Main Icon

ظلم کی حرمت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 209

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ اَبِی حُمَیْدٍ عَبْدِ الرَحْمٰنِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیِّ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : اِسْتَعْمَلَ النَّبیُّ صَلیَّ اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجُلاً مِنَ الْاَ زْدِ یُقَالُ لَہُ : ابْنُ اللُّتْبِیَّۃِ عَلَی الصَّدَقَۃِ فَلَمَّا قَدِمَ قَالَ : ہَذَا لَکُمْ وَہَذَا اُہْدِیَ اِلَیَّ فَقَامَ رَسُوْلُ اللہِ صَلیَّ اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی المِنْبَرِ فَحَمِدَ اللہَ وَاَثْنَی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ : اَمَّا بَعْدُ فَاِنِّی اَسْتَعْمِلُ الرَّجُلَ مِنْکُمْ عَلَی الْعَمَلِ مِمَّا وَلَّانِیَ اللہُ فَیَاْ تِی فَیَقُوْلُ : ہَذَا لَکُمْ وَہَذَا ہَدِیَّۃٌ اُہْدِیَتْ اِلَیَّ اَفَلَا جَلَسَ فِیْ بَیْتِ اَبِیْہِ اَوْ اُمِّہِ حَتّٰی تَاْ تِیَہُ ہَدِیَّتُہُ اِنْ کَانَ صَادِقًاوَاللہ! لَا یَاْخُذُ اَحَدٌ مِّنْکُمْ شَیْئًا بِغَیْرِ حَقِّہِ اِلَّا لَقِیَ اللہَ تَعَالَی یَحْمِلُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَلَا اَعْرِفَنَّ اَحَدًا مِّنْکُمْ لَقِیَ اللہَ یَحْمِلُ بَعِیْرًا لَہُ رُغَاءٌ اَوْ بَقَرَۃً لَہَا خُوَارٌاَوْ شَاۃً تَیْعَرُ ثُمَّ رَفَعَ یَدَیْہِ حَتَّی رُوِیَ بَیَاضُ اِبْطَیْہِ فَقَالَ : اَللّٰہُمَّ ہَلْ بَلَّغْتُ ثَلَا ثاً. ( )

عن ابی حمید عبد الرحمن بن سعد الساعدی رضی اللہ تعالی عنہ قال : استعمل النبی صلی اللہ علیہ وسلم رجلا من الا زد یقال لہ : ابن اللتبیۃ علی الصدقۃ فلما قدم قال : ہذا لکم وہذا اہدی الی فقام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم علی المنبر فحمد اللہ واثنی علیہ ثم قال : اما بعد فانی استعمل الرجل منکم علی العمل مما ولانی اللہ فیا تی فیقول : ہذا لکم وہذا ہدیۃ اہدیت الی افلا جلس فی بیت ابیہ او امہ حتی تا تیہ ہدیتہ ان کان صادقاواللہ! لا یاخذ احد منکم شیئا بغیر حقہ الا لقی اللہ تعالی یحملہ یوم القیامۃ فلا اعرفن احدا منکم لقی اللہ یحمل بعیرا لہ رغاء او بقرۃ لہا خواراو شاۃ تیعر ثم رفع یدیہ حتی روی بیاض ابطیہ فقال : اللہم ہل بلغت ثلا ثا. ( )

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا ابو حمید عبدالرحمٰن بن سعد ساعدی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ سرکارِ مدینہ راحت قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے قبیلہ اَزْدکے ایک شخص کوزکوٰۃ کا عامل بنایا جسے ابنِ لُتْبِیَّہْ کہا جاتا تھاجب وہ واپس آیا تو کہنے لگا : ’’یہ تمہارے لئے ہے اور یہ مجھے تحفہ دیا گیا ہے۔ ‘‘یہ سن کر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم منبر پر تشریف فرما ہوئے ، اللہ عَزَّوَجَلَّ کی حمد و ثناء بیان کی پھر ارشاد فرمایا : ’’میں تم میں سے کسی شخص کو ایسے کا م پر مقرر کرتاہوں جس کا اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے والی بنایا ہے اور وہ آکر کہتا ہے : یہ تمہارے لئے ہے اور یہ مجھے تحفہ دیا گیا ہے۔ وہ اپنے ماں باپ کے گھرکیوں نہیں بیٹھ گیا کہ اس کے پاس وہیں تحفہ آجاتااگر وہ سچا ہوتا۔ خداکی قسم ! تم میں سے کوئی بھی شخص اس میں سے نا حق لے گا تو قیامت کے دن اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اِس حال میں ملےگا کہ اُسے اُٹھائے ہوئے ہوگا۔ پس میں تم میں سے ہر گز کسی کو اس حالت

