Main Icon

ظلم کی حرمت کا بیان - فیضان ریاض الصالحین - حدیث نمبر: 208

جلد 3

حدیث مبارکہ

وَعَنْ مُعَاذٍرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ : بَعَثَنِی رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : اِنَّکَ تَاْتِی قَوْمًا مِنْ اَہْلِ الْکِتَابِ فَادْعُہُمْ اِلَی شَہَادَۃِ اَنْ لَا اِلٰہَ اِلَّا اللَّہُ وَاَنِّیْ رَسُوْلُ اللَّہِ فَاِنْ ہُمْ اَطَاعُوْا لِذٰلِکَ فَاَعْلِمْہُمْ اَنَّ اللَّہَ قَدِافْتَرَضَ عَلَیْہِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِی کُلِّ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ فَاِنْ ہُمْ اَطَاعُوْا لِذٰلِکَ فَاَعْلِمْہُمْ اَنَّ اللَّہَ افْتَرَضَ عَلَیْہِمْ صَدَقَۃً تُؤْخَذُ مِنْ اَغْنِیَائِہِمْ فَتُرَدُّ عَلَی فُقَرَائِہِمْ فَاِنْ ہُمْ اَطَاعُوْا لِذَلِکَ فَاِیَّاکَ وَکَرَائِمَ اَمْوَالِہِمْ وَاتَّقِ دَعْوَۃَ الْمَظْلُومِ فَاِنَّہُ لَیْسَ بَیْنَہَا وَبَیْنَ اللَّہِ حِجَابٌ. ( )

وعن معاذرضی اللہ تعالی عنہ قال : بعثنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فقال : انک تاتی قوما من اہل الکتاب فادعہم الی شہادۃ ان لا الہ الا اللہ وانی رسول اللہ فان ہم اطاعوا لذلک فاعلمہم ان اللہ قدافترض علیہم خمس صلوات فی کل یوم ولیلۃ فان ہم اطاعوا لذلک فاعلمہم ان اللہ افترض علیہم صدقۃ تؤخذ من اغنیائہم فترد علی فقرائہم فان ہم اطاعوا لذلک فایاک وکرائم اموالہم واتق دعوۃ المظلوم فانہ لیس بینہا وبین اللہ حجاب. ( )

حدیث ترجمہ

حضرت سیدنا معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ دو جہاں کے تاجور ، سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے(یمن کی طرف حاکم بنا کر)بھیجاتو فرمایا : ’’تم اہل کتاب کی طرف جارہے ہو ، انہیں اس بات کی گواہی کی طرف بلانا کہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا رسول ہوں۔ اگر وہ یہ بات مان لیں تو انہیں بتانا کہ بے شک اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ان پر دن اور رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں۔ اگر یہ بات مان لیں توانہیں بتانا کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان پر زکوٰۃ فرض کی ہے ، جو ان کے مالداروں سے لے کر ان کے فقراء میں تقسیم کردی جائے۔ اگر وہ یہ بات بھی مان لیں تو (زکوٰۃ لیتے وقت) ان کے عمدہ مالوں سے احترازکرنا اور مظلوم کی بددعا سے بچناکیونکہ اس کے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے درمیان کوئی پردہ نہیں۔ ‘‘

شرح حدیث

یمن کے پانچ مدنی حکمران:عَلَّامَہ بَدْرُ الدِّیْن عَیْنِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِیفرماتے ہیں : ’’جب شہنشاہِ مدینہ ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ۹ہجری کو غزوہ تبوک سے واپس تشریف لائے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیدنا معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُا ور حضرت سیدنا ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو حاکم بناکر یمن کی طرف بھیجا تاکہ وہاں کے لوگوں کے درمیان فیصلہ کریں اور اُن سے زکوٰۃ وصول کریں۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی

عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یمن کو پانچ صحابہ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان پرتقسیم فرمایا تھا : سیدنا خالد بن سعید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو صنعاء کا حاکم بنا یا ، حضرت سیدنا مہاجر بن اَبی اُمَیَّہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو کندہ کا ، حضرت سیدنا زیاد بن لبید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو حضرموت کا ، حضرت سیدنا معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو جندل کا اور حضرت سیدنا ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو زبید ، عدن اور ساحل کا۔ پھر ارشاد فرمایا : ’’اَہل یمن کو دو چیزوں کی دعوت دینا : ایک یہ کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور دوسرا اس بات کی گواہی کہ محمد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول ہیں۔ ‘‘( )
اسلام کی دعوت کا طریقہ کار:حضرت سیدنا شیخ زین الدین عراقی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القوی فرماتے ہیں : ’’(مذکورہ حدیث پاک سے معلوم ہوا کہ) لوگوں کو اسلام کی دعوت عقائدمیں ان کے مزاج کے حساب سے دی جائے(یعنی جو جس چیز کا منکر ہو پہلے اسی کی دعوت دی جائے)۔ اسی وجہ سے جباللہ1∞کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سیدنا معاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو یمن بھیجا تو فرمایا کہ اہل یمن کو پہلے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی وحدانیت کی دعوت دینا اور پھر رسالت کی ، کیونکہ یمن کے لوگ اہل کتاب تھے ، وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو مانتے تو تھے لیکن اس کے ساتھ شریک بھی ٹھہراتے تھےجیسا کہ نصاریٰ حضرت سیدنا عیسیٰ روح اللہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اللہ عَزَّوَجَلَّ کا بیٹا مانتے ہیں اور یہودی حضرت سیدنا عزیر عَلَیْہِ السَّلَام کو ، جبکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ ان باتوں سے پاک ہے ، اور سیِّد عالَم ، نورِ مُجَسَّمصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رسالت کا سرے سے ہی انکار کرتے ہیں یا کہتے ہیں کہ یہ ہماری طرف نہیں بھیجے گئے۔ ‘‘( )مذکورہ حدیث پاک سے اخذ کردہ چند مسائل:علمائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام نے مذکورہ حدیث پاک سے درج ذیل مسائل اخذ فرمائے ہیں :

