحرم ورجب مضر الذي بين جمادى وشعبان اي شهر هذا؟ قلنا الله ورسوله اعلم فسكت حتى ظننا انه سيسميه بغير اسمه قال : اليس ذا الحجة؟ قلنا بلی. قال : فا ي بلد هذا؟ قلنا الله ورسوله اعلم فسكت حتى ظننا انه سيسميه بغير اسمه. قال اليس البلدة الحرام؟ قلنا بلی. قال : فاي يوم هذا؟ قلنا الله ورسوله اعلم فسكت حتى ظننا انه سيسميه بغير اسمه. قال اليس يوم النحر؟ قلنا بلى. قال : فان دماءكم واموالكم واعراضكم عليكم حرام كحرمة يومكم هذا في بلدكم هذا في شهركم هذا وستلقون ربكم فيسالكم عن اعمالكم الا فلا ترجعوا بعدي کفارا يضرب بعضكم رقاب بعض الا ليبلغ الشاهد الغائب فلعل بعض من يبلغه ان يكون اوعى له من بعض من سمعه ثم قال : الا هل بلغت؟ الا هل بلغت ؟ قلنا نعم. قال:اللہم اشھد . ( )

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا ابو بکرہ نفیع بن حارث رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’زمانہ اپنی اس دن کی اصل حالت پر واپس آگیا جس دن اللہ عَزَّوَجَلَّ نے زمین و آسمان کو پیدا کیا۔ سال بارہ مہینوں کا ہوتا ہے ان میں سے چار ماہ حرمت والے ہیں : تین تو

ایک ساتھ ہیں ذوالقعدہ الحرام ، ذوالحجہ الحرام اور محرم الحرام اور مُضَرْ والوں کا رجب جو کہ جمادی الآ خر اور شعبان کے بیچ میں ہے۔ ‘‘ پھر استفسار فرمایا : ’’ یہ کون سا مہینہ ہے؟ ‘‘ ہم نے عرض کی : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کا رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بہتر جانتے ہیں۔ ‘‘ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کچھ دیر خاموش رہے تو ہمیں گمان ہوا کہ شاید آپ اس مہینے کا کوئی دوسرا نام رکھ دیں گے۔ پھر فرمایا : ’’کیا یہ ذوالحجہ نہیں؟ ‘‘ہم نے عرض کی : ’’جی ہاں۔ ‘‘پھر فرمایا : ’’یہ کون سا شہر ہے؟‘‘ ہم نے عرض کی : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کا رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بہتر جانتے ہیں۔ ‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کچھ دیر خاموش رہے ، ہمیں پھر یہی گمان ہوا کہ شاید آپ اس شہر کا کوئی اورنام رکھ دیں گے۔ پھر ارشاد فرمایا : ’’کیا یہ شہرِ حرام نہیں ؟‘‘ہم نے عرض کی : ’’ جی ہاں۔ ‘‘پھر فرمایا : ’’یہ کون سا دن ہے؟ ‘‘ہم نے عرض کی : ’’اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کا رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بہتر جانتے ہیں۔ ‘‘ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کچھ دیر خاموش رہے ، ہمیں پھر وہی گمان ہوا کہ شاید آپ اس دن کا کوئی دوسرا نام رکھ دیں گے۔ پھر فرمایا : “ کیا یہ یومِ نحر یعنی قربانی کا دن نہیں؟‘‘ہم نے عرض کی : ’’جی ہاں۔ ‘‘ پھر فرمایا : ’’بے شک تمہارے خون ، تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تم پر ایسے ہی حرام ہیں جیسےتمہاراآج کا دن تمہارے اس شہر اور تمہارے اس مہینے میں حرام ہے۔ عنقریب تم اپنے رب سے ملاقات کروگے ، وہ تم سے تمہارے اعمال کے بارے میں پوچھے گا ، خبردار! میرے بعد تم لوگ کفر کی طرف نہ لوٹ جانا کہ تم میں سے بعض بعض کی گردنیں مارنے لگیں ، جو حاضر ہیں انہیں چاہیے کہ وہ غائب تک میری یہ باتیں پہنچادیں ۔ ہوسکتا ہے جنہیں بات پہنچائی جائے اِن میں سے بعض زیادہ یاد رکھنے والے ہوں ، بعض سننے والوں سے۔ ‘‘پھردوبار ارشاد فرمایا : ’’سنو! کیا میں نےتبلیغ کردی؟ سنو !کیا میں نے تبلیغ کردی؟‘‘ ہم نے عرض کی : ’’ جی ہاں۔ ‘‘ پھر فرمایا : ’’اے اللہ عَزَّوَجَلَّ توبھی گواہ ہوجا۔ ‘‘

