- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حدیث نمبر 217
حدیث مبارکہ
عَنْ اَبِی قَتَادَةَ الْحَارِثِ بِنْ رِبْعِیِّ رَضِیَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنَّهُ قَامَ فِيهِمْ فَذَكَرَ لَهُمْ اَنَّ الْجِهَادَ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ وَالْاِيْمَانَ بِاللَّهِ اَفْضَلُ الْاَعْمَالِ فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ اَرَاَيْتَ اِنْ قُتِلْتُ فِي
سَبِيلِ اللَّهِ تُكَفَّرُ عَنِّي خَطَايَايَ؟ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ اِنْ قُتِلْتَ فِي سَبِيْلِ اللَّهِ وَاَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَيْفَ قُلْتَ؟ قَالَ اَرَاَيْتَ اِنْ قُتِلْتُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ اَتُكَفَّرُ عَنِّي خَطَايَايَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : نَعَمْ وَاَنْتَ صَابِرٌ مُحْتَسِبٌ مُقْبِلٌ غَيْرُ مُدْبِرٍ اِلَّا الدَّيْنَ فَاِنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلَام قَالَ لِي ذٰلِكَ. ( )
عن ابی قتادة الحارث بن ربعی رضی الله عنه عن رسول الله صلى الله عليه وسلم انه قام فيهم فذكر لهم ان الجهاد في سبيل الله والايمان بالله افضل الاعمال فقام رجل فقال : يا رسول الله ارايت ان قتلت في
سبيل الله تكفر عني خطاياي؟ فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم : نعم ان قتلت في سبيل الله وانت صابر محتسب مقبل غير مدبر ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : كيف قلت؟ قال ارايت ان قتلت في سبيل الله اتكفر عني خطاياي؟ فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم : نعم وانت صابر محتسب مقبل غير مدبر الا الدين فان جبريل عليه السلام قال لي ذلك. ( )
حدیث ترجمہ
حضرت سیدنا ابو قتادۃ حارث بن ربعی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اُن کے درمیان کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا : ’’ تمام کاموں سے افضل اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں جہاد کرنا اور اللہ عَزَّوَجَلَّ پر ایمان لانا ہے۔ ‘‘ ایک شخص کھڑا ہوااور عرض کی : ’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آپ کا کیا خیال ہے کہ اگر میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں شہید کردیا جاؤں تو کیا میرے تمام گناہ مٹا دئیے جائیں گے؟‘‘ نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا : ’’ہاں !اگر تم اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں اس حال میں شہید ہوئے کہ تم صبر کرنے والے ، مُحْتَسِب ( یعنی ثواب کی امید کرنے والے) ، جنگ میں آگے بڑھنے والے رہے اور پیٹھ پھیر کر پیچھے ہٹنے والے نہ ہوئے تو تمہارے سارے گناہ مٹادیئے جائیں گے۔ ‘‘ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’تم نے کیا پوچھا تھا؟‘‘ اس نے عرض کی : ’’مجھے یہ ارشاد فرمائیے کہ اگر میں اللہ عَزَّوَجَلَّ کی راہ میں شہید کردیا جاؤں تو کیا میرے تمام گناہ معاف کردئیے جائیں گے؟‘‘ فرمایا : اگر تم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں اس حال میں شہید ہوئے کہ تم صبر کرنے والے ، مُحْتَسِب ( یعنی ثواب کی امید کرنے والے) ، جنگ میں آگے بڑھنے والے رہے اور پیٹھ پھیر کر پیچھے ہٹنے والے نہ ہوئے تو تمہارے سارے گناہ مٹادیئے جائیں گے۔ مگریہ کہ قرض معاف نہ ہوگا۔ جبریل عَلَیْہِ السَّلَامنے مجھے یہ بات بتائی ہے۔ ‘‘
شرح حدیث
حقوق العباد کی اہمیت:عَلَّامَہ اَبُوْ زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : اِس حدیث میں مجاہدِ اسلام کے لئے ایک بہت بڑی فضیلت بیان کی گئی ہےاور وہ یہ کہ حقوق العباد کے سوا اُس کے تمام گناہ معاف ہوجائیں
گےاور اُس کے گناہوں کا مِٹ جانا کچھ چیزوں کے ساتھ مَشروط ہے وہ یہ کہ جب وہ شہید کیا جائے تو وہ صابر ہو ، ثواب کی امید رکھتا ہو ، آگے بڑھنے والا ہو اور بزدلی کی وجہ سے پیچھے ہٹنے والا نہ ہو۔ اِس حدیث میں یہ بھی ہے کہ اَعمال نیک نیت اور اِخلاص کے بغیر فائدہ مند نہیں۔ مُحْتَسِبْ( یعنی ثواب کی امید رکھنے والا) وہ ہے جو اِخلاص کے ساتھ اللہ کے لئے( کفار سے ) لڑے پس اگر وہ عصبیت( یعنی طرف داری) کے لئے یا مالِ غنیمت کے لئے یا شہرت کے لئے جنگ کرتا ہے تو اُس کے لئے کسی قسم کا کوئی ثواب نہیں۔ حضور نبی کریم ، رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا یہ فرمانا : ’’لیکن قرض معاف نہ ہوگا۔ ‘‘اس میں تمام حقوق العبادکی حُرمت پر تنبیہ ہےکہ جہاد ، شہادت اور اِس جیسے دیگر نیک اعمال سے بھی حقوق العباد معاف نہیں ہوں گےصرف حُقُوقُ اللہ ہی معاف ہوسکتے ہیں۔ ‘‘( )جہاد سب سے افضل یا نماز؟عَلَّامَہ مُلَّا عَلِیْ قَارِیْ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِیْ فرماتے ہیں : ’’حدیث پاک میں اِس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بیشک ایمان ہونے کے ساتھ ساتھ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی راہ میں جہاد کرنا جسمانی اور روحانی دونوں اعتبار سے افضل ہے ، اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ بعض احادیث میں فرمایا کہ نماز تمام اَعمال سے افضل ہے اور مذکورہ حدیث میں ہے کہ جہاد تمام اَعمال سے افضل ہے۔ اس کا جواب یہ ہے ہر ایک کی افضلیت کسی نہ کسی خاص وجہ سے ہے۔ مثلاًنمازکی افضلیت ہمیشہ پڑھتے رہنے کی وجہ سے ہے اور جہادکی افضلیت اس کی مشقت کی وجہ سے ہےلیکن جہاد کے افضل ہونے کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ اس میں نماز کی پابندی کی جائے ورنہ نماز کے بغیر صرف جہاد کی کوئی فضیلت نہیں۔ ‘‘( )کون سا قرض معاف نہ ہوگا؟دَین ( قرض )سے مراد وہ قرضہ ہے جس کے ادا کرنے کی نیت نہ ہو۔ علامہ توربشتی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی
فرماتے ہیں : ’’یہاں دَین سے مرادمسلمانوں کے وہ تمام حقوق ہیں جن کی ادائیگی اُس کے ذمہ باقی ہو۔ “ علامہ علی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : “ میں کہتا ہوں دریا میں شہید ہونے والے کے تمام گناہ اور قرض معاف کردئیے جائیں گے جیسا کہ حدیث میں وارد ہواہے اور یہ بھی بیان کیا گیا ہےکہ دریا میں شہید ہونے والے کی روح اللہ عَزَّوَجَلَّ قبض فرماتا ہےاور اسے ملک الموت کے حوالے نہیں کرتا۔ ‘‘( )
مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’قرض کے متعلق شارحین کے کئی اقوال ہیں : بعض نے فرمایا کہ قرض سے مراد بندے کے سارے تلف کیے ہوئے حقوق ہیں ، چوری ، خیانت ، غصب ، قتل وغیرہ۔ بعض نے فرمایا کہ قرض سے وہ قرضہ مراد ہے جس کے ادا کرنے کی نیت نہ ہو ، اگر ادا کی نیت تھی مگر موقعہ نہ ملا کہ شہیدہوگیا وہ قرض خود قرض خواہ سے معاف کرادیا جائے گا۔ ‘‘( )دوبارہ سوال کرنے کی وجہ:اِمَام شَرَفُ الدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّدطِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : ’’اگرچہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس شخص کا سوال ایک بار سن چکے تھے لیکن آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس لئے دوبارہ سوال کیاتاکہ اسے دوبارہ جواب دیں اور اس میں قرض کا ذکر بھی کر یں۔ ‘‘( )وحی کے متعلق دو اہم باتیں:’’جبریل عَلَیْہِ السَّلَامنے مجھے یہ بات بتائی ہے۔ ‘‘اس کے تحت مُفَسِّر شہِیر مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : ’’یعنی ابھی وحی الہی آئی جس میں مجھ سےیہ فرمایاگیا۔ اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے ایک یہ کہ حضور پر صرف قرآن کریم کی ہی وحی نہ ہوئی ، اس کے علاوہ اور بھی وحی ہوئی ہیں۔ دوسرا یہ کہ ہر وحی کو صحابہ کرام دیکھا نہ کرتے تھے ، بعض وقت اُن حضرات نے وحی آتے دیکھی ، بلکہ بعض اوقات
جبرائیل امین کو بھی دیکھا اور بعض اوقات کچھ بھی نہ دیکھا۔ ربّ تعالیٰ نے اپنے محبوب سے باتیں کرلیں پاس والوں کو خبر بھی نہ ہوئی۔ اِس وقت جو وحی آئی یہ اسی دوسری قسم کی تھی۔ بعض شارحین نے فرمایا کہ یہ وحی پہلے آچکی تھی مگر یہ درست نہیں ، ورنہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم اس سائل سے یہ پہلے ہی فرمادیتے ، دوبارہ بلانے اور سوال پوچھنے کی حاجت نہ ہوتی۔ ‘‘( )مدنی گلدستہ
’’صدیق‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول(1)اچھی نیت اورا ِخلاص کے بغیرنیک اَعمال کا بھی ثواب نہیں ملتا ۔
(2) قرض ادا کرنے کی نیت ہو لیکن کسی وجہ سے ادا نہ کرسکا اور شہیدکر دیا گیا تو وہ قرض خود قرض خواہ سے معاف کرادیا جائے گاالبتہ جس قرض کو ادا کرنے کی نیت ہی نہ تھی وہ معاف نہ ہوگا۔
(3)جہاد کرنے والے شخص کے لئے ایک بہت بڑی فضیلت یہ ہے کہ حقوق العباد کے علاوہ اُس کے تمام گناہوں کو معاف کر دیا جائے گا۔
(4)دریا اور سمندر میں شہید ہونے والے کےتمام گناہوں کی معافی کے ساتھ اُس کا قرضہ بھی معاف ہوجاتا ہے ، اور اُس کی رُوح بلاواسطہ خود اللہ عَزَّوَجَلَّ قبض فرماتا ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ ہمیں ہر نیک اور جائز کام اچھی نیت اور اخلاص کے ساتھ کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، حقوق العباد کی ادائیگی خصوصاً مقروض ہونے کی صورت میں جلدازجلد قرض کی ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 217