میں نہ پاؤں کہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اس حال میں ملے کہ اس نے اونٹ اُٹھایا ہوا ہو جو کہ بڑ بڑا رہاہو ، یا گائے یا بکری اُٹھائی ہوئی ہوجو کہ منہ سے آوز نکال رہی ہو۔ ‘‘پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو بلند فرمایا یہاں تک کہ آپ کی مبارک بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگی ، پھر بار گاہِ الٰہی میں تین مرتبہ یوں عرض کی : ’’اےاللہ عَزَّوَجَلَّ کیا میں نے تیرا حکم پہنچا دیا؟‘‘

شرح حدیث

عاملین زکوۃکوتحفہ لیناجائز نہیں :زکوۃ وصول کرنے والے کے لیے ہدیہ لینا جائز نہیں کیونکہ زکوۃ دینے والا اسی غرض سے اسے کوئی چیز دیتا ہے کہ وہ اس سے زکوۃ کا کچھ حصہ نہ لے اور یہ ناجائز ہے اور ممکن ہے کہ اس غرض کے بجائے کسی اور وجہ سے ہدیہ دیا ہو لیکن پھر بھی عاملِ زکوۃ کے لیے اس کا لینا جائز نہیں۔ ( )محشرمیں ذلت ورُسوائی:اِمَام شَرَفُ ا لدِّیْن حُسَیْن بِنْ مُحَمَّد طِیْبِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’جس نے دنیا میں زکوٰۃ یا کسی اور مال سے چوری کی تو قیامت کے دن وہ اس طرح آئے گا کہ چور ی کے مال کو اُٹھائے ہوئے ہوگا ، اگر وہ ما ل کوئی جانور ہوا تو وہ جانور بلند آواز سے چیختا ہوگااور اسے تمام محشر والے پہچان لیں گے ( کہ یہ چور ہے)تاکہ اس کی خوب ذِلت ورُسوائی ہو۔ ‘‘( )علم وحکمت کے مدنی پھول:مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان نے مرا ۃ المناجیح مذکورہ حدیث پاک کے تحت علم وحکمت کے درج ذیل کئی مدنی پھول ارشاد فرمائے ہیں :٭∞ حدیث پاک میں جس صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا ذکر ہے اِن کا نام عبداللہ ہے اور اِن کا قبیلہ قحطان کا مشہور قبیلہ بنی لُتُب ہےاِسی وجہ سے انہیں اِبْنِ لُتْبِیَّہ کہا جاتا تھا۔ اِن کے پاس وصول کردہ زکوٰۃ سے زیادہ

