- ہوم
- کتابیں
- فیضان ریاض الصالحین
- جلد 3
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حدیث نمبر 211
ظلم کی حرمت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 211
جلد 3
-
- باب : اخلاص و نیت کا بیان
- باب : توبہ و استغفار کا بیان
- باب : صبر کا بیان
- باب : صدق کا بیان
- باب : مُرَاقَبَہ کا بیان
- باب : تقویٰ وپرہیز گاری کا بیان
- باب :یقین اور توکل کا بیان
- باب : استقامت کا بیان
- باب : نیکیوں پر اُبھارنے کا بیان
- باب : مجاھدہ کا بیان
- باب : بڑھاپے میں نیکیوں کا بیان
- باب : طُرقِ کثرتِ خیر کا بیان
- باب : عبادت میں میانہ روی کا بیان
- باب : اعمال پر محافظت کا بیان
- باب : سنت اور اس کے آداب کا بیان
- باب : اِطَاعَتِ خُداوَندِی کا وُجُوب
- باب : نئی باتوں سے مُمَانَعَت کا بیان
- باب :اچھے یا بُرے کام کی بنیاد ڈالنا
- باب : بھلائی پر رہنمائی کرنے کا بیان
- نیکی پر باہمی مدد کا بیان
- خیر خواہی کا بیان
- امربالمعروف ونہی عن المنکر
- قول و فعل میں تضاد والے کا انجام
- امانت کی ادائیگی کے احکام
- ظلم کی حرمت کا بیان
- حرمت مسلمین کی تعظیم کا بیان
- مسلمانوں کی پردہ پوشی کا بیان
- حاجتوں کو پورا کرنے کا بیان
- سفارش کا بیان
- لوگوں کے درمیان صلح کا بیان
- کمزور مسلمانوں کی فضیلت
- یتیموں کے ساتھ حسن سلوک
- بیویوں کے ساتھ بھلائی کا بیان
- عورت پر شوہر کے حقوق کا بیان
- اہل و عیال پر خرچ کرنے کا بیان
- عمدہ چیزیں خرچ کرنے کا بیان
- اہل و عیال کی اصلاح کا بیان
- پڑوسی کے حقوق کے بیان
- والدین کے ساتھ صلہ رحمی کا بیان
- حرمتِ نافرمانی و قطع رحمی
- والدین کے دوستوں سے حسنِ سلوک
- اھلِ بیت کی تعظیم کا بیان
- علماء کی تعظیم کا بیان
- نیک لوگوں کی زیارت کا بیان
- اللہ کیلئے محبت کرنے کا بیان
- رب کی بندے سے محبت
- نیکوں کو ایذادینے کی ممانعت
- ظاھر کے مطابق احکام کا اجراء
- خوفِ خدا کا بیان
- اُمید کا بیان
- امید و حسنِ ظن کی فضیلت
- خوف و امید کو جمع کرنا
- خوفِ خدا سے رونا
- زھد و فقر کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک پڑھنے کی فضیلت
- باب :قرآنِ پاک کو یاد رکھنے کا بیان
- باب :خوبصورت آواز سے قرآن پڑھنے کا بیان
- باب : بعض سورتوں اور آیات کی ترغیب کا بیان
- باب : قرآن پڑھنے کے لیے جمع ہونا مستحب ہے
- باب:وضو کی فضیلت کا بیان
- باب:اذان کی فضیلت کا بیان
- باب:نماز کی فضیلت کا بیان
- باب : فجراورعصر کی نماز کی فضیلت
- باب: مسجد کی طرف جانے کی فضیلت کا بیان
- باب: نمازکا انتظار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:باجماعت نماز پڑھنے کی فضیلت کا بیان
- باب:فجر وعشا باجماعت اد ا کرنے کی ترغیب
- باب:نمازاداکرنے کا حکم اور ترک پر وعیدوں کا بیان
- باب: صَفِ اَوّل کی فضیلت کا بیان
- باب:سُنَّتِ مُؤَکَّدَہ کی فضیلت وتعداد کا بیان
- باب:فجر کی دوسُنَّتُوں کی تاکید
- باب:فجر کی سُنَّتِیْں مُخْتَصَر پڑھنے کابیان
- باب:فجر کی سُنَّتُوں کے بعد لیٹنے کابیان
- باب:ظہر کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:عصر کی سُنَّتُوں کا بیان
- باب:مَغْرِب سے قبل اوربعدکی سُنَّتُوں کابیان
- باب:جُمُعَۃُ المُبَارَک کی سُنَّتُوں کابیان
- باب:سُنَن و نَوَافِل گھروں میں ادا کرنے کا بیان
