Main Icon

ظلم کی حرمت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 211

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنْ عَبْدِاللہ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا عَنِ النَّبِیِّ صَلیَّ اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : اَلْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ المُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِہِ وَیَدِہِ وَالمُہَاجِرُ مَنْ ہَجَرَ مَا نَہَی اللہُ عَنْہُ. ( )

عن عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ تعالی عنہما عن النبی صلی اللہ علیہ وسلم قال : المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ والمہاجر من ہجر ما نہی اللہ عنہ. ( )

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا عبداللہ بن عَمر و بن عاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے مروی ہے کہ سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشاد فرمایا : ’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں اور مہاجر وہ ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی منع کردہ چیزوں کو چھوڑدے۔ ‘‘

شرح حدیث

افضل مسلمان کی علامت:عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی مذکورہ حدیث پاک کے تحت علامہ خطابی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا قول نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں : ’’یہاں حدیث پاک میں مسلمان سے مراد افضل مسلمان ہے جو کہ مکمل طور پہ حُقُوقُ اللہ اور حقوق العباد کو ادا کرےاور یہ بھی احتمال ہے کہ اس حدیث پاک میں مسلمان کی وہ علامت بیان کر دی گئی ہو جس سے اس کے مسلما ن ہو نے پر استدلال کیا جائے اور وہ علامت

اپنے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمانوں کو ایذا نہ پہنچانا ہےاور یہ بھی احتمال ہے کہ اس سے مراد بندے کا اپنے رب کے ساتھ حسن معاملہ کی طرف اشارہ ہوکیونکہ جب بندہ اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ اچھا سلوک کرے گا تو اپنے ربّ کے ساتھ تو بدرجہ اولیٰ حُسنِ معاملہ کرےگا۔ ‘‘( )
ایذاءِمسلم سے بچنے کی اشد تاکید:واضح رہے کہ یہاں حدیث پاک میں مسلمان کا ذکر غلبہ کے طور پر کیا گیا ہےکیونکہ مسلمان کی حفاظت کرنے اور اس کو تکلیف پہنچانے سے باز رہنے پر اشد تاکید کی گئی ہے ، اگرچہ کفار کو بھی اذیت دینا منع ہے لیکن بعض صورتوں میں کفار کے ساتھ جنگ و قتال کرنا بھی جائز ہے اور مردوں کا ذکر یہ بھی غلبہ کے طور پر کیا گیا ہے ورنہ مسلمان عورتیں بھی اس میں شامل ہیں۔ خاص طور پہ زبان کا ذکر اس لئے کیا کیا کیونکہ انسان اپنے دل کی بات کو زبان سے ہی تعبیر کرتا ہے۔ اسی طرح ہاتھ کا ذکر بھی کیونکہ اکثر اَفعال اسی کے ذریعہ ہوتے ہیں اور حدیث پاک میں مطلقاًزبان کی طرف نسبت کی گئی ہے نہ کہ ہاتھ کی طرف کیونکہ زبان کے ذریعے گزرے ہوئے موجودہ اور آئندہ لوگوں کے بارے میں بات کرنا یعنی غیبت وغیرہ کے ذریعے ایذا دیناممکن ہے جبکہ ہاتھ کے ذریعےصرف موجود لوگوں کو ہی ایذادی جاسکتی ہےہاں یہ ممکن ہے کہ ایذا دینے کے معاملے میں زبان کے ساتھ لکھنے کو بھی شامل کر لیا جائے اگر چہ اس معاملے میں ہاتھ کا اثر بھی بڑا ہے۔ مسلمان پر جو حد قائم کرتے ہوئے یا تعزیراًہاتھ سے ماراجاتا ہے وہ صورت اس سے الگ ہے۔ حدیث پاک میں زبان کا لفظ استعمال فرمایا قول نہیں فرمایا ، اس کی وجہ یہ ہے کہ زبان سے جو کچھ مذاق کے طور پر بھی کہا جائے وہ بھی اس میں شامل ہو گااور ہاتھ کے علاوہ کسی اور حصے کا ذکر نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس میں وہ تمام چیزیں شامل ہو جائیں کہ جن کے ذریعے سے غیر کے حق کو نا حق طور پہ لیا جاتا ہے۔ ( )
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
نیک لوگوں کی اعلیٰ صفت:عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مذکورہ حدیث پاک کے تحت فرماتے ہیں : ’’اس حدیث میں مسلمانوں کو ہاتھ ، زبان اورہر قسم کی ایذا دینے کے ترک پر ابھارنا ہے ، اسی وجہ سے حضرت حسن بصری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا : نیک لوگ وہ ہیں جو چیونٹی یا اس سے بھی چھوٹی چیز کو ایذا نہیں دیتے۔ “ ( )حقیقی مہاجرکون ہے؟عَلَّامَہ اَبُو الْحَسَن اِبْنِ بَطَّال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ مذکورہ حدیث پاک کے تحت حضرت سیدنا ابو زنادرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی کے حوالے سے فرماتے ہیں : ’’ جب ہجرت منقطع ہو گئی تو صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان میں سے بعض اصحاب ہجرت کی فضلیت سے محروم ہونے پر غمگین تھے۔ اس پرسرکارمدینہ ، راحت قلب وسینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں بتایا کہ حقیقی مہاجر وہ ہے جس نے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی منع کردہ چیزوں کو چھوڑ دیا۔ ‘‘( )ہجرت کی اقسام:ہجرت کی دو قسمیں ہیں : (1)ظاہری(2)باطنی۔ باطنی ہجرت یہ ہے کہ بندہ ہر اس برائی کو چھوڑ دے جس کی طرف شیطان یا نفس اَمارہ بلائےاور ظاہری ہجرت یہ ہے کہ بندہ اپنے ایمان کو بچانے کے لئے فتنے کی جگہ سے کسی دوسری محفوظ جگہ چلا جائے۔ اِس حدیث پاک میں مہا جرین کو خطاب کیا گیا ہے تا کہ وہ صرف اپنے گھر سے نکلنے یعنی ظاہری ہجرت کرنے پر ہی اکتفا نہ کر لیں بلکہ شریعت کی طرف سے جن کاموں کو کرنے کا حکم ہے اس پر عمل کریں اور جن کاموں سے منع کیاگیا ہے اس سے باز رہیں ۔ یہ بھی احتمال ہے کہ فتح مکہ کے بعد جب ہجرت منقطع ہو گئی تو وہ لوگ جو ہجرت میں شریک نہ ہو سکے ان کے دلوں کے اطمینان کے لئے یہ فرمایا گیا ہو کہ ہجرت کی حقیقت یہ ہے کہ ہر اس چیز کو چھوڑ دے جس سے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے منع فرمایا ہے پس یہ دو جملے : (1) کسی مسلمان کو ایذا نہ دینا اور(2)اللہ عَزَّوَجَلَّ کی منع کی ہوئی چیزوں کو چھوڑدینا

