Main Icon

ظلم کی حرمت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 216

جلد 3

حدیث مبارکہ

وعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : لَمَّا کَانَ یَوْمُ خَیْبَرَ اَقْبَلَ نَفَرٌ مِنْ اَصْحَابِ النَّبیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فقَالُوا:فُلاَنٌ شَہِیْدٌ وَفُلانٌ شَہِیْدٌ حَتّٰی مَرُّوْاعَلَی رَجُلٍ فَقَالُوْا: فُلَانٌ شَہِیْدٌ فَقَالَ النَّبیّ صَلیَّ اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : کَلَّا اِنِّی رَاَ یْتُہُ فیِ النَّارِ فیِ بُرْدَۃٍ غَلَّہَا اَوْعَبَاءَ ۃٍ.( )

وعن عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہ قال : لما کان یوم خیبر اقبل نفر من اصحاب النبی صلی اللہ علیہ وسلم فقالوا:فلان شہید وفلان شہید حتی مرواعلی رجل فقالوا: فلان شہید فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم : کلا انی را یتہ فی النار فی بردۃ غلہا اوعباء ۃ.( )

حدیث ترجمہ

امیر المؤمنین حضرتِ سَیِّدُنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مَروی ہے فرماتے ہیں خیبر کے

دن صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی ایک جماعت آئی ، وہ کہنے لگے : ’’فلاں شہید ہے ، فلاں شہید ہے۔ ‘‘یہاں تک کہ وہ ایک شخص کے پاس سے گزرے تو اس کے بارے میں بھی کہنے لگے : ’’فلاں بھی شہید ہے ۔ ‘‘ تب حضور نبی اکرم ، شفیع معظم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’ہرگز نہیں! میں اِسے جہنم میں دیکھ رہاہوں ، ایک چادریا عبا ء(یعنی جبے)کی وجہ سے جسے اُس نے چھپایا تھا۔ ‘‘

شرح حدیث

مال غنیمت میں خیانت کرنا سخت حرام ہے:علامہ اَبُو زَکَرِیَّا یَحْیٰی بِنْ شَرَف نَوَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک سے چند احکام ثابت ہوتے ہیں : (1)مال غنیمت میں خیانت کرنا سخت حرام ہے۔ (2∞)مال غنیمت میں خیانت چاہے کم مال کی ہو یا زیادہ دونوں برابر ہیں(یعنی دونوں کا گناہ برابر ہے )۔ (3)جومالِ غنیمت میں خیانت کرے اگر اسے جنگ میں قتل کردیا جائے تو اس پر شہید کا اطلاق کرنا منع ہے۔ (4)مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے کہ جنت میں کوئی ایسا شخص داخل نہیں ہوگا جو کفر کی حالت میں مرا۔ (5)جس نے ما ل غنیمت سے کوئی چیزخیانت سےلی اسے واپس لوٹانا واجب ہے۔ ( )
رسولُ اللہ
اپنی امت کے تمام اَعمال سے باخبر ہیں :مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’اس حدیث پاک سے معلوم ہوتاہے کہ خیبر میں چند حضرات شہید ہوئے تھے۔ ہم نے خیبر میں سترہ شہدائے خیبر کے مزارات کی زیارت کی جو تبوک سڑک پر واقع ہیں۔ جن میں سے حضرت سیدنا سلمہ بن اکوع رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ اور سیدنا بَراء بن بشر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے نام معلوم ہوسکے۔ باقی کے نام ہمارے مُزَوِّرْیعنی زیارت کروانے ولے کو بھی معلوم نہ تھے۔ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے فلاں فلاں کو شہید کہنے کا مطلب یہ تھا یہ لوگ شہید ہیں اور فوراً جنت میں پہنچ گئے کیونکہ شہید کی رُوح مرتے ہی جنت میں پہنچ جاتی ہے ، اس لیے اسے شہید کہتے ہیں یعنی جنت میں حاضر ہوجانے والااور سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اِس فرمانِ عالیشان کہ

