Main Icon

ظلم کی حرمت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 220

جلد 3

حدیث مبارکہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلیَّ اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَنْ یَّزَالَ الْمُوْمِنُ فِیْ فُسْحَۃٍ مِنْ دِ یْنـِہِ مَا لَمْ یُصِبْ دَمًا حَرَامًا.( )

عن ابن عمر رضی اللہ عنہما قال : قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لن یزال المومن فی فسحۃ من د ینـہ ما لم یصب دما حراما.( )

حدیث ترجمہ

حضرتِ سَیِّدُنا ابنِ عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما سے مروی ہےکہ سرکارِ نامدار ، مدینے کے تاجدار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا : ’’مومن ہمیشہ اپنے دِین کی وُسعت اور کشادگی میں رہتاہےجب تک کہ وہ ناحق قتل نہ کرے ۔ ‘‘

شرح حدیث

ناحق قتل کرنے تک دِین میں وُسعت:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’اِس کےدو معنی ہیں : (1) جب کوئی شخص کسی جان کو ناحق قتل کردےتو جان بوجھ کر قتل کرنےکی وعید کے سبب اُس کا دِین اُس پر تنگ ہوجاتا ہے ، قتل سے قبل اُس کا دِین اُس پر وسیع ہوتاہے۔ (2) ناحق قتل کرنےوالا شخص اپنے اس گناہ کی وجہ سے تنگی میں رہتا ہے ، ناحق قتل کرنے سےقبل وہ وُسعت میں ہوتا ہے۔ ‘‘( )دِین میں کشادگی سے مراد :عَلَّامَہ مُلَّا عَلِی قَارِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْبَارِی مذکورہ حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں : جب تک بندہ ناحق خون نہ بہائے وہ اپنے دِین کی وُسعت میں ہوتا ہے اور اسے اپنے ربّ سے رحمت کی امید ہوتی ہے۔ حضرت سَیِّدُنَا ابنِ ملک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : جب تک بندے سے کسی جان کا قتل ناحق نہ ہواُس وقت تک دِین کےمعاملات اُس پر آسان رہتے ہیں اور اُسے نیک اَعمال کرنے کی توفیق ملتی رہتی ہے۔ علامہ طیبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : دِین میں کشادگی سے مراد یہ ہےکہ اس کے لئے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت و لطف کی اُمید کی جائے اگرچہ وہ قتل کے علاوہ گناہِ کبیرہ کرےاور جب وہ (کسی جا ن کو ناحق قتل کرے)تو اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت و لطف اس پر تنگ ہوجائے گا اوریوں اس کا شمار اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت سے نااُمید لوگوں میں کیا جائے گا جیساکہ حضرت سیدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ ’’جس نےکسی مومن کے قتل پر ایک لفظ کے ذریعے بھی مدد کی تو وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ سے اس حال میں ملے گا کہ اس کی دونوں آنکھوں کے درمیان لکھا ہوگا : یہ شخص اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت سے نااُمید ہے۔ ‘‘حدیث پاک میں ہے کہ ’’مومن ہمیشہ نیکی میں جلدی کرتا ہے یعنی جب تک مومن نا حق خون نہ بہائے اس وقت تک اسے نیک اعمال میں جلدی کرنے کی توفیق

ملتی رہتی ہے اور جب وہ ناحق خون بہائے تو اس کےگناہ کی نحوست کی وجہ سے وہ اعمال صالحہ کی توفیق سے محروم ہو جاتا ہے ۔ “ حضرت سیدنا قتادہ بن عیاش رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ بندہ ہمیشہ اپنے دین کی وُسعت میں رہتاہےجب تک کہ وہ شراب نہ پیئے اور جب وہ شراب پی لیتاہے تو اللہ عَزَّوَجَلَّ اس سے اس کے پردے کو ہٹا دیتاہےاور شیطان اس کا دوست ، اس کا کان ، اس کی آنکھ اوراس کا پاؤں بن جاتا ہےپھر شیطان اس کو ہرشر کی طرف لے جاتا ہے اور ہر بھلائی سے پھیر دیتاہے۔ ‘‘یہ حدیث پاک اس بات پر دلالت کرتی ہے مراد کسی ایک کبیرہ گناہ سے بچنا نہیں بلکہ مطلقاً ہر کبیرہ گناہ سے بچنا ہے۔ ( )
مومناللہ عَزَّوَجَلَّکی رحمت سے نااُمیدنہیں ہوتا:
مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : مسلمان آدمی کیساہی گنہگار ہو مگر وہ اسلام کی گنجائش رحمت الٰہی کی وُسعت میں رہتا ہے ، اللہ سے ناامید نہیں ہوتا ، مگر قاتل ظالم اللہ کی رحمت کا مستحق نہیں رہتا۔ کل قیامت میں اس طرح آئے گاکہ اس کی پیشانی پر لکھا ہوگا : آیِسٌ مِّنْ رَحْمَۃِ اللہِ۔ (یعنی یہ شخص اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت سے نا امید ہے۔ ) حدیث شریف میں ہے کہ جو قتلِ مومن میں آدھی بات سے بھی مدد کرے وہ بھی ربّ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہے۔ بعض نے فرمایا : ظالم قاتل کو دنیا میں نیک اَعمال کی توفیق نہیں ملتی۔ ( )
مدنی گلدستہ
’’مکی آقا ‘‘کے6حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے6مدنی پھول
(1)کسی مؤمن کو ناحق قتل کرنا بہت بڑا گناہ ، حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے ، احادیث مبارکہ میں اس کی شدید مذمت بیان کی گئی ہے۔
(2)ناحق قتل کرنے والے پر اس کا دِین تنگ ہوجاتا ہےاور وہ اپنے اس گناہ کے سبب تنگی میں رہتا ہے۔

(3)ناحق قتل کرنے والا اعمال صالحہ کی توفیق سے محروم ہو جاتا ہے۔
(4)جب بندہ ناحق قتل ، شراب وغیرہ گناہوں میں پڑتا ہے تو شیطان اس کے ہاتھ پاؤں بن جاتا ہے اور پھر اسے ہر شر کی طرف لے جاتا ہے اور ہر بھلائی سے پھیر دیتا ہے۔
(5)کسی مؤمن کے ناحق قتل پر چھوٹی سی معاونت کرنےوالا بلکہ ایک لفظ کے ذریعے مدد کرنے والا بھی رحمت الٰہی سے مایوس افراد میں لکھ دیا جاتا ہے۔
(6)مؤمن جب تک ناحق قتل نہیں کرتا اسے نیک اعمال میں جلدی کرنے کی توفیق ملتی رہتی ہے۔ لیکن جیسے ہی وہ ناحق قتل میں مبتلا ہوتا ہےتو وہ اس توفیق سے محروم کردیا جاتاہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں کسی بھی مؤمن کے قتل ناحق جیسے کبیرہ گناہ سے محفوظ فرمائے ، ہمیں مسلمانوں کی عزت ومال کی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 220