Main Icon

ظلم کی حرمت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 210

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبی ہُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلیَّ اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : مَنْ کَانَتْ عِنْدَہُ مَظْلِمَۃٌ لِاَخِیْہِ مِنْ عِرْضِہِ اَوْ مِنْ شَیْء ٍفَلْیَتَحَلَّلْہُ مِنْہُ الْیَوْمَ قبْلَ اَنْ لَا یَکُوْنَ دِیْنَارٌ وَلاَ دِرْہَمٌ اِنْ کَانَ لَہُ عَمَلٌ صَالِحٌ اُخِذَمِنْہُ بِقَدْرِ مَظْلِمَتِہِ وَ اِنْ لَمْ یَکُنْ لَہُ حَسَنَاتٌ اُخِذَ مِنْ سَیِّئَاتِ صَاحِبِہِ فَحُمِلَ عَلَیہِ.( )

عن ابی ہریرۃ رضی اللہ تعالی عنہ عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال : من کانت عندہ مظلمۃ لاخیہ من عرضہ او من شیء فلیتحللہ منہ الیوم قبل ان لا یکون دینار ولا درہم ان کان لہ عمل صالح اخذمنہ بقدر مظلمتہ و ان لم یکن لہ حسنات اخذ من سیئات صاحبہ فحمل علیہ.( )

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم رؤف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’ جس کا اپنے مسلمان بھائی پراس کی عزت یا کسی اور چیز کے حوالے سے کوئی ظلم ہوتو اسے چاہیے کہ اس دن سے پہلے آج ہی معافی حاصل کر لے جس دن دینار اور درہم پاس نہیں ہوں گے۔ اگر اس ظالم کے پاس اچھا عمل ہوگا تو اُس ظلم کے برابر اس سے لے لیا جائے گا ، اگراس ظالم کے پاس نیکیاں نہ ہوں گی تومظلوم کی برائیاں لے کر اس ظالم کے کھاتے میں ڈال دی جائیں گی۔ ‘‘

شرح حدیث

دوسرے کا بوجھ کوئی نہ اٹھائے گا:حدیث پاک میں ہے کہ ’’ظلم کرنے والے کے پاس مظلوم کو دینے کے لئے نیکیاں نہیں ہوں گی تو اس صورت میں مظلوم کے گناہ اس پر ڈال دئیے جائیں گے۔ ‘‘حالانکہ قرانِ مجیدمیں ہے :وَ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰىۚ-(پ۸ ، الانعام : ۱۶۴)
ترجمۂ کنزالایمان : اور کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گی۔
اس کا جواب دیتے ہوئے عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’ آیت ِقرآنی میں جو بوجھ اُٹھانے کا ذکر کیاگیاہے وہ اس طورپرہے کہ محض رشتہ داری و دوستی کی بنیاد پر کوئی دوسرے کا بوجھ نہ اُٹھائے گابلکہ جس پر ہوگاوہی اُٹھائے گاجبکہ حدیث میں جو بات بیان کی گئی ہے وہ اس طورپرہے کہ وہاں ظلم

کی وجہ سے ظالم نے جو مظلوم کا حق اداکرناہے اس کی ادائیگی کے لیے نیکیاں نہیں تو ایسے میں مظلوم کے گناہ کا بار ظالم پر ڈال دیاجائےگا۔ ( )
ظالم مظلوم سے کس طرح معافی مانگے؟حقوق العباد کی معافی کے سلسلے میں اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اہلسنت مولانا شاہ احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے کیے گئے ایک سوال اور اس کے جواب کا خلاصہ کچھ یوں ہے :
سوال : “ ایک عورت نے مرنے سے قبل(مرض الموت میں)اپنے شوہر سے لوگوں کی موجودگی میں اس کے جملہ حقوق اور کوتاہیوں کی معافی مانگی اور اپنے تمام حقوق شوہر کو معاف کردیے اور حق مہر کی تفصیل بیان کرکے اسے بھی معاف کردیا۔ اس کے شوہر نے بھی اسے اپنے تمام حقوق اور کوتاہیاں معاف کردیں تو کیا اس صورت میں ان دونوں میاں بیوی پر کسی قسم کا مواخذہ عند
ﷲ∞ باقی رہا یا نہیں؟نیزیہ الفاظ تمام حقوق اور کوتاہیوں کی معافی کے لیے کافی تھے یا علیحدہ علیحدہ ہرخطا اورحق کی وضاحت ضروری تھی اور کیا شوہر حق مِہر سے بَری ہوگیا؟
جواب : عام حقوق کی معافی جوشوہر نے بیوی کو اوربیوی نے شوہر کو کی ان میں بیوی کے مالی حقوق مثلاً حق مہر ودیگر دُیُون کی معافی توبیوی کے ورثا کی اجازت پرموقوف رہے گی ان کے علاوہ بیوی کے غیر مالی حقوق اور شوہر کے مالی وغیر مالی حقوق جو کچھ بیوی کے علم میں تھے وہ سب معاف ہوگئے اور جو علم میں نہ تھے مگروہ حق جو معمولی اور آسان تھے کہ بیوی کو معلوم ہوتا تو معاف کردینے میں کوئی اندیشہ نہ ہوتا وہ بھی معاف ہوگئے اور ایسے بڑے حقوق کہ اگران کی تفصیل بتائی جائے توحقدار معاف نہ کرے ، اِن عام اور مجمل الفاظ سے اُن حقوق کے معاف ہوجانے میں علماء کا اختلاف ہے۔ بعض کے نزدیک ظاہر ی الفاظ کی وجہ سے سب معاف ہوجائیں گےاور بعض کے نزدیک بالخصوص اُن کی تفصیل بتا کر معافی مانگنا ضروری ہے۔ پہلےمیں وسعت زیادہ ہے اور دوسرے میں احتیاط۔ ( )