میں اسے جہنم میں دیکھ رہا ہوں کا مطلب ہے یعنی وہ شخص شہید تو ہے مگر جنت میں نہ پہنچا ، دوزخ کی آگ کی سزا پارہا ہے کیونکہ خیانت شہادت کے لیے مضر نہیں ثواب کے لیے نقصان دہ ہے۔ جس شخص کے بارےمیں جہنم کا فرمایا چونکہ اس نے غنیمت کے مال سے ایک چادر قبل تقسیم سے لے لی تھی لہذا وہ آگ کا عذاب پارہا ہے میں اسے آگ میں دیکھ رہا ہوں ، معلوم ہوا کہ حضور اس دنیا میں رہ کر عالَمِ غیب کی بھی ہر چیز دیکھ رہے ہیں اور ہر شخص کے ہر کھلے چھپے عمل بھی ملاحظہ فرمارہے ہیں کہ فرمایا : وہ آگ میں ہے کیونکہ اس نے خیانت کی تھی ، آگ میں ہونا عالَم غیب کی خبر ہے اور خیانت یہاں کا چھپا ہواعمل ، یہاں آگ سے مراد دوزخ کی آگ ہےاور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اِس فرمان کہ ’’جنت میں صرف مؤمن ہی داخل ہوگا ۔ ‘‘میں یہاں جنت میں داخل ہونے سے مراد ہے اَوّل داخلہ بغیر سزا بھگتے اور مومن سے مراد مومن کامل یعنی متقی مسلمان یعنی جنت میں اَوّل داخلہ کامل مومن کو نصیب ہوگا جو ایمان و اعمال کا جامع ہو۔ خیانت کرنے والا مومن اگرچہ شہید بھی ہوجائے مگر اَوّلاً جنت میں نہ جاسکے گا۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ جو حدیث شریف میں ہے کہ شہید کے سارے گناہ معاف ہوجاتے ہیں وہاں حُقُوقُ اللہکے گناہ مراد ہیں حقوق العباد کی معافی مراد نہیں۔ ‘‘( )
مِلاوٹ کرنے والے کاعبرت نا ک اَنجام:حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی خدمت میں کچھ لوگ حاضر ہوئے اورعرض کی کہ ’’ہم سفرحج پر نکلے ہوئے ہیں ، مقامِ صِفاح پر ہمارے قافلے کا آدمی فوت ہو گیا ہے۔ ہم نے اس کے لئے جب قبر کھودی توایک بہت بڑاکالا سانپ بیٹھا نظر آیاجس نے قبر کوبھر رکھا تھا اُسے چھوڑ کر دوسری قبر کھودی تو اس میں بھی وہی سانپ نظر آیا۔ ہم آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں اِس مسئلے کے حل کے لیے آئے ہیں۔ ‘‘حضرتِ سیِّدُنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا : ’’یہ اُس کی خیانت کی سزا ہے جس کا وہ مرتکب ہوا کرتا تھا۔ اِسے اِن دونوں میں سے کسی ایک قبر میں دفن کر دو۔ خدا کی قسم!اگر اس دنیا کی ساری

زمین بھی کھود ڈالو گے تب بھی ہر جگہ یہی صورت حال ہوگی۔ ‘‘بالآخر لوگوں نے اُسی سانپ بھری قبر میں اسے دفنا دیا۔ واپس آ کر اُس کا سامان اُس کے گھر والوں کو دے دیا اور اس کی بیوہ سے اس کے بُرے اعمال کے بارے میں دریافت کیا تو اُس نے بتایاکہ : ’’یہ اناج بیچتا تھا اور اس میں خیانت کرتا تھا اس طرح کہ اُس میں سے اپنے گھر کے لئے کچھ نکال لیتا اور پھر کمی پوری کرنے کے لئے اُس میں اُتنی ہی مِلاوٹ کر دیتا تھا۔ ‘‘( )
مدنی گلدستہ
’’اَحمد‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)مالِ غنیمت میں خیانت کرنا چاہے کم مال کی ہو یا زیادہ دونوں ہی سخت حرام ہے۔
(2)مالِ غنیمت میں سے جس چیز کو خیانت کرکے لیا اسے واپس لوٹانا واجب ہے ۔
(3)حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اس دنیا میں رہتے ہوئے عالم برزخ یعنی قبر وغیرہ کے معاملات بھی ملاحظہ فرما رہے ہیں۔
(4)خیانت ایک ایسا گناہ ہے کہ خیانت کرنے والا مؤمن اگرچہ شہید بھی ہوجائے اوّلاًجنت میں جانے سے محروم رہے گا۔ اگرچہ اپنے گناہوں کی سزا کے بعد بالآخر جنت میں ہی جائے گا۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں خیانت جیسے قبیح گناہ سے محفوظ فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 216