مال تھا جو زکوٰہ دینے والوں نے انہیں بطور ہدیہ زکوٰۃ کے علاوہ دیا تھا ، یہ ان صحابی کی انتہائی دیانتداری ہے کہ اس ہدیہ کو گھر رکھ کر نہ گئے بلکہ سب کچھ بارگاہ رسالت میں پیش کردیاا ور اصل واقعہ بھی بیان کردیا۔
٭∞ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا : ’’زکوۃ وصول کرنے کا مجھے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے والی بنایا ہے۔ ‘‘ یعنی زکوٰۃ وصدقات وصول کرنا ہمارے ذمہ ہے ، تم لوگ ہمارے نائب ہو کر جاتے ہو اور ہمیں تو صدقہ دینے والوں سے ہدیہ لینا منع ہے تو تمہیں کیوں جائز ہوگا؟٭∞ عاملین زکوٰۃ کو لوگوں کا اپنی طرف سے کچھ دینا یہ نذرانہ نہیں ہے بلکہ رشوت ہے کہ اس کے ذریعے صاحب نصاب (کہ جن پر زکوۃ وا جب ہے۔ )آئندہ اصل زکوٰۃ سے کچھ کم کرانے کی کوشش کریں گے ، نیز جب عامل زکوٰۃ جب اس کام کی اُجرت پوری لیتا ہے تو یہ ہدیہ اُس کے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟ فقہاء کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام فرماتے ہیں کہ حکام کے نذرانے اور خاص دعوتیں رشوت ہیں۔ ہاں حاکم عام دعوت ولیمہ وغیرہ کھاسکتا ہے نیز جو نذرانہ ، ہدیہ اور ڈالیاں(یعنی وہ ٹوکری جس میں پھول یا پھل رکھ کر اُمراء کو پیش کئے جاتے ہیں۔ )اس کے حاکم بننے کے بعد شروع ہوں وہ سب رشوتیں ہیں ، ہاں جن لوگوں کے ساتھ اس کا پہلے ہی سے لین دین ہو اور اس کے معزول ہونے کے بعد بھی وہی لین دین رہے وہ رشوت نہیں ، جیسے عزیزوں اور قدیمی احباب سے نیوتے (یعنی شادی میں دی جانے والی نقد رقم ) بھاجی (یعنی وہ کھانا جو کسی تقریب میں برادری کے لوگوں میں تقسیم کیا جائے ) وغیرہ اِن مسائل کی اصل یہ حدیث ہے۔٭∞ جوعامل زکوٰۃ میں چوری یاخیانت کرے یازکوٰۃ دینے والوں سے رشوت وصول کرے گابالواسطہ ہو یا بلاواسطہ ، پوشیدہ یا اعلانیہ یہ سب اس حدیث میں مذکورہ وعید میں شامل ہے۔ لیکن یہ واضح رہے کہ مذکورہ حدیث پاک میں زکوٰۃ کی چوری مراد نہیں کیونکہ ان صحابی نے کوئی چوری نہ کی تھی۔٭∞ واضح رہے کہ احادیث میں اس ناجائز لیے گئے مال کو گردن سے اٹھانے کا ذکر ہے مگر قرآن پاک میں پیٹھوں پر لادنے کا ذکر ہے ، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے : )وَ هُمْ یَحْمِلُوْنَ اَوْزَارَهُمْ عَلٰى ظُهُوْرِهِمْؕ-( (پ۷ ، الانعام : ۳۱) (ترجمۂ کنزالایمان : اور وہ اپنے بوجھ اپنی پیٹھ پر لادے ہوئے ہیں۔ )کیونکہ آیت میں کفار کا ذکر ہے اور یہاں گنہگار مسلمان کا ۔ چونکہ کفار کے گناہ زیادہ اور بھاری ہوں گے اس لیے وہ پیٹھوں پر لادیں گے اور