ایک اور مقام پر فرماتے ہیں : فقیر کہتا ہے : ایسے حقوقِ عظیمہ شدیدہ جن کی تفصیل بیان ہو تو صاحبِ حق سے معافی کی امید نہ ہو ظاہراً مجرد اِجمالی الفاظ سے معاف نہ ہوسکیں کہ وہ دلالۃً مخصوص ہیں۔ مگر اگر ان الفاظ سے معافی چاہی کہ ’’دنیا بھر میں سخت سے سخت جو حق متصور ہو وہ سب میرے لیے فرض کرکے معاف کردے۔ ‘‘ اور اس نے قبول کیا تو اب ظاہراً تمام حقوق بلا تفصیل معاف ہوجائیں گےکیونکہ اس نے کہہ دیا ہے کہ مجھے ہر حق معاف کردے اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ہر بڑے سے بڑا حق میرے بارے میں فرض کرکے معاف کردے اور تصریح دلالت پر فوقیت رکھتی ہے۔ ‘‘( )
حق دار کے حق کی ادائیگی:فقیہ اعظم ، شارح حدیث حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’اگر کسی کا کوئی حق کسی مسلمان پر ہو تو اس پر واجب ہے کہ صاحب حق کو راضی کردے خواہ اس کا حق دے کر خواہ معافی مانگ کر۔ اگر کسی کا کوئی مال یا زمین لی ہے اور وہ بعینہٖ محفوظ ہے تو واپس کرنا واجب ہے۔ معاف کرانے کے لئے بہتر یہ ہے کہ معافی مانگتے وقت اس حق کا تذکرہ کردے لیکن اگر اس حق کا تذکرہ نہیں کیا اور صاحب حق نے یوں معاف کر دیا کہ میں نے سب معاف کیا تو اس خصوص میں علماء کا اختلاف ہے۔ بعض علماء نے تفصیل کی ہے کہ اگر یہ حق مال ہے تو معاف ہو جائے گا لیکن اگر آبروریزی ہے تو معاف نہ ہوگا۔ ‘‘( )معافی مانگنے کی چند صورتیں:مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’معافی مانگنے کی چند صورتیں ہیں : (1)قرض ہو تو ادا کردے۔ (2) اسے مارا پیٹا ہو تو قصاص دے دے یا ان تمام سے معافی مانگ لے اوروہ بخوشی معافی کردے۔ (3)اگر قرض خواہ مرگیا ہو تو اس کے وارثوں کو قرض ادا کر دے اور (4)اگر وارث معلوم نہ ہوں تو ا س کے نام پر خیرات کر دے۔ (5) مرحوم کے لیے ہمیشہ