- باب:نمازِوِتر كا بیان
- باب:نمازِ چاشت کی فضیلت کا بیان
- باب:نمازِ چاشت کےوقت کابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ المَسْجِدکابیان
- باب:نمازِتَحِیَّۃُ الْوُضوکے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: آدابِ جُمُعَہ و فَضَائِلِ جُمُعَہ کا بیان
- باب:سَجْدَۂ شُکْر کےمُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:شب بیداری کی فضیلت کا بیان
- باب:قیامِ رمضان(تراویح) کے اِستِحْباب کا بیان
- باب:شبِ قدر کی فضیلت کا بیان
- باب:مِسواک اور فِطری خَصائِل کی فضیلت کا بیان
- باب:زکوٰۃ کی فرضیت و فضیلت کابیان
- باب:رمضان کے روزوں کی فرضیت کا بیان
- باب: ماہِ رمضان میں نیکیاں کرنے کابیان
- باب:قبل رمضان نفلی روزوں کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نیا چاند دیکھنے کی دعاکا بیان
- باب:سَحَرِی کی فضیلت کا بیان
- باب:جلدی اِفطار کرنے کی فضیلت کا بیان
- باب:بحالتِ روزہ زبان کی حفاظت کابیان
- باب:روزے کے مسائل کا بیان
- باب:محرم،شعبان کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:ذُوالحِجَّہ کے روزوں کی فضیلت کابیان
- باب:یومِ عرفہ،عاشورااورنو محرم کے روزے کی فضیلت
- باب:شوال کے 6روزوں کے اِستِحْبَاب کابیان
- باب:پیروجمعرات کے روزوں کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:ہر ماہ تین دن روزہ رکھنے کا اِسْتِحْبَاب
- باب:روزہ اِفطار کرانے کی فضیلت
- باب:رمضان میں اِعتکاف کرنے کابیان
- باب:حج کی فرضیت اور اس کی فضیلت کا بیان
- باب:جہاد کی فرضیت کابیان
- باب: بُھوک اور ترکِ خواہِشَات کی فضیلت کا بیان
- باب: قَنَاعَت ومِیَانہ رَوِی کا بیان
- باب: بغیر سوال،بغیرخواہش کے ملنے والا مال جائز ہے
- باب: اپنےہاتھ سےکماکرکھانے کا بیان
- باب: جُودوسَخاوت کابیان
- باب: بُخْل اورلالَچ کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:اِیثار اور ہمدردی کا بیان
- باب: اُمُورِآخرت میں آ گے بڑھنے کا بیان
- باب: شاکِر مالدار کی فضلیت کابیان
- باب: موت کو یادکرنےاوراُمیدوں میں کمی کرنے کا بیان
- باب: زیارتِ قُبُور کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: کسی مصیبت کی وجہ سےموت کی تمناکرنا
- باب: تقویٰ اورترکِ شُبْہَات کا بیان
- باب:گوشہ نشینی کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب: تواضع اور اچھا سلوک کرنے کابیان
- باب:تکبُّر اور خود پسندی کی حُرمَت کا بیان
- باب:اچھے اَخلاق کابیان
- باب: حِلْم ، اِطمینان اور نرمی کا بیان
- باب: دَر گُزَر کرنے اور جاہلوں سے منہ پھیرنے کابیان
- باب:تکلیف برداشت کرنے کا بیان
- باب: دِینی حُرمتوں کی پامالی پر غصہ اور دِین کی مدد کا بیان
- باب: رِعایا کے ساتھ نرمی وشفقت کا بیان
- باب: عدل کرنے والے حاکِم کا بیان
- باب: حُکمرانوں کی اِطاعت کابیان
- باب: حُکمرانی طلب کرنے کی مُمَانَعَت
- باب:نیک وزیر کے تَقَرُّر کا بیان
- باب: حریص کو عُہدَہ دینےکی مُمَانَعَت کا بیان
- باب:حیا کی فضیلت اور اس کی ترغیب کا بیان
- باب: راز داری کا بیان
- باب: عہد نبھانے اور وعدہ پوراکرنے کا بیان
- باب: نیک کاموں کی عادت پر پابندی کرنے کا بیان
- باب: اچھی طرح بات اور ملاقات کرنے کا بیان