شرح حدیث

حرمت والے مہینوں میں رَدّوبدل:زمانہ جاہلیت میں عرب والے اَشہُرِحُرُم(یعنی ذوالقعدہ ، ذو الحِجّہ ، محرم ، رَجَب) کی حرمت و عظمت کے معتقِد تھے کہ ان مہینوں میں جنگ و جدال نہیں کرتے تھے تو جب کبھی لڑائی کے زمانے میں یہ حرمت والے مہینے آجاتے تو یہ ان پر بہت شاق گزرتا۔ اس لئے انہوں نے یہ کیا کہ ایک مہینے کی حُرمت دوسرے

مہینے کی طرف منتقل کرنے لگے ، محرم کی حرمت صَفَر کی طرف منتقل کرکے محرم میں جنگ جاری رکھتے اورمحرم کے بجائے صَفَر کو ماہِ حرام بنا لیتے اور جب کبھی اس سے بھی حرمت منتقل کرنے کی ضرورت سمجھتے تو اس میں بھی اپنے لئے جنگ حلال کر لیتے اور اس کے بجائے ربیع الاوّل کو ماہِ حرام قرا ر دیتے ۔ اس طرح حرمت سال کے تمام مہینوں میں گھومتی رہتی اور ان کے اس طرح کرنے سے ماہ ِحرام کی تخصیص ہی باقی نہ رہتی(کہ کونسا مہینہ حرمت والا ہے )۔ سیدِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حجَّۃُ الْوَداع میں اعلان فرمایا کہ نَسِی( یعنی ماہ محرم کی حرمت کو صفر کی طرف بڑھا دینے) کے مہینے زمانہ کے گزرنے کے ساتھ گزر چکے ہیں۔ اب مہینوں کے اوقات کار اپنی اسی اصل وضع پر آچکے ہیں کہ جس دن اللہ عَزَّ وَجَلَّنے زمین و آسمان کو پیدا کرتے ہوئے مہینوں کو مقرر کیا تھا ۔ ( )
رجب کو قبیلہ مُضَر کی طرف مَنسوب کرنے کی وجہ:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی فرماتے ہیں : ’’رجب کے مہینے کو قبیلۂ مُضَر کی طرف منسوب اس لیے کیا کیوں کہ مُضَرْ والے عرب میں سب سے زیادہ رجب کی حرمت کی تعظیم کرتے تھے۔ عرب میں کوئی بھی شخص رجب میں جنگ کرنے کو حلال نہیں جانتا تھا۔ اہلِ عرب حرمت والے مہینوں کو حلال کردیتے تھے اور ان کی جگہ دوسرے مہینوں کو حرام کردیتے تھے یہاں تک کہ انہوں نے حرمت والے مہینوں کی تخصیص کو چھوڑدیا تھا پس وہ پورے سال میں سے کوئی سے بھی چار مہینوں کو حرام کردیتے تھے اور کبھی کبھی تو وہ اتنی زیادتی کر بیٹھتے تھے کہ بارہ مہینوں کے بجائے تیرہ یا چودہ مہینوں کا سال بنادیتے تھے۔ ‘‘( )صحابہ کراماورتعظیم نبی:علامہ نووی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کاحضور نبی کریم رؤ ف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں یہ عرض کرنا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کا رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بہتر جانتے ہیں اصل میں بارگاہِ رسالت کے ادب کی وجہ سے تھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ جو بات