(1)خبر واحد کو قبول کرنا اورجو حکم اس سے ثابت ہو رہا ہو اس پر عمل کرناجائز ہے۔ (2)کفار سے جنگ کرنے سے پہلے انہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر ایمان لانے کی دعوت دینا سنت ہے ۔ (3)جب تک کوئی شخص زبان سے توحید ورسالت کا اقرار نہ کرے اس پر اسلام کے احکام جاری نہیں ہوں گے۔ (4)دن اور رات میں پانچ نمازوں کا پڑھنا فرض ہے۔ (5) اس حدیث میں شدت کے ساتھ ظلم کی حرمت کو بیان کیا ہے حاکم پر لازم ہے کہ وہ اپنے (ما تحت )حکام کو نصیحت کرے ، ظلم کے بارے میں ان کو اللہ عَزَّوَجَلَّ سے ڈرائے اور انہیں سختی کے ساتھ ظلم کرنے سے روکےاور ظلم پر آخرت کے عذاب کو بیان کرے۔ (6)زکوٰۃ وصول کرنے والے عاملین پر زکوٰۃ دینے والوں کے بہترین مال کو زبردستی لینا حرام ہے ، (ہاں اگر اپنی مرضی سے عمدہ مال دینا چا ہیں تو لے سکتا ہے)اسی طرح زکوٰۃ دینے والے پرزکوٰۃ میں گھٹیا مال دینا حرام ہے ، بلک مُتَوَسِّطْ (درمیانہ)مال دینا اور لینا چاہئے۔ (7) کافروں کو مالِ زکوٰۃ دینا جائز نہیں اسی طرح غنی (مالک نصاب )کو بھی زکوٰۃ دینا جائز نہیں ۔ ( )
زکوٰۃ کے دیگر چند مسائل:’’ان کے مالداروں سے زکوٰۃ لے کر انہی کے فقراءپر لوٹا دی جائے۔ ‘‘اس کے تحت مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں : ’’یعنی ہم ٹیکس کی طرح تم سے زکوٰۃ وصول کرکے مدینہ منورہ نہ لے جائیں گے اور خود نہ کھائیں گےتا کہ تم سمجھو کہ اسلام کی اشاعت کھا نے کمانے کے لئے ہے بلکہ تمہارے مالداروں سے زکوٰۃ لے کر تمہارے ہی فقرا ء کو دے دی جائے گی۔ اس سے چند مسئلے معلوم ہوئے : ایک یہ کہ کافر کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے۔ دوسرے یہ کہ بلا سخت مجبوری ایک جگہ کی تمام زکوٰۃ دوسری جگہ منتقل نہ کی جائے۔ تیسرے یہ کہ مالدار صاحبِ نصاب زکوٰۃ نہیں لے سکتا۔ جیسا کہ لفظ فُقَرَاء اور ضمیر ھُمْ سے معلوم ہوا ۔ ضرورۃ ًزکوٰۃ کو منتقل کرنا با لکل جائز ہے جیسے کہ غنی کے اہل قرابت فقیر دوسرے شہر میں رہتے ہوں یا دوسری جگہ سخت فقر وتنگدستی ہو یا دوسری جگہ