- باب: واضِح لفظوں میں بات کرنےکا بیان
- باب: بات توجُّہ سے سُننے کا بیان
- باب: وعظ کرنے اور اِس میں مِیانہ رَوِی اَپنانے کا بیان
- باب:وقار اور سُکُون کا بیان
- باب:عبادات کیلئے سُکُون اور وَقَار کے ساتھ آنے کا بیان
- باب: مِہمان نوازی کا بیان
- باب:خوشخبری اور مبارک باد دینے کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب: دوست کو رُخصت کرنے کا بیان
- باب: اِستِخاره اور مَشورہ کرنے کا بیان
- باب: دو مختلف راستوں سے آنے جانےکا بیان
- باب:سیدھی جانب سے اِبتداکرنے کا بیان
- باب: کھانے سے پہلے بسْمِ اللہ اور بعد میں اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا
- باب: کھانے میں عیب نہ نکالنے کابیان
- باب: روزہ دارمہمان میزبان سے کیا کہے؟
- باب:بِن بُلائے مہمان کے بارے میں باب
- باب: اپنے قریب سے کھانے کا بیان
- باب: دو دو کھجوریں مِلاکر کھانے کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: سیر نہ ہونے والا کیا کہے، کیا کرے؟
- باب: درمیان سے کھانے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: ٹیک لگاکر کھانے کے مکروہ ہونے کا بیان
- باب:تین اُنگلیوں سے کھانے اورانگلیاں چاٹنے کابیان
- باب: مِل کر کھانےکابیان
- باب: پینے کے آداب کا بیان
- باب:مَشک سے مُنہ لگا کر پینے کی کراہت کا بیان
- باب: مشروبات میں پھونک مارنےکی کراہت کا بیان
- باب:بیٹھ کر پینے کی افضلیت کا بیان
- باب:پلانے والے کا آخرمیں پینامُسْتَحَب ہے
- باب: مختلف برتنوں کے استعمال کا بیان
- باب : مختلف رنگ اور اَقسام کے کپڑے پہننے کا بیان
- باب : قمیص پہننےکے مستحب ہونے کا بیان
- باب: لباس کے آداب کا بیان
- باب:بطورِتواضُع عُمدہ لباس ترک کرنےکا اِستحباب
- باب:لباس میں میانہ روی کا بیان
- باب: ریشم کےلباس کی مُمَانَعَت کابیان
- باب: خارش زدہ کیلئے ریشمی لباس جائز ہونے کا بیان
- باب: چیتے کی کھال پر بیٹھنے کی مُمَانَعَت کا بیان
- باب: نئے کپڑے پہنتے وقت کیا پڑھے؟
- باب: سونے کی دعا کا بیان
- باب: چِت لیٹنے،پالتی مارکر اور اُکڑوں بیٹھنے کا بیان
- باب: مجلس اور ساتھ بیٹھنے والوں کے آداب
- باب: خواب اور اُس کے مُتَعَلِّقَات کا بیان
- باب: سلام کی فضیلت اور اسے عام کرنے کا بیان
- باب: سلام کرنے کی کیفیت کا بیان
- باب: سلام کے آداب کا بیان
- باب: دوبارہ مُلاقات پر سلام کے اِسْتِحْبَاب کا بیان
- باب:گھر میں داخل ہوتے وقت سلام کرنے کااِسْتِحْبَاب
- باب:بچوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: عورتوں کو سلام کرنے کا بیان
- باب: کُفَّار کو سلام کرنے کی حُرْمَت کا بیان
- باب: رُخصت ہوتے وقت سلام کرنے کا بیان
- باب: اِجازت طلب کرنے اوراس کے آداب کابیان
- باب: گھرمیں داخلے کیلئے نام بتانے کابیان
- باب: چھینک اور جَمَاہی کے آداب کابیان
- باب: مُصَافَحَہ کرنے اور گلے مِلنے کابیان
- باب:مریض کی عِیادت کا بیان
- باب: مریض کیلئے دعا کیسے کی جائے؟
- باب: مریض کی طبیعت پوچھنا مُسْتَحَب ہے
- باب:جو اپنی زندگی سے مایوس ہوجائے وہ کیا کہے؟
- باب :مریض کےاَہلِ خانہ کو نصیحت کرنے کا بیان
- باب:مریض کا یہ کہنا کہ مجھے تکلیف یا بخار ہے
- باب:مرنے والے کو کلمۂ طیبہ کی تلقین کرنا
- باب:مَیِّت کی آنکھیں بند کرنے کے بعد کیا کہا جائے؟
- باب:مَیِّت کے پاس کہے جانے والے کلمات کا بیان
- باب:مَیِّت پر بغیر بَین اور نَوحہ کے رونے کا جواز
- باب:مَیِّت کی ناپسندیدہ باتوں کو بیان نہ کرنے کا بیان
- باب:اَحکامِ جَنازہ کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں صفیں بنانے کا بیان
- باب:نمازِجنازہ میں کیا پڑھا جائے؟
- باب:جنازہ جلدی لے جانے کا بیان
- باب:مَیِّت کے مُعَامَلَات میں جلدی کرنے کا بیان
- باب:قبر کے پاس وعظ کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کو دفنانے کے بعد دعا کرنے کا بیان
- باب:مَیِّت کی طرف سے صَدَقَہ دینا اور اس کیلئے دُعا کرنا
- باب:لوگوں کامَیِّت کی تعریف کرنے کا بیان
- باب:جس کے نابالغ بچے انتقال کر جائیں اس کی فضیلت
- باب:عذاب والی جگہوں سے گزرتے وقت رونے کا بیان
- باب:جمعرات اور اَوَّل دِن میں سفر کرنا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفرمیں امیر بنانے کے مُسْتَحَب ہونے کا بیان
- باب:سفرمیں چلنے اور آرام کرنے کے آداب
- باب:رفیقِ سفر کے ساتھ تَعَاوُن کرنے کا باب
- باب:سواری پر سوار ہوتے وقت کیا کہے؟
- باب:مُسَافِرکاتکبیروتسبیح کہنا
- باب:سفر میں دعا مُسْتَحَب ہے
- باب:سفر میں لوگوں وغیرہ سے خوف ہوتو کیا دعا مانگے؟
- باب:مسافرجب کہیں ٹھہرے تو کونسی دعا پڑھے ؟
- باب:مُسافر کے گھر لوٹ آنے کا بیان
- باب:مسافرکادن کو گھرآنے کا بیان
- باب:سفرسے لوٹنے پرپڑھنے والے کلمات کا بیان
- باب:سفر سے واپسی پر دو رکعت نفل پڑھنے کا بیان
- باب:عورت کا اکیلے سفر کرنا حرام ہے
حدیث مبارکہ
عَنْ عَبْدِاللہ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا عَنِ النَّبِیِّ صَلیَّ اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ المُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِہِ وَیَدِہِ وَالمُہَاجِرُ مَنْ ہَجَرَ مَا نَہَی اللہُ عَنْہُ. ( )
عن عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہما عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال : المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ والمہاجر من ہجر ما نہی اللہ عنہ. ( )
حدیث ترجمہ
حضرت سیدنا عبداللہ بن عَمر و بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے مروی ہے کہ سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشاد فرمایا : ’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی منع کردہ چیزوں کو چھوڑدے۔ ‘‘
شرح حدیث
افضل مسلمان کی علامت:عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی مذکورہ حدیث پاک کے تحت علامہ خطابی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا قول نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’یہاں حدیث پاک میں مسلمان سے مراد افضل مسلمان ہے جو کہ مکمل طور پہ حُقُوقُ اللہ اور حقوق العباد کو ادا کرےاور یہ بھی احتمال ہے کہ اس حدیث پاک میں مسلمان کی وہ علامت بیان کر دی گئی ہو جس سے اس کے مسلما ن ہو نے پر استدلال کیا جائے اور وہ علامت
اپنے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمانوں کو ایذا نہ پہنچانا ہےاور یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے مراد بندے کا اپنے رب کے ساتھ حسن معاملہ کی طرف اشارہ ہوکیونکہ جب بندہ اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ اچھا سلوک کرے گا تو اپنے ربّ کے ساتھ تو بدرجہ اولیٰ حُسنِ معاملہ کرےگا۔ ‘‘( )ایذاءِمسلم سے بچنے کی اشد تاکید:واضح رہے کہ یہاں حدیث پاک میں مسلمان کا ذکر غلبہ کے طور پر کیا گیا ہےکیونکہ مسلمان کی حفاظت کرنے اور اس کو تکلیف پہنچانے سے باز رہنے پر اشد تاکید کی گئی ہے ، اگرچہ کفار کو بھی اذیت دینا منع ہے لیکن بعض صورتوں میں کفار کے ساتھ جنگ و قتال کرنا بھی جائز ہے اور مردوں کا ذکر یہ بھی غلبہ کے طور پر کیا گیا ہے ورنہ مسلمان عورتیں بھی اس میں شامل ہیں۔ خاص طور پہ زبان کا ذکر اس لئے کیا کیا کیونکہ انسان اپنے دل کی بات کو زبان سے ہی تعبیر کرتا ہے۔ اسی طرح ہاتھ کا ذکر بھی کیونکہ اکثر اَفعال اسی کے ذریعہ ہوتے ہیں اور حدیث پاک میں مطلقاًزبان کی طرف نسبت کی گئی ہے نہ کہ ہاتھ کی طرف کیونکہ زبان کے ذریعے گزرے ہوئے موجودہ اور آئندہ لوگوں کے بارے میں بات کرنا یعنی غیبت وغیرہ کے ذریعے ایذا دیناممکن ہے جبکہ ہاتھ کے ذریعےصرف موجود لوگوں کو ہی ایذادی جاسکتی ہےہاں یہ ممکن ہے کہ ایذا دینے کے معاملے میں زبان کے ساتھ لکھنے کو بھی شامل کر لیا جائے اگر چہ اس معاملے میں ہاتھ کا اثر بھی بڑا ہے۔ مسلمان پر جو حد قائم کرتے ہوئے یا تعزیراًہاتھ سے ماراجاتا ہے وہ صورت اس سے الگ ہے۔ حدیث پاک میں زبان کا لفظ استعمال فرمایا قول نہیں فرمایا ، اس کی وجہ یہ ہے کہ زبان سے جو کچھ مذاق کے طور پر بھی کہا جائے وہ بھی اس میں شامل ہو گااور ہاتھ کے علاوہ کسی اور حصے کا ذکر نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں وہ تمام چیزیں شامل ہو جائیں کہ جن کے ذریعے سے غیر کے حق کو نا حق طور پہ لیا جاتا ہے۔ ( )
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
نیک لوگوں کی اعلیٰ صفت:عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’اس حدیث میں مسلمانوں کو ہاتھ ، زبان اورہر قسم کی ایذا دینے کے ترک پر ابھارنا ہے ، اسی وجہ سے حضرت حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا : نیک لوگ وہ ہیں جو چیونٹی یا اس سے بھی چھوٹی چیز کو ایذا نہیں دیتے۔ “ ( )حقیقی مہاجرکون ہے؟عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مذکورہ حدیث پاک کے تحت حضرت سیدنا ابو زنادرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی کے حوالے سے فرماتے ہیں : ’’ جب ہجرت منقطع ہو گئی تو صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں سے بعض اصحاب ہجرت کی فضلیت سے محروم ہونے پر غمگین تھے۔ اس پرسرکارمدینہ ، راحت قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں بتایا کہ حقیقی مہاجر وہ ہے جس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی منع کردہ چیزوں کو چھوڑ دیا۔ ‘‘( )ہجرت کی اقسام:ہجرت کی دو قسمیں ہیں : (1)ظاہری(2)باطنی۔ باطنی ہجرت یہ ہے کہ بندہ ہر اس برائی کو چھوڑ دے جس کی طرف شیطان یا نفس اَمارہ بلائےاور ظاہری ہجرت یہ ہے کہ بندہ اپنے ایمان کو بچانے کے لئے فتنے کی جگہ سے کسی دوسری محفوظ جگہ چلا جائے۔ اِس حدیث پاک میں مہا جرین کو خطاب کیا گیا ہے تا کہ وہ صرف اپنے گھر سے نکلنے یعنی ظاہری ہجرت کرنے پر ہی اکتفا نہ کر لیں بلکہ شریعت کی طرف سے جن کاموں کو کرنے کا حکم ہے اس پر عمل کریں اور جن کاموں سے منع کیاگیا ہے اس سے باز رہیں ۔ یہ بھی احتمال ہے کہ فتح مکہ کے بعد جب ہجرت منقطع ہو گئی تو وہ لوگ جو ہجرت میں شریک نہ ہو سکے ان کے دلوں کے اطمینان کے لئے یہ فرمایا گیا ہو کہ ہجرت کی حقیقت یہ ہے کہ ہر اس چیز کو چھوڑ دے جس سے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے منع فرمایا ہے پس یہ دو جملے : (1) کسی مسلمان کو ایذا نہ دینا اور(2)اللہ عَزَّوَجَلَّ کی منع کی ہوئی چیزوں کو چھوڑدینا
اپنے معانی کے اعتبار سے کئی احکام کو شامل ہے۔ ‘‘( )یہ حدیث جَوامِعُ الکلم سے ہے:فقیہ اعظم مفتی شریف الحق امجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’یہ حدیث بھی ان جوامع الکلم میں سے ہے جنہیں محدثین نے اُمُّ الاَحادیث میں شمار کیا ہے۔ غور کیجئے! چند الفاظ ہیں مگر ان میں معانی کے سمندر موجزن ہیں ۔ پہلا حصہ بندوں کی تمام حق تلفیوں سے بچنے اور تمام حقوق کی ادائیگی کی طرف رہنمائی کرتاہے اور دوسرا حصہ حُقُوقُ اللہ کی بجا آوری میں ہر قسم کی کوتاہی پر قد غن لگا رہا ہے ، اب ذرا سا غور کرنے پراس کی شرح میں ہر ذی علم دفتر پر دفتر تیار کر سکتا ہے ۔ اگر مسلمان ان دونوں حصوں پر عمل پیرا ہو جائیں تو ہمارا سماج (معاشرہ)امن کا گہوارا بن جائے ، اور انسان کا بھی ظاہر و باطن کُندہ ہو جائے۔ ‘‘( )
مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ جو لغۃً شرعاً ہر طرح مسلمان ہو وہ مومن ہے ، جو کسی مسلمان کی غیبت نہ کرے گالی طعنہ چغلی وغیرہ نہ کرے کسی کو نہ مارے پیٹے نہ اس کے خلاف کچھ تحریر کرے۔ یہ حدیث اخلاق کی جامع ہے مسلمانوں کی سلامتی کا ذکر خصوصیت سے اس لیے فرمایا کہ بعض صورتوں میں کفار سے لڑنا بھڑنا ، انہیں برا کہنا عبادت ہے۔ یہاں ظلماً غیبت واذیت مراد ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ ظالم مسلمان کافر ہے یا رحم دل کافر مسلمان ہے۔ ‘‘( )مدنی گلدستہ
’’جبل نور‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول(1)کسی بھی مسلمان کو ہاتھ ، زبان وغیرہ سے بلا اجازتِ شرعی کوئی بھی تکلیف دینا حرام ہے۔
(2)ظاہری مہاجر تو وہی ہے جو اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے کسی غیر محفوظ مقام سے محفوظ مقام کی طرف ہجرت کرجائےلیکن کامل مہاجر وہ ہے جو تمام اَحکام ِشرعیہ پر عمل کرے اور ممنوعاتِ شرعیہ سے دور رہے۔
(3)کسی کی ہجو ، تذلیل و تحقیر سے بچتے رہنا چاہیےکہ زبان کازخم تلوار کے زخم سےگہراہوتاہے۔
(4)اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نیک بندے چیونٹی یا اس سے بھی زیادہ چھوٹی شے کو تکلیف نہیں دیتے۔
(5)افضل وکامل مؤمن وہ ہے جو حُقُوقُ اللہ اور حقوق العبادکی مکمل ادا ئیگی کرے ۔
(6)مذکورہ حدیث پاک جوامع الکلم سے ہے ، اس کے اندر حسن اخلاق کی جامعیت کو بیان کیا گیا ہے۔ اگر تمام مسلمان اس پر عمل کریں تو معاشرہ امن کا گہوارہ بن جائے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سےدعاہے کہ وہ ہمیں حُقُوقُ اللہ اور حقوق العباد دونوں کو پوری طرح اداکرنے کی توفیق عطافرمائے ، ہمیں اپنی زبان ، ہاتھ اور دیگر اَعضاء سے مسلمانوں کو تکالیف دینے سے محفوظ فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ماخذ و مراجع
کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 211