ہمارے علم میں ہے وہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے علم میں بھی ہے۔ اسی وجہ سے انہوں نے جواب دینا مناسب نہیں سمجھا۔ نیز صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان یہ بھی جانتے تھے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ہم سے اس طرح پوچھنا فقط کسی بات کی خبر دینے کے لیے نہیں ہے بلکہ یقیناً اس کے پیچھے کئی حکمتیں پوشیدہ ہیں ، یہی وجہ ہے کہ انہوں نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جواب میں عرض کیا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کا رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بہتر جانتے ہیں۔ ‘‘( )
حدیث پاک سے ماخوذ چند مسائل:مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان نےمراٰۃُ المناجیح میں مذکورہ حدیث کی شرح کے ضمن میں کئی مسائل اور مفید باتیں ذکر فرمائی ہیں ، خلاصہ پیش خدمت ہے :٭∞ زمانہ مطلق وقت کو کہتے ہیں لیکن یہاں حدیث پاک میں قمری یعنی اسلامی سال مراد ہے۔٭∞ اہل عرب زمانہ جاہلیت میں دو حرکتیں کرتے تھے ایک تو کبھی سال کو تیرہ ماہ کا بنادینا ، کبھی تو جنگ کی وجہ سے مہینوں کوتبدیل کردیتے جس سے بقر عید بھی تبدیل ہوجاتی ، یہی وجہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی والدہ ماجدہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے حاملہ ہوئیں اسی سال رجب کو بقر عید مان کر حج کیا گیا تھا اسی لیے روایات میں آتا ہے کہ جناب آمنہ کا حاملہ ہونا ایام منٰی میں ہوا ، جس سال حضور انور نے حج کیا اسی سال حسن اتفاق سے سال بارہ ماہ کا ہوا اور ہر مہینہ اپنے اصل پر منایا گیا۔ لہٰذا یہ اعتراض ختم ہوگیا کہ جب استقرار حمل شریف ایام حج میں ہوا اور ربیع الاول میں ولادت مبارک ہوئی تو نو ماہ کیسے پورے ہوئے؟ معلوم ہوگیا کہ وہ ماہ رجب تھا جسے بقر عید بنا کر حج کیا گیا تھا۔٭∞ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا خاموش رہنا اہتمام کے لیے تھا کیونکہ جو بات انتظار کے بعد معلوم ہو وہ خوب یاد رہتی ہے۔٭∞ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے اس فرمان کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کا رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بہتر جانتے ہیں واضح ہوا کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ ذکر کرنا ناجائز وممنوع نہیں بلکہ عین ایمان ہے۔٭∞ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خاموشی پر یہ گمان

کیا کہ شاید آپ نام تبدیل فرمادیں گے ، معلوم ہوا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو نام تبدیل کرنے کا بھی اختیار ہے۔
٭∞ حدود حرم میں جیسے نیکی ایک کی ایک لاکھ بن جاتی ہے ، ویسے ہی گناہ بھی ایک کا لاکھ ہے ، اس لئے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایاکہ ’’جیسے یہاں کا گناہ دوسرے مقامات کے گناہ سے سخت تر ہے ایسے ہی مسلمان کے خون مال آبرو ظلماً برباد کرنا سخت تر ہے۔ ‘‘٭∞ حضور انور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی تبلیغ پر تمام کو گواہ بنایا ، اب بھی حجاج روضہ اقدس پر عرض کرتے ہیں یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آپ نے پوری تبلیغ فرمادی۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دوسرے تمام صحابہ کو احادیث کی تبلیغ کا حکم دیا۔ لہذا علماء کو چاہیے کہ دین کو نہ چھپائیں ، یہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی امانت ہے ، اسے امت کے حوالے کردیں ، تیسرے یہ کہ رحمتِ الٰہی کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہے گا ، چمن اسلام میں پھول کھلتے رہیں گے۔ رب نے اپنے حبیب کی اس بات کو کیسا سچا کیا ، سبحٰنَﷲ∞ چاروں امام مجتہدین دیگر فقہاء صوفیاء بعد میں پیدا ہوئے جنہوں نے ان ہی احادیثِ مبارکہ سے قیمتی موتی نکالے اور اُمَّتِ مُسلمہ کے لیے آسانی کرتے ہوئے دین کو واضح کردیا۔ ( )مدنی گلدستہ
’’اسلام‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)ذوالقعدۃ ، ذوالحجۃ ، محرم الحرام اور رجب المرجب یہ چار وہ مہینے ہیں جن کا زمانہ جاہلیت میں اہل عرب بھی بہت احترام کیا کرتے اور ان مہینوں میں جنگ نہ کرتے تھے۔
(2)صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان بارگاہِ رسالت کا حددرجہ ادب واحترام کیا کرتے تھے کہ جواب معلوم ہونے کے باوجود بھی رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف رجوع کرتے تھے۔
(3)اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ذکر کے ساتھ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ذکر خیر کرنا کوئی ناجائز وممنوع کام نہیں بلکہ عین ایمان ہے اور صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی سنت ہے۔

(4)رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے احادیث مبارکہ کو امت مسلمہ تک پہنچانے کا حکم فرمایا۔
(5)علم دِین پھیلانے کا حکم خود سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے دیا ہے لہٰذا علمائے دین کو چاہیے کہ عام لوگوں تک علم دین کو پھیلاتے رہیں ، یہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی امانت ہے ، ائمہ مجتہدین رَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن نے بھی اپنا فریضہ ادا کیا اور قرآن وسنت سے مسائل کا اِستخراج کرکے اُمَّتِ مُسْلِمَہ کے لیے دِین کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا آسان بنایا۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں علم دِین حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 213