مسلمان گنہگار کے گناہ ان سے کم اور ہلکے ہوں گے اس لیے گردن پر اٹھائیں گے۔ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ پیٹھ کی انتہا گردن ہے ، لہٰذا گر دن پر اٹھانا گویا پیٹھ پر ہی اٹھانا ہے مگر پہلی بات زیادہ قوی ہے۔
٭∞ اگر خیانت یا رشوت میں اونٹ گائے بکری یا کوئی اور جانور بھی لیا ہوگا تو اسے بھی اپنی گردن پر اٹھائے پھرے گا ، وہ بوجھ سے دبے گا بھی اوران آوازوں کی وجہ سے سارے(محشر)میں بدنام بھی ہوگا۔ معلوم ہوا کہ نیکیوں پر قیامت میں انسان سوار ہوگااور بدیاں انسا ن پر سوار ہوں گی۔ خیال رہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّقیامت میں مسلمانوں کے خفیہ گناہ نہ کھولے گا۔ ستاری (یعنی عیب پوشی) فرمائے گا مگر جو دنیا میں علانیہ گناہ کریں اور اُن پر فخر بھی کریں وہ ضرور کھلیں گےلہٰذا یہ حدیث عیب پوشی کی احادیث کے خلاف نہیں۔٭∞ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے بارگاہ ِالہی میں جو تین بار عرض کی ، سُبْحَانَ اللہکیا پاکیزہ عرض ومعروض ہے ، رب تعالیٰ سے کہہ رہے ہیں ، بندوں کو سنا رہے ہیں کہ میں اپنے فرضِ تبلیغ سے فارغ ہوچکا ، اب کسی مجرم کو یہ عذر نہ ہوگا کہ مجھے خبر نہ تھی۔ واضح رہے کہ تاقیامت ہر مسلمان پر بقدر ضرورت دینی مسائل سیکھنا فرض ہیں اب اگر کوئی خود نہ سیکھے اور بے خبر رہے تو اس کا اپنا قصور ہے ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طرف سے کوتاہی نہیں۔٭∞ جوکام بذاتِ خود تو اچھا ہومگر اس کے ذریعے سےحرام کا ارتکاب کیا جائے تو یہ اچھاکا م بھی حرام ہوجائے گا کیونکہ عامل بن کر جانا یا حاکم بننا اچھا کام ہے لیکن اگر رشوتیں لینے کے لیے کیا جائے تو حرام ہوگا ۔ جیسےکسی غریب کو قرض دینا نیکی ہے یا ضرورۃً کسی مقروض کی کوئی چیز رہن(گروی)رکھ لینا بھلائی ہے لیکن اگر قرض پر سود لیا جائے اور گِروی مکان سے نفع لیا جا ئے تو یہ قرض بھی حرام ہوجائے گا۔ یعنی جوعقد علیحدہ رہ کر حرام ہوگا وہ حلال سے مل کر بھی حرام ہوگااور جو علیحدہ ہو کر حلال ہوگا وہ حلال سے مل کر بھی حلال رہے گا۔ یہ قاعدہ ان لوگوں کے نزدیک ہے جو شرعی حیلےناجائز کہتے ہیں مگر ہمارے ہاں ضروۃً شرعی حیلے جائز ہیں لہذاہمارے ہاں یہ قاعدہ کلیہ نہیں۔ ہماری دلیل وہ حدیث ہے کہ حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے ردی کھجوریں زیادہ دے کر کھری(عمدہ) کھجوریں کم لیں تو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا کہ یہ سود ہوگیا۔ تمہیں چاہیے تھا کہ یہ ردی کھجوریں روپے کے عوض بیچتے پھر اسی روپے کے عوض

خریدار سے کھری کھجوریں لے لیتے۔ دیکھو حرام سے بچنے کا یہ حیلہ ہے۔ الغرض ناجائز عقد جائز عقد سے مل کر کبھی تو خود جائز بن جاتا ہے ا ور کبھی جائز کردیتا ہے یہ قاعدہ خوب یاد رکھا جائے ، ناپاک پانی پاک پانی میں مل کر کبھی خود پاک ہوجاتا ہے جیسے تالاب میں ڈالا جائے اور کبھی اسے بھی ناپاک کردیتا ہے جیسے کنوئیں میں۔ ( )
مدنی گلدستہ
’’فاروق‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)عاملین زکوٰۃ یعنی زکوٰۃ جمع کرنے والےکے لیے ہدیہ لینا حرام ہے کیونکہ یہ اس کے حق میں رشوت ہےاور رشوت کا لینا ودینادونوں حرام ہے۔
(2)ہر وہ کا م جو نا جائز کا م کا سبب بنے وہ بھی ناجائز ہے۔
(3)جوکام بذاتِ خود تو اچھا ہومگر اس کے ذریعے سےحرام کا ارتکاب کیا جائے تو یہ اچھاکا م بھی حرام ہو جائے گا کیونکہ عامل بن کر جانا یا حاکم بننا اچھا کام ہے لیکن یہی کام رشوتیں لینے کے لیے کیا جائے تو حرام ہوگا۔
(4)صاحب منصب لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنے ماتحتوں سے تحائف لینے میں احتیاط برتیں کہ ممکن ہے کہ یہی دیاگیاتحفہ لینے والے کے لیے رشوت بن جائےاور رشوت لینے اوردینے والا دونوں جہنمی ہیں۔
(5)ہرانسان کامیاب ہونا چاہتاہےاورحقیقی کامیابی کا دارومدار اللہ عَزَّوَجَلَّ اوراس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بتائے ہوئے اُصولوں کے مطابق اپنی زندگی کو گزارنا ہے۔ مگر افسوس کہ ہم حقیقی کامیابی کو اَحکامِ شرع کی مخالفت اور گناہوں میں تلاش کرتے ہیں۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں حرام کاموں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے ، رشوت لینے اور دینے دونوں سے محفوظ فرمائے ، صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 209