دعائے مغفرت کرتا رہے ، اسے ثواب ایصال کرتا رہے ، مگر اِس آخری صورت میں معافی کی اُمید ہے یقین نہیں ، بہتر یہی ہے کہ خوداس سے معافی مانگےبلکہ یہ کوشش کرے کہ کسی کا حق نہ مارے۔ ‘‘
دنیا میں تو روپیہ پیسہ خرچ کرکے معافی ہوسکتی ہے مگر قیامت میں یہ صورت ناممکن ہے ، وہاں نہ تو کسی کے پاس مال ہوگا اور نہ مال کے ذریعہ معافیاں حاصل ہوں گی۔ اگر اس ظالم کے پاس نیک عمل ہوں گے تو اس کے ظلم کے برابر اس سے لے لیا جائے گااور مظلوم کے نامہ اعمال میں لکھ دیئے جائیں گے جیسے ظالم کے صدقات ، خیرات وغیرہ شامل ہیں کہ تین پیسہ قرضے کے عوض مقروض کی سات سو نمازیں قرض خواہ کو دلوادی جائیں گی ، نمازیں بھی وہ جو باجماعت اد اکی ہوں ، اگر قرض خواہ کافر ہے تو اس کا عذاب ہلکا کردیا جائے گا یا اُس کے گناہ اس ظالم پر ڈال دیئے جائیں گے۔
اگر ظالم کے پاس نیکیاں ہوں ہی نہیں یا اس طرح کہ نیکیاں تو تھیں مگر حقوق والے لے گئے ، اس کے پاس سے ختم ہوگئیں ، مگر حقوق باقی رہےتو اب اس صورت میں مظلوم کی برائیاں لے کر اس ظالم کے کھاتے میں ڈال دی جائیں گی یا تو اس طرح کہ مظلوم کے گناہ جسمانی شکل میں ہوں ، اور ظالم پر لاد دیئے جاویں یا ان گناہوں کے عوض ظالم کو سزا دے دی جاوے اور مظلوم کو نجات۔ ( )
صغیرہگنا ہ آدمی کو تباہ کر دیتے ہیں:میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کسی چھوٹی سی چھوٹی نیکی یا گناہ کو ہلکا نہ جانیے کہ کل بروزِ قیامت میزان میں چھوٹی سے چھوٹی نیکی اور چھوٹے سے چھوٹا گناہ بھی شامل کیا جائے گا۔ بسا اوقات چھوٹے چھوٹے گناہ مل کر بندے کی ہلاکت کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ چنانچہ فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے : ’’صغیرہ گناہوں سے محتاط رہو کہ یہ جمع ہوکر آدمی کو ہلاک کردیتے ہیں ۔ ‘‘ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک مثال دیتے ہوئے سمجھایاکہ ایک قافلہ صحرا میں ٹھہرتا ہے۔ کھانے کا وقت ہوجاتاہے ، ایک آدمی جاتاہے ، آگ جلانے کے لیے لکڑی لاتاہے ، پھر دوسرا جاتا ہے ایک اورلکڑی لاتاہے ۔ اسی طرح وہ ایک

ایک کرکے لکڑیوں کا ڈھیرجمع کرلیتے ہیں اور آگ جلاکر کھانا پکالیتے ہیں۔ ‘‘( )
یعنی ایک ایک بُرائی مل کر نارِ جہنم کا باعث بن جائے گی اور انسان دہکتی آگ کا ایندھن بن جائےگا ، وہ آگ کہ جس کی انسان کبھی بھی تاب نہیں لاسکتا۔ جہنم کی آگ دنیا کی آگ سے ستر گناہ سخت ہوگی۔ اگر دنیا میں ہم نے کسی مسلمان کو تکلیف دی ہوگی تو روزقیامت اس کے بدلے ہمیں اپنی نیکیاں دینی پڑیں گی اور اگر نیکیاں نہ ہوئیں تو ان کے گناہوں کا بوجھ اٹھانا پڑے گا ۔
ظلم کرنا مسلمان کی شان نہیں:یادرکھئے!مسلمان کی یہ شان نہیں کہ وہ کسی پر ظلم کرے ، ناحق کسی کا مال غصب کرے اور دھمکیاں دے کر لوگوں سے رقم کا مطالبہ کرے اور نہ دینے پر قتل وغارت گری کا بازار گرم کرے۔ بندوں کی حق تلفی آخرت کے لئے بہت زیادہ نقصان دہ ہے۔ حضرت سیِّدُنا احمد بن حرب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : ’’کئی لوگ نیکیوں کی کثیر دولت لئے دنیا سے مالدار رخصت ہوں گے مگر بندوں کی حق تلفیوں کے باعث قیامت کے دن اپنی ساری نیکیاں کھو بیٹھیں گے اور یوں غریب و نادار ہوجائیں گے۔ ‘‘( )مدنی گلدستہ
’’حطیم‘‘کے4حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے4مدنی پھول
(1)دوسروں کا اِحترام اور اُن کے حقوق کالحاظ رکھنا تعلیماتِ اسلام میں سے ہے ، لہذااگر کہیں کسی کی حق تلفی ہوجائے تو اُس سے معافی مانگنے میں عار محسوس نہیں کرنی چاہیے۔
(2)ہمارے اَعمال کا تعلق فقط ہماری ظاہری حیات تک سے ، جب موت آگئی تو پھر نہ کسی عمل کے کرنے کی مہلت اور نہ کسی کے حق کی ادائیگی کا موقع میسر آئے گا۔ کسی سے قصداً یا بلاقصد کوئی زیادتی ہوئی

ہو تو اسے چاہیے کہ دنیا میں ہی مظلوم سے حق معاف کروالے۔
(3)حق کی ادائیگی میں دوصورتیں ہوسکتی ہیں یاتو مظلوم کا حق اداکردیا جائے یاپھر مظلوم سے عرض کرکے اس سے وہ حق معاف کروالیاجائے ، اسی میں ہمار ی بھلائی اور نجات ہے ۔
(4)کئی لوگ نیکیوں کی کثیر دولت لئے دنیا سے مالدار رخصت ہوں گے مگر بندوں کی حق تلفیوں کے باعث قیامت کے دن اپنی ساری نیکیاں کھو بیٹھیں گے اور یوں غریب و نادار ہوجائیں گے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعاہے کہ وہ ہمیں اپنے نیک بندوں کی صحبت ، حُقُوقُ اللہ اورحقوق العبادکی ادائیگی کی توفیق سے بہر مندفرمائے ۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 210