صدقے کا ثواب زیادہ ہولہٰذا اپنی کچھ زکوٰۃ مکہ معظمہ یا مدینہ منورہ بھجوانا جیسا کہ آج کل رواج ہے با لکل جائز ہے۔ خیال رہے کہ یہاں اَغنیاء سے مراد بالغ عاقل مالدار مراد ہیں کیونکہ نماز کی طرح زکوٰۃ بھی بچے اور دیوانے پر فرض نہیں۔ یہ بھی خیال رہے کہ باطنی مال یعنی سونے چاندی وغیرہ کی زکوٰۃ خود غنی ہی ادا کرےگا اورظا ہری مال جانور پیداوار کی زکوٰۃ حاکم اِسلام وصول کر کے اپنے انتظام سے خرچ کرےگا۔ زکوٰۃ میں ان کے بہترین مال نہ وصول کرو بلکہ درمیانی مال لو ، ہاں اگر خود مالک ہی بہترین مال اپنی خوشی سے دے تو ان کی مرضی۔ لہذا یہ حدیث اس آیت کے خلاف نہیں جس میں فرمایا گیا کہ تم ہر گز بھلائی کو نہ پہنچو گے جب تک راہِ خدا میں اپنی پیاری چیز خرچ نہ کرو۔ اس جملے سے اشارۃً معلوم ہوا کہ ہلاک شدہ مال کی زکوۃ نہ کی جائے گی کیونکہ اَمْوَالِھِمْ ارشاد ہوا۔ ‘‘( )
زکوۃ کے تفصیلی مسائل جاننے کے لیے دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۶۱۲ صفحات پر مشتمل کتاب ’’فتاویٰ اہلسنت‘‘ کتاب الزکوٰۃ کا مطالعہ کیجئے۔
ظلم مطلقاً حرام ہے:عَلَّامَہ حَافِظ اِبنِ حَجَر عَسْقَلَانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی’’مظلوم کی بدعا سے بچو۔ ‘‘کے تحت فرماتے ہیں : ’’ظلم سے بچو تاکہ تم مظلوم کی بدعا سے بچ سکو اور یہاں ظلم کی تمام اقسام سے منع کرنے پر تنبیہ ہےاور زکوٰۃ میں جو عمدہ مال لینے سے منع فرمایا ہے اس میں بھی اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس طرح سے مال لینا بھی ظلم ہے ۔ ‘‘( )تاقیامت حُکام کو عدل کی تعلیم ہے:مُفَسِّر شہِیر ، مُحَدِّثِ کَبِیْرحَکِیْمُ الاُمَّت مُفتِی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان ’’مظلوم کی بددعا سے بچناکیونکہ اس کے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ۔ ‘‘کے تحت فرماتے ہیں : ’’یعنی اے معاذ! تم حاکم بن کریمن جار ہے ہووہاں کسی پر ظلم نہ کرنا ، نہ بدنی ظلم ، نہ مالی ، نہ زبانی کیونکہ اللہ تعالیٰ مظلوم کی

بہت جلد سنتا ہے ، اس میں درحقیقت تاقیامت حکام کو عدل کی تعلیم ہےورنہ صحابہ کرام ظلم نہیں کرتے ، حضرت سیدنا سلیمان عَلَیْہِ السَّلَام کی چیونٹی نے کہا تھا : ’’لَا یَحْطِمَنَّکُمْ سُلَیْمٰنُ وَ جُنُودُہٗ وَ ھُمْ لَا یَشْعُرُوْنَ یعنی کہیں تم اے چیونٹیو!حضرت سلیمان اور ا ن کے لشکر سے کچلی نہ جاؤ اورانہیں خبر بھی نہ ہو ۔ ‘‘معلوم ہوا چیونٹی کا بھی یہ عقیدہ تھا کہ پیغمبرکے صحابہ چیونٹی پر بھی ظلم نہیں کرتے لہٰذا اِس حدیث سے صحابہ کا ظالم ہونا ثابت نہیں ہوسکتا۔ ‘‘( )
مدنی گلدستہ
’’ملتزم‘‘کے5حروف کی نسبت سے حدیثِ مذکور
اور اس کی وضاحت سے ملنے والے5مدنی پھول
(1)کوئی بھی کافر اُس وقت تک مسلمان نہیں ہوسکتا جب تک وہ توحیدورسالت کا اِقرار نہ کرے۔
(2)اِس حدیث پاک میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے قیامت تک آنے والے مسلمانوں کو دعوت اِسلام دینے کا طریقہ ارشاد فرمادیا۔
(3)مظلوم کی بدعا اور اللہ تعالیٰ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا یعنی مظلوم کی بدعا قبول ہونے میں دیر نہیں لگتی اس لئے ہمیں مظلوم کی بدعا سے بچنا چاہیے۔
(4)ذمہ داران کو چاہیے کہ وہ اپنے ماتحت کی ہراعتبار سے اِصلاح اور خیرخواہی کا خیال رکھیں تاکہ بہتر سے بہتر فوائد وثمرات حاصل ہوں ۔
(5)زکوٰۃ دینے والوں سے زبردستی اُن کے عمدہ مال لینا بھی ظلم ہے اور حدیث پاک میں اِس سے منع فرمایا گیا ہے ، لہٰذا حاکم کو چاہیے کہ اس سے پرہیزکرے اور زکوٰۃ دینے والوں کو یہ حکم ہے کہ وہ فقراء ومساکین کے لیے اپنے عمدہ مالوں سے ہی زکوٰۃ ادا کریں۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّسے دعا ہے کہ وہ ہمیں عدل وانصاف کرنےاورحق دار کو اس کا حق دینے کی توفیق عطا

فرمائے ، ہمیں کسی بھی مسلمان پر ظلم کرنے سے محفوظ فرمائے۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ماخذ و مراجع

کتاب: فیضان ریاض الصالحین جلد: 3 , حدیث نمبر: 208