اپنے معانی کے اعتبار سے کئی احکام کو شامل ہے۔ ‘‘( )
یہ حدیث جَوامِعُ الکلم سے ہے:فقیہ اعظم مفتی شریف الحق امجدی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’یہ حدیث بھی ان جوامع الکلم میں سے ہے جنہیں محدثین نے اُمُّ الاَحادیث میں شمار کیا ہے۔ غور کیجئے! چند الفاظ ہیں مگر ان میں معانی کے سمندر موجزن ہیں ۔ پہلا حصہ بندوں کی تمام حق تلفیوں سے بچنے اور تمام حقوق کی ادائیگی کی طرف رہنمائی کرتاہے اور دوسرا حصہ حُقُوقُ اللہ کی بجا آوری میں ہر قسم کی کوتاہی پر قد غن لگا رہا ہے ، اب ذرا سا غور کرنے پراس کی شرح میں ہر ذی علم دفتر پر دفتر تیار کر سکتا ہے ۔ اگر مسلمان ان دونوں حصوں پر عمل پیرا ہو جائیں تو ہمارا سماج (معاشرہ)امن کا گہوارا بن جائے ، اور انسان کا بھی ظاہر و باطن کُندہ ہو جائے۔ ‘‘( )
مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’ جو لغۃً شرعاً ہر طرح مسلمان ہو وہ مومن ہے ، جو کسی مسلمان کی غیبت نہ کرے گالی طعنہ چغلی وغیرہ نہ کرے کسی کو نہ مارے پیٹے نہ اس کے خلاف کچھ تحریر کرے۔ یہ حدیث اخلاق کی جامع ہے مسلمانوں کی سلامتی کا ذکر خصوصیت سے اس لیے فرمایا کہ بعض صورتوں میں کفار سے لڑنا بھڑنا ، انہیں برا کہنا عبادت ہے۔ یہاں ظلماً غیبت واذیت مراد ہے۔ اس حدیث کا مطلب یہ نہیں کہ ظالم مسلمان کافر ہے یا رحم دل کافر مسلمان ہے۔ ‘‘( )
مدنی گلدستہ
’’جبل نور‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اُس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1)کسی بھی مسلمان کو ہاتھ ، زبان وغیرہ سے بلا اجازتِ شرعی کوئی بھی تکلیف دینا حرام ہے۔

(2)ظاہری مہاجر تو وہی ہے جو اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے کسی غیر محفوظ مقام سے محفوظ مقام کی طرف ہجرت کرجائےلیکن کامل مہاجر وہ ہے جو تمام اَحکام ِشرعیہ پر عمل کرے اور ممنوعاتِ شرعیہ سے دور رہے۔
(3)کسی کی ہجو ، تذلیل و تحقیر سے بچتے رہنا چاہیےکہ زبان کازخم تلوار کے زخم سےگہراہوتاہے۔
(4)اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نیک بندے چیونٹی یا اس سے بھی زیادہ چھوٹی شے کو تکلیف نہیں دیتے۔
(5)افضل وکامل مؤمن وہ ہے جو حُقُوقُ اللہ اور حقوق العبادکی مکمل ادا ئیگی کرے ۔
(6)مذکورہ حدیث پاک جوامع الکلم سے ہے ، اس کے اندر حسن اخلاق کی جامعیت کو بیان کیا گیا ہے۔ اگر تمام مسلمان اس پر عمل کریں تو معاشرہ امن کا گہوارہ بن جائے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ سےدعاہے کہ وہ ہمیں حُقُوقُ اللہ اور حقوق العباد دونوں کو پوری طرح اداکرنے کی توفیق عطافرمائے ، ہمیں اپنی زبان ، ہاتھ اور دیگر اَعضاء سے مسلمانوں کو تکالیف دینے سے محفوظ فرمائے